بانگِ درا سے منتخب اشعار

ہمالہ

ہاں دکھا دے اے تصوّر! پھر وہ صبح و شام تُو

دَوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو 

 مسجد

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پُرانا پاپی ہے’  برسوں  میں نمازی بن نا سکا

 

غازی

اقبالّ بڑا اپدیشک ہے من باتوں  میں موہ لیتا ہے

گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

 

 تہذیب

اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

 

اُستاد

تھے وہ بھی دِن کہ خدمتِ استاد کے عوض

دل چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجیے!

 

عشق

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

 

اے حقیقت 

کبھی اے حقیقتِ مُنتَظر، نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

 

تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ

کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہِ ساز میں

 

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی

مرے جرمِ  خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں

 

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا’ تجھے کیا ملے گا نماز میں

 

ساماں

ساماں  کی محبت میں مضمر ہے تن آسانی

مقصد ہے اگر منزل، غارت گرِ ساماں ہو

 

آتشِ نمرود

پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل

عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

 

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

 

 پیغام مرا

اے بادِ صبا! کملی والےؐ سے جا کہیو پیغام مرا

قبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا، دنیا بھی گئی

 

نکلی تو لبِ اقبال سے ہے” کیا جانئے کس کی ہے یہ صدا!

پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی’ دل محفل کا تڑپا بھی گئی!

 

طلوعِ اِسلام

ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دے

چمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جستجو کر دے

 

ہزاروں  سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا!

 

ترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے

مسلماں سے حدیثِ سوز و ساز زندگی کہہ دے

 

سبق پھر پڑھ صداقت کا’ عدالت کا’ شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا

 

بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا

نہ تورانی رہے باقی’ نہ ایرانی’ نہ افغانی

 

جب اس انگارء خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا

تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا

 

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں’ نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

 

کوئی اندازا کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا؟

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں!

 

یقیں محکم ، عمل پیہم’ محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں  کی شمشیریں

 

جہاں میں اہلِ ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

اِدھر ڈوبے’ اُدھر نکلے’ اُدھر ڈوبے’ اِدھر نکلے!

 

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا

 

ہوس نے کر دیاہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو

اخوّت کا بیاں ہو جا’ محبت کی زباں ہو جا

 

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

 

 سرمایہ و محنت

اُٹھ کہ اب بزمِ جہان کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
 

دنیائے اسلام

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کا شغر!
 

سلطنت

اس سراب ِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ ! اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

 

زندگی

اپنی دُنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

سِرِّ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی!

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ

جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی!

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہء محشر میں ہے!

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!

 

خضرِ راہ

آگ ہے’ اولاد ِ ابراہیمؑ ہے’ نمرود ہے!

کیا کسی کو پھر امتحاں مقصود ہے؟

 

ہمایوں

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی

ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوامِ زندگی!

 

میں اور تو

نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا، نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا

میں ہلاکِ جادو کے سامری۔ تو قتیلِ شیوہ آزری

 

دمِ زندگی رمِ زندگی، غمِ زندگی  سمِ زندگی

غمِ رم نہ کر سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری!

 

پھول

تمنا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں

تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے!

 

پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ 

ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شجر سے ٹوٹ

ممکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے

 ملّت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید ِ بہار رکھ!

 

مذہب

اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

 

جنگِ یرموک کا ایک واقعہ 

پوری کرے خدائے محمدؐ تری مراد

کتنا بلند تیری محبت کا ہے مقام!

 

پہنچے کا بارگاہِ رسولؐ امیںؐ میں تو

کرنا یہ عرض میری طرف سے پس از سلام

 

ہم پر کرم کیا ہے خدائے غیور نے

پورے ہوئے جو وعدے کیے تھے حضورؐ نے!

 

بلال (رض) 

اقبالؔ کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے؟

رومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے!

 

 والدہ مرحومہ کی یاد میں

بے تکلّف خندہ زن ہیں ، فکر سے آزاد ہیں

پھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیں

 

کس کو اب ہو گا وطن میں آہ! میرا انتظار

کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار؟

 

خاکِ ِ مرقد پر تری لیکر یہ فریاد آؤں گا

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا؟

 

زلزلے ہیں بجلیاں ہیں’ قحط ہیں’ آلام ہیں

کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایّام ہیں!

 

زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیں!

ٹوٹنا جس کا مقدر ہو، یہ وہ گوہر نہیں!

 

زندگی محبوب ایسی دیدہء قدرت میں ہے

ذوقِ حفظِ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہے

 

موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے

خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے!

 

وقت کے افسوں سے تھمتا نالہء ماتم نہیں

وقت زخمِ تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیں

 

یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے

جیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہے

 

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!

سبزہء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے!

 

صدیق (رض)

پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس

صدیق (رض) کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس!

فاطمہ بنتِ عبداللہ

فاطمہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے

ذرّہ ذرّہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے

 

فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے

نغمہء عشرت بھی اپنے نالہء ماتم میں ہے

 

رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے

ذرّہ ذرّہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے

 

ہے کوئی ہنگامہ تیری تربتِ خاموش میں  

پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں

 

دعا

یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے

جو قلب کو گرما دے’ جو روح کو تڑپا دے

 

محرومِ تماشا کو پھر دیدہء بینا دے

دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

 

بھٹکے ہوئے آہو کو’ پھر سوئے حرم لے چل

اس شہر کے خوگر کو’ پھر وسعتِ صحرا دے

 

اس دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو 

وہ داغِ محبت دے’ جو چاند کو شرما دے

 

میں بلبلِ نالاں ہوں اک اجڑے ہوئے گلستاں کا

تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو داتا دے

 

ساقی

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے کوئی

 

جوابِ شکوہ

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقتِ ٌپرواز مگر رکھتی ہے

 

ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو 

بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

 

ہم تو مائل بہ کرم ہیں ‘ کوئی سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے؟ رہروِ منزل ہی نہیں

 

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں

 

ہاتھ بے زور ہیں’ الحاد سے دل خوگر ہیں

امتی باعثِ رسوائی پیغمبرؐ ہیں

 

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے!

ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نیند تمھیں پیاری ہے

 

جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن ، تم ہو

نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن ، تم ہو

 

بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن’ تم ہو

بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

 

میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟

میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟

 

تھے تو آبا وہ تمھارے ہی مگر تم کیا ہو؟

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

 

تم میں کوئی حوروں کا چاہنے والا ہی نہیں

جلوہء طور تو موجود ہے موسیٰؑ ہی نہیں

 

حرم پاک بھی’ اللہ بھی’ قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

 

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہٰیں ذاتیں ہیں!

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

 

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمھیں پاس نہیں!

 

رہ گئی رسمِ اذاں ، روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

 

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے

 

یوں تو سیّد بھی ہو؛ مرزا بھی ہو’ افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

 

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو

پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو!

 

ہر کوئی مستِ مے ذوقِ تن آسانی ہے

تم مسلماں ہو؟ یہ اندازِمسلمانی ہے؟

 

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

 

آج بھی ہو جو ابراہیمؑ کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

 

قوتِّ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے

 

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

 

حضورِ رسالت مآبؐ میں

فرشتے بزمِ رسالت ؐ میں لے گئے مجھ کو

حضورؐ آیہء رحمتؐ میں لے گئے مجھ کو

 

حضورؐ ! دہر میں آسودگی نہیں ملتی

تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی

 

شمع اور شاعر

شمع

تھا جنھیں ذوقِ تماشا، وہ تو رخصت ہو گئے

لے کے اب تو وعدہء دیدارِ عام آیا تو کیا

 

خیر تو ساقی سہی، لیکن پلائے گا کسے؟

اب نہ وہ میکش رہے باقی، نہ میخانے رہے

 

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

 

زندگی قطرے کو سکھلاتی ہے اسرارِ حیات

یہ کبھی گوہر، کبھی شبنم، کبھی آنسو ہوا

 

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں ، اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

 

پردہء دل میں محبت کو ابھی مستور رکھ

یعنی اپنی مے کو رسوا صورتِ مینا نہ کر

 

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں! ذرا

دانہ تو کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو

 

آہ! کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے

راہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو، منزل بھی تو

 

کانپتا ہے دل ترا اندیشہء طوفاں سے کیا

ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تو

 

دیکھ آ کر کوچہء چاکِ گریباں میں کبھی!

قیس تو، لَیلا بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تو

 

بخیر! تو جوہرِ آئینہ ایام ہے

تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے!

 

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے’ لب پہ آ سکتا نہیں

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!

 

 مرزا غالبؔ

زندگی مضمر ہے تیری شوخیء تحریر میں

تابِ گویائی سے جنبش ہے لبِ تصویر میں

 

اے جہانِ آباد! اے گہوارہ عِلم و ہنر

ہیں سراپا نالہء خاموش تیرے بام و در

 

دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسابھی ہے؟

تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟

 

شمع اور پروانہ

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع! پیار کیوں؟

یہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں؟

 

پروانہ اور ذوقِ تماشائے روشنی!

کیڑا ذرا سا اور تمنائے روشنی!

 

ایک آرزو

دنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب!

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

 

ہو ہاتھ کا سرہانا سبزہ کا ہو بچھونا

شرمائے جس جلوت خَلوت میں وہ ادا ہو

 

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی

جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

 

پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی موذّن

میں اس کا ہمنوا ہوں’ وہ میری ہمنوا ہو

 

ہر درد مند دل کو رونا مرا رلا دے

بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انھیں جگا دے

 

آفتابِ صبح

ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے

چشمِ باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہیے

 

دردِ عشق

یہ دور نکتہ چیں ہے کہیں چھپ کے بیٹھ رہ

جس دل میں تو مکیں ہے وہیں چھپ کے بیٹھ رہ

 

گلِ پژ مردہ

کس زباں سے اے گلِ پژمردہ کو گُل کہوں

کس طرح تجھ کو تمنّائے دلِ بلبل کہوں

 

میری بربادی کی ہے چھوٹی سی اک تصویر تو

خواب میری زندگی تھی جس کی ہے تعبیر تو

 

زہد اور رندی

کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوّف میں شریعت

جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی

 

رندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف

پوچھو جو تصوّف کی، تو منصور کا ثانی

 

اقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہے

کچھ اس میں تمسخر نہیں’  وللہ نہیں ہے!

 

شاعر

مبتلائے درد کوئی عضو ہو’ روتی ہے آنکھ

کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

 

دل

حسن کا گنجِ گرانمایہ تجھے مل جاتا

تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانہء دل

 

اس کو اپنا جنوں اور مجھے سودا اپنا

دل کسی اور کا دیوانہ، میں  دیوانہء دل

 

عشق کے دام میں پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے

برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے

 

موجِ دریا

مضطرب رکھتا ہے میرا دلِ بیتاب مجھے

عین ہستی  ہے تڑپ صورتِ سیماب مجھے

 

رخصت اے بزمِ جہاں!

رخصت اے بزم ِ جہاں ! سوئے وطن جاتا ہوں میں

آہ اس آباد ویرانے میں گھبراتا ہوں میں

 

بزمِ ہستی میں ہے سب کو محفل آرائی پسند

ہے دلِ شاعر کو لیکن کنجِ تنہائی پسند

 

ہے جنوں مجھ کو گھبراتا ہوں آبادی میں مَیں

ڈھونڈتا پھرتا ہوں  کس کو کوہ کی وادی میں مَیں

 

کچھ سُنتا ہوں تو اوروں کو سنانے کے لیے

دیکھتا ہوں کچھ تو اوروں کو دکھانے کے لیے

 

علم کے حیرت کدے میں ہے کہاں اس کی نمود!

گل کی پتی میں نظر آتا ہے رازِ ہست و بود!

 

تصویرِ درد

نہیں منّت کشِ تاب شنیدن داستاں میری

خموشی گفتگو ہے’ بے زبانی ہے زباں میری

 

یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں؟

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

 

ٹپک اے شمع! آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے

سراپا درد ہوں، حسرت بھری ہے داستاں میری

 

مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا

وہ گل ہوں میں ‘ خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری

 

مجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے

وہی کہتاہوں  جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

 

رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں  ! مجھ کو

کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

 

وطن کی فکر کر ناداں ! مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

 

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

 

دکھا دوں گا جہاں کو مری آنکھوں نے دیکھا ہے

تجھے بھی صورتِ آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا

 

بلال (رض)

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں

ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں

 

ترانہء ہندی

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

 

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں  بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں  ہمارا

 

جگنو

پروانہ ایک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا

وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا

 

نیا شوالہ

پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے

خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

 

شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے

دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے

 

داغؔ

چل بسا داغؔ آہ! میّت اس کی زیب دوش ہے!

آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے!

 

اٹھیں گے آزر ہزاروں شعر کے بتخانے سے

مے پلائیں گے نئے ساقی نئے پیمانے سے

 

ہو بہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟

اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیر کون؟

 

 غزلیات

گلزار ہست و بود نہ  بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
 
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ’ مرا انتظار دیکھ
 
کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہگذر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ
 

نا آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی

مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

 

تمھارے پیامی نے سب راز کھولا

خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی

 

بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا

تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی!

کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں

کہاں جاتا ہے’ آتا ہے کہاں سے؟

لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے

بجلیاں بیتاب ہوں جن کو جلانے کے لیے

 

دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

پھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کیونکر ہوا؟

 

میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی

کیا بتاؤں ان کا میرا سامنا کیونکر ہوا؟

 

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

یہ عاشق کون سے بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

 

رلاتی ہے مجھے راتوں کو خامشی ستاروں کی

نرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں

 

امیدِ حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو 

یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں

 

مرے اشعار اے اقبالؔ کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو

مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں

 

ظاہر کی آںکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدہء دل وا کرے کوئی

 

ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر

ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

 

جوانی ہے تو ذوقِ دید بھی، لطفِ تمنّا بھی

ہمارے گھر کی آبادی قیام مہماں تک ہے

 

زمانے بھر میں رسوا ہوں مگر اے وائے نادانی

سمجھتا ہوں کہ میرا عشق میرے رازداں تک ہے 

 —

 

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں، زمینوں میں

وہ نکلے میرے ظلمت خانہء دل کے مکینوں میں

 

مہینے وصل  کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں

مگر گھڑیاں جدائی  کی گزرتی ہیں مہینوں میں

 

 مجھے روکے گا تو اے خدا کیا غرق ہونے سے

کہ جن کو ڈوبنا ہو ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں

 

تمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

 

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو

یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

 

محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا

یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں

 

خموش! اے دل ! بھری دنیا میں چلّانا نہیں اچھا

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں  میں

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

یہ جنّت مبارک رہے زاہدوں کو

کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہلِ محفل

چراغِ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں ، سزا چاہتا ہوں

 

کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے

نیاز مند نہ کیوں  عاجزی پہ ناز کرے

 

بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ!

خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے

 

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ

اڑا کے مجھ کو غبارِ رہ حجاز کرے

 

بزمِ ہستی! اپنی آرائش پہ تو نازاں نہ ہو

تُو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں

 

ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ اپنے آپ کو

آپ ہی گویا مسافر’ آپ ہی منزل ہوں میں

 

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

نظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے

 

واعظ! کمالِ ترک سے ملتی ہے یاں مراد

دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے

 

ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنا

بتخانہ بھی، حرم بھی، کلیسا بھی چھوڑ دے

 

سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے!

اے بے خبر! جزا کی تمنّا بھی چھوڑ سے

 

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل

لیکن  کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

 

 

 

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top