مزاح

"مزاح کیا ہے؟ یہ زندگی کی ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے۔ جس کا فنکارانہ اظہار ہو جائے۔ "

انسان کو آٹھ حسیات عطا کی گئیں اور اُن میں ایک حس، حسِ مزاح  (Sense of  Humour) ہے۔ 

مشتاق احمد یوسفی کے بقول تو :

” حسِ مزاح ہی دراصل انسان کی چھٹی حِس ہے۔ یہ ہو تو انسان ہر مقام سے آگے گزر جاتا ہے۔ 

:خندہ” یا "ہنسی” کا تعلق انسان کی جبلّی صلاحیتوں سے ہے۔ یعنی ہنسنے کی صلاحیت خدا کی ودیعت کردہ ہے۔

ڈاکٹرسیّد اعجاز حسین لکھتے ہیں:

"ہنسنے کی ابتداء تو آدمی نے اس وقت کی جب وہ تہذیب و تمدّن سے بیگانہ تھا۔”

برگساں نے ہنسی کا ایک سبب "تکالیف کے اثرات کو زائل کرنا ” بھی بتایا ہے۔ ہنسی کا یہ منصب بڑا مقدس اور نہایت اہم ہے۔ بقول فراقؔ۔

تھی یوں تو شامِ ہجر مگر پچھلی رات

وہ درد اٹھا فراقؔ کہ میں مسکرا دیا

مزاح نگار شعرا کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ سنجیدہ موضوعات میں بھی مزاح کے پہلو نکال لیتے ہیں۔ مزاحیہ شاعری(funny poetry in urdu) میں یہ تنوّع ہے کہ زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں منتخب اشعار شامل گئے ہیں۔ 

٭٭٭

انور مسعود

ماہر خصوصی

سن کر بات معالج کی

کیوں نہ میں اس پر کر دوں رِٹ

کھجلی پر یہ رائے دی

یو وِل ہیو ٹو لِو ود اِٹ

 ***

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ

٭٭٭

سر بزم

کل جو ہوا ہے دفعتاً اس سے مرا مکالمہ

خوبی اختصار کا تجربہ کچھ یونیک ہے

میں نے کہا کہ کچھ نہیں، اس نے کہا کہ ٹھیک ہے

٭٭٭

لاثانی زنانی

اپنی زوجہ کے تعارف میں کہا اک شخص نے

دل سے ان کا معترف ہوں میں زبانی ہی نہیں

چائے بھی اچھی بناتی ہیں مری بیگم مگر

منہ بنانے میں تو ان کا کوئی ثانی ہی نہیں

٭٭٭

خطیب

مرا دوست ہے اک فلاں بن فلاں

بلند اس کی دانش کا پایہ رہے

خطابت میں اس کا ہے ایسا مقام

نہ بولے تو محفل پہ ،چھایا رہے

٭٭٭

یونیورسل

آئی ہے ایک بات بہت کھل کے سامنے

ہم نے مطالعہ جو کیا ہے سماج کا

اک مسئلہ ہے سارے گھرانوں میں مشترک

ہر گھر میں ایک فرد ہے ٹیڑھے مزاج کا

٭٭٭

ابھی جو دیکھ رہی تھی نگاہ بھر کے مجھے

کدھر گئی میرا روزہ خراب کر کے مجھے

٭٭٭

داخل دفتر

کلرکوں کی سبھی میزوں پہ انورؔ

ہر اک فائل مزے سے سو رہی ہے

اگرچہ کام سارے رک گئے ہیں

مگر میٹنگ برابر ہو رہی ہے

٭٭٭

مہمان دار

ایک کنجوس کے بارے میں سنا ہے میں نے

ایک لقمہ بھی نہ اس نے کبھی تنہا کھایا

اس کی تکنیک کے قرباں کہ ہمیشہ اس نے

سامنے بیٹھ کے آئینے کے کھانا کھایا

٭٭٭

بیان حلفی

میں اپنے گھر  گیا  تھا وہ جب اپنے گھر گئی

پھر مجھ کو کیا خبر کہ وہاں سے کدھر گئی

٭٭٭

 

اطہر شاہ خان عرف جیدی

کھڑے کھڑے مُسکرا رہا ہوں تو میری مرضی

لطیفہ خود کو سُنا رہا ہوں تو میری مرضی

میں جلد بازی میں کوٹ اُلٹا پہن کے نکلا

اب آرہا ہوں کہ جا رہوں یہ میری مرضی

جو تم ہو مہماں تو کیوں نا آئے مٹھائی لے کر

بٹھا کہ تم کو اٹھا رہا ہوں تو میری مرضی

یہ کیوں ہے سایہ تمھاری دیوار کا میرے گھر

میں جھاڑو دے کر ہٹا رہا ہوں تو میری مرضی

رقیب کی قبر میں پٹاخے بھی رکھ دیے ہیں

جو قبل دوزخ ڈرا رہا ہوں تو میری مرضی

جو رات کے دو بجے ہیں تم کو شکایتیں کیوں

کہ میری چھت ہے میں گا رہا ہوں تو میری مرضی

متفرق اشعار

اللہ وہی آنکھیں، وہی رنگ، وہی جسم

یہ بھینس تو با لکل مرے دلبر کی طرح ہے

سگار لکھنؤی

٭٭٭

ہو جائے عشق کا دھماکا کہیں کوئی

دل میرا ایک بم ہے اِسے بے اثر کریں

رؤف رحیم

٭٭٭

گو یوں ہی بڑھتا رہا یہ شوروغل، گردو غبار

دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

ٹی این رازؔ

٭٭٭

کہاں اٹھا ہوں خود محفل سے ان کی

پکڑ کر کان اٹھوایا گیا ہوں

 

نکل بھاگا ہوں منزل سے بھی آگے

کچھ اتنا تیز دوڑایا گیا ہوں

 

بہت مشکل ہے اب رسّی تڑانا

بہت ہی کس کے بندھوایا گیا ہوں

محبوبؔ

٭٭٭

اس کے ابّا ساتھ ہیں اور پیچھے کتّا جائے ہے

میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

راہی قریشیؔ

٭٭٭

نظر چُراتے ہیں اس طرح دیکھ کر مجھ کو

کسی کا جیسے کوئی قرض دار ہوتا ہے

ماچس لکھنؤی

٭٭٭

محبّت میں کیا جانے کیا کر رہے ہیں

نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں

شوکت ؔ تھانوی

٭٭٭

خدا کے فضل سے عاشق مزاح ہوں میں بھی

یہ اور بات ہے ملّا دکھائی دیتا ہوں

ناظمؔ انصاری

٭٭٭

یہ دے رہا ہے فوٹو مجھے کس کا جانِ من 

دیوانہ میں ہوں تیرا، ترے باپ کا نہیں

ناظمؔ انصاری

٭٭٭

بس تم شبِ فراق میں ناول پڑھا کرو

عاشق کو چارہ ساز یہ نسخہ بتا گیا

ظریفؔ

٭٭٭

تیرا خیال تھا کہ جو بہلا گیا مجھے

فرقت میں خوب مل گیا یہ جھنجھنا مجھے

ظریفؔ

٭٭٭

مجرّد آرٹ کی لمبوتری عورت عجب شے ہے

جو اس کو دیکھ لو پہروں پشیمانی نہیں جاتی

ضمیرؔ جعفری

٭٭٭

 وہ سب کو تھوڑا تھوڑا شربتِ دیدار دیتے ہیں
مگر مصروف ہیں اتوار کے اتوار دیتے ہیں
ضمیرؔ جعفری
٭٭٭
چپ چاپ ہو کیوں شیخ جی کچھ منہ سے تو بولو
بوتل میں یہ انگریزی دوا کس لیے ہے

کہاں شیخ صاحب دبا کر بغل میں
یہ ساغر یہ بوتل وغیرہ وغیرہ
ناظمؔ انصاری
٭٭٭
میں جو جُوتا چھپا کے لایا ہوں
یوں نہ سمجھو چُرا کے لایا ہوں

اس کو مولا کی دَین ہی سمجھو
اُس کے گھر سے اُٹھا کے لایا ہوں
محبوب عزمیؔ
٭٭٭
مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار میں روزے سے ہوں 
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار میں روزے سے ہوں

اے میری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل
اے مرے بچو ذرا ہشیار میں روزے سے ہوں
سیّد ضمیرؔ جعفری
٭٭٭
لڑکی کہاں سے لاؤں میں شادی کے واسطے
شاید کہ اس میں  میرے مقدر کا دوش ہے

عذرا، نسیم و کوثر بھی گئیں
"اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے”
محبوبؔ عزمی
٭٭٭
اے شریکِ زندگی، اے زندگی بھر کے عذاب
آہ ہم دونوں کی وہ الفت ہوئی جو کامیاب

عقد وہ جس نے محبّت کو کیا خانہ خراب
زندگی کی ہر مسرت رہ گئی بن کے خواب

طالب و مطلوب دونوں صاحبِ اولاد ہیں
یعنی اپنے حق میں ہم خود ہی ستم ایجاد ہیں
شوکتؔ تھانوی
٭٭٭
عشق کے ساتھ شرافت بھی ضروری تھی جناب
عشق میں خود کو لفنگا نہ بنایا ہوتا

وصلِ لیلیٰ کی تمنّا تھی تو اے حضرتِ قیس
پہلے حُلیہ تو شریفانہ بنایا ہوتا
دلاور فگارؔ
٭٭٭
شربتِ دیدار مل جئاے کہیں اس فکر میں
ایک صاحب گھومتے پھرتے ہیں دل کا جگ لئے

ہو تو دلچسپی حسینوں سے مگر ایسی نہ ہو
جب کوئی صورت حسیں دیکھی تو پیچھے لگ لئے
دلاور فگارؔ
٭٭٭
تُو خفا، ڈیڈی خفا، ممّی خفا، انکل خفا
ایک دل اور اس پر یہ نا اُمیدواری ہائے ہائے

قرض کی ہر رقم واپس مانگتے ہیں یار لوگ
اُٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری ہائے ہائے
شگوفہ، 1976ء

٭٭٭

پیروڈی

پیروڈی جسے اردو میں تحریف نگاری کہا جاتا ہے۔شاعری کی ایسی صنف ہے  جس میں کسی سنجیدہ چیز کو مضحکہ خیز بنا دینا یا کسی راست بات کو اُلٹ پھیر کے ساتھ بیان کر دینے کو پیروڈی کہتے ہیں۔

اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ پیروڈی محض الفاظ کے اُلٹ پھیر کا نام ہے۔ یہ ذہانت کا فن ہے۔ 

متفرق اشعار۔ مجیدؔ لاہوری

نوٹ ہاتھوں میں وہ رشوت کے لئے پھرتے ہیں

کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

٭٭٭

سو پشت سے ہے پیشہ آباء "گداگری”

کچھ”لیڈری” ذریعہ عزت نہیں مجھے

٭٭٭

خدا کے واسطے مجھ کو منسٹری دے دو

مرا مزاج لڑکپن سے ” لیڈرانہ ہے

٭٭٭

سیاست بے ضیافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

ڈنر چالو رہیں جس میں سیاست اس کو کہتے ہیں

٭٭٭

زاہد کو سکھا دیجئے آداب یہ مجلس کے

پیتے ہیں شراب اوّل کھاتے ہیں کباب آخر

٭٭٭

اس کو بزنس کی ضرورت’ نہ کسی سروس کی

جس کی قسمت می ہو’ قوم کا لیڈر ہونا

٭٭٭

متفرق اشعار۔ شوکت تھانوی

اگر یہی اپنی اصلیت ہے تو اس کو کب تک چُھپا سکو گے

ج چُپ رہے گی زبانِ قینچی، تو دھار چمکے گی اُسترے کی

٭٭٭

فاقے کا خُوگر ہو انساں تو مٹ جاتی ہے بھوک

اس قدر فاقے پڑے ہم پر کہ لقمہ ہو گئے

٭٭٭

ہنگامہ ہے کیوں برپا، نسبت ہی تو بھیجی ہے

ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے

٭٭٭

فیضؔ کی نظم " تنہائی" کی پیروڈی " لگائی"

فون پھر آیا دلِ زار! نہیں فون نہیں

سائیکل ہو گا کہیں اور چلا جائے گا

ڈھل چکی رات اُترنے لگا کھمبوں کا بخار

کمپنی باغ میں لنگڑانے لگا سرد چراغ

تھک گیا رات کو چلّا کے ہر اک چوکیدار

گل کرو دامنِ افسردہ کے بوسیدہ داغ

یاد آتا ہے مجھے سرمہ دنبالہ درا

اپنے بے خواب گھروندے ہی کو واپس لوٹو

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

کنھیاؔ لال کپور

٭٭٭

اقبالّ کی نظم " ہمدردی" کی پیروڈی

گوشے میں کسی کھنڈر کے تنہا

ملّا تھا کوئی اُداس بیٹھا

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی

جوئیں چُننے میں دن گزارا

پہنچوں کس طرح اب مکاں تک

ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

سُن کے ملّا کی آہ و زاری

الّو کوئی پاس ہی سے بولا

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے

احمق ہوں اگر میں تمھی سا

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری

میں پیش یہ گھونسلا کروں گا

اللہ نے مجھ کو دی ہے منزل

اک رات یہیں کرو بسیرا

الُّو ہیں وہی جہاں میں اچھّے

آتے ہیں کام جو دوسروں کے

عاشقؔ محمد غوری

٭٭٭

نظیرؔ اکبر آبادی کی نظم " روٹیاں" کی پیروڈی "بیویاں"

سسرال میں جب میکے سے آتی ہیں بیویاں 

سو سو طرح سے دھوم مچاتی ہیں بیویاں

کھانے مزے مزے کے پکاتی ہیں بیویاں

جینے کا جو مزا ہے چکھاتی ہیں بیویاں

کچھ دن تو خوب عیش کراتی ہیں بیویاں

پھر اس کے بعد خون رُلاتی ہیں بیویاں

مسٹر دہلویؔ

٭٭٭

نظیرؔ اکبر آبادی کی نظم " بڑھاپا" کی پیروڈی "موٹاپا"

موٹا جو محبت کے کبھی پھیر میں آئے

جاں دے کے بھی محبوب کو اپنے وہ نہ پائے

ہر چند یقیں عشق کا وہ اس کو دلائے

محبوب مگر گوشت کی دُکاں میں نہ جائے

ہر شخص کو ہوتا ہے بُرا ہائے مٹاپا

دشمن کو بھی اللہ نہ دکھلائے مٹاپا

پتلوں نہیں توند پہ ٹکنے ہی کو تیار

ہر گام پہ کہتی ہے کہ ہشیار، خبردار

اس سمت سے ٹانگوں کی مسلسل ہے یہ تکرار

ہم مقبرہ بردوش کہاں تک رہیں سرکار

ہر شخص کو ہوتا ہے بُرا ہائے مٹاپا

دشمن کو بھی اللہ نہ دکھلائے مٹاپا

مسٹر دہلویؔ

٭٭٭

اقبالؔ کی نظم " جاوید کے نام" کی پیروڈی "کلرکوں کے نام"

تو اک کلرک ہے اپنا مقام پیدا کر

کمائی اوپری کچھ صبح و شام پیدا کر

خُدا عطا کرے تجھ کو خوشامدی لہجہ

تو افسران سے اپنے کلام پیدا کر

اور افسران سے پیدا کلام کر لے اگر

تو اس ذریعے سے بے دام، دام پیدا کر

کہ لوگ خود ہی تجھے آ کے رشوتیں دی جائیں

کچھ ایسی بار مرے نیک نام پیدا کر

ترا طریق غریبی نہیں امیری ہے

خودی کو چھوڑ کلرکی میں نام پیدا کر

صادقؔ مولیٰ

٭٭٭

ابنِ انشاء کی نظم " کیا یہ سب سچی باتیں ہیں" کی پیروڈی

وہ کالج کی اک لڑکی "ہاں تم نام نہ لو ہم جان گئے”

وہ اُن کے ساتھ جو پڑھتی تھی ہم جان گئے پہچان گئے

صادق مولیٰ اس کے دل کے بنگلے میں تھے مہمان گئے

اس "لنڈیا” نے لیکن ان کو وہ ڈاج دیا ہم مان گئے

کیا یہ سب سچی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیں

صادق مولیٰ دیوانے ہیں، صادق مولیٰ سودائی ہیں

صادق مولیٰ

٭٭٭

اقبالؔ کی نظم " شکوہ" کی پیروڈی

عطر میں ریشمی رومال بسایا ہم نے

ساتھ لائے تھے مُصلّےٰ وہ بچھایا ہم نے

دُور سے چہرہ قزیروں کو دکھایا ہم نے

ہر بڑے شخص کو سینے سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں

کون کہتا ہے کہ ہم لائق دربار نہیں

ذکر ملّا نے کیا روح کی بیماری کا

دخل تھا اس میں بھی دنبوں کی خریداری کا

امتحان تھا مرے ایثار کا خودداری کا

لب پہ شکوہ تھا مرے قوم کی بیداری کا

کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا

مجھ کو قربانی کے دنبوں کا غزل خواں سمجھا

٭٭٭

گوشت خوری کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

جب سے ہڑتال ہے قصابوں کی مجبور ہیں ہم

چار ہفتے ہوئے قلیے سے بھی مہجور ہیں ہم

"نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم”

"اے خدا شکوہ اربابِ وفا بھی سُن لے”

خوگرِ گوشت سے سبزی کا گلا بھی سن لے

آگیا عین ضیافت میں اگر ذکرِ بٹیر

اُٹھ گئے میز سے ہونے بھی نہیں پائے تھے سیر

گھاس کھا کر کبھی جیتے ہیں نیستاں میں بھی شیر

تو ہی بتلا ترے بندوں میں ہے کون ایسا دلیر

تھی جو ہمسائے کی مُرغی وہ چُرائی ہم نے

نام پر تیرے چُھری اُس پہ چلائی ہم نے

سیؔد محمد جعفری

٭٭٭

اقبالؔ کی نظم " ساقی نامہ " کی پیروڈی

گراں خواب ملّا سمجھنے لگے

سیاست کے فتوے اُچھلنے لگے

شرابِ کہن پھر پلا سا قیا

وہی پہلی گڑ بڑ مچا ساقیا

الیکشن کے رسیا کا دل شاد کر

"خرد کو غلامی سے آزاد کر”

یہ سب لوگ ہیں جامِ توحید نوش

مگر دل ابھی تک ہے زنّارپوش

الیکشن کے حالت میں کھو گیا

یہ سالک مقامات میں کھو گیا

تمدّن، تصوف، شریعت، کلام

الیکشن کے بُت کے پجاری تمام

یہ امت اسی بات میں کھو گئی

حقیقت روایات میں کھو گئی

٭٭٭

غالبؔ کے اشعار کی پیروڈی

ہے گال پہ اس تِل کے سوا ایک نشاں اور

تم کچھ بھی کہو، ہم کو گذرتا ہے گماں اور

کب سے ہم ادھر بیٹھا ہے اے بوائے ادھر آؤ

لیمن کے سوا بھی ہے کوئی چیز یہاں اور

گر حکم ہو میڈم تو میں منگواؤں مٹن چانپ

کہہ دینا اگر چاہیے” دل” اور "زباں” اور

دل اور زباں  کر لا فرائی ارے بیرا

"دل” اور دے اس کو جو نہ دے مجھ کو "زباں” اور

پاتے نہیں جب راہ تو رک جاتے ہیں تانگے

اُف دیکھ کے پبلک تجھے ہوتی ہے رواں اور

کالوں کو بھگاتا ہوں تو آجاتے ہیں گورے

"تم ہو تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور”

٭٭٭

کیوں رک گیا نہ آپ کی میں کار دیکھ کر

میں ڈر گیا تھا کار میں کچھ یار دیکھ کر

آتی ہیں آپ ہنس کے جو کیمرے کے سامنے

اُڑتے ہیں ہوش آپ کی شلوار دیکھ کر

کیسے قریب آؤں یہ اسٹنٹ فل ہے

سہما ہوں گورے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

موٹر میں اب اُچھل کے نہ مجھ پر گریں گی آپ

نا خوش ہوا ہوں راہ کو ہموار دیکھ کر

راجہ مہدی علی خاں

٭٭٭

نظیرؔ اکبر آبادی کی نظم "مفلسی" کی پیروڈی "لیڈری"

مل اور زمین الاٹ کراتی ہے لیڈری

اور کوٹھیوں پہ قبضہ جماتی ہے لیڈری

لنچ اور ڈنر مزے سے اڑاتی ہے لیڈری

غم ساتھ ساتھ قوم کا کھاتی ہے لیڈری

فرصت ملے تو ٹوّر پہ جاتی ہے لیڈری

ہم لوگ زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں

ووٹوں کی بھیک لینے جب وہ چل کے آتے ہیں

دے دے کے ووٹ ہم انھیں لیڈر بناتے ہیں

کرسی پہ بیٹھ کے وہ ہمیں بھول جاتے ہیں

پھر دُور ہی سے جلوہ دکھاتی ہے لیڈری

مجید لاہوری

٭٭٭

نظیرؔ اکبر آبادی کی نظم " آدمی نامہ" کی پیروڈی

مونچھیں بڑھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

داڑھی منڈا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

مرغے جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

دلیا پکا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اور لنچ اڑا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

بیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں سجا سجا

اور آدمی ہی پھرتے ہین ٹھیلے لگا لگا 

ہر مال چار آنے کی دیتے ہیں وہ صدا

پولیس ان کا کرتی ہے چالان جا بہ جا

رشوت کے نوٹ جس نے لیے وہ بھی آدمی

دو روز جس نے فاقے کئے وہ بھی آدمی

آنسو بہا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اور مسکرا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

٭٭٭

اقبالؔ کی نظم " بچے کی دعا" کی پیروڈی

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری

زندگی کھیل میں غارت ہو خُدایا میری

فلم میں میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

متوجّہ مری جانب مدھوبالا ہو جائے

زندگی ہو مری نوشاد کی صورت یا رب

فلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو میرا کام بزرگوں کو نصیحت کرنا

سٹھیہ گئے ہوں جو بزرگ ان کی مرمّت کرنا

میرے اللہ پڑھائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہو اس راہ نہ چلانا مجھ کو

دلاورؔ فگار

٭٭٭

نظیرؔ اکبر آبادی کی نظم " آدمی نامہ" کی پیروڈی "پروفیسر نامہ"

طبعاً جو فلسفی ہے سو ہے وہ بھی لیکچرر

ذہناً جو منطقی ہے سو ہے وہ بھی لیکچرر

عقلاً جو مولوی ہے سو ہے وہ بھی لیکچرر

سہواً جو آدمی ہے سو ہے وہ بھی لیکچرر

شکلاً جو رو رہا ہے’ سو ہے  وہ بھی لیکچرر

رضا نقوی واہیؔ

٭٭٭

اقبالؔ کی نظم " مومن" کی پیروڈی

دُنیا میں

کمزور مقابل ہو تو فولاد ہے مومن

انگریز ہو سرکار تو اولاد ہے مومن

ہو جنگ کا میدان تو اک طفلِ دبستاں

کالج میں اگر ہے تو پری زاد ہے مومن

جنت میں

شکوہ ہے فرشتوں کو کم آمیز ہے مومن

حُوروں کو شکایت کہ بہت تیز ہے مومن

٭٭٭

جذبیؔ کی نظم "موت" کی پیروڈی

اپنے دھوئے ہوئے بالوں کو سکھا لوں تو چلوں

اپنی ننھّی کو ذرا دودھ پلا لوں تو چلوں

اور نوکر پہ بھی کچھ رعب جمالوں تو چلوں

ابھی چلتی ہوں ذرا خود کو سنبھالوں تو چلوں

وہ مرے بچے کی شلوار کہاں ہے’ لانا

میرے شوہر کی وہ دستار کہاں ہے’ لانا

وہ مری جوتی و پیزار کہاں ہے’ لانا

ایک دو پان ذرا اور بنا لوں تو چلوں

رو رہے ہیں جو مرے لال تو رونے دو اِنھیں

جان کھونے پہ ہیں آمادہ تو کھونے دو انھیں

ہیں جو بے حال تو بے حال ہی ہونے دو انھیں

نظم پڑھنی ہے مجھے، نظم سنالوں تو چلوں

للتا کماریؔ

٭٭٭

امیر خسروؔ " کہہ مکرنیوں" کی پیروڈی

تن من میں اک آگ لگا دے

آنکھیں، گال، بدن، دہکارے

ڈھیلے کردے انجر پنجر

اے سکھی ساجن

نا سکھی فیور

٭٭٭

گال چھوئے، پیشانی چُومے

لِپٹالِپٹا ساتھ ہی گھومے

ساتھ نہ چھوڑے اک پل اک تَل

اے سکھی ساجن

نا سکھی آنچل

مضطرؔ مجاز

٭٭٭٭

Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x
Scroll to Top