تحقیق و تحریر: سعدیہ توصیف

kishwar

حالات زندگی:

حا لا تِ ز ند گی: کشو ر نا ہید ۱۹۴۰ء میں بلند سہا ر(انڈیا) کے سید گھرا نے میں پید ا ہو ئیں۔تقسیمِ بر صغیر کے بعد ۱۹۴۹ء میں ا پنے خا ند ا ن کے ہمر ا ہ ہجرت کر کے لا ہو ر(پاکستان) تشریف لے آ ئیں۔کشور نے تقسیم کے د و ران پیش آ نے والے ا ندوہناک منا ظر ا پنی آ نکھو ں سے د یکھے۔انسا نی خو ن کی ا رزا نی، عو ر تو ں کی عزت کی پا ما لی کے د لسو ز و ا قعات نے ایک نو عمر بچی کے ذ ہن کو بُری طر ح متا ثر کیا۔

کشو ر نا ہید کو بچپن سے کا لے بُر قعے سے جھا نکتے سفید کُر تے ا و ر غر ا رے میں ملبوس علی گڑھ یو نیو ر سٹی جاتی لڑکیا ں بہت متا ثر کر تی تھیں ا و ر وہ بھی کا لج جا کر لکھنے پڑھنے کا بہت شو ق ر کھتی تھیں۔ا نھوں نے بہت چھوٹی عمر میں اُ ر د و ا و ر فا ر سی ز با ن سیکھ لی تھی ا و ر مطا لعہ میں د لچسپی کا یہ عالم تھاکہ جو پڑھنے کے لیے د ستیا ب ہو تا،پو ر ے ذوق وشوق سے پڑ ھتی تھیں۔

کشو ر نے حصو لِ تعلیم کے لیے انتھک محنت کی کیونکہ ا س د و ر میں لڑکیو ں کو ا سکو ل جا نے کی ا جا ز ت نہ تھی لہذا ا نھوں نے ا بتدا ئی تعلیم گھر پر ہی حا صل کی۔میٹرک کے بعد کا لج میں د ا خلے کے لیے بھر پور مخا لفت کا سا منا ر ہا۔ا یسے حا لا ت میں کشور کے بھا ئی سید ا فتخا ر ز ید ی نے تعلیم کے ا خرا جات    بر د ا شت کیے او ر ر سمی تعلیم جا ری ر کھنے میں معا و ن ثا بت ہو ئے۔کشور نے ۱۹۵۹ء میں بی اے اور ۱۹۶۱ء میں پنجاب یو نیو رسٹی سے اکنا مکس میں ایم اے کیا۔

کشور نے ا پنی پسند سے یو سف کا مر ا ن سے شا د ی کی ،جس کو ان کے خا ند ا ن نے تسلیم کر نے سے انکا ر کر د یا ۔بعد ا ز ا ں وہ بطو ر سو ل سر و نٹ خد مات سر ا نجا م د یتی ر ہیں۔ملک میں ما ر شل لاء کے دو را ن ا ن کو جبر ی ر خصت پر بھیج د یا گیا۔جس کے خلا ف عدا لت میں کشور نے ا پنا کیس بخو بی لڑا ا و ر نتیجتاً اُن کو نوکر ی پر بحا ل کر د یا گیا۔

فروری ۱۹۸۳ء میں کشور نا ہید کو دیگر ا نقلا بی خو ا تین کے سا تھ اس وقت پا بندِ سلاسل کیا گیاجب و ہ حقو قِ نسو ا ں کے خلا ف پیش کیے جا نے و ا لے قا نو ن کے خلا ف مظا ہرے کر ر ہی تھیں۔کشو ر نے ا پنی جبر ی ر خصت کے دو را ن پا کستا ن کے پسما ندہ علا قو ں کی سا د ہ لوح خو ا تین میں گھر یلو صنعت کو فروغ د ینے کی کو شش کی ا و ر دم تو ڑ تے و رثے کو نئی جہت دی،اس عمل کے لیے ‘‘ حوّا کر ا فٹس کا ر پو ر یٹیو ’’جو کہ گز شتہ ۲۰ برس سے اس شعبے سے و ا بستہ تھی،ان کی مدد سے کم و بیش د و ہز ا ر خو ا تین کو تر بیت د ی۔

بطو ر مصنف بھی کشو ر نے ما ر شل لاء کے د و ر ا ن بہت مشکل و قت د یکھا۔ ا ن کی د و کتا بو ں پر پا بند ی لگا دی گئی ا و ر بر ہنگی کو فروغ د ینے کے ا لزا م میں گرفتا ر بھی ہو ئیں۔ہر و قت کڑی نگرا نی کی و جہ سے ا نھیں ا پنے۱۶ ا و ر ۱۸ برس کے بچو ں کو بیرو نِ ملک بھیجنا پڑا کیو نکہ ا نھیں خد شہ تھا کہ فوجی قو تیں ا نھیں نقصا ن نہ پہنچا ئیں۔

۱۹۹۸ء میں کشو ر نے ڈی جی ثقا فت کے عہد ے سے ا س لیے ا ستعفی دے د یا کیو نکہ ا س و قت کے و ز یرِ ثقا فت نے کلا سیکل ڈا نس فیسٹیول کو منعقد کر نے پر شد ید ا عترا ض ا و ر بر ہمی کا ا ظہا ر کیاتھا۔

انھوں نے حقوق نسواں کی بنیاد رکھی اور ادب میں بغا و ت کی ر و ا یت ڈا لتے ہو ئے شا عر ی کی ۹ کتا بیں، خو ا تین کے مسا ئل پر ۸ کتا بیں،بغا و ت،مز ا حمت ا و ر بین ا لا قو ا می ا دب پر ۸ کتا بیں ا و ر بچو ں کے ا د ب پر ۱۲ کتا بیں تصنیف کیں۔کشور مختلف ا خبا ر و ں کے لیے کالم نگا ر ی بھی کر تی ر ہیں۔کشور آج کل اسلام آباد میں سکو نت پذ یر ہیں وہ ‘‘ا یکشن ا یڈ ’’ ا و ر‘‘ایشین ڈیولپمنٹ بینک’’ کے ساتھ بطور مشیر فر ائض انجام دے ر ہی ہیں۔

حا رث خلیق کو د ئیے گئے ا یک ا نٹرو یو میں کشور نا ہید نے بتا یا کہ بر صغیر کی تقسیم کے کچھ عرصے بعد جب وہ بلند سہار سے لا ہو ر منتقل ہو ئیں تو چند واقعات نے اُن کے دل ودماغ پر گہرے ا ثرات چھوڑے۔اُن و ا قعات کے کرب نے کشورکو ہمیشہ جکڑے ر کھا۔بلند سہار سے تعلق ر کھنے و ا لے چند مسلمان لڑکیا ں اغوا پا ئیں۔اُن میں سے چند کا تعلق کشور کے خا ند ا ن سے بھی تھا۔اس لیے کشور ا پنی و ا لد ہ کے ہمر ا ہ اُ ن کو د یکھنے گئیں اور اُن کے ز خمی خو ن آ لود پا ؤں کشور کے ذہن سے کبھی محو نہ ہو سکے۔اس و ا قعے نے کشورکو ذ ہنی طور پربچی سے لڑکی بنا دیا۔کشور کا کہنا ہے کہ گو انھیں اُن لڑ کیو ں کے چہرے تو یاد نہیں مگر اُن کے خون میں لت پت پا ؤں ا زبر ہیں ا و ر آج بھی معا شرے میں ہر جا خو ا تین کے پاؤں ز خمو ں سے چُور نظر آ تے ہیں۔

 کشور نا ہید کی تصا نیف

 ۱۔ لبِ گو یا

 ۲۔ ورق ورق آ ئینہ

 ۳۔ میں پہلے جنم میں رات تھی

 ۴۔ با قی ما ندہ خو ا ب ۱۹۸۲ء

 ۵۔ سو ختہ سا ما نی دل

 ۶۔ آبا د خرابہ ۲۰۱۶ء

 ۷۔ بُر ی عو رت کی کتھا

 ۸۔ گمشدہ یا دو ں کی و ا پسی

 ۹۔ چا ند کی بیٹی ۲۰۱۲ء

 ۱۰۔ کلیا ت (د شتِ قیس میں لیلی) ۲۰۰۱ء

 ۱۱۔ عورت مرد کا ر شتہ ۲۰۱۱ء

 ۱۲۔ گلیا ں ،دھوپ،در و ا زے ۱۹۷۸ء

 ۱۳۔ خوا تین ا فسا نہ نگار ۱۹۹۶ء

 ۱۴۔ رات کے مسا فر

 ۱۵۔ عورت ۔۔۔ا یک نفسیا تی مطا لعہ ۱۹۸۲ء

 ۱۶۔روز نا مہ چہار سُو ۲۰۱۲ء

 ۱۷۔ ز خم بر دا شتہ (پا کستا نی کہا نی)

 ۱۸۔عو رت خو ا ب ا ور خا ک کے درمیان

 ۱۹۔ خیا لی شخص سے مقا بلہ

 ۲۰۔ مٹھی بھر یا د یں

 ۲۱۔ ز خم خندا ں ہیں

 ۲۲۔ پا کستان کی تہذ یب و ثقا فت

 ۲۳۔ز یتون

 ۲۴۔پا کستا ن کہا نی (بچوں کے لیے)

 ۲۵۔ پر ند و ں کا با د شاہ (بچوں کے لیے)

 ۲۶۔ شیر اور بکری (بچوں کے لیے) ۲۰۱۲ء

 ۲۷۔جا دو کی ہنڈیا (بچوں کے لیے) ۲۰۱۲ء

۳۰۔ ملا متو ں کے در میان ۲۰۱۵ء

۳۱۔شنا سا ئیاں ر سو ا ئیاں ۲۰۰۱ء

۳۲۔شیر یں سخنی سے پرے ۲۰۱۸ء

 کشور ناہید کی نظم گو ئی

تا نیثی ا دب پر نثر میں تو کم لکھا گیا ہے لیکن شا عری میں اس کی مقدا ر ز یا دہ ہے او ر تا نیثیت کا شعو ر بھی پر و ا ن چڑ ھ ر ہا ہے۔ہما ر ے ہا ں کی ا علی ذ ہنی سطح ر کھنے و ا لی خو ا تین نہا یت سنجید گی سے ا دب میں عو رت کے ا ستحصال کے خلا ف آ وا ز اُٹھارہی ہیں ا و ر تا نیثی ا دب کے معیا ر ا و ر ا ہمیت کی طرف تو جہ مبذ ول کرا رہی ہیں

کشور نا ہیدؔ۔۔۔عصرِ حا ضر کی ا یک ا یسی شا عری جو آ ج کے زما نے کی عورت کو سا منے لا ر ہی ہیں۔وہ عو رت کو ایک ا نسا ن،معا شرے کا با خبر فرد جا نتے ہو ئے ا س کی تشخص ا و ر اس کی نفسی ا نفرا دیت پر ایمان ر کھتی ہیں، ا سے ز ند گی کے د ھا رے میں شا مل سمجھتی ہیں۔اُن کے نز د یک آ ج کی عو رت کے ا پنے تجربا ت ا و ر ا پنے مسائل ہیں۔اس کی ا پنی رو حا نی تنہا ئیا ں ا و ر جذ با ت کی شکست و ر یخت بھی ہے۔اس کے دا من میں ہتک ، منا فقتوں اور ملا متو ں کے تجر با ت ہیں۔کشور کی مشہور نظم ‘ہم گنہگار عورتیں’ کا تر جمہ کے عنو ان سے کیا گیا اور اس نظم کو خو ا تین کے ترا نے کی حیثیت حا صل ہے۔ نظم ملا حظہ کیجیے۔

 ہم گنہگا ر عور تیں

 یہ ہم گنہگا ر عورتیں ہیں

 جو ا ہلِ جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھا ئیں

 نہ جا ن بچائیں

 نہ سر جھکا ئیں

 نہ ہا تھ جو ڑیں

 یہ ہم گنہگا ر عو رتیں ہیں

 کہ جن کے جسمو ں کو بیچیں جو لو گ

 وہ سر فراز ٹھہریں

 نیا بتِ سر فرا ز ٹھہریں

 وہ دا ورِ ا ہل ساز ٹھہریں

 یہ ہم گنہگا ر عو رتیں ہیں

 کہ سچ کا پر چم اُٹھا کے نکلیں

 تو جھوٹ کی ساری شا ہرا ہیں اٹی ملے ہیں

 ہر ا یک د ہلیز پرسزا ؤں کی دا ستا نیں ر کھی ملے ہیں

 جو بو ل سکتی تھیں وہ زبا نیں کٹی ملے ہیں

 یہ ہم گنہگا ر عو رتیں ہیں

 کہ اب تعا قب میں را ت بھی آئے

 تو یہ آ نکھیں نہیں بچھیں گی

 کہ اب جو دیو ا ر گر چکی ہے

 اُسے ا ٹھا نے کی ضد نہ کر نا

 یہ ہم گنہگا ر عو رتیں ہیں

 جو اہلِ جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھا ئیں

 نہ جا ن بیچیں

 نہ سر جھکا ئیں،نہ ہا تھ جو ڑیں

ز ند گی کے نشیب و فر ا ز ا و ر پیچ و خم نے کشور نا ہید کی شا عری میں سو ز و گدا زکی کیفیت کو پیدا کیا۔حا لا ت و و ا قعا ت ا و ر ز ند گی کے تجر با ت سے ان کی نظمو ں میں پختگی، گہر ا ئی کے محا سن پیدا ہو ئے۔ کشور نا ہید کی چند نظمیں د ا خلی کشمکش کی آئینہ د ا ر ہیں جن سے شا عرہ کے د ا خلی غم و الم، تلخ تجر بو ں ا و ر مصا ئب و آلام کا علم ہو تا ہے۔نظم ‘‘خوا ہش ’’ کا کچھ حصہ نمو نے کے طو ر پر د ر ج ہے:

خواہش

 میں منٹو کی طرح

 ا پنا کتبہ خو د تجو یز کرنا چا ہتی ہو ں

 اس نے لکھا تھا

 وہ اس ز مین کا سب سے بڑا ا فسا نہ نگا ر ہے

 سچ ہے وہ تھا بھی

 عورت پہ ہو نے و ا لی ز یا د یتو ں کو

 ا فسانے کا ر وپ اس زما نے میں د یتا تھا

 جبکہ سا ری د نیا کی عو ر تیں

 ا پنے حقو ق کے لیے جا گی نہیں تھیں

 شا عرہ کا لب و لہجہ آ ز ر دگی کا مظہر ہے لیکن منفر د ا ستعا را ت کلا م کو بو جھل نہیں کر تے۔ ا سی نظم کے چند ا و ر

 ا شعا رملا حظہ ہو ں۔

؂ یوں تو د فن ہو نے کے بعد

 و جود خا ک ہی بن جا تا ہے

 کتبہ آ پ کو نہیں

 آپ کے زمانے کو ز ند ہ ر کھتا ہے

 کشور نا ہیدنے ز ند گی کے مختلف ر نگ و ر و پ د یکھے۔ ان کی شا عری میں بے کسی ا و ر بے چا ر گی کا پر تو د یکھا جا سکتاہے اسی ر حجا ن کی وآ ئینہ د ا ر نظم ‘‘ بے سبب مشورہ ’’ کا آ غاز ملا حظہ ہو۔

 میرے ا ندر جو کلبلا ہٹ ہے

 وہ مجھے مز ید کھو کھلا کر رہی ہے

 مجھے پُر ا عتماد ہو نے کے لیے

 مزید اُکسا رہی ہے

 مگر اب اعتماد کس خو ا ہش کے لیے

 وہ جو تمام ر شتے تھے

 وہ تو بے عکس ہو گئے ہیں

شا عر ہ نے ز ند گی کی بے ثبا تی، ا ضطر ا ب کو لفظو ں میں جکڑ د یا ہے۔ نظم ‘‘سا نحہ کرا چی ۔ ۱۳ مئی ’’کے آ خر ی مصر عوں میں ر و ا یات سے ا حتجا ج ا و ر مز ا حمت کا ر ویہ نظر آ تا ہے۔

 یہ تو خدائی فو جدار ہیں

 جو ہر سانحہ کے بعد

 منہ کھو لتے ہیں ا یسے

 جیسے قارون کا خزانہ با نٹ رہے ہیں

 مر نے و ا لے کی اس سے ز یا دہ بے حُرمتی

 اور کیا ہو سکتی ہے

 غیر ت مند قو میں ا یسا نہیں کر تیں

 وہ تو مجر م کو پکڑتی ہیں

 نا طا قتی کی بھی کو ئی حد ہو تی ہے

کشور ایک با شعو ر ا و ر حسا س شا عرہ ہیں ۔و ہ معا شرتی نا ہمو ا ر یو ں ا و ر نا انصا فیو ں کی بھر پو ر عکا سی کر تی ہیں۔نظم ‘‘ ا ند ھیرے سے با تیں’’ سے کچھ ا شعا ر ایسی ہی کیفیت کے تر جما ن ہیں۔

 اکیلا رو نا،آنسوؤں کو مسکراہٹ میں نہیں بد لتا ہے

 کو ئی د لا سہ د ینے و الی آ و ا ز

 کو ئی تسلی د ینے و ا لا کند ھا نہ ہو

 تو آ نسو بھی ساتھ نہیں د یتے

 نظم ‘‘ما ضی کبھی حا ل نہیں بنتا’’کے ا یک حصے میں شا عرہ نے ا پنے ا چھو تے تخیل کو متحر ک کر دیا ہے ۔ نمو نہ ملا حظہ ہو۔

 مجھے وہ بچی بننے کی خو ا ہش ہے

 جو مٹی سے کھیلتی ہو

 ر یت کے گھر بنا تی ہو

 اور ما رنہ کھا تی ہو

 نظم ‘‘ ما ضی کبھی حا ل نہیں بنتا ’’ میں شا عرہ ا یک ا ٹل حقیقت کی طر ف ا شا ر ہ بھی کر تی ہیں۔لکھتی ہیں۔

 میں ا پنے اندر پچھتا و ں کا سمندر لیے

 بچپن کی شہزا د گی چا ہتی ہو ں

 اس عمر میں تو بس

 دوا ئیوں کا پھکا مل سکتا ہے

 لولی پا پ نہیں۔۔

 کشور کی نظم ‘‘ نسخہ جا و دا نی’’کا آ غا زحالا ت کی ستم ظر یفی کا شکا ر ا و ر یا س و نا امید ی میں ڈ و بے ا نسا نو ں کے لیے نو ا ئے ا مید بن کرد ستک د یتا ہے۔ نمو نہ ملا حظہ ہو۔

 آ ؤ آ ج ڈ پر یشن ختم کر نے کے لیے

 ملیدہ تیا ر کر یں

 جسم میں تھوڑی سی شیخی،نر گسیت

 بے ہو دہ لطیفے،جنسی بے لطف ا سکینڈل

 اور تھو ڑی سی بد معا شی ڈا ل کر

 گھو نٹ گھو نٹ پیتے جا ئیں

 با تھ ر وم میں جا کر

 زور زور سے ا تنا ہنسیں

 کہ آ نسو نکل آ ئیں

مجمو عی طو ر پر کشو ر کی نظمیں متنو ع مو ضو عات کی حامل ہیں جو کہ شا عرہ کی تخلیقی صلا حیتو ں کی آ ئینہ د ا ر ہیں۔کشور نا ہیدکے پا س الفا ظ کا ا یسا بیش بہا خزا نہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہو تا و ہ ا پنے ا شعا ر میں مو ضو ع کی منا سبت سے الفا ظ کا جس طر ح ا ستعما ل کر تی ہیں ا و ر جو نئے نئے ا میجز بنا تی ہیں و ہ ان ہی کا کما ل ہے۔ نظم ‘‘ محل میں و ر ا ثت’’سے نمو نہ ملا حظہ ہو۔

 را ت کے د و بجے

 اس کی ڈیو ٹی شروع ہو تی تھی

 بر آ مد و ں، دا لا نو ں ا و ر

 با تھ ر و مز سے

 مسلے ہو ئے ا نڈر گا ر منٹس ا ٹھا تی تھی

 یہ کام ا و ر یہ خا مو ش سلیقہ

 اس نے ا پنی ما ں سے سیکھا تھا

 ا چھو تا تخیل ا و ر منفر د ا ند ا ز بیا ں ا س نظم میں ا میجز کا جہا ں آ با د کیے ہو ئے ہے مثا ل بطو ر نمو نہ ر قم ہے۔

 کھلتی جو ا نی ا و ر شا د ی کی عمر

 گزر جا نے کے بعد

 وہ کسی بو ڑھے خا د م سے بیا ہ دی جا تی تھی

 وہ بھی ا پنی جو ا ن ہو تی بیٹی کو سکھا تی جاتی

 کہ دا لا نو ں ا و ر بر آ مد و ں کو

 رات د و بجے خا مو شی سے صا ف کر کے

 بر آ مد ے ہی میں سو جا یا کرے

یہ نظم چھو ٹے چھو ٹے ا میجز کی تخلیق کے ذر یعے شا عرہ کے کر ب ا و ر تلخ مشا ہد ات کی عکا سی کر تی ہے۔ حالا ت کی تنگی نے ز ند گی کے ر نگ و ر و پ کو چا ٹ لیا ہے۔

 شاعری میں ا لفا ظ کی و قعت ا و ر قدر و قیمت مسّلم ہے شا عری ا لفا ظ و مفہو م کے ا متزا ج سے عبا رت ہے۔

الفا ظ کی شا عری میں کتنی ا ہمیت ہے ا و ر شا عر پر کس طر ح ا ثر ا ند ا ز ہو تے ہیں۔

ا س کے با رے میں سید عبد اللہ لکھتے ہیں۔

 ‘‘ شا عری کا سا را کا ر خا نہ ا لفا ظ ہی کے کل پر ز و ں پر چلتا ہے۔ شا عری کے جما لیا تی ا ظہا ر میں ا لفا ظ کی ا ہمیت کو سبھی نے تسلیم کیا ہے ۔ اس میں کو ئی ا ختلا ف نہیں کہ مو ضو ع ا و ر مو ا د کے جما لیا تی ا ظہا ر میں ا لفا ظ بڑا کا م کر تے ہیں۔’’ ۱؂

 کشور نا ہیدکو اردو زبا ن و بیا ن پر عبو ر حا صل ہے۔ وہ ذ خیر ۂ ا لفا ظ کو مو قع و محل پر چا بکد ستی ا و ر ہنر مند ی سے بر تتی ہیں۔ ان کی نظم ‘‘ریت میں چھپا پا نی’’ سے کچھ اشعار اس کی ایک عمد ہ مثا ل ہے۔اسی نظم سے ا یک مکا لما تی نمو نہ ملا حظہ ہو۔

 جب خشک منہ کے ساتھ

 سیڑ ھیا ں چڑھ کر

 لمبا سا نس لیتی ہو ں

 سامنے سے دیکھنے والا

 مسکرا کر کہے

 ‘‘بس تھک گئیں’’

 میں قہقہہ لگا کر کہتی ہوں

 ‘‘ا بھی نہیں’’

 یہ ابھی نہیں،ابھی نہیں

 کب تک چلے گا

 کیا باز پُرس سے ڈرتی ہو

کشور کی شعر گو ئی کا عمل ا یک جذ با تی تجر بہ معلو م ہو تا ہے لیکن ا س تجر بے کا اثر شعر پڑ ھنے و ا لے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔ ور ڈ ز و رتھ کا قو ل ہے:

 ‘‘شعر ا ظہا رِ جذ با ت کا د و سر ا نا م ہے ۔’ ’ ۲؂

کشور کی جذ با ت نگا ر ی کا ا یک نمو نہ نظم ‘‘ زینب کا نوحہ’’ سے ملا حظہ ہو۔

 بابا! آ ج آ پ میری پھو لو ں سے بھری قبر پہ

 گر کر بے ہوش ہو گئے تھے

 بابا! میں بھی بے ہوش ہو گئی تھی

 جب انھو ں نے میری با ریک،ننھی ننھی

 کو مر وڑا

 اس نظم کے ا شعا ر سچے ا و ر تلخ جذ با ت کے مر قعے نظرآ تے ہیں۔ ایک ا و ر مثا ل ملا حظہ ہو۔

 بابا!

 میری ایک گز ا رش ہے

 میر ا بستہ ا و ر میر ی کاپی

 جس میں، میں نے ا پنے ہاتھ سے لکھا

 ‘‘میں ز ینب ہو ں’’

 وہ سنبھا ل کے ر کھنا

مذکو رہ ا شعا ر ز ند گی کی کڑ و ی ا و ر بدصو ر ت سچا ئی کو ا س طر ح قا ر ی کے ر و بر و کھڑا کر دیتے ہیں کہ وہ بےا ختیا ر کہہ ا ٹھتا ہے:

 میں نے یہ جا نا کہ گو یا یہ بھی میر ے د ل میں ہے

کشور نا ہید کی بہت سی نظمیں مثلاً میں پہلے جنم میں را ت تھی ،کاری قبرستا ن کی صدا ئیں،کوکھ مزدور ،مر غِ گر فتا ر،چلو کسی ا و ر کا نفر نس میں چلتے ہیں وغیر ہ جذ بات نگا ری کی بہتر ین مثا لیں ہیں۔ ان کی شا عری دقیق ا و ر پیچیدہ نہیں ہے۔ وہ ا پنے منفرد خیال کو سا دگی و سلا ست سے ادا کر نے کا ہنر جا نتی ہیں۔

نظم ‘‘ سر گز شت ’’سے نمو نہ ملا حظہ ہو۔

 میر ے آ گے آ گے تیز تیز چلتی ہو ئی لڑکیا ں

 پیچھے مُڑ کر مجھے آ ہستہ آہستہ چلتے ہو ئے د یکھ کر

 کبھی ہنستی ہیں ا ور کبھی ہمدردانہ لہجے میں

 مجھ سے پو چھتی ہیں

 ہم آ پ کا ہا تھ پکڑ لیں؟

 مجھے بُرا نہیں لگتا،ہاتھ ہلا تے ہو ئے

 مسکرا د یتی ہو ں

 وہ ہا تھ پکڑ کر مجھے سیڑ ھیا ں

 چڑ ھا تی ا و ر اُتارتی ہیں

 مجھے بہت اچھا لگتا ہے

مند ر جہ با لا ا شعا ر میں ‘‘ مسکرا د یتی ہو ں’’ ، ‘‘مجھے بہت ا چھا لگتا ہے’’ جیسے مصر عے بو جھل پن کی بجا ئے سا دگی کا تا ثر پیدا کر تے ہیں۔ اندا ز بیا ں فطر ی ہے جس میں بے سا ختگی ہے ا سی لیے تصنع ا و ر بنا وٹ کا شا ئبہ تک نہیں ہو تا۔ ایک ا و ر مثال د یکھیے۔

 مسکر اہٹ کا بہا نہ د ینے و ا لے نو جو ا ن چہر ے

 مجھے دنیا بھر میں ملتے ہیں۔۔

 میں خو شی کی د ھو پ میں سستا نے بیٹھ جا تی ہو ں۔

 ز ند گی میں مسرت و ر ا حت کو ثبا ت نہیں۔غم ا و ر د کھ بھی لا زمۂ حیا ت ہیں بسا ا وقا ت ایسے حالات در پیش آتے ہیں کہ ا نسا ن کی ز ند گی میں ا پنے پر ائے سبھی بیگا نے ہو جا تے ہیں۔ نہ کو ئی ہمراز رہتا ہے ا و ر نہ ہمنوا غم تنہا ئی کی ایسی کیفیت میں انسا ن خو د کلا می کا شکا ر ہو جا تا ہے۔کشورکے کلا م میں بھی خو د کلا می کی ا یسی کیفیت ہمیں با ر با ر ملتی ہے۔ نظم ‘‘نظم کی تلا ش’’ سے نمو نہ ملا حظہ ہو۔

 میں کئی د فعہ نظم دھو نڈتی ڈ ھو نڈتی

 دیوا ر کے اس پا ر جا نا چا ہتی ہو ں

 جیل کی کال کو ٹھری کی د یو ا ر و ں پر

 کبھی نا خنو ں سے تو کبھی کا لے کو ئلو ں

 جیسا اپنا نصیب لکھنا چا ہتی ہو ں

 ایک ا و ر مثا ل نظم ‘‘ پا کستا ن کے ستّر برس سوا ل کر تے ہیں’’سے ملا حظہ ہو۔

 ملک کو قا ئم ہو ئے ستّر بر س ہو گئے ہیں

 تنگ گلیو ں میں اُ مڈی کثا فت کے پہاڑ

 روز بروز ا و نچے ہو تے جا ر ہے ہیں

 سا رے انسا ن بند ر بنے

 ہاتھ میں اُسترا لیے

 من ما نی کر رہے ہیں

 میری ٹا نگو ں میں آ گے جا نے کا دم نہیں ہے

 پھر بھی بتا ؤجا نا کہا ں چا ہتی ہو

 ا نسا نو ں نے چہر و ں پر ریا کا ری ا و ر مکر و فر یب نقا ب ا و ڑ ھ ر کھا ہے ان کے ظا ہر ا و ر با طن میں تضا د ہے۔کشوراپنے کلا م میں ا کثر ا س تضا د کو مو ضو ع بنا تی ہیں۔

اد بی مقام و مر تبہ:کشور نا ہید ایک صا حبِ طرز شا عر ہ ہیں ان کے نا در طر ز ِ احسا س نے اردو شا عری میں گرا ں قدر ا ضا فے کیے۔ان کی شا عری کی اسا س ہمہ گیر ا نسا نی مسا ئل و مشکلا ت،جذ باتی واردات و کیفیا ت ہیں جن میں معا ملا ت اور مسا ئل کا احسا س بھی بہت نما یا ں ہے ا و ر یہی و صف کشور نا ہیدکو ا ر د و نظم گو ئی میں ا یک ممتا ز حیثیت د لا تا ہے۔

شاعری پڑھیں:

 نا قد ین کی آ را:

ا نیس نا گی ا س ضمن میں ر قمطرا ز ہیں ـ:

 ‘‘ کشور نا ہیدکی نظمیں بے حد د ا خلی ہیں اس لیے ان میں خو د کلا می کا لہجہ حا وی ہے۔

 وہ جس تند ہی سے نظمیں لکھ ر ہی ہے وہ اس کی شعری جو ہر ا و ر فنی ا رتقا کی آ ئینہ د ا ر ہے۔’’ ۳؂

عبد ا للہ حسین ،کشور نا ہید کے متعلق لکھتے ہیں:

 ‘‘کشور ا یسی شا عرہ ہے جو چا ہتی ہے کہ د نیا کو حقیقت سے آ شنا ئی ہو۔’’ ۴؂

ڈ اکٹر وحید ا حمد کی ر ا ئے میں:

 ‘‘کشور کے ہا ں شا عری ز ند گی کی حقیقتوں ا و ر و سعتو ں کا عکس ہے،ان کی شا عری

 حقائق کے ا مکا نا ت در یا فت کر تی ہے۔’’ ۵؂

 حو ا شی

 ۱؂ تحسینِ شعر، کا ر و ا نِ ا دب ،ملتان ۱۹۸۵ ، ص ۶۵

۲؂ ایضا ، ص ۷۶

۳؂ جد ید ا ردو نظم ، مجلس ار با ب فن ،لاہور ۱۹۹۱، ص ۲۱۱

۴؂ فلیپ، لبِ گو یا

۵؂ اردو شا عر ی ا و ر خو ا تین، مجلس تر قی ادب،کر ا چی۲۰۱۸ ، ص ۱۸۷

 کتا بیا ت

 مصنف کتاب پبلیشر سنِ اشاعت

۱۔ انیس نا گی جد ید ا ردو نظم مجلس اربا بِ فن،لا ہور ۱۹۹۱ء

۲۔رو بینہ تحسین تحسینِ شعر کاروا نِ ا دب ،ملتا ن ۱۹۸۵ء

۳۔کشور نا ہید لبِ گویا (فلیپ)

۳۔وحید احمد ،ڈا کٹر ا ردو شا عری ا ورخو اتین مجلس ترقی ادب ،کراچی ۲۰۱۸ء

1 thought on “ کشور نا ہید: ایک نظریہ”

  1. In life, Kishwar Naheed’s journey from India to Pakistan amid the partition upheaval reflects resilience and determination. Despite facing immense challenges, her commitment to education and hard work paved her path to success. Her story teaches us that self-reliance and perseverance can overcome even the toughest of circumstances.

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top