شاعر کا تعارف

میں منیر حیدر عباسی، قلمی نام ’’ساگر‘‘ اور ادبی نام ’’ساگر حیدر عباسی‘‘ سے شعر کہتا ہوں۔
یکم اکتوبر 1987ء کو کراچی میں پیدا ہوا۔ شاعری میرے لیے محض اظہارِ خیال نہیں بلکہ احساسات، تجربات اور زندگی کے نشیب و فراز کو لفظوں میں محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے۔
میری شاعری میں محبت، جدائی، غم، تنہائی، انسانی رشتے اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات نمایاں موضوعات ہیں۔
غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کرتا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ میرے اشعار قاری کے دل کو چھوئیں اور میرے احساسات کو ایک دیرپا ادبی شناخت عطا کریں۔

 

منتخب غزلیں
غزل نمبر 1

اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے
ماں بنا غیر کا در لگتا ہے

قبر تک ساتھ چلے گا میرے
غم ترا دردِ جگر لگتا ہے

ماں بنا زندگی یوں لگتی ہے
جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے

جم گئے اشک میرے چہرے پر
چہرہ گر خشک ہو، تر لگتا ہے

تیری آغوش کہاں سے لاؤں
آج بھی رات سے ڈر لگتا ہے

ماں تیرا لال بچھڑ کر تجھ سے
اب کہاں نورِ نظر لگتا ہے

_____________________

غزل نمبر 2

یہ زخمِ محبت مرے بھر کیوں نہیں جاتے
ہم دردِ محبت میں سنور کیوں نہیں جاتے

جو لوگ بچھڑ جائیں وہ واپس نہیں ملتے
پھر دل سے یہ یادوں کے اثر کیوں نہیں جاتے

اک عمر سے ہوں دردِ جدائی میں مسلسل
یہ غم کے زمانے بھی گزر کیوں نہیں جاتے

دل ٹوٹ کے بھی تیرا ہی ہونے کی صدا دے
ہم تیری محبت سے مکر کیوں نہیں جاتے

ساگر یہ عجب دردِ محبت ہے کہ اب تک
ہم زخم لیے ہنستے ہیں مر کیوں نہیں جاتے

__________________________

غزل نمبر 3

مرے احساس کی قیمت کہاں دنیا نے جانی ہے
مرے اشعار میں پنہاں مرے دل کی کہانی ہے

مری غزلیں مری نظمیں مرے دل کا اثاثہ ہیں
غمِ دل کا یہ سرمایہ ہی دل کی ترجمانی ہے

غمِ دل کو زمانے نے فقط میرا ہنر سمجھا
مگر میرے لیے ہر غم محبت کی نشانی ہے

زباں سے جو نہ کہہ پایا مرے اشعار کہتے ہیں
مرے خاموش لہجے میں بھی اک دنیا پرانی ہے

نہ اپنوں کا پتا ہم کو نہ دنیا کی خبر کوئی
محبت تیرے کوچے میں لٹائی زندگانی ہے

غمِ دل جب لکھا ساگر تو دنیا نے مجھے جانا
مرے اشعار میں بھی ایک رنگِ جاودانی ہے
____________________________

غزل نمبر 4

میرے ہر ایک درد کا اقرار اُس سے ہے
میرے ہر اک سوال کا اسرار اس سے ہے

جس نے تمام عمر کبھی کچھ نہیں کہا
پھر کیوں ہر ایک شخص کو اصرار اُس سے ہے

قطرے کو یہ گماں ہے کہ دریا اُسی کا ہے
دریا کو ہے یقیں کہ یہ رفتار اُس سے ہے

پتّا یہ کہہ رہا ہے بہاریں اُسی سے ہیں
اور شاخ کو گماں ہے کہ گلزار اُس سے ہے

ہر اک ہے اپنی ذات کی تشہیر میں مگن
لگتا ہے جیسے شہر کا بازار اُس سے ہے

ساگر عجب مزاج کے ہیں لوگ بھی یہاں
ہر شخص سوچتا ہے کہ معیار اُس سے ہے
____________________________

غزل نمبر 5

شیشَۂ دل ہوں، سنبھل کر ہی اٹھانا مجھ کو
بے دھَیانی میں کہیں توڑ نہ جانا مجھ کو

میں بکھر جاؤں تو پھر جمع نہ ہو پاؤں گا
اتنی آسانی سے ہرگز نہ گنوانا مجھ کو

ایک مدت سے ہوں خاموش دعا کی صورت
اپنی آواز میں اک بار بلانا مجھ کو

میری آنکھوں میں کئی خواب ابھی زندہ ہیں
نیند آ جائے تو آہستہ جگانا مجھ کو

میں نے اپنوں سے ہی اکثر یہ سزا پائی ہے
اب کسی غیر کے ہاتھوں نہ گرانا مجھ کو

دل کی دہلیز پہ برسوں سے پڑا ہوں تنہا
اپنے گھر کی طرح اک روز سجانا مجھ کو

وقت کی دھوپ نے ہر رنگ مٹایا ساگرؔ
اب فقط زخم ہوں، دل سے نہ لگانا مجھ کو
___________________________

غزل نمبر 6

یار کی خبر لینے چارہ گر نہیں جاتا
لفظوں کے دلاسوں سے زخم بھر نہیں جاتا

ہر طرف اداسی کے ہوں گے منتظر جالے
اِس خیال سے واپس اپنے گھر نہیں جاتا

خوبرو بہت آئے تیرے بعد بھی لیکن
زخم تجھ سے کھایا جو اُس کا ڈر نہیں جاتا

کوئی لاکھ بھی کہہ دے وقت سب مٹا دے گا
دل پہ جو لکھا جائے وہ اثر نہیں جاتا

روز مسکراتا ہوں درد چھپ بھی جاتا ہے
رات ڈھلتے ہی لیکن یہ ہنر نہیں جاتا

ہم نے خود ہی سینے میں ایک شہر دفنایا
اب وہاں کسی موسم کا گزر نہیں جاتا

ساگر اُس کی یادوں کا آخری امیں ٹھہرا
سانس تھم بھی جائے تو یہ سفر نہیں جاتا

___________________________
منتخب نظم

نظم (سخن ساگر کے زندہ ہیں)

مرے اشعار کی خوشبو
ہوا کے ساتھ چلتی ہے

کسی تنہا سے دل میں پھر
کسی کی یاد جلتی ہے

کبھی جب درد بڑھ جائے
مری غزلیں یہ پڑھ لینا

صدا میری نہیں ہوگی
مگر احساس تو ہوگا

یہی میری نشانی ہے
یہی میرا اثاثہ ہے

نہ جانے کتنے برسوں تک
یہ دل تنہا ہی رویا ہے

بہت تھک ہار کر آخر
بدن مٹی میں سویا ہے

یہ میری قبر پر دیکھو
کئی دل آب دیدہ ہیں

مگر یہ یاد رکھنا تم
سخن ساگر کے زندہ ہیں
_________________________________

منتخب اشعار

شعر نمبر 1

تری نشانیاں اب تک سنبھال رکھی ہیں ساگر
کتابِ دل میں مرجھائے ہوئے گلاب اب بھی ہیں

شعر نمبر 2

تَعَلّقوں کے شہر میں یہی عجیب رسم ہے
سزا تو مل گئی مگر قصور ہی نہ مل سکا

شعر نمبر 3

تمہاری بھول ہے ساگر کے اک دن لوٹ آئیں گے
بھلا آنکھوں سے بہہ کر بھی کبھی آنسو پلٹتے ہیں

شعر نمبر 4

ہو اگر حرف میں تاثیر تو جاں بخش بھی ہو
ورنہ بے سود ہے ہر نغمۂ بے جان سخن

شعر نمبر 5

ہو اگر ذوقِ نظر خاک میں افلاک دکھیں
ورنہ بینا کو بھی ملتا نہیں عرفانِ سخن

شعر نمبر 6

بے ادب لوگوں کی محفل سے کنارا ہی بھلا
خامشی بہتر از آں حرفِ پریشاں اے سخن

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔