اداسی ایک نعمت ہے اگر یہ انسان کو چھو کر گزر جائے اور اگر اداسی آپ میں ٹھہر جائے تو اک مسلسل اضطراب ہے۔ اردو شاعری میں بھی ایسے ہی اداس لمحوں کو الفاظ کے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ پیشِ خدمت ہے(Sad poetry in Urdu | اداس شاعری) ۔ اداسی کا لطف لیجیے!

شاعری تصاویر

منتخب اشعار

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

احمد مشتاقؔ

٭٭٭

کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے

تیرے بھی دن گزر گئے، میرے بھی دن گزر گئے

تو بھی کچھ اور اور ہے میں بھی کچھ اور اور ہوں

جانے وہ تو کہاں گیا جانے وہ ہم کدھر گئے

تُو بھی غبارِ راہ تھا ہم بھی غبارِ راہ ہیں

تو بھی کہیں بکھر گیا ہم بھی کہیں بکھر گئے

٭٭٭

گزر نہ جا یونہی رخ پھیر کر سلام تو لے

ہمیں تو دیر سے دعویٰ ہے رو شناسی کا

٭٭٭

کروں گاکیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

غلام محمد قاصرؔ

٭٭٭

ہے کوئی بات ہی ایسی کہ دل کی تختی سے

تمھارے ہاتھ کا لکھا مٹانا پڑ گیا

٭٭٭

کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ

٭٭٭

رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کامجھے

اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا

٭٭٭

عشق لاحاصلی کا کھیل نہیں

دیکھ ہم اس گلی کی خاک ہوئے

شعیب بن عزیزؔ

٭٭٭

میں وہ سکوت ہوں جو تیرے کام کا نہیں

تو ایسا شور ہے جو میں مچا نہیں سکتا

٭٭٭

وہ جانتا نہیں تو بتانا فضول ہے

اُس کو میرے غموں کی خبر ہونی چاہیے

٭٭٭

 دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے

آغاز بھی رسوائی ، انجام بھی رسوائی

٭٭٭

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے

رو پڑا وہ آپ مجھے حوصلہ دیتے ہوئے

٭٭٭

تجھ سے کوئی فی الحال طلب ہے نہ تمنا

اس شہر میں جیسے  تیرا ہونا ہی بہت ہے

٭٭٭

لوگ آتے ہیں بہت دل کو جلانے میرے

تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے

٭٭٭

یوں بھی نہیں کہ میرے بلانے سے آ گیا

جب رہ نہیں سکا تو بہانے سے آ گیا

ظفرؔ اقبال

٭٭٭

میں نے کب دعویٰ کیا تھا سر بسر باقی ہوں میں

پیش خدمت ہوں تمھارے جس قدر باقی ہوں میں

٭٭٭

تری گفتگو ترا دھیان چھوڑنا چاہیے

ہمیں اب یہ خستہ مکان چھوڑنا چاہیے

قمر رضا شہزادؔ

٭٭٭

تو جانتا ہے میں تیرے بغیر کچھ بھی نہیں

میں جانتا ہوں تو میرے بِنا بھی سب کچھ ہے

٭٭٭

مجھ سے بچھڑ  کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر

یہ سوچ لے کہ  میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

٭٭٭

تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا

تو پھر یہ عمر بھی کیوں، تم سے گر نہیں ملنا

٭٭

یہ تری جدائی کی یادگار ہے ورنہ 

ایک زخم بھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ناصرہؔ زبیری

٭٭٭

دور و نزدیک بہت اپنے ستارے بھی ہوئے

ہم کسی اور کے تھے اور تمھارے بھی ہوئے

٭٭٭

یہ شہر وہ ہے جس میں کوئی گھر بھی خوش نہیں

دادِ ستم نہ دے کہ ستم گر بھی خوش نہیں

اور اصرار تھا انھیں کہ بھلا دیجیے ظفر

ہم نے بھلا دیا تو وہ اس پر بھی خوش نہیں

٭٭٭

کیا کہیں اس سے کہ جو بات سمجھتا ہی نہیں

وہ  تو ملنے کو ملاقات سمجھتا ہی نہیں

فاطمؔہ حسن

٭٭٭

آج کا دن بھی کاٹ لیا ہے ہنستے ہنستے کاموں میں

ترے دھیان سے بچتے بچتے شکر ہو ایہ شام ڈھلی

٭٭٭

یہ دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے

اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے

٭٭٭

صرف مرے لیے نہیں رہنا

تم میرے بعد بھی حسین رہنا

اسلم کولسریؔ

٭٭٭

میں نے کہا کہ دیکھ یہ میں ، یہ ہوا، یہ رات

اُس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے

٭٭٭

اگر یہ دشت بھی مجھ کو قبول کرتا نہیں

تو ٹھیک ہے میں کوئی اور کام کرتا ہوں

٭٭٭

اک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے

میرے دن رات گزرتے ہیں اداکاری میں

٭٭٭

ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو

یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو

٭٭٭

جس رات مہکتیں ہیں کسی رات کی یادیں

اُس رات گزرتی ہی نہیں رات ہماری

٭٭٭

جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہو گا

کسے خبر ہے کون کس  جگہ ہو گا

بچھڑنے والے تجھے دیکھ دیکھ سوچتا ہوں

پھر ملے گا تو کتنا بدل چکا ہو گا

٭٭٭

چار سو پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا

اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا

٭٭٭

اب دل کے خاکداں میں اسے ڈھونڈتے پھرو

جو کہکشاں کی راہ گزر سے نکل گیا

٭٭٭

کاغذ کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات

نکلی بیرونِ شہر تو بارش نے آ لیا

٭٭٭

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں

لو اپنے دام میں صیاد آ گیا

٭٭٭

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

٭٭٭

اُس نے دنیا سے بھی بڑھ کر اسے  برباد کیا

کام سونپا تھا جسے دل کی نگہبانی کا

٭٭٭

 کھلا کھلا بھی ہوا دار بھی ہے  دل کا مکاں

تو آ کے چار دن اس میں کبھی قیام تو کر

٭٭٭

 بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

پھر اس کے بعد نا میں تھا نہ میرا سایا تھا

٭٭٭

کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں ، تو کہتے ہیں

کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں

٭٭٭

محبت کر ہی بیٹھے ہیں تو پھر اظہار کیا کرتے

اسے بھی اس پریشانی سے اب دوچار کیا کرتے

٭٭٭

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

٭٭٭

وہ جانتا نہیں تو بتانا فضول ہے

اس کو میرے غموں کی خبر ہونی چاہیے

٭٭٭

عمر کی دوپہر اسلم کاٹ دی

اپنے زخمی ہاتھ کے سائے تلے

٭٭٭

 تیرے آنے کا انتظار رہا

عمر بھر موسمِ بہار رہا

٭٭٭

 بتا بھی سکتا ہوں کب تک بھلا سکوں اسے

مگر یہ بات اسے دیکھ کر ہی ممکن ہے

٭٭٭

انداز ہو بہو تیری آوازِ پا تھا

دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا

٭٭٭

میں سازشوں میں گھِرا اک یتیم شہزادہ

کوئی چھپا ہوا خنجر میری تلاش میں ہے

٭٭٭

وہ عکس بن کے میری چشمِ تر میں رہتا ہے

عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

٭٭٭

کون تھا وہ جو رہا اپنے شب و روز میں گم

مر گئے جس کی منڈیروں پہ کبوتر میرے

٭٭٭

اب تری وضاحت میں صداقت  نہیں لگتی

اب اپنی محبت کی صفائی نہ دیا کر

٭٭٭

ابھی کچھ دیر اس کو یاد کرنا ہے

ضروری کام اس کے بعد کرنا ہے

٭٭٭

آس وہ روز بندھا جاتا ہے ٹوٹے  دل کی

کیوں وہ حالات کو بہتر نہیں ہونے دیتا

٭٭٭

آنکھوں میں کیا ہنسے، نئی تعمیر کی خوشی

دل میں ابھی تو غم ہے پرانے مکان کا

٭٭٭

مریں گے لوگ ہمارے سوا بھی تم پہ بہت

یہ جرم ہے تو پھر اس جرم کی سزا رکھنا

٭٭٭

مدد کی تم سے توقع تو خیر کیا ہو گی

غریبِ شہرِ ستم ہوں، میرا پتا رکھنا

٭٭٭

کل شب دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا

یہ آخری کافر بھی مدینے سے نکالا

٭٭٭

 یہ محبت بھی ایک نیکی ہے

اس کو دریا میں ڈال آتے ہیں

٭٭٭

اللہ کرے جہاں کو میری یاد بھول جائے

اللہ کرے تم کبھی ایسا نہ کر سکو

صوفی تبسمؔ

٭٭٭

جہاں جہاں نہیں امکان ترے آنے کا

وہاں وہاں بھی تیرا انتظار ہوتا ہے

٭٭٭

یہ شہر چھوڑنا ہے مگر اس سے پیشتر

اس بے وفا کو ایک نظر دیکھنا بھی ہے

اشرف یوسفی

٭٭٭

رات خالی ہی رہے گی میرے چاروں جانب

اور یہ کمرہ ترے خواب سے بھر جائے گا

ظفر اقبال

٭٭٭

کل دیکھا اک آدمی اٹّا سفر کی دھول میں

گُم تھا اپنے آپ میں جیسے خوشبو پھول میں

منیر ؔ نیازی

٭٭٭

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے

اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

منیرؔ نیازی

٭٭٭

عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب

وہ مجھے تو یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد

پروین شاکرؔ

٭٭٭

وہ بے وفا ہی سہی آؤ اس کو یاد کریں

کہ ایک عمر پڑی ہے اُسے بھلانے کو

٭٭٭

مانگتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر

ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو

منیر ؔ نیازی

٭٭٭

یوں بھی ہو سکتا ہے یک دم کوئی اچھا لگ جائے

بات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائے

٭٭٭

کئی چاند تھے سرِ آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمھاری زلف سیاہ تھی

احمد مشتاقؔ

٭٭٭

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

تجھ سے ملنا تھا کہ پَر لگ گئے رسوائی کو

احمد مشتاقؔ

٭٭٭

مُدّت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ

اِک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

منیر ؔ نیازی

٭٭٭

ہوا کے ساتھ گزرتے ہیں لوگ اور لمحے

کوئی قریب کوئی دور کا مسافر ہے

ظفر صمدانیؔ

٭٭٭

کِیا ہے لا کے وہاں قید مجھ کو ظالم نے

جہاں سے صاف میرا گھر دکھائی دیتا ہے

٭٭٭

تجھ سے بچھڑ کر زندہ ہیں

جان بہت شرمندہ ہیں

افتخار عارفؔ

٭٭٭

 

Untitled 1280 × 720 px 1

 

sad poetry in Urdu

 

میر تقی میرؔ

5 1

 

Meer Taqi Meer Poetry

یاد اُس کی اتنی خُوب نہیں میرؔ، باز آ

نادان پِھر وہ جی سے, بُھلایا نہ جائے گا.

yaad us ki itn ḳhuub nahiñ ‘mīr’ baaz aaa

nadan phir vo ja se bhulaya na jaegā

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

dil kii viiraanii kaa kyaa mazkuur hai
ye nagar sau martaba luuTaa gayaa

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

shaam se kuchh bujhaa saa rahtaa huu.n
dil hu.aa hai charaaG muflis kaa

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

sirhaane ‘miir’ ke ko.ii na bolo
abhii Tuk rote rote so gayaa hai

جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے

jab ki pahluu se yaar uThtaa hai
dard be-iKHtiyaar uThtaa hai

میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی

ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا

mere rone kii haqiiqat jis me.n thii
ek muddat tak vo kaaGaz nam rahaa

یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم

جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

yuu.n uThe aah us galii se ham
jaise ko.ii jahaa.n se uThtaa hai

دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش

گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا

dil se ruKHsat hu.ii ko.ii KHvaahish
girya kuchh be-sabab nahiin aataa

مرزا غالبؔ

6

 

mirza ghalib sad poetry

رگوں مَیں دوڑتے پِھرنے کے ہَم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹَپکا تو پِھر لَہو کیا ہے؟

ragon mein dau.Dte phirne ke ham nahii.n qaail
jab aankh hii se na Tapkaa to phir lahuu kyaa hai

عِشرت قَطرہ ہے دریا مَیں فنا ہو جانا

دَرد کا حد سے گزرنا ہے دَوا ہو جانا

ishrat-e-qatra hai dariyaa me.n fanaa ho jaana

dard ka had se guzarnaa hai dava ho jana

َرنج سے خوگر ہُوا اِنساں تو مِٹ جاتا ہے رَنج

مُشکلیں مجھ پر پڑیں اِتنی، کہ آساں ہَو گئیں

ra.nj se KHuugar hu.aa insaa.n to miT jaataa hai ranj
mushkile.n mujh par pa.Dii.n itnii ki aasaan ho gaiin

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

maut kaa ek din mu.ayyan hai
niind kyuu.n raat bhar nahii.n aatii

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی

marte hai.n aarzuu me.n marne kii
maut aatii hai par nahii.n aatii

کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ

ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

kahte hai.n jiite hai.n ummiid pe log
ham ko jiine kii bhii ummiid nahiin

قیدِ حَیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی، غَم سے نَجات پائے کیوں

qaid-e-hayaat o band-e-Gam asl me.n dono.n ek hain
maut se pahle aadmii Gam se najaat paa.e kyuun

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

ko.ii viiraanii sii viiraanii hai
dasht ko dekh ke ghar yaad aayaa

غمِ ہستی کا اسدؔ کِس سے ہو جُزمرگ،علاج

شمع ہررنگ میں جَلتی ہے سَحر ہوتے تک

Gam e hasti kaa ‘asad’ kis se ho juz marg ilaaj
sham.a har rang me.n jaltii hai sahar hote tak

آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر ان سے

کہنے جاتے تو ہیں پَر دیکھیے کیا کہتے ہیں

aaj ham apnii pareshaani-e-KHaatir un se
kahne jaate to hai.n par dekhiye kyaa kahte hain

غم اگرچہ جاں گُسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دِل ہے

غمِ عِشق گر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا

Gam agarche jaan gusil hai pa kahan bachen ki dil hai
Gam-e-ishq gar na hotaa Gam-e-rozgaar hotaa

غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اَشک سے

بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے

‘Gaalib’ hamen na chhe.D ki phir josh e ashk se
baiThe hai.n ham tahayya-e-tuufaa.n kiye hu.e

گھرمیں تھا کیا کہ ترا غم اُسے غارت کرتا

وہ جورکھتے تھے ہم اک حسرتِ تَعمیر، سو ہے

ghar men thaa kyaa ki tiraa Gam use Gaarat kartaa
vo jo rakhte the ham ik hasrat-e-taamiir so hai

ایک ہَنگامہ پہ موقوف ہے گھرکی رَونق

نوحۂ غم ہی سہی، نغمۂ شادی نہ سہی

ek hangaame pe mauquf hai ghar kii raunaq
nauha-e-Gam hii sahii naGma-e-shaadii na sahii

بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل

جو تِری بَزم سے نِکلا سو پریشاں نکلا

buu-e-gul naala-e-dil duud-e-charaaG-e-mahfil
jo tirii bazm se niklaa so pareshaan niklaa


جونؔ ایلیا

1

 

jaun elia sad poetry

ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں
اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں

saarii duniyaa ke Gam hamaare hain
aur sitam ye ki ham tumhaare hain

زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں

zindagii kis tarah basar hogii
dil nahiin lag rahaa mohabbat mein

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

ye mujhe chain kyuu.n nahiin paDtaa
ek hii shaKHs thaa jahaan mein kyaa

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

jo guzaarii na jaa sakii ham se
ham ne vo zindagii guzaarii hai

سب میرے بغیر مطمئن ہیں
میں سب کے بغیر جی رہا ہوں

sab mere baGair mutma.in hain
main sab ke baGair jii rahaa huun

بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمہاری ہے

bin tumhaare kabhii nahiin aa.ii
kyaa mirii niind bhii tumhaarii hai

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

dil kii takliif kam nahii.n karte
ab ko.ii shikva ham nahii.n karte

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

bahut nazdiik aatii jaa rahii ho
bichha.Dne kaa iraada kar liyaa kyaa

کیا تکلّف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اُس سے جَلتے ہیں

kyaa takalluf kare.n ye kahne mein
jo bhii KHush hai ham us se jalte hain

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

nayaa ik rishta paidaa kyuu.n karen ham
bichha.Dnaa hai to jhag.Daa kyuun karen ham

تمہارا ہِجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دِل کسی سے لگا لوں اگر اِجازت ہو

tumhaaraa hijr manaa luun agar ijaazat ho
mai.n dil kisii se lagaa luun agar ijaazat ho

مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی
آپ مجھ کو منا لیا کیجے

mujh ko aadat hai ruuTh jaane kii
aap mujh ko manaa liyaa kiije

زندگی ایک فن ہے لمحوں کو
اپنے انداز سے گنوانے کا

zindagii ek fan hai lamhon ko
apne andaaz se ga.nvaane kaa

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے

kyaa sitam hai ki ab tirii suurat
Gaur karne pe yaad aatii hai

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

ab mirii ko.ii zindagii hii nahiin
ab bhii tum merii zindagii ho kyaa

تم جَب آؤ گی تو کھویا ہُوا پاؤ گی مجھے

میری تَنہائی میں خوابوں کے سِوا کچھ بھی نہیں

tum jab aaogii to khoyaa hu.aa paao gii mujhe
merii tanhaaii mein KHvaabo.n ke sivaa kuchh bhii nahiin

روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
یہ اداسی کہاں سے آتی ہے

ruuh pyaasii kahaan se aatii hai
ye udaasii kahaan se aatii hai

ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے

ek hii to havas rahii hai hamen
apnii haalat tabaah kii jaae

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے
عقل حیراں ہے کیا کیا جائے

dil pareshaa.n hai kyaa kiyaa jaae
aql hairaa.n hai kyaa kiyaa jaae

ہم کو یاروں نے یَاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو

ham ko yaaron ne yaad bhi na rakhaa
jaun  ،yaaron ke yaar the ham to

ایک ہُنر ہے جو کر گیا ہوں مَیں

سب کے دِل سے اُتر گیا ہوں مَیں

ik hunar hai jo kar gayaa huun main
sab ke dil se utar gayaa huun main


ساغرؔ صدیقی

3 1

 

Saghir Saddique Poetry

اے دل بے قرار چپ ہو جا

جا چکی ہے بَہار چُپ ہَو جا

ai dil-e-be-qarār chup ho jā

jā chukī hai bahār chup ho jā

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔ

زندگی کی کوئی کڑی ہوگی

maut kahte haiñ jis ko ai ‘sāġhar’

zindagī kī koī kaḌī hogī

میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور

میں آج اپنی ذات سے گَھبرا کے پِی گَیا

main aadmi huuñ koi farishta nahīñ huzūra

main aaj apni zaat se ghabra ke pi gayā

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں، اس کا گِلہ ہی کیا

پھولوں کی واردات سے گَھبرا کے پِی گیا

kanTe to ḳhair kanTe haiñ is ka gila hi kyā

phūlon kī vardat se ghabra ke pi gayā

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کِس جُرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔

zindagī jabr-e-musalsal kī tarah kaaTī hai

jaane kis jurm ki paai hai saza yaad nahīñ

مر گئے جن کے چاہنے والے

ان حسینوں کی زندگی کیا ہے

mar ga.e jin ke chāhne vaale

un hasīnoñ kī zindagī kyā hai

رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کا

اب تو آ جاؤ! وقت نازک ہے

rañg uḌne lagā hai phūloñ kā

ab to aa jaao! vaqt nāzuk hai

تیری صورت جو اتفاق سے ہم

بھول جائیں تو کیا تماشا ہو

terī sūrat jo ittifāq se ham

bhuul jaa.eñ to kyā tamāshā ho


بشیر بدرؔ

2

 

Bashir Badar Poetry

اُجالے اپنی یادوں کے ہَمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کِس گلی میں زِندگی کی شام ہو جائے

ujale apni yādoñ ke hamare saath rahne do

na jaane kis gala meñ zindagī ka shaam ho jaae

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

kuchh to majbūriyāñ rahī hoñgī

yuuñ koī bevafā nahīñ hotā

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ مِلا

اگر گَلےنہیں مِلتا تو ہاتھ بھی نہ مِلا

mohabbatoñ meñ dikhāve kī dostī na milā

agar gale nahin milta to haath bhi na milā

یَہاں لِباس کی قیمت ہے،آدمی کی نہیں

مُجھے گِلاس بڑا دے، شراب کم کر دے

yahān libās ki qīmat hai aadmi kī nahiñ

mujhe gilas baḌa de sharab kam kar de

تم محبت کو کھیل کہتے ہو

ہم نے برباد زندگی کر لی

tum mohabbat ko khel kahte ho

ham ne barbād zindagī kar lī

کوئی ہاتھ بھی نہ مِلائے گا جو گلے مِلو گے تپاک سے

یہ نئے مِزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے مِلا کرو

koa haath bhī na milaega jo gale miloge tapak se

ye na.e mizaj kā shahr hai zara fasle se mila karo

تم مجھے چھوڑ کے جاؤگے تو مَر جاؤں گا

یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگَل کر دو

tum mujhe chhoḌ ke jaoge to mar jauñgā

yuun karo jaane se pahle mujhe pagal kar do

ہم توکُچھ دیرہَنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

ham to kuch dair hans bhi lete hain

dil hamesha udaas rahtā hai

سر جھکاؤ گےتوپَتھر دیوتا ہو جائے گا

اِتنا مَت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

sar jhukāoge to patthar devtā ho jā.egā

itna mat chāho use vo bevafa ho jaegā

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں،ایک گھربنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

log TuuT jaate hain ek ghar banane men

tum taras nahīñ khāte bastiyāñ jalāne meñ

ابھی راہ میں کئی موڑہیں،کوئی آئےگا کوئی جائے گا

تمہیں جِس نے دل سے بُھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

abhī raah meñ kaī moḌ haiñ koī aaegā koī jaegā

tumhen jis ne dil se bhulā diya use bhūlne ki dua karo

دل کی بستی پرانی دلی ہے

جو بھی گُزرا ہے اس نے لُوٹا ہے

dil kī bastī purānī dillī hai

jo bhi guzra hai usne luTa hai

نہ اُداس ہو نہ مَلال کر کسی بات کا نہ خیال کر

کئی سال بعد مِلے ہیں ہم، تیرے نام آج کی شام ہے

na udaas ho na malal kar kisī baat ka na ḳhayal kar

kai saal baad mile haiñ ham tere naam aaj ki shaam hai

اُس نے چھوکرمجھے پتھر سے پھر اِنسان کیا

مدتوں بعد مری آنکھوں میں آنسو آئے

us ne chhuu kar mujhe patthar se phir insaan kiyaa
muddato.n ba.ad mirii aa.nkho.n me.n aa.nsuu aa.e

اجازت ہو تو میں اک جھوٹ بولوں

مجھے دنیا سے نفرت ہو گئی ہے

ijaazat ho to main ik jhuuT bolun
mujhe duniyaa se nafrat ho ga.ii hai


کلیم عاجزؔ

4 2

 

Kalim Aajiz Poetry

دَرد ایسا ہےکہ جی چاہےہےزندہ رہیے

زِندگی ایسی کہ مر جانے کو جِی چاہے ہے

dard aisa hai ki ji chāhe hai zinda rahiye

zindagī aisi ki mar jaane ko jī chahe hai

دامن پہ کوئی چِھینٹ نہ خَنجر پہ کوئی دَاغ

تُم قتل کرو ہوکہ کرامات کروہو

dāman pe koī chhinT na ḳhanjar pe koi daaġh

tum qatl karo ho ke karamaat karo ho

یہ آنسو بے سَبب جاری نہیں ہے

مجھے رونے کی بیِماری نہیں ہے

ye aansū be-sabab jaarī nahīn hai

mujhe rone ki bīmārī nahin hai

تلخِیاں اس میں بہت کچھ ہیں مَزا کچھ بھی نہیں

زِندگی دَرد مَحبت کے سوا کچھ بھی نہیں

talḳhiyan is men bahut kuchh haiñ mazā kuchh bhī nahīn

zindagi dard-e-mohabbat ke sivā kuchh bhī nahīn

وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مُسکراؤ

وفا یاد رکھو سِتم بھول جاؤ

vo kahte hain har choT par muskurao

vafa yaad rakkho sitam bhuul jaao

اُنہیں کے گِیت زمانے میں گائے جائیں گے

جو چوٹ کھائیں گے اورمُسکرائے جائیں گے

unhīñ ke giit zamāne meñ gaae jāeñge

jo choT khāeñge aur muskurā.e jāeñge


پروین شاکر

sad poetry in urdu
اِنتظار

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اِس شام بھی

اِنتظار اُس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

رُسوائی

کیسے کَہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

اُمید

اب تو اِس راہ سے وہ شخص گُزرتا بھی نہیں

اب کِس اُمید پہ دَروازے سے جھانکے کوئی

صَبر

وہ مُجھ کو چھوڑ کے جِس آدمی کے پاس گیا

برابری کا بھی ہوتا تو صَبر آ جاتا

زَخم

ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زَخم ہے بَھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا

بات

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلُّف سے بات کی

اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بِھگو لیے

خواب

جِس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ

اِس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بِکھرے کوئی

ضبط

کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اُس کی دُلہن سجاؤں گی

بِکھرنا

عکسِ خوشبو ہوں بِکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سَمیٹے کوئی

ترکِ محبت

اُس کے یوں ترکِ محبت کا سَبب ہوگا کوئی

جی نہیں یہ مانتا وہ بے وَفا پہلے سے تھا

ہِجر کا فیصلہ

مُمِکنہ فیصلوں میں ایک ہِجر کا فیصلہ بھی تھا

ہم نے تو ایک بات کی اس نے کَمال کر دیا

ناصرؔ کاظمی

sad poetry in urdu by Nasir Kazmi
Nasir Kazmi POetry
جُدائی

جُدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیے

تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا 

ذرا سی بات

ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا

ذرا سی بات بہت دیر تک رُلاتی تھی 

آرزو

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مِٹ جائے

بہت دنوں سے طبیعت مری اُداس نہیں

نئے کپڑے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کِس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کِس کے لیے 

دائم آباد

دائم آباد رہے گی دُنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

اُداسی

ہمارے گھر کی دِیواروں پہ ناصرؔ

اُداسی بال کھولے سو رہی ہے 

کمی

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا

جانے کِس چیز کی کمی ہے ابھی

وقت

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی 

اُداس

دل تو میرا اُداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے 

اُداسی

ہمارے گھر کی دِیواروں پہ ناصرؔ

اُداسی بال کھولے سو رہی ہے 

میرے خُدا

او میرے مصروف خدا

اپنی دُنیا دیکھ ذرا 

وہ لوگ

جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ

وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں 

نیّتِ شوق

نیّتِ شوق بھر نہ جائے کہیں

تو بھی دِل سے اُتر نہ جائے کہیں 

حُسن

نہ ملا کر اُداس لوگوں سے

حُسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

ناز

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا

اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

خٰیالِ یار

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر

سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top