“ساکت”

شبنم افسردگی کے عالم میں خاموش بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی کہ اچانک عجیب سا شور کانوں میں گونجا…… شور کی آواز سن کر خوف کے سائے میں کرسی سے اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی.
آنکھوں نے جو منظر دیکھا وہ اذیت ناک تھا.
“ماں زخمی حالت میں زمین پر پڑی تھی.”
شبنم آہ و بکا کرتی ہوئی. “ماں کی طرف لپکی.” زورِ بازو کی مدد سے ماں کو چارپائی پر لٹایا.
جلدی جلدی قدم بڑھاتے باورچی خانے کا رخ کیا. کبھی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی کبھی خود کو دلاسا دیتی. باورچی خانے سے گلاس میں پانی بھرا. ایک کپڑے کا ٹکڑا لیا. اور ماں کے پاس پہنچی. دیکھ کر ششدر رہ گئی.
” ایک ٹانگ چارپائی سے نیچے اور دوسری چارپائی پر تھی.”
شبنم بے جان جسم کو سیدھا کرنے میں مصروف ہوگئی. کچھ دیر گزرنے کے بعد پانی سے بھرے گلاس میں کپڑے کو گیلا کیا زخموں کو صاف کیا….. آوازیں دیتی.
“امی جی اٹھ جائیں. تھوڑا پانی پی لیں.”
تقریباً آدھ گھنٹہ کوشش میں لگی رہی. مگر ماں کو ہوش نہیں آیا.
آخرکار تھک ہار کر فیصلہ کیا کہ گلی سے چند لوگوں کو اکٹھا کرتی ہوں . تاکہ سرکاری اسپتال تک چلی جاؤں. اسی کشمکش میں کہ میں کیا کروں…..؟
آخر کار، کمرے سے باہر گئی. تپتی دھوپ اور گلی میں سناٹا…… اردگرد نظر دوڑائی اور سامنے جو بھی گھر دکھائی دیا. دروازے پر دستک دی. تاکہ کہیں سے کوئی مدد کے لیے آجائے. شبنم اس مشقت میں مسلسل جان ہلکان کررہی تھی……. خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہورہا تھا.
شبنم ہمت ہار چکی تھی. صبر بھی جواب دے رہا تھا. ذلت اور رسوائی کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے…….خود کو اور حالات کو کُوستے گھر کا رخ کیا.
“تم شبنم ہو. میں تمہیں بخوبی جانتا ہو.”
یہ آواز کان میں پڑتے ہی رکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا. خوبصورت قد و قامت کے شخص کو کھڑا پایا.
زار و قطار روتے ہوئے….. تم کہاں تھے؟ میں کب سے تمہارا انتظار کررہی تھی. تم مجھے نکاح جیسے مقدس بندھن میں باندھ کر کہاں چلے گئے تھے؟ شبنم کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھی.
وسیم شبنم کا یہ حال دیکھ کر بولا میں تمہارے ساتھ ہی تھا. صرف تمہیں کبھی دکھائی نہیں دیا. وسیم نے شبنم کا ہاتھ پکڑا اور قدم بڑھاتے ہوئے. گھر تک لے آیا ایک ایسا گھر جو ویرانی کا جیتا جاگتا نمونہ تھا.
شبنم دیوانہ وار ہنس رہی تھی. اپنی ماں کے لیے رونا جیسے ڈرامائی تھا. وسیم شبنم کو اس حالت میں دیکھ کر گھبرا گیا اور بول پڑا.
“تم کیا پاگل ہوچکی ہو؟ “
شبنم پر وسیم کی بات کا ذرا برابر اثر نہ ہوا. وہ ناچتی اور گاتی…..تم آگئے ہو. میں یہی چاہتی تھی.
وسیم نتائج سے بے خبر کھڑا دیکھ رہا تھا. اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے. میں نے یہاں آکر غلطی تو نہیں کردی. وسیم کے چہرے کا رنگ زرد پڑچکا تھا…. بھاگنے کا سوچ رہا تھا کہ شبنم نے شلوار کے نیفے سے تیز دھار والا چاقو باہر نکالا اور چاقو کا اشارہ دیتے ہوئے…… قہقہہ لگا کر بولی تم کل بھی بے و قوف تھے. اور آج تمہیں یوں بے بس دیکھ کر خوشی سے گانے گانے کا بھی دل کررہا ہے.
شبنم وسیم کو مخاطب کرتے ہوئے.
یہ بتاؤ، تمہیں کون سا گانا زیادہ پسند ہے؟ میں گنگناتی ہوں اور تم رقص کرنا، وسیم پسینے میں شرابور…… حرکت قلب بند ہورہی تھی.
وسیم نے کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ کہا تمہیں شرم نہیں آتی. تمہاری ماں بستر پر پڑی مر چکی ہے. تم اپنی ماں کو بھی کھا گئی ہو. وسیم کی زبان سے یہ لفظ سننے کی دیر تھی. شبنم مزید طیش میں آگئی.
شبنم نے باآواز بلند ہو کر چاقو نکال کر ہوا میں لہرایا…. وسیم کا دھیان بٹ جائے. شبنم اس مقصد میں کامیاب ہوگئی. شبنم بالکل بے خوف تھی. شبنم نے چاقو نکالا وسیم کے سینے میں گھونپ دیا. وسیم پہلے وار سے ہی زمین پر گرگیا اور درد کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے اٹھ نہیں سکا. شبنم یہ منظر دیکھ کر جھوم رہی تھی.
ہائے مزا،ہائے مزا…….. یہ کہہ کر خوش ہورہی تھی. اچانک دروازے پر زور دار آواز سنائی دی . شبنم اچھلتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھی. دروازہ کھول کر دیکھا. وسیم کو کھڑا پایا. یہ دیکھنا تھا کہ شبنم کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی. شبنم کی ایک نظر زمین پر پڑے شخص پر تھی اور دوسری جس کو وہ مار چکی تھی. شبنم بالکل ساکت، کسی معجزے کے انتظار میں تھی. شبنم کا دماغ بالکل کام نہیں کر رہا تھا. ایک سوچ ذہن میں گردش کررہی تھی. آخر اصل میں وسیم ان دونوں میں سے کون سا ہے؟ جو مرچکا ہے یا وہ جو سامنے موجود ہے.
“ہیلو میڈم، میں وسیم ہوں.”
کیا آپ مجھے جانتی ہیں؟ یہ سننے کی دیر تھی شبنم دیوار سے اپنا سر پٹخنے لگی.
“میڈم ایسا ہرگز نہ کریں. مہربانی ہوگئی. میری بات کا جواب دیں.”
بہروپیا نما شخص یہی پکارتا رہا. لیکن مجال ہے جواب مل سکا ہو. پل بھر میں وہ ہوگیا جس کا انجام دیکھ کر زمین لرز اٹھی….. موت کا رقص اور اختتام بھی یقیناً ہوچکا تھا.

حمیرا جمیل، سیالکوٹ
اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لاہور

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top