احمد مشتاق کے منتخب اشعار اور غزلیں

احمد مشتاق پاکستان کے معروف شاعر، آپ کا شمار جدید شعراء میں ہوتا ہے۔ احمد مشتاق کی شاعری(احمد مشتاق شاعری | ahmad mushtaq shayari)  میں نو کلاسیکی اسلوب ملتا ہے۔ 

آدمی

پریوں کی تلاش میں گیا تھا

لوٹا نہیں آدمی ہمارا

٭٭٭

جادونگری

ہم نے بھی ایک دریچے کو مہتاب میں ڈھلتے دیکھا ہے

اے عشق کبھی ہم بھی تیری جادو نگری میں رہتے تھے

٭٭٭

دیوانے

 دیکھیں کیا گذرے ہم ایسے سوختہ جانوں کے ساتھ

جو نہ دیوانوں میں شامل ہیں نہ فرزانوں کے ساتھ

٭٭٭

تصور

کل کس کا تصور ہی نشاط دل و جاں تھا

آج اس سے ملاقات بھی اچھی نہیں لگتی

٭٭٭

محبت

محبت میں زیادہ سوچنا اچھا نہیں ہوتا

زیادہ سوچنے سے وسوسے گھر دیکھ لیتے ہیں

٭٭٭

تقدیر

وقت ہر چیز کی تقدیر بدل دیتا ہے

میں نے دیکھا ہے محبت کا فنا ہو جانا

٭٭٭

کہانی

ہم اپنے دکھ بھرے دل کی کہانی کہتے رہتے ہیں

ستارے ٹوٹتے رہتے ہیں دریا بہتے رہتے ہیں

٭٭٭

روٹھنا

مشتاق کسی کے روٹھنے کا

غم بھی ہے مگر خوشی بہت ہے

٭٭٭

بہار

بات تو جب ہے کہ دل کا رنگ بھی تبدیل ہو

پھول کھلنے سے نہ آتی ہے نہ جاتی ہے بہار

٭٭٭

کام

کوئی ہو معالج چشم نم مرے دل کا بوجھ اتار دے

مرے سارے کام بگاڑ دے مرا ایک کام سنوار دے

٭٭٭

غم

کہاں اتنا دم کہ ہو اے غم مرے سب چراغ بجھا سکے

کبھی کوئی پھول کھلا رہا کبھی کوئی شاخ ہری رہی

٭٭٭

خیال

گم رہا ہوں ترے خیالوں میں

تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے

٭٭٭

عشق

ہزار شکر کہ ہم مصلحت شناس نہ تھے

کہ ہم نے جس سے کیا عشق، والہانہ کیا

٭٭٭

صدا

جاگتا ہوں تو صدا دیتی ہیں قاتل یادیں

سونے لگتا ہوں تو زخموں کے نشاں بولتے ہیں

٭٭٭

رات بھر

میں بے وجہ روتا رہا رات بھر

بھرے زخم دھوتا رہا رات بھر

٭٭٭

سوال

لب سوکھ کیوں نہ جائیں گلا بیٹھ کیوں نہ جائے

دل میں ہیں جو سوال اٹھاتے رہیں گے ہم

٭٭٭

دل کا بوجھ

دل کا بوجھ تو ہلکا ہوتا

رو لیتے تو اچھا ہوتا

٭٭٭

آواز

جانے کس کس سے ملیں ہم تجھ سے ملنے کے لیے

پھر تری آواز آئے کتنی آوازوں کے بعد

٭٭٭

وصل

ہجر اک وقفہ بیدار ہے دو نیندوں میں

وصل اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں

٭٭٭

آرزو

آرزو ہے کہ کبھی ہاتھ پکڑ کر میرا

لے چلو تم کسی گذرے ہوئے کل کی جانب

٭٭٭

بچھڑنا

جو شان تھی ملتے وقت مشتاقؔ

بچھڑے اسی آن بان سے ہم

٭٭٭

رستہ

 کہیں ملے وہ سرِ راہ تو لپٹ جائیں

بس اب تو ایک ہی رستہ دکھائی دیتا ہے

٭٭٭

پڑھائی کا وقت

میں نے کہا کہ دیکھ یہ میں یہ ہوا یہ رات

اس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے

٭٭٭

وصال

ترے وصال کے لمحے عجب طرح گذرے

نظر خموش دلوں میں قیامتیں برپا

٭٭٭

اداس

پھر دل کو نئی خوشی سے بھر جا

آ اور مجھے اداس کر جا

٭٭٭

پیار 

وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ

چھاؤں لگتی تھی رہگذر کی دھوپ

٭٭٭

یار

رنگ کیا کیا نہ دکھانے آئے

یار پھر مجھ کو منانے آئے

٭٭٭

روٹھو

منھ دیکھے کی ساری باتیں روٹھو گے کہ مناؤ گے

دل کو کیسے رام کرو گے کون سا رنگ دکھاؤ گے

٭٭٭

مدت

ایک مدت اسے دیکھا اسے چاہا لیکن

وہ کبھی پاس سے گذرا تو بلایا نہ گیا

٭٭٭

آنکھیں

آنکھیں تو نہ مانیں گی آنکھوں کو تو بہنا ہے

اب دل سے الجھنا ہے ان سے نہیں کہنا ہے

٭٭٭

عالم

کتنے عالم ورائے عالم ہیں

کبھی دیکھو نگاہ کے اس پار

٭٭٭

کشش

آخر اس کومری آنکھوں کی کشش لے آئی

وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آیا

٭٭٭

اداس

ہمارا کیا ہے جو ہوتا ہے جی اداس بہت

تو گُل تراشتے ہیں تتلیاں بناتے ہیں

٭٭٭

محبت

تو دیارِ حسن ہے، اونچی رہے تیری فصیل

میں ہوں دروازہ محبت کا، کھلا رہتا ہوں میں

٭٭٭

توجہ

کبھی جن پر توجہ ہی نہیں دی

وہی دل میں اترتے جا رہے ہیں

٭٭٭

گمان

غیر دلچسپ تھا یقین کا کھیل

سب کرشمے گمان کے دیکھے

٭٭٭

ہوس

تیری نظروں نے یہ بات اب مجھے سمجھائی ہے

کل محبت تھی ہوس آج کی سچائی ہے

٭٭٭

تنہائی

تنہائی تو کسی کو میسّر نہیں یہاں

ہر راہرو کے ساتھ ہے رستہ لگا ہوا

٭٭٭

روشنی

روشنی رہتی تھی دل میں، زخم جب تک تازہ تھا

اب جہاں دیوار ہے پہلے یہاں دروازہ تھا

٭٭٭

کاش

کاش ہم نے بھی سنی ہوتی کبھی دل کی پکار

چاہتی تھی ہم سے جو دنیا وہی کرتے رہے

٭٭٭

ہنسی

رہِ وفا میں خوشی کم ہے اور ملال بہت

خدا کرے کہ سلامت رہے ہنسی تیری

٭٭٭

ملنا

مجھے ہی بات بڑھانے کی آرزو نہ ہوئی

یہ اور بات کہ ملنا ترا محال بھی تھا

٭٭٭

لوگ

کتنے پُر امید کتنے خوبصورت ہیں یہ لوگ

کیا یہ سب بازو یہ سب چہرے فنا ہو جائیں گے

٭٭٭

نظر

وہی نظر کہ جو اٹھتی رہی مری جانب

اسی نظر میں کسی اور کا خیال بھی تھا

٭٭٭

وقت

وقت نے رنگ اڑا دئیے سارے

کل جو تصویر تھی کہاں ہے آج

٭٭٭

دعا

کسی طرح نہیں جاتی فسردگی دل کی

کوئی دعا کوئی حمد و ثنا نہیں چلتی

٭٭٭

خیال

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا

جانے وہ کس خیال میں تھا کس سمے میں تھا

٭٭٭

تصویری شاعری

غزلیں (منتخب اشعار)

ہم کو اپنی خبر نہیں کوئی

بام و دیوار و در نہیں کوئی

کہاں جائیں کہ گھر نہیں کوئی

 

گم ہوئے یوں غبارِ ہستی میں

ہم کو اپنی خبر نہیں کوئی

 

رات جاتی نظر نہیں آتی

اور آگے سحر نہیں کوئی

 

یوں نہ حیران ہو کے دیکھ مجھے

جیسے تجھ کو خبر نہیں کوئی

٭٭٭

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب

پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب

 

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے

وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب

٭٭٭

اپنے دیوانوں سے ملنے

شہروں میں ویرانے آئے

 

ہم بھی اس برباد جہاں میں

تھوڑی خاک اڑانے آئے

٭٭٭

بار بار اس گلی میں جاتے ہیں

جیسے کوئی ادھر ہمارا ہے

 

کیوں پریشاں کریں زمانے کو

درد دل درد سر ہمارا ہے

٭٭٭

رہ شوق میں کیا ہوا کون جانے

مرا حال میرے سوا کون جانے

 

ترے غم رسیدوں کا غم کون سمجھے

ترے گمشدوں کا پتہ کون جانے

٭٭٭

ایسی بستی سے تو اچھا ہے بیاباں اپنا

آدمی سانس تو لے سکتا ہے آسانی سے

 

چار سو پیشِ نظر صبحِ ازل ہو جیسے

دیکھتا رہتا ہوں ہر شکل کو حیرانی سے

٭٭٭

ہم خیالوں میں بناتے رہے نقشے تیرے

چشم و لب کیسے ہوں رخسار ہوں کیسے تیرے

ہم خیالوں میں بناتے رہے نقشے تیرے

 

اب کہاں دیکھنے والوں کو یقیں آئے گا

باغ جنت تھا بدن خواب تھے بوسے تیرے

٭٭٭

ہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا

کسی جانب نہیں کھلتے دریچے

کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا

 

ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاق

ہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا

٭٭٭

دل نے کچھ بستیاں بسائی ہیں

شہر سے دور شہرِ یار سے دور

 

لیے جاتا ہے کاروانِ خیال

عالم جبر و اختیار سے دور

٭٭٭

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمھاری زلف سیاہ تھی

 

وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا

اسے کیا خبر مرے دل میں بھی کبھی آرزوئے گناہ تھی

٭٭٭

نئے پیار کے اندھیرے مجھے کیا ڈرا سکیں گے

مرا دل بڑھا رہی ہیں مری چاہتیں پرانی

 

نئی زندگی نے مجھ کو نئے غم عطا کئے ہیں

مجھے کیا سنا رہے ہو یہ حکایتیں پرانی

٭٭٭

شاید پھر اپنے کام انھیں یاد آ گئے

ہوتے تھے جو فدا تری اک ایک بات پر

 

بس اتنا یاد ہے کسی محفل کا ذکر تھا

تم مسکرا دئیے تھے مری ایک بات پر

٭٭٭

قسم ان محبتوں کی جنھیں تم بھلا چکی ہو

کہو کیسے اب سناؤں تمھیں نغمہ جدائی

کوئی لے گیا اٹھا کر میرا ساز بے نوائی

 

قسم ان محبتوں کی جنھیں تم بھلا چکی ہو

ابھی دن ڈھلا نہیں تھا کہ تمھاری یاد آئی

٭٭٭

کھو گیا ہوں تری یادوں کے گھنے جنگل میں

گردشِ شام و سحر دن کوئی ایسا نکلے

وہ مرے ساتھ ہو اور صبح کا تارا نکلے

 

چھپ گیا چاند کھلی زلف کی خوشبو لے کر

اب چلی آؤ کہ آنکھوں سے اندھیرا نکلے

 

کھو گیا ہوں تری یادوں کے گھنے جنگل میں

کیا عجب ہے جو یہیں سے کوئی رستہ نکلے

 

ایک مدت سے سر راہ کھڑا ہوں مشتاقؔ

اس توقع پہ کہ شاید کوئی تجھ سا نکلے

٭٭٭

کالے کمروں میں کٹی ساری جوانی اس کی

جس نے اے خواب محبت ترا رستہ دیکھا

 

سنتے رہتے تھے کہ یوں ہو گا وہ ایسا ہو گا

لیکن اس کو تو کسی اور طرح کا دیکھا

٭٭٭

خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں

خون ٹھنڈا پڑ گیا آنکھیں پرانی ہو گئیں

 

دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت دیکھ کر

جن کو لکھنا تھا وہ سب باتیں زبانی ہو گئیں

 

رہ گیا مشتاقؔ دل میں رنگ یادِ رفتگاں

پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں

٭٭٭

دل پر کوئی بوجھ نہیں

یعنی آپ ہی پتھر ہے

 

باہر خوب ہنسو بولو

رونے دھونے کو گھر ہے

 

ترک عشق سے جی کا حال

پہلے سے کچھ بہتر ہے

٭٭٭

تم آئے ہو تمھیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

تمھارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں

 

اڑا کر رنگ کچھ ہونٹوں سے کچھ آنکھوں سے کچھ دل سے

گئے لمحوں کی تصویریں بنا کر دیکھ لیتا ہوں

 

سنا ہے بے نیازی ہی علاج نا امیدی ہے

یہ نسخہ بھی کوئی دن آزما کر دیکھ لیتا ہوں

٭٭٭

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

یہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو

 

دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں

کیاکریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو

 

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

٭٭٭

وہ چلتی تو خیال وصل اس کے ساتھ چلتا تھا

نظر اٹھتی کسی پر اور رنگ اس کا بدلتا تھا

 

اسے کل راستے میں دیکھ کر حیرت ہوئی مجھ کو

یہی لو تھی کبھی جس سے چراغ عشق جلتا تھا

٭٭٭

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دئیے جلائیے

عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے

 

اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے؟

میں نے کہا چھوڑیے اب انھیں بھول جائیے

 

کوئی شرر نہیں بچا پچھلے برس کی راکھ میں

ہم نفسان شعلہ خو آگ نئی جلائیے

٭٭٭

میٹھی نیند میں آئیں گے سپنے نئے جہان کے

ہجر کی ٹھنڈی رات میں سو جا چادر تان کے

 

نئے ہیں اب تک دو ورق یاد کی پھٹی کتاب میں

نرم عبارت آنکھ کی جملے دبی زبان کے

٭٭٭

عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا

 

تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح

بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا

 

زندگی معرکہ روح و بدن ہے مشتاقؔ

عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا

٭٭٭

میں نے اپنے آپ سے دھوکا کیا

تم نے اپنی خواہشوں کا کیا کِیا

 

لگ گئے لوگ اپنے اپنے کام سے

اور میں تیرا پتہ پوچھا کیا

 

میں نے جو سوچا تھا غارت ہو گیا

تم نے جو چاہا اسے پورا کیا

 

خواب سارے ریزہ ریزہ کر دئیے

جاگنے والے نے کیا اچھا کیا

٭٭٭

یہ نقش محبت ہے دوبارہ نہ بنے گا

چاہو بھی تو اس طرح کا نقشہ نہ بنے گا

 

اب راہ طلب اور بھی دشوار ہوئی ہے

اب سوچ سمجھ کر کوئی دیوانہ بنے گا

٭٭٭

کیوں چھوڑ گیا مجھے ترستا

بادل تھا تو دو گھڑی برستا

 

مر تو نہیں جائیں گے مگر ہاں

کچھ روز رہیں گے دل شکستہ

 

صحرائے ہوس میں کھو گیا ہوں

اے عشق نکال کوئی رستہ

 

مہنگی ہیں یہاں تمام چیزیں

بس خون ہے آدمی کا سستا

٭٭٭

زلفیں پکارتی ہیں پریشاں کہاں گئے

آئینے پوچھتے ہیں وہ حیراں کہاں گئے

 

 شائستہ فراق یہاں اب کوئی نہیں

تھی جن سے عزت شبِ ہجراں کہاں گئے

٭٭٭

ان کہی بات نے اک حشر اٹھا رکھا تھا

شور اتنا تھا کوئی بات نہ ہونے پائی

 

درد نے سیکھ لیا اپنی حدوں میں رہنا

خواہش وصل مناجات نہ ہونے پائی

 

کون سے وہم کے پردے تھے دلوں میں حائل

کیوں تری ذات مری ذات نہ ہونے پائی

٭٭٭

یہ تجربہ تھا محبت میں کامیاب رہا

ہوا سکوں بھی میسّر تواضطراب رہا

دل خراب ہمیشہ دل خراب رہا

 

تمام عمر کبھی جس سے کھل کے بات نہ کی

ہر اک سخن میں اسی سے مرا خطاب رہا

 

وہ اپنے گھر میں رہے خوش ہم اپنے گھر میں خوش

یہ تجربہ تھا محبت میں کامیاب رہا

٭٭٭

عشق میں کون بتا سکتا ہے

کس نے کس سے سچ بولا ہے

 

ہم تم ساتھ ہیں اس لمحے میں

دکھ سکھ تو اپنا اپنا ہے

 

مجھ کو تو سارے ناموں میں

تیرا نام اچھا لگتا ہے

 

بھول گئی وہ شکل بھی آخر 

کب تک یاد کوئی رہتا ہے

 

کبھی کبھی تو ہنسی آتی ہے

یہ دنیا کیسی دنیا ہے

 

اچھے دنوں کی آس نہ چھینو

یہی تو ایک دیا جلتا ہے

٭٭٭

وہ بھی ہوئے خراب محبت جنھوں نے کی

کیسے انھیں بھلاؤں محبت جنھوں نے کی

مجھ کو تو وہ بھی یاد ہیں نفرت جنھوں نے کی

 

اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل

وہ بھی ہوئے خراب محبت جنھوں نے کی

٭٭٭

تجھے بھُلا نہیں سکتا یہی محبت ہے

ترا وجود ہی سب سے بڑی حقیقت ہے

تجھے بھُلا نہیں سکتا یہی محبت ہے

 

گلہ نہیں ہے تری بے تعلقی سے مجھے

میں جانتا ہوں تجھے بھولنے کی عادت ہے

 

خود اپنی ذات کا جب تجزیہ کیا تو کھلا

ترے بغیر بھی جینے کی ایک صورت ہے

٭٭٭

عمر بھر کون جوان کون حسیں رہتا ہے

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

 

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے

عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

 

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن

عمر بھر کون جوان کون حسیں رہتا ہے

٭٭٭

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں

 

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

٭٭٭

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

انھیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو

 

ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس پلٹ آئے

وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

٭٭٭

سمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں

ترے آنے کا دن ہے تیرے رستے میں بچھانے کو

چمکتی دھوپ میں سائے اکٹھے کر رہا ہوں میں

 

مجھے معلوم ہے اہلِ وفا پر کیا گذرتی ہے

سمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں

٭٭٭

تیری تلاش میں چل تو پڑا ہوں جانے تجھے پاؤں کہ نہ پاؤں

شاید اس گنجان سفر میں آپ ہی اپنے ہاتھ آ جاؤں 

 

ایک سے بڑھ کر ایک نظارہ دمک رہا ہے عالم سارا

آنکھیں دو اور حسن بہت ہے کہاں کہاں دامن پھیلاؤں

٭٭٭

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے

لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

 

کیا اس سے گلہ کیجئے بربادی دل کا

ہم سے بھی تو اظہار تمنا نہیں ہوتا

٭٭٭

وہ جو ایک وقفہ عمر تھا تری آرزو میں بسر کیا

کبھی منتظر رہے شام کے کبھی انتظار سحر کیا

 

کبھی سال سال نہ طے ہوئیں کسی نقش پا کی مسافتیں

کبھی ایک لمحہ شوق میں کئی منزلوں کا سفر کیا

٭٭٭

چہروں سے پھوٹتی ہے مسرت کبھی کبھی

روحوں میں بولتی ہے یہ دولت کبھی کبھی

 

ہر بوسے کو نصیب نہیں لمحہ نشاط

جسموں میں جاگتی ہے یہ لذت کبھی کبھی

 

وہ سو رہا ہو اور اسے دیکھتا رہوں

مشتاقؔ چاہتی ہے طبیعت کبھی کبھی

٭٭٭

کیوں میرے حال دل پر اس کی نظر نہیں ہے

شاید اسے خبر ہو مجھ کو خبر نہیں ہے

 

سب کی نظر بچا کر میں دیکھتا ہوں اس کو

کیوں دیکھتا ہوں اس کو وہ بے خبر نہیں ہے

٭٭٭

وہ جن کے ساتھ چلتا تھا زمانہ

ابھی اس راہ سے تنہا گئے ہیں

 

جدائی عشق میں ہے کیوں ضروری

وہ سب باتیں مجھے سمجھا گئے ہیں

٭٭٭

دونوں ہی تو سچے تھے الزام کسے دیتے

کانوں نے کہا صحرا آنکھوں نے سنا پانی

 

جب شام اترتی ہے کیا دل پہ گذرتی ہے

ساحل نے بہت پوچھا خاموش رہا پانی

٭٭٭

ملی ہیں اور بھی خوش وضع صورتیں لیکن

نہ وہ بدن کی مہک تھی نہ وہ لباس کا رنگ

 

جدا ہوئے تو کئی رنگ تھے خیالوں میں

ملے تو ایک تھا پانی کا رنگ پیاس کا رنگ

٭٭٭

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا

بس یہی نہ، درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گا

 

وہ مرے دل کی پریشانی سے افسردہ ہو کیوں

دل کا کیا ہے کل کو اچھا بھلا ہو جائے گا

 

گھر سے، کچھ خوابوں سے ملنے کے لیے نکلے تھے ہم

کیا خبر تھی زندگی سے سامنا ہو جائے گا

 

رونے لگتا ہوں محبت میں تو کہتا ہے کوئی

کیا ترے اشکوں سے یہ جنگل ہرا ہو جائے گا

٭٭٭

وہ مرے دھوپ سے دن چاندنی جیسی راتیں

کیسا اجلا تھا تری دید کا پہلا موسم

 

دل نہ اچھا ہو تو کچھ بھی نہیں اچھا لگتا

سایہ گیسوئے دلدار نہ اچھا موسم

٭٭٭

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top