محمد حامد سراجؔ کی ادبی نثر (مقالہ ایم فل)

عزیر قارئین! یہ مقالہ علی احمدؔ (ایف سی کالج (یونیورسٹی) لاہور) کی تحقیق و تحریر ہے۔ 


پیش لفظ

خدائے بزرگ و برتر کا احسان عظیم ہے کہ مجھ جیسا نالائق بھی خراما ں خراما ں علم   کی اس شاہراہ پہ گامزن ہے اور اسے نابغہ ٔ روزگار شخصیات میسر ہیں۔   ایم فِل اُردو کا یہ مرحلہ بھی تکمیل کو پہنچا۔ الحمد!  ایم فِل کےلیے موضوع کے  انتخاب کا مرحلہ  ذہنی مشاقی کا متقاضی تھا ۔بہت سے عنوان زیرِ بحث رہے ۔  بالآخر استادِمحترم پروفیسر ڈاکٹر غفور شاہ قاسم کی ذاتی دلچسپی اور شفقت کی بدولت یہ موضوع ’’ محمد حامد سراج کی ادبی نثر۔ تجزیاتی مطالعہ ‘‘مجھے تفویض کیا گیا۔   

مقالے کا آغازنہایت جاں گسل تھا۔ ایک قدم آگے بڑھاتا تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتا۔  مقالے کے لیے مواد کی تلاش اور فراہمی میں ڈاکٹر صاحب  نے مدد فرمائی اور سلسلہ  چل نکلا۔  ابھی مقالہ کا آغاز ہی تھا کہ کرونا جیسے موذی مرض نے زمانے کو آ لیا۔ تعلیمی ادارے مقفل   ہوگئے اور کُتب خانے  ویران۔۔۔   جتنا مواد دستیاب ہو سکا  اس کی جانچ پرکھ جاری رہی۔ لیکن پھر مواد کی تلاش کا یہ سلسلہ  مجھے کندیاں ،میانوالی محمدحامد سراج (مرحوم)کے گھر   لے گیا۔

اس مقالے کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب حا مد سراج کے احوال اور شخصیت پہ مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں ان کے افسانوں کا  جا ئزہ لیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں ناول ’آشوب گاہ‘  کا تجزیہ ہے۔ چوتھے  باب میں خاکہ ’میّا‘  کا  تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔ پانچواں باب حامد سراج کی اُن غیر مطبوعہ  برقی تحریروں  پر مشتمل ہیں جن کی اشاعت وہ ’فیس بُک پروفائل‘ پر کرتے رہے تھے۔ چھٹا باب  ’ماحصل ‘ ہے۔ آخر میں کتابیات اور ضمیمہ جات شامل ہیں۔   

میں اسامہ حامد، قدامہ حامد اور  محمد حامد سراج کے اہلِ خانہ کا ممنون ہوں ۔ جنہوں نے اپنے  خاندان کی روایت کا پاس رکھا اور ایسی مہمان داری کی کہ گویا خود حامد سراج وہاں موجود ہوں۔  مجھے اُن کے ذاتی کُتب خانے اور دستاویزات  تک رسائی دی گئی  ۔ میں محمد حامد سراج کے کزن ملک بشارت احمد کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نےمجھے  اپنے قیمتی وقت سے نوازا  اور حامد سراج کی شخصیت  سے متعارف کروایا۔

مقالے کے نگران پروفیسر ڈاکٹر  غفور شاہ قاسم  خصوصی شکریے کے مستحق ہیں  جن کی علم دوستی، عاجزانہ طبیعت  اور  محنت نے اس مقالے کی تکمیل میں میری ہر ممکن رہنمائی  کی۔  یہ انھی کا خاصا تھا کہ مجھے محمد حامد سراج جیسے تخلیق کارسے متعارف کروایا ۔ بلاشبہ اس پورے سفر میں مجھے   زندگی کے دیگر مثبت پہلوؤں کو بھی سمجھنے کا موقع ملا۔

شعبہ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر اختر شمار ،ڈاکٹر علی محمد خاں،  ڈاکٹر  نجیب جمال ، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ، ڈاکٹر طاہر شہیراور دیگر فیکلٹی ممبرز کا بھی ممنون ہوں  جن سے میں  نےاردو ادب پڑھا اور سیکھنے کی کوشش کی۔  

میں ماں کا شکر گزار ہوں جو ہمیشہ مجھے دعاؤں میں یاد رکھتی ہیں  ۔  اپنے دوستوں کی حوصلہ افزائی  بھی میرے لیے قدم قدم پر سنگِ میل ثابت ہوئی۔ آخر میں اپنی بیوی اور بیٹے واصف   احمد  کا شکر گزار ہوں جسے مجھ سے زیادہ میری کتب سے لگاؤ رہا۔  

علی احمد 

ایف سی کالج ، لاہور


محمد حامد سراج (مرحوم) ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۸۔ ۱۳ نومبر ۲۰۱۹ء

محمد حامد سراج (مرحوم)

۲۱ اکتوبر ۱۹۵۸۔ ۱۳ نومبر ۲۰۱۹ء

Chapter 1

باب اول

محمدحامد سراج: احوال، شخصیت، آثار/خدمات

محمدحامد سراج کی سوانح اور شخصیت

۱۔ خاندانی پسِ منظر

۲۔ پیدایش

۳۔ تعلیم و تربیت

۴۔ مشاغل۔کتب بینی

۵۔ ملازمت

۶۔ شادی اور اولاد

۷۔ پسندیدہ شخصیات اور رفقا

۸۔ شخصیت

۹۔ افسانہ نگاری

۹۔ بیماری۔وفات

۱۰۔ تدفین

۱۱۔ تعزیتی مضامین سے اقتباسات

محمد حامد سراج کی سوانح اور شخصیت

  حامد سراج (مرحوم) اردو افسانوی ادب  کا درخشاں باب ہیں۔ ان کی خدمات میں افسانہ نگاری، ناول نگاری،  سوانح نگاری، خاکہ نگاری اورتلخیص و تدوین نمایاں اہمیت کی حامل ہیں۔ خاکہ نگاری میں ماں کے موضوع پر اردو ادب کا طویل ترین خاکہ ‘میّا’ اُن کی وجہ شہرت ہے جس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔  یہ دیکھا گیا ہے کہ  لکھاری  کی عام زندگی اس کی تخلیقی زندگی کے برعکس ہوتی ہے جتنی اس کی تخلیق  حسین ہوتی ہے شخصیت  اتنی ہی  بد نما۔۔۔ لیکن   حامد سراج  سراپا حسن تھے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف  تو اردو ادب کے قاری پرلازم ہے اس کے ساتھ ساتھ جو بھی ان سے ملا وہ ان کی شخصیت سے مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔   ذیل میں   حامد سراج کی زندگی کے  حالات و واقعات  کا جائزہ لیتے ہوئے شخصیت کو آشکار کرنے کی سعی  ہو گی ۔

خاندانی پسِ منظر:

  حامد سراج کے آباو اجداد نے ضلع میانوالی (پنجاب) کے معروف قصبہ کندیاں  کے قریب اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے موضع   بکھڑا کو آباد کیا۔ دریا کے قریب واقع بستیاں ہمیشہ سیلابی ریلے کی زد میں رہتی ہیں۔ موضع بکھڑا بھی کئی بار دریائے سندھ کی طغیانیوں کا  شکار رہا۔  خانقاہ سراجیہ کی بنیاد کے حوالے سے   حامد سراج کہتے ہیں:

’’ حضرت اعلیٰ کا  آبائی گاوں موضع بکھڑا   دریائے سندھ کے سیلابی علاقے یعنی کھادر میں واقع تھا۔ جب ایک بار طغیانی کی وجہ سے پورا موضع تباہ ہو گیا تو سب نے قریبی گاوں موضع کھولہ میں اقامت اختیار کر لی۔ یہ بھی سیلابی علاقہ میں تھا اور کچھ  عرصہ بعد دریا برد ہو گیا۔ آپ میاں غلام محمد صاحب قادری چشتی کی خانقاہ منتقل ہو گئے اور ساتھ ہی اپنے آبائی رقبہ پر موجود خانقاہ سراجیہ کی تعمیر کا آغاز  فرمایا۔ سب سے پہلے کنوان کھودا گیا، پھر مسجد، حویلی اور خانقاہ کے کمروں کی تعمیر ہوئی۔ مسجد کی تعمیر پختہ ہوئی جس پر مستری ظہیرالدین اور اس ے ساتھیوں نے خوب صورت نقش و نگار  کے وہ جوہر دکھائے کہ مسجد فنِ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ بن گئی۔ تعمیرِ چاہ و خانقاہ ۱۳۳۸ ھ ۔۱۹۲۰؁ سے شروع ہو کر ۱۳۴۰ھ۔ ۱۹۲۲؁ میں مکمل ہوئی۔ ‘‘  (۱)

  حامد سراج کے آباؤ اجداد  کو قدرتی آفات کی وجہ سے بارہا اپنی سر زمین چھوڑنا پڑی اور بالآخر دریائے سندھ کے کنارے خود ایک بستی کی بنیاد رکھی  جس کا نام "مولوی احمد خان دا کھوہ” کے نام سے مشہور ہوئی جو بعد میں ایک بزرگ خواجہ سراج الدین کے اسم گرامی سے بستی کا نام "خانقاہ سراجیہ” ملقب ہوا۔

  حامد سراج کے پڑ ادادا مولانا ابوالسعد احمد خان خانقاہ سراجیہ کے بانی اور سرخیل اولیا میں سے تھے۔ ان کا نام احمد خان اور کنیت ابوالسعد تھی۔ آپ جامع علوم ظاہر وباطن تھے اور فیضان ولایت و عرفان سے مالا مال تھے۔ آپ نے خانقاہ موسیٰ زئی شریف (ڈیرہ اسماعیل خان) کے کاملین  اولیا خواجہ عثمان دامانی اور ان کے فرزند سراج الدین سے فیض پایا۔ اور یہیں سلوک کی منازل طے کیں۔ خواجہ سراج الدین نے خلعت خلافت سے آپ کو سرفرازی بخشی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے ان مشائخ عظام کو حاجی دوست محمد قندھاری جیسے کامل ولی کے طریقہ مجددیہ اور صحبت سے کمالات اور نسبتیں حاصل تھیں۔

مولانا ابوالسعد خان نے تکمیل سلوک اور اجازت ِ شیخ کے بعد ضلع میانوالی میں اقامت اختیار کر کے اپنا فیض عام کیا۔ اسی فیضان عام اور کمالاتِ نام سے خانقاہ سراجیہ مجددیہ  نقشبندیہ نے شہرت پائی۔ حامد سراج کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ محمد حامد سراج بن محمد عارف بن محمد سعید بن احمد خان بن ملک مستی خان بن ملک غلام محمد بن ملک فتح محمد، ان  کی قومیت راجپوت  تلوکر ہے۔ جب کہ ان کے آباو اجداد پیشہ زمہ داری  سے منسلک چلے آرہے ہیں۔ 

  حامد سراج کے  دادا کانام محمد سعید تھا۔ وہ ۱۹ رجب ۱۳۲۹ ہجری بمطابق ۱۶ جولائی  ۱۹۱۱؁کو پیدا ہوئے جب کہ عالم شباب میں انتیس سال کی عمر میں  خالق حقیقی سے جا ملے۔

حامد سراج کے والد بلند پایا عالم دین تھے۔ ان  کی تاریخِ پیدائش ۴ فروری ۱۹۳۵ ؁ ہے۔ دینی خدمات کے ساتھ ساتھ زمینوں کی کاشت میں انتہائی دلچسپی لیتے۔ صلہ رحمی اور دردمندی ان کے مزاج کا جزو لاینفک تھا۔ وہ جوہر آباد جا رہے تھے کہ قائد آباد کے قریب  مخالف سمت سے آنے والی ویگن ان کی کار سے ٹکڑا گئی۔ا س المناک حادثہ نے مارچ ۱۹۹۱؁ میں حامد سراج کو شفقت پدری سے محروم کردیا۔ حامد سراج کی والدہ رضیہ بی بی انتہائی نیک، خدا ترس اور تہجد گزار خاتون تھیں۔ وہ چھ ماہ کے عرصے تک لبلبہ کے کینسر  میں مبتلا رہنے کے بعد ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۸؁ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔  (۲)

پیدایش:

  حامد سراج بستی خانقاہ سراجیہ ضلع میانوالی میں ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۸ کو پیدا ہوئے۔ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ نے ان کا نام  محمد حامد رکھا۔ ’’جب محمد  حامد سراج   نے ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی۔ توانہوں نے پہلے اپنا تخلص راحتؔ رکھا اور پھر کچھ عرصہ بعد تہامی تخلص کیا۔ ‘‘(۳)

  حامد سراج اپنے والدین کے سب سے بڑے اور اکلوتے بیٹے تھے۔ جب کہ ان کی دو بہنیں میمونہ اورا سما  اس سے عمر میں چھوٹی ہیں۔

 تعلیم و تربیت:

  حامد سراج نے ایک دینی اور صوفیانہ ماحول میں آنکھ کھولی۔ آپ کا بچپن خالص دیہاتی ماحول میں گزرا۔اس کا بچپن اپنے  ننھیال میں گزرا اُن کے نانا نے ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کی ۔ اپنے نانا اور نانی کے فیضان نظر سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔  تختی لکھنا نانا  نے سکھایا تھا اسی لیے  وہ بہت خوش خط لکھتے تھے۔ محمد حامد سراج نے اپنے گھر سے متصل مدرسہ خانقاہ سراجیہ میں قاری غلام ربانی سے قرآن کریم ناظرہ پڑھا۔   حامد سراج  کا مدرسے کا تجربہ کچھ خوشگوار نہ رہا تھا لیکن وہ قاری غلام ربانی سے سیکھے ہوئے اسباق کبھی بھول نا پائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں:

’’قاری غلام ربانی ایک سخت گیر مدرس تھے ۔ لیکن اپنے فن میں ان کا شمار کاملین میں ہوتا تھا۔ انہوں نے قرآن مجید تجوید سے پڑھایا  ، تلفظ ، ادائیگی اور لب ولہجہ ایسے بنیادی اصول تھے جن پر سمجھوتا ممکن نہیں تھا۔ ذ اور ز کا فرق ملحوظ خاطر رکھا جاتا۔ ‘‘(۴)

فن تعلیم میں سزا کا تصور ہمارے ہاں پتا نہیں کہاں سے در آیا تھا لیکن محمد سراج اس انداز تربیت کے قائل نہیں تھے۔ آپ نے ہر اس سزا کا مزا چکھا ہے جس کے قصے مدرسے کے ماحول سے جوڑے جاتے ہیں۔ ڈنڈے پڑنا، مرغا بننا، دیوار کے ساتھ کرسی بنے رہنا ۔۔۔  صرف یہی نہیں ، فجر سے پہلے انہیں جگا دیا جاتا اور سردی کی یخ بستہ صبح کاذب  میں مدرسہ کا رُخ کرتے۔ خود بیان کرتے ہیں:

’’امی مجھے فجر کی اذان سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جگا دیا کرتی تھیں۔ دسمبر  اور جنوری کی یخ بستگی مدرسے میں کسی دری کا انتظام نہیں تھا۔ ہمارے علاقے میں ایک خودرو جڑی بوٹی ہے جسے کھوی کہتے ہیں اس کا قد ایک میٹر کے آس پاس ہے۔ طلبا ٹیلوں پر جا کے وہاں سے کاٹ کے گٹھے بنا کر مدرسہ لے آتے اور مدرسے میں بچھا دی جاتی۔‘‘  (۵)

 ۱۹۲۵   ؁میں  اپنی بستی کے جنوب کی جانب خانقاہ نور محمد گھنجیرہ کے پرائمری سکول میں داخلہ  لیا اور پہلی سے چوتھی جماعت تک تعلیم  یہاں سے حاصل کی۔ اس کے بعد سال ۱۹۲۹ میں گئوشالہ پرائمری سکول میانوالی کے جماعت پنجم میں داخلہ لیا۔ وہ میانوالی میں اپنے نانا مرحوم ملک محمد اسلم کے ہاں رہائش پذیر رہے۔ ان کے نانا محکمہ پولیس میں بطور انسپیکٹر ریٹائرڈ تھے۔ انہوں نے  پرائمری کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں داخلہ لیا۔ جہاں نویں جماعت تک زیرِ تعلیم رہے۔ ان کے نانا جب میانوالی سے اٹھ کر قصبہ کندیاں میں آباد ہوئے تو حامدسراج بھی ان کے ہمراہ آگئے اور یہاں واپڈا ہائی سکول چشمہ (کندیاں) میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھی۔

انہوں نے میٹرک کاامتحان ۱۹۷۴ ؁میں فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ بعد ازاں   حامد سراج نے گورنمنٹ کالج میانوالی میں داخلی لیا مگر سال ؁۱۹۷۴ میں ایف اے کی تعلیم چھوڑ کر اسی برس گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ کالج راولپنڈی  میں داخلہ لے لیا۔ یہاں سے انھوں نے الیکٹریکل ٹیکنالوجی میں  ڈپلومہ کی سند  سیکنڈ ڈویژن میں حاصل کی ۔ اپنی فنی تعلیم سال ۱۹۷۹۔ ۸۰ میں مکمل کر لینے کے بعد عملی زندگی کا آغاز کیا۔

انھیں تعلیم حاصل کرنے سے  خاصا لگاو رہا ۔ اپنی ملازمت کے دوران سال ۱۹۹۱ میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری فرسٹ ڈویژن میں حاصل کی  جب کہ اردو ادب سے اپنی رغبت کے باعث پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ہی سال ۱۹۹۲ میں ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ۱۹۹۸ میں انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کی سند بھی کامیابی سے حاصل کی۔

مشاغل۔ کُتب بینی:

بچپن میں   حامد سراج کے مشاغل  باقی دیہاتی بچوں کی طرح ہی تھے لیکن   جو بات انہیں باقیوں سے ممتاز کرتی تھی وہ اُن کا ذوقِ مطالعہ تھا۔   ان کے گھر کے آنگن میں ایک بیری کا درخت تھا   بچپن میں گھر آتے تو اس پہ سنگ باری کا آغاز ہوتا۔ جو زیادہ گچھے گرانے میں کامیاب  ہوتا اسے زیادہ بیر ملتے۔ کالج کے زمانے میں  ڈرافٹ کے بہترین کھلاڑی تھے ۔ جب محمد حامد سراج میانوالی میں سکول میں پڑھتے تھے تو ماچس کی کی ڈبیاں اکٹھی کرنا  بلکہ ریڑھی سے خرید کر اپنے پاس جمع کرنا ان کا شوق تھا۔

اس کے علاوہ اُن کا اصل مشغلہ کتب بینی تھا چاہے وہ رسائل و جرائد کی شکل میں ہو یا کتاب کی صورت میں۔۔۔  وہ   پانچویں  جماعت تک بیشتر  ڈائجسٹ پڑھ چکے تھے۔  اپنے ایک برقی خط میں ممتاز شیخ سے کہتے ہیں:

’’یہ کل کی بات لگتی ہے میں گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں چھٹی جماعت کا طالبعلم تھا ہائی سکول کے سامنے ریلوے اسٹیشن ہے۔ وہاں ریلوے بک سٹال پر نقوش، فنون، اور اوراق دستیاب تھے اور میرا شوق سوا تھا۔ میری کلکشن میں نقوش کی فائل مکمل ہے۔‘‘ (۶)

ان کے مشاغل میں کتب بینی، دوست احباب سے ملنا اور آخری ایام میں کچھ وقت ڈیری فارم پر گزارتے جو ان کے بڑے بیٹے اسامہ نے گھر کے ساتھ ہی بنایا ہوا ہے۔ کتب بینی کا شوق حد سے سوا تھا۔ ان کے قریبی دوست ملک بشارت کہتے ہیں:

’’ جب بھی کتابیں آتیں تو اُن کو یوں کھولتے جیسے کوئی  بچہ کھلونے کا بکس کھولتا ہے اور چہرہ خوشی سے دہک جاتا۔ اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ کتابوں پر خرچ کرتے، کئی بار تو اسی شوق میں مقروض بھی ہوئے۔  ان کی لائبریری میں پاکستان ، انڈیا کے جتنے بھی اچھے ادبی رسائل ہیں سب موجود ہیں۔ نقوش کی مکمل فائل محفوظ ہے۔ ‘‘  (۷)

 علم و ادب سے لگاو اُن کی ذات کا حصہ بن چکا تھا۔ جن دنوں وہ میانوالی میں زیرِ تعلیم تھے بچوں کے رسالوں میں گہری دلچسپی لی۔ اسی عرصے میں بچوں کے بہت سے رسائل کا باقاعدگی سے  مطالعہ کیا۔ اُن میں غنچہ، کھلونا، تعلیم و تربیت، ساتھی، پھول اور کلیاں اور نو نہال  شامل تھے۔

  حامد سراج سچے، سُچے  کتاب کے آدمی تھے ، وہ ادب کے خاموش قاری تھے لیکن اُن کے گھر کی پُر شکوہ لائبریری  ہاتھ ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر اُن کے ذوق مطالعہ کی غمازی کرتی ہے۔ اُن کے کمرے کا بیاں ، ڈاکٹر غفور شاہ قاسم  کے الفاظ میں کچھ یوں ہے:

’’ صاحبِ خانہ کا کتب خانہ ادبیاتِ عالیہ اور دیگر متنوع موضوعات کی کتب سے مزین ہے۔ کتب خانے کی ہر دیوار کے ساتھ ایستادہ بُک شیلف میں آراستہ کتابیں صاحبِ خانہ کے حسنِ انتخاب اور ذوقِ مطالعہ کا واضح ثبوت ہیں۔ کُتب خانے میں داخل ہو جائیں تو کتابوں کی کیف آور معیت میں وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ صاحبِ خانہ کا شوقِ مطالعہ اور کُتب اندوزی کا جنون اس کتب خانے کی سرعت انگیز وسعت پذیری کا سب سے بڑا محرک ہے۔‘‘ (۸)

کتب بینی کا شوق قدرت کی جانب سے ودیعت ہوا تھا۔ جب میانوالی میں اپنی نانی کے ہاں مقیم تھے  انہی دنوں داستان امیر حمزہ اور داستان الف لیلہٰ کے دس دس حصے پڑھ ڈالے تھے۔  اس کے علاوہ اردو ڈائجسٹ ،ماہنامہ حکایت لاہور، احمد یار کی جاسوسی کہانیاں، صابر حسین راجپوت کی شکاریات اور عنایت اللہ کی التمش  اور داستان ایمان فروشوں کی زیرِ مطالعہ رہی۔

تاریخی ناولوں کا شوق ہوا تو نسیم حجازی کے ناول ’’خاک اور خون‘‘، ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘، ’’شاہین‘‘، ’’داستان مجاہد‘‘، اور ’’یوسف بن تاشقین‘‘ پڑھ ڈالے۔  عبداللہ حسین کا  ’’اداس نسلیں‘‘  ۱۹۷۴ ؁ میں ہی پڑھ لیا تھا۔

افسانوی ادب میں  وہ سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، حیات اللہ انصاری، کرشن چندر، غلام عباس، آغا بابر، قراۃ العین حیدر، امرتا پریتم، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے افسانوں سے بے حد متاثر رہے۔  شعرا میں میر و غالب، مصحفی، آتش ، میر درد، فیض، ن۔م راشد، مجید امجد، ناصر کاظمی اور احمد فراز کا مطالعہ کرتے تھے۔

  حامد سراج کا خاصہ اُن کی ادبی جرائد سے والہانہ رغبت ہے۔  پاکستان اور انڈیا کے ادبی جرائد پر گہری نگاہ رکھتے۔  اُن کی ذاتی لائبریری میں، نقوش، فنون، اوراق، ادب لطیف، صریر، آئندہ، بادبان، سخنور، سویرا، شب خون، سیپ، تطہیر، شاعر، آج، ادب ساز، پہچان، حریمِ ادب، عطا، نیا وقر، سمبل، روشنائی، روایت، انگارے، الحمرا، الزبیر، شعروسخن، ساحل، آفاق، ادبیات، ادراک، معاصر،مخزن، قرطاس، شعرو حکمت، مکالمہ، دنیازاد، روزن، مژگان، الکلام، خیال، تشکیل ، دبستان، مونتاج، استعارہ، نقاط، تخلیقی ادب اور ذہن جدید شامل ہیں۔

اُن کے کتب خانے میں تفسیر، حدیث، فقہ اور فلسفہ سے متعلق ڈھیروں کتابیں ان کے دینی رُجحان کا پتہ دیتی ہیں۔ موسیقی سے شغف دراصل ان کی شخصیت کا دلآویز امتزاج ہے۔ حامد سراج کلاسیکی موسیقی سنتے تھے۔ انہیں اردو غزلیں زیادہ پسند تھیں، اس لیے وہ استاد امانت علی خان، مہدی حسن، غلام علی، جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی غزلوں کے علاوہ عابدہ پروین، پٹھانے خان کو شوق سے سنتے تھے۔  کتابوں کی طرح کیسٹس جمع کرنے کا بھی شوق رہا۔ ان میں ملکہ ترنم نور جہاں، لتا، رفیع، کشور، طلعت محمود، مہناز، عنایت اللہ بھٹی، اخلاق احمد اور ناہید اختر شامل ہیں۔

ملازمت: 

  حامد سراج کا تعلق ایک زمین دار اور صوفی گھرانے سے ہے لیکن انہوں عام خانقاہی روش سے ہٹ کر روزگارِ زندگی نوکری کر کے کمائی۔ انہیں خانقاہ سراجیہ میں آنے والے کسی مال و متاع سے کوئی سروکار نہیں تھا۔   ؁۱۹۸۱ میں ، اٹک آئل فیلڈ  میں ملازمت کا آغاز کیا۔ انہیں پنڈی گھیب کے قریب ایک گاوں  ’’کھڑپہ‘‘میں تعینات کیا گیا جہاں وہ تیل نکالنے کے متعلق اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ لیکن یہ ان کی زندگی کا کٹھن وقت تھا۔ سال ؁۱۹۸۲ میں بیمار ہوئے تو ملازمت چھوڑ دی۔  جب دوبارہ صحت مند ہوئے تو دیار غیر میں جانے کا ارادہ کیا۔ ۱۹۸۳ ؁میں کویت کوچ کر گئے۔   کویت میں ۲ سال مقیم رہے ۔ ان کے دادا کے بھائی انہیں وہاں لے گئے تھے ۔ کویت میں انہوں نے بہت مشقت کی، مختلف نجی اداروں میں کام کیا لیکن مطمئن نا ہوئے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ مٹی سے جڑے انسان تھے جنہیں دیار غیر کبھی بھی راس نہیں آ سکتا تھا۔ پہلے دن سے ہی واپس آنے کی تگ و دو میں لگے رہے۔

  حامد سراج کے بیٹے  اسامہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں:

’’ ان کے ایک کزن محمد اقبال بھی وہیں تھے۔ جب بھی کام سے واپس آتے تو اس سے پوچھتے کہ میری ٹکٹ لے کر آیا ہے؟   جواب میں محمد اقبال پوچھتے کہ تو وہاں جا کر کیا کرے گا۔  تو حامد سراج ،جوابا کہتے کہ میرے باپ کی زمینیں ہیں۔ جس پر محمد اقبال گویا ہوتے کہ یہ تو ان کی ہیں تیرا کیا ہے؟  اس بات کا جواب انہوں نے وفات سے چند دن قبل  محمد اقبال کو ان کے گھر    میں دیا۔۔۔ محمد اقبال اب بتا میرا کیا ہے!!! جس پر محمد اقبال نے کہا کہ  اب آپ کی اپنی ایک شخصیت ہے۔‘‘ (۹)

  الغرض وہ وطن کی محبت میں   کویت سے  ۱۴ اگست ۱۹۸۴ کو اپنے وطن واپس لوٹ آئے۔  ۱۴ اگست کی ٹکٹ  لینے کے لیے انہیں کافی تگ ودو بھی کرنی پڑی۔ یہاں آکر انہوں نے سال ۱۹۸۵میں اٹامک انرجی کے محکمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ محکمہ کا ایک دفتر ان کے آبائی گاوں کے با لکل ساتھ چشمہ بیراج کے مقام پر قائم ہے،  وفات سے ایک سال قبل ریٹائرڈ ہوئے۔

   شادی اور اولاد:

  حامد سراج  نے شادی اپنی پسند سے کی۔ ان کی اہلیہ کا نام شگفتہ ہے جن کا تعلق ضلع خانیوال ، پنجاب  کے ایک گاوں باگڑ سرگانہ سے ہے۔ ان کا خاندان سیال راجپوت ہے۔  یہ دونوں ۲۰ جنوری ۱۹۸۵ کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

ان کے چار بچے ہیں۔ دو بیٹیاں امامہ ملک اور حفصہ ملک جب کہ دو بیٹے اسامہ احمد اور قدامہ احمد ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی امامہ ملک نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے کے امتحان میں نمایاں کامیابی پر سلور میڈل حاصل کیا۔ حامد سراج نے اپنے تیسرے افسانوی مجموعے کا انتساب اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام کیا ہے۔

  حامد سراج اپنی بیوی سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کے درمیان پیار اور عزت کا رشتہ تھا کبھی رعب نہیں جمایا۔ ان کی بیوی بھی  ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ وہ پیار سے انہیں ’جان‘ کہہ کر پکارتے تھے۔  گھر کے معاملات کا انتظام اپنی بیوی کے سپرد کیا ہوا تھا ،کیونکہ وہ غیر ضروری معاملات(دُنیاداری) میں الجھنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔  ان کی بیوی شگفتہ کہتی ہیں کہ:

’’زندگی میں کبھی لڑائی نہ ہوئی۔ میرے ساتھ ہمیشہ محبت نبھا کر دکھائی ۔  کھانا  ہمیشہ سادہ کھاتے اور احتیاط سے کھاتے تھے۔ جب کبھی کھانا پسند نا آتا یا نمک زیادہ ہوتا تو  کہتے ’جان‘ ایک گلاس دودھ۔۔۔ اور پوری روٹی اسی سے کھا لیتے لیکن شکایت نہ کرتے۔‘‘(۱۰)

گھر کا ماحول دوستانہ رکھا۔ کبھی غصے کا احساس نہ دلاتے، کوئی بات بری لگتی  تو ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھاتے۔ اپنی اولاد کو ہمیشہ موٹیویٹ کیا۔ کبھی انگلی پکڑ کر چلنا نہیں سکھایا  لیکن نئی راہوں کی تلاش سے منع بھی نہیں کیا۔  بچوں اور والد کے درمیان کوئی جھجھک، کوئی دیوار نہ تھی۔  بیٹیوں کے رشتے ان سے پوچھ کر کیے۔   وہ ایک عظیم باپ تھے۔

پسندیدہ  لکھاری اور رفقا:

  حامد سراج   خودسراپا محبت تھے اور ان کی دائمی محبت کتابیں تھیں۔   وہ انسان دوست اور کتاب دوست انسان تھے۔  ان کی کتب بینی اور پسندیدہ لکھاریوں  کا ذکر کرنے سے پہلے  ان کے قریبی رفقا کا ذکر ضروری ہے۔   ان کے قرابت داروں میں  حضرت لالہ عزیز احمد، جو کہ حامد سراج کے خلوت اور جلوت کے ساتھی رہے۔  ملک بشارت، یہ ان کے قریبی عزیز ہیں لیکن اس سے بڑھ کے قلبی دوست  رہے۔ ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، دوست، ہم عصر قلم کار اور  اس سے سوا حامد سراج کے استاد بھی ہیں۔ ان کے علاوہ، فیروز شاہ، مظہر نیازی اور ناصر ملک  کامحمد حامد سراج  کےقریبی رفقا میں شمار ہوتا ہے۔ کچھ اور دوستوں کا ذکر وہ اپنی کتاب میا میں کچھ اس طرح کرتے ہیں:

’’پائن کے درختوں اور ہسپتال کے لانوں میں آئے ہوئے مریضوں کے درمیان بہت سے چہرے اپنےتھے۔ وہ سارے متفکر تھے۔ نانا عمر حیات، لالہ عزیز اور خلیل احمد، بشارت احمد، رشید احمد، اور نجیب احمد۔۔۔آنکھوں میں آنسو لیےماموں نعیم۔۔۔ چچا وکیل اور چچا شفیق۔۔۔ سب موجود تھے۔۔۔ وہ دوست بھی جن کے سر  پر ہاتھ پھیر کر تم نے دعائیں ان کے نام کیں۔۔۔ محمد حمید شاہد، حمید قیصر، علی محمد فرشی، ارشد چہال، سلطان خٹک، اصغر عابد، خلیل جازم، قیس علی، ڈاکٹر انور زاہدی۔۔۔! سب موجود تھے۔۔۔ میں اکیلا نہیں تھا۔ رب کریم نے میری دل جوئی کو میلہ لگا دیا تھا۔  ‘‘(۱۱)

ان کے پسندیدہ لکھاری جنہوں نے آغاز ہی سے ان کی ادبی ذوق و شوق کی شمع کو روشن رکھا، ان  میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، احسان دانش، دیوان سنگھ مفتون اور محمد طفیل کے نام شامل ہیں۔ دینی علوم سے بھی رغبت بدرجہ اتم موجود تھی۔   مولانا سید ابو الحسن علی ندوی    کی کتب سے متاثر ہوئے اور مولانا عبدالماجد دریا آبادی کی ملائم نثر نے بھی ان کے دل میں گھر کیا۔

افسانوی ادب میں سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، حیات اللہ انصاری، غلام عباس، مظہر السلام، مستنصر حسین تارڑ، عبداللہ حسین، قراہ العین حیدر، بانو قدسیہ، اسلم فرخی، اسد محمد خان، محمد الیاس، شمشاد احمد، حسن منظر، سید محمد اشرف، مسعود نئیر، عبدالصمد، مظہر الزمان خان، خالد جاوید، جمیلہ ہاشمی اور خالدہ حسین  کی تحریروں نے حامد سراج کا متاثر کیا۔

 ان کی پسندیدہ شاعرات میں فہمیدہ ریاض، ادا جعفری اور کشور ناہید قا بلِ ذکر ہیں۔  سفر ناموں میں مولانا تقی عثمانی کے سفر نامے  انہیں پسند تھے۔

 شخصیت:

  حامد سراج سادہ مزاج اور حساس دل کے مالک تھے۔ روحانیت اُن کو ورثے میں ملی تھی۔  ماحول کا اثر تھا یا  نیک لوگوں کی صحبت کا اعجاز، حامد سراج تمام عمر نور کے حصار سے نکل نہ سکے۔ وہ خود  فرحین چودھری کو دیے گئے اپنے آخری انٹرویو میں اس کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں۔

’’ پہلی بیت امام غزالی سے کی، ۱۹۷۵ ؁ میں احیا العلوم فی الدین پڑھی تو  ہفتے میں ایک دن (جمعہ) کا کھانا پانی سے کھاتا تھا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی کا بھی اثر رہا۔ بابا جی حضرت خان محمد صاحب ، جو رشتے میں پھوپھا تھے اُن سے بہت کچھ سیکھا۔ ‘‘  (۱۲)

اُن کے زندگی کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ وہ ایک باعمل صوفی  ادیب تھے ، جنہوں نے سب سے پہلے خود پہ دین کو نافذالعمل کیا ۔ و ہ دین کو جبر سے تعبیر نہیں کرتے تھے اسی  لیے اُن کی شخصیت میں کبھی بوجھل پن نہیں آیا۔  

ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ان کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’  اُن کی شخصیت ، متانت، خلوص، جذبہ حب الوطنی، عجز و انکساری، دیانت داری اور اسلام سے دلی وابستگی کی آئینہ دار تھی۔ صبرو تحمل، برداشت، بردباری اور دعوت اسلام ، اُن کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ محمد حامد سراج انسان دوستی کی چلتی پھرتی کہانی تھے۔ نفرت، بغض  اور لالچ اُن سے دور بھاگتے تھے جیسے مومن کو دیکھ کر شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔ حقیقیت تو یہ ہے کہ وہ رشتے جوڑنے اور رشتے نبھانے میں کمال رکھتے تھے۔ خطوط کے جواب دینا، دوستوں کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کرنا۔ ‘‘(۱۳)

دردانہ نوشین خان ان کی شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتی ہیں:

’’ مجھے یقین ہے الزبیر میں محمد حامدسراج پر جتنے قلم کار لکھیں گے ان سب کا دعویٰ یقین ہو گا کہ ان سے بڑھ کر حامد سراج کا قلبی و قریبی دوست کوئی نہ تھا۔ یہی تو ان کی شخصیت کا خاصہ تھا ان کا اخلاق حسنہ اور تبسم سب  کے لیے یکساں تھا۔ محمد حامد سراج کی شخصیت میں دو نمایاں اوصاف تھے۔ نمبر ایک شیریں گفتاری اور نمبر دو صبر و ایثار۔ ‘‘ (۱۴)

ڈاکٹر شبیر رانا کہتے ہیں:

’’ محمد حامد سراج کو روحانیت ، قناعت، صبرو رضا، توکل اور زہد و ریاضت کی متاع بے بہا ورثے میں ملی تھی۔ اللہ کریم نے انہیں باغ و بہار شخصیت سے متمتع کیا تھا اُن سے مِل کر زندگی سے پیار ہو جاتا تھا۔ ان کی شخصیت کے متعدد پہلو تھے وہ بہ یک وقت عالمِ دین، مبلغ ، مفسر، پیرو مرشد، ناصح، نقاد، خادم خلق اور ادیب تھے۔ محمد حامد سراج کی گل افشانی گفتار کا ایک عالم معترف تھا۔  (۱۵)

سعید احمد سلطان رقمطراز ہیں:

’’ محمد حامد سراج ایک عظیم افسانہ نگار ہی نہیں ایک عظیم انسان بھی تھے، مختلف اوقات میں دوستوں، عزیزوں، ہم عصروں کو یاد رکھنا، انہیں ان کی اہمیت کا احساس دلانا، یاروں کے یار جناب حامد سراج کا وطیرہ تھا۔ میں ادنیٰ انسان اور وہ قد آور شخصیت۔ مگر دوسرے کا قد آور بنا دینے کا ہنر اُن پر بس تھا۔ ‘‘ (۱۶)

  حامد سراج  زندگی کی ہر مسند پہ  توقیر اور عاجزانہ شان سے براجمان رہے۔  بطور باپ تو  وہ پدرانہ شفقت اور محبت کا سرچشمہ رہے ہی لیکن اپنے باقی عزیزوں کو بھی کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ حالانکہ عزیزوں کے رویوں سے تکلیفیں بھی سہیں لیکن کبھی اُن کو بُرا بھلا نہ کہا، زمین جائیداد  کے معاملات میں رشتوں کو مقدم رکھا۔ اُن کے بچوں کے بقول انہیں کبھی غصے میں نہیں ، چھوٹا ہو یا بڑا ہمیشہ پیار سے مخاطب ہوتے۔

غریب رشتے داروں کی عزت نفس تک کا خیال رکھتے، انہیں مانگنے کی اذیت سے بچانے کے لیے ، اُن کی ضرورت  سوال بننے سے پہلے پوری کرنے کی کوشش کرتے۔

نماز اُن کی زندگی کا لازمی جزو تھا۔ نماز کے لیے دُنیا سے بے خبر ہو جاتے چاہے دوست بیٹھے ہوں یا کوئی اور خاص مہمان۔۔۔لیکن گھر والوں پہ مذہب تھوپتے نہیں تھے۔ بیوی سے  اپنے بچوں کے متعلق کہتے:

’’انہیں روزانہ نہ کہو نماز کے لیے، بچے جوان ہیں۔ اللہ خود ہی توفیق دے گا۔‘‘ (۱۷)

 انہیں نے کبھی کسی تعلق کو استعمال نہیں کیا، سفارش کرنے کو معیوب سمجھتے تھے۔ اٹامک انرجی میں ایک عرصہ ملازم رہے لیکن کبھی چپڑاسی اور چئیرمین میں فرق روا نہ رکھا۔   

صبر ان کی بہت بڑی طاقت تھی۔  ۲۰۱۶؁ میں جب بیٹے قدامہ کا حادثہ ہوا تو اس کی یادادشت چلی گئی لیکن خود پہ قابو رکھا اور صبر اور نماز سے مدد مانگی۔  اُن کے قریبی دوست ملک بشارت کہتے ہیں کہ:

’’ وہ عاجز اور انکساری سے لبریز انسان تھے۔ اُن کے اندر ذرا برابر بھی بڑائی کا احساس نہیں تھا۔  خوبصورت انسان تھے اور خوبصورت گفتگو کرتے۔ پتا نہیں اُن کی شخصیت میں کیا تھا بہت اچھے دوست بنا لیتے تھے۔   نو آموز لکھاریوں کے پیرِ مغاں تھے۔ ادبی اور ذاتی حوالے سے درویش صفت انسان تھے۔  حامد سراج کے جانے سے میرا ذاتی نقصان ہوا ہے‘‘ (۱۸)

درویشی اور دریا دلی  کا پیکر تھے۔ دُنیا کی مال و متاع کو استعمال کی شے سمجھتے تھے پیار کی نہیں۔ سادگی کے پیکر تھے۔  دکھاوے سے پرہیز کرتے۔

اسامہ حامد  کا بیان ہے:

’’اُن کی وفات کے بعد جب اُن کی الماری کھولی گئی تو تین جوڑے کپڑے اور صرف ایک جوتا بر آمد ہو ۔۔۔ !!! ‘‘ (۱۹)

افسانہ نگاری:

 زمانہ طالب علمی ہی سے شعر کہنے کی سعی کرنے لگے۔  پہلے پہل اپنا تخلص راحتؔ رکھا اور بھر تہامی ؔتخلص کیا۔  کالج کے زمانے میں کچھ غزلیں کہیں جو قافیہ بندی تھی۔ لیکن بہت جلد شاعری کو خیر باد کہہ کر فکشن کی طرف راغب ہوئے۔

انجئینر ذکا اللہ نے   حامد سراج کے تین شعر نقل کیے ہیں:

دراصل ہم کو ستانے آئے

  کر  کے یادوں کے بہانے آئے

ایک تنہائی تھی ساتھی لیکن

ساتھ کئی لوگ پُرانے آئے

ہر طرف رنگ بھریں پھول کھلیں

میرا ساقی جو پلانے آئے (۲۰)

حامد سراج ، ماہنامہ تمام میں ارم ہاشمی کو انٹرویو دیتے ہوئے افسانہ نگاری کی ابتدا کے بارے میں خود بتاتے ہیں:

’’ پہلا افسانہ کالج کی زندگی میں لکھا تھا۔ غالبا ۱۹۷۶ ؁ میں۔ افسانے کا نام تھا  ’انسان اور کتا‘  لیکن یادداشت کی کھڑکی پر دستک دوں تو اس سے قبل ۱۹۷۵؁ میں ’’شمع‘‘ لاہور میں ایک افسانہ شائع ہوا تھا ’’ دابی اور خیرا‘‘۔ انہی دنوں شمع کراچی کے چند شماروں میں افسانے شائع ہوئے ایک افسانے کا نام یاد رہ گیا ’’ فوٹو سے شادی‘‘  بعد ازاں روزنامہ جنگ  کے ادبی ایڈیشن ، جس کے انچارج مظہر الاسلام تھے ایک اور افسانہ ’’ماچس اور ادھ جلی تیلیاں‘‘ ۵ ستمبر ۱۹۹۴ اور دوسرا افسانہ گاوں کا غیر ضروری آدمی ‘‘  ۱۹ جون ۱۹۹۵ ؁ کو شائع ہوا۔ ‘‘ (۲۱)

   حامد سراج کو ’سراج‘ نام  دینے والے مولانا مفتی جمیل احمد خان تھے۔ جب کراچی سے شائع ہونے والے ایک دینی ڈائجسٹ ’’اقرا ‘‘ میں اپنے دو مضامین ، ایک نماز کے موضوع پر اور دوسرا  سید عطا اللہ شاہ بخاری کی شخصیت کے حوالے سے تھا۔ بس جب سے مولانا نے ’’سراج‘‘ آپ کے نام کا حصہ بنایا تو قلمی دنیا میں یہی نام قبول عام ٹھہرا۔

  حامد سراج آغاز میں محمد مظہر الاسلام سے بہت متاثر تھے  بلکہ شروع کے تین افسانوں میں اُن  کی مکمل چھاپ کا اعتراف محمد حامد سراج نے فرحین چودھری کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

  حامد سراج کو اپنے مریدین کے قبیل سے مزاحمت کا سامنا بھی رہا۔ انہیں شاید یہ خلش تھی کہ ایک دینی ماحول میں رہنے والا شخص کیسے ادب کی دُنیا میں جا پہنچا۔  اپنی اسی  حالت کا تذکرہ وہ اپنے ہمدم دیرینہ سید ذوالکفل بخاری سے کرتے ہیں:

’’ افسانے پر بات چل رہی تھی میں نے مریدین کی رائے زنی کے پتھر ان کے سامنے چُن کر رکھ دیے کہ

’بولے۔۔۔ حامد صاحب۔۔۔ آپ نے افسانہ لکھنا ہے اور ضرور لکھنا ہے۔ کسی مولوی کے کہنے پر پر گز ترک نہیں کرنا۔ ‘

میں نے عرض کیا:

شاہ صاحب! میں نے اپنے افسانوی مجموعے ’’ برائے فروخت ‘‘ کا پیش لفظ ایک جملے میں سمیٹا ہے۔۔۔

’’ جس دن میں  لکھنا چھوڑ دوں گا اس روز مر جاوں گا۔ ‘‘ (۲۲)

بس یہی ثابت قدمی  اور علم دوستی تھی کہ  پھر آپ کا شہرہ ہمسایہ ملک تک جا پہنچا اور آپ کو ایک مستند افسانہ نگار اور خاکہ نگار کے طور پہ مانا گیا۔  اُن کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ’’ساز‘‘ نئی دہلی اور ’’پہچان‘‘ الہٰ آباد میں خصوصی گوشے شائع ہو چکے ہیں۔  ’’آمد‘‘ پٹنہ، ’’اذکار‘‘ بنگلور، ’’صدف‘‘ پٹنہ، ’’نیا ادب‘‘ بنگلور، ’’ کسوٹی جدید‘‘ سمستی پور، ’’ استفسار‘‘ جے پور اور ’’عالمی انوارِ تخلیق‘‘، رانچی جیسے رسائل میں تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں۔

حامد سراج کی اب تک تیرہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں پانچ افسانوی مجموعے اور ایک اپنی والدہ مرحومہ کا خاکہ ہے۔ جس کا نام "میا” ہے ۔  انکا ایک ناولٹ بعنوان” آشوب گاہ” ہے۔ سنین کے اعتبار سے انکی تخلیقات کی ترتیب یوں ہے۔

1۔ وقت کی فصیل (افسانوی مجموعہ) 2002ء

2۔ میّا (خاکہ) 2004ء، 2007ء، 2008ء2013ء، 2014ء اور چھٹا ایڈیشن 2015ء (پروفیسر رشید احمد صدیقی ایوارڈ یافتہ)

3۔ برائے فروخت (افسانوی مجموعہ) 2005ء

4۔ چوب دار (افسانوی مجموعہ )2008ء

5۔ آشوب گاہ (ناول) 2009ء

6۔ بخیہ گری (افسانوی مجموعہ) 2013ء

7۔مجموعہ محمد حامد سراج  2013ء

8۔ ہمارے بابا جی (سوانح خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد) 2014ء

9۔ برادہ (افسانوی مجموعہ )

10۔ ہم بیتی (آپ بیتی ) نامکمل زیرِ طبع

11۔ عالمی سب  رنگ افسانے: مرتبہ

12۔ نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں : مرتبہ

13۔ مشاہیر علم و دانش: مرتبہ

۱۴۔حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹

 

بیماری۔ وفات:

  حامد سراج   اپنی  جسمانی بیماریوں کا تذکرہ  ’’ نقش گر‘‘ کے دیباچے ’’ کچھ سکے کچھ رسیدیں‘‘ میں کچھ یوں کرتے ہیں:

’’ تین مہینے پہلے جب  کینسر نے ہاتھ ملایا تو مجھے اپنی بقا شفاف نظر آئی۔ میں کینسر  سے خوف زدہ نہیں ہوا۔ کیوں کہ بیماری رحمت بن کر اترتی ہے۔ دس سال قبل دل کی سرجری ہوئی اللہ کریم نے رحمت کے بعد عافیت اتار دی۔ہم چلتے رہے۔ آٹھ برس گزرے، دونوں گردے فیل ہو گئے۔ یہ بھی میرے رب کریم کا فیصلہ ٹھہرا ۔ سر آنکھوں پر۔ الحمداللہ، بیٹے اسامہ احمد خان نے اپنا وجود کاٹ کے گردہ نکالا اور کہا: ’’ بابا۔۔۔ یہ لیجئے! چھوٹا سا تحفہ نالائق بیٹے کی طرف سے۔ اور جتنی زندگی ہے خوشی سے گزاریں۔‘‘ (۲۳)

  حامد سراج کے والد کی وفات روڈ حادثے میں ہوئی جبکہ دادی اور ماں کینسر کے موذی مرض کا مقابلہ کرتے کرتے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ شاید یہی وجہ ہو کہ یہ بیماری حامد سراج کی’ جینز ‘کا حصہ بن گئی ہو۔  ۲۰۱۰ ؁ میں دل میں درد اٹھا تو میانوالی کے ایف ڈی ایف ہسپتال میں چیک اپ کے لیے گئے تو ڈاکٹر نے  حیرانی سے کہا کہ یہ بندہ بیٹھا کیسے ہے ان کے تو    دل کےچاروں وال بند ہیں۔   بس کیا تھا  پھر شفا انٹر نیشنل اسلام آباد سے اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔  لیکن ڈاکٹرز نے سرجری کرنے سے پہلے اہل خانہ کو متنبع کیا کہ اس کے نتیجے میں گردے بھی فیل ہو سکتے ہیں۔ خدا کی کرنی کو کون ٹال سکا ہے۔ وہی ہوا تین سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ گردے فیل ہو گئے۔   ڈی ایچ اے  ہسپتا ل میانوالی میں گردے واش ہونے  کے تکلیف دہ عمل سے چار بار گزارا گیا  لیکن طبعیت تھی کہ سنبھلتی نہ تھی۔  بالآخر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں ایک گردہ  تبدیل کیا گیا۔ حامد سراج کے بڑے بیٹے اسامہ احمد خان نے   یہ نیک کام سر انجام دیا۔ تا دم آخر حامد سراج کو گردے کا کوئی مسئلہ نہ ہوا۔

۲۰۱۸ ؁ میں حامد سراج کو جبڑے میں درد کی شکایت ہوئی تو چیک اپ کے لیے اسلام آباد کا رُخ کیا۔ جبڑے کا آپریشن کی گیا ۔ اس کے بعد ’بائی اوپسی‘ کروائی گئی اور گھر میانوالی   واپس آگئے۔ گھر پہنچنے پہ خبر ملی کہ یہ ابتدائی مرحلے کا کینسر ہے ۔ کچھ عرصہ مختلف ڈاکٹرز کو دکھاتے رہے لیکن ’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘  دوبارہ اسلام آباد جانا پڑا۔ ر یز (شعاعیں )لگانے کا عمل شروع کیا گیا لیکن ’ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘ کے مصداق کینسر کی گروتھ بڑھتی گئی اور یہ پورے جسم میں پھیل گیا۔  نتیجہ یہ نکلا کہ کندھوں میں شدید درد رہنے لگا۔  چیک کروانے پہ معلوم ہوا کہ یہ ہڈیوں کا کینسر بن چکا ہے۔

گھر میں بھی اب بغیر سہارے کے چلنا محال تھا۔ حامد سراج کے جسم کا نچلا حصہ کینسر کھا چکا تھا۔  ڈاکٹرز نے آخری حل آپریشن تجویز کیا۔ انہی دنوں   یکم نومبر ۲۰۱۹ کو حامد سراج کے چھوٹے بیٹے قدامہ کی شادی طے ہو چکی تھی۔  گھر والوں نے شادی موخر کرنے کا سوچا لیکن حامد سراج کا حکم تھا شادی میں تاخیر نہ کی جائے۔ چنانچہ وہ خود بستر مرگ پہ دراز رہے ، برات  ملتان جانا تھی اس لیے شریک نہ ہوسکے ۔ اس طرح نہایت سادگی سے یہ فریضہ انجام دیا۔

ڈاکٹرز نے اہل خانہ کو مطلع کیا کہ حامد سراج کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے یہی کوئی ایک ہفتہ۔۔۔  آپریشن بھی اب کارگر ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ تکلیف میں اضافے کا سبب بنے گا۔

آخری ایام میں حامد سراج نے اپنی ہر شے سمیٹنی شروع کر دی ۔  حامد سراج کے بڑے بیٹے اسامہ بتاتے ہیں کہ:

’’ انہوں نے اپنے دامادوں کو بلوایا، بیٹیوں کو بلوایا۔۔۔ اُن سے ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تلقین کی اور اپنی کوتاہیوں پہ معذرت چاہی۔ ۔۔ یہاں تک کہ اگر کسی دکان دار کا ۱۰ روپے بھی ادھار دینا تھا تو مجھے تاکید کی وہ چکا دیا جائے۔ میرے بزنس پارٹنر کا بلوا کر میرا خیال رکھنے کا کہا۔  جب پیرالائز ہوئے تو ہمیں  پریشان ہی نہ ہونے دیتے ،  مجھ سے کہنے لگے  کہ اللہ نے ۶۰ سال ان ٹانگوں سے کام لیا اب اللہ نے کہا ہے کہ ان ٹانگوں کو آرام دو۔۔۔ اب میں آرام سے کتابیں پڑھوں گا۔

مجھے اپنی قبر کی جگہ کی نشاندہی کروائی ( آبائی قبرستان جو کہ مسجد کے سرہانے واقع ہے اس میں خاندان کی قبروں اور باقی دور پار کے رشتے داروں کی قبروں کے بیچ ایک دیوار تھی۔ )  اور کہا کہ مجھے یہ دیوار کھٹکٹی ہے۔ انسانوں کے درمیان دیواریں نہیں ہونی چاہیں۔‘‘    (۲۴)

 ابھی صرف پانچ دن  ہی گزرے تھے کہ   ۱۳ نومبر ۲۰۱۹؁ کو گھر میں ،بوقتِ ظہر ۱:۳۰ منٹ  پر  محمد حامد سراج کی روح پرواز کر گئی۔ ’’حق مغفرت فرمائے‘‘

چلوں میں ستارہ جا چکا ہے

مجھے واپس پکارا جا چکا ہے

وہ کہا کرتے تھے کہ:

’’ میں اس وقت مروں گا جب میری انگلیاں قلم پکرنے کے قابل نہ رہیں گی‘‘ (۲۵)

یہی ہوا کینسر نے اُن سے لکھنے کی سکت چھین لی تھی۔۔۔ انگلیاں قلم پکڑنے کے قابل نہ رہیں۔۔۔!!!

اب قبر کی جگہ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو اُن کی وصیت کے مطابق وہ دیوار ہٹا دی گئی   جو تقسیم کرتی تھی، کیونکہ حامد سراج تو  انسانوں کے درمیان کی دیواریں  گرانے اور پُل بنانے آیا تھااور  یوں حامد سراج کی قبر عین اس جگہ بنی جہاں دیوار تھی۔یوں محمد حامد سراج مرنے کے بعد  اپنی قبر بنوا کر طبقاتی تقسیم کی دیوار  گرا گیا۔

   

   تعزیتی مضامین سے اقتباسات:

دُردانہ نوشین خان   اپنے دل کا حال  کچھ یوں کھولتی ہیں:

’’  ارضی تخلیق کار مر جاتے ہیں۔ اُن کی قبروں کے کتبوں پہ لکھے نام مٹ جاتے ہیں مگر کتابیں عمر خضر رکھتی ہیں۔ کتابوں کی بدولت تخلیق کار کا نام نہیں مٹتا۔ لیکن وقت بہت ظالم  طاقت ہے۔ رفتہ رفتہ ان ناموں کی خوشبو ماند پرتی جاتی ہے۔ تب کتابیں پتھر پہ کندہ حروف کی طرح یخ بستہ اور درسی سطریں بن جاتی ہیں۔ جب تک کہ  محمد حامد سراج کی اولاد، عزیز اور وہ احباب جن کی حامد سراج  کی دید سے عید ہوتی تھی زندہ رہیں گے، یاد ماضی کو دہراتی رہیں گی۔ تب تک یہ کتابیں تروتازہ رہیں گی۔ اس رمز کا کوئی رمز شناس ہی سمجھ سکتا ہے۔ ‘‘ (۲۶)

امریکہ میں مقیم اردو کے مقبول شاعر تنویر پھولؔ نے محمد حامد سراج کی تاریخ وفات پر قطعات لکھے:

قطعہ تاریخ عیسوی

نام حامد سراج تھا جن کا، بجھ گیا اُن کا ہے چراغِ حیات

زلفِ اُردو سنوارتے تھے وہ، ہاتھ میں نثر کا رہا شانہ

فکرِ تاریخ پھولؔ نے جب کی، آئی باغِ سخن سے یہ آواز

’’جو تھے حامد سراج فخرِ ادب، اُن کو کہئے امام افسانہ‘‘

قطعہ تاریخ ہجری

وہ تھا حامد سراج، اعلیٰ ادیب

آسمان ادب کا روشن مہ

اُس کی تحریریں بولتی تھیں پھولؔ

’’گل ہُوا ہے چراغِ ناطق‘‘ کہہ (۲۷)

ڈاکٹر غلام شبیر رانا کے الفاظ  نمناک ہیں:

’’ حیف صد حیف وہ گھر جس میں صرف سانس لینے کا عمل باقی رہ گیا تھا اس کے آنگن  سے قزاقِ اجل کا لشکر گزر گیا۔ محمد حامد سراج تمھارے بعد وفا کے سب ہنگامے عنقا ہو گئے  ۔ ہم سب حواس باختہ، غرقابِ غم، مضمحل اور نڈھال بیٹھے یہی کہہ رہے ہیں:

’’تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا  کوئی دن اور‘‘ (۲۸)

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی قلم سے  یاس ٹپکتی اور دعائیں چھلکتی  ہیں:

’’جانے والے تجھے سلام۔ جا اور اپنے رب کے پاس رہ۔ خوش و خرم رہ۔ اب وہاں آپ کو  کوئی موذی مرض کبھی لاحق نہ ہو گا اور دُنیا کے اندیشہ ہائے دوردراز سے آپ ہمیشہ کے لئے مامون ہو گئے۔ ہاں ہمیں دکھ ہے تو یہ ہے کہ ہم ان کی ادبی شہ پاروں سے محروم ہو گئے جو اب تجربات و مشاہدات کے بعد آپ کی قلم سے کاغذ پر ثبت ہوتے۔ مگر جو نقوش قلم یادگار ہیں ، وہ کچھ نہیں۔ اس کی قدرو قیمت محققین طے کریں گے اور وہ جو کچھ لکھیں گے ہم اسے بھی یاد رکھیں  گے اور سب سے کہیں گے  کہ ہم نے بھی محمد حامد سراج کو دیکھا اورا س سے فیض پایا تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔ ‘‘  (۲۹)

محمد خان نیازی مجلس اقبال کے زیرِ اہتمام ایک تعزیتی ریفرنس میں اپنے دوست کے بارے میں کہتے ہیں:

’’ نیک لوگوں کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ جو بھی اُن سے ملتا ہے اُسے لگتا ہے وہ اُن سے ہی محبت کرتا ہے۔ محمد حامد سراج سخن و کردار کے بادشاہ ہوئے، جب تک اُردو ہے ہمارے دوست محمد حامد سراج کا نام  زندہ رہے گا۔‘‘ (۳۰)

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

 ڈاکٹر آصف وٹو  محمد حامد سراج سے اپنی عقیدت کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں:

’’اے یارانِ چمن کے یار میرے پیارے حامد سراج!

بھول جانے کا تصور تجھے کیسے کرلوں

وابستہ  میری ہر سانس سے ہیں یادیں تیری

ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہم عہدِ سراج میں جیے ہیں۔ ‘‘  (۳۱)

رابعہ رحمٰن  اپنے کالم میں گریہ کرتی ہیں:

’’اک شخص جو ’’میا‘‘ جیسا تھا اک شخص جو ’’حیا‘‘ جیسا تھا اک شخص جو یارانِ چمن کے ساتھ چہل قدمی کرتا ہوا اک کہانی لکھا کرتا تھا۔ اس کی باتیں بھی منظوم ہوتیں، کبھی توقف سے بات کرتا اور کبھی بل کھاتی سوچوں کی ندی سے عمیق خیال کا موتی دوستوں کے دامن میں رکھ دیتا، دوست کہتے حامد سراج آپ تو ادب کا خزانہ ہیں ہمیں تو آپ سے موتیوں کی مالا چاہیے تو وہ ہنس دیتے اور میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے حاضر جناب!

وہ ایسے کہانی کار تھے کہ کہانی ان کا خود پیچھا کرتی کہ یارانِ چمن کے حامد سراج مجھے لکھو، مجھے بیان کرو اور میرے درد بانٹو ورنہ میرے دُکھ بانجھ پن کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ جو بوند بوند امرت تھا، محبت و  شفقت تھا، فصیل ادب پہ رکھا اک افسانہ، صبر و شکر کا منبع، وہ گل مہر وہ گلاب کلی، وہ سب کا دوست سب کی سہیلی، وہ دل بے قرار کی بے کلی، گئی رتوں سے تھا جس کو پیار وہ غمخوار و غم گسار نہیں رہا۔ اس کے جانے سے بساط بزم ہی الٹ گئی۔‘‘ (۳۲)

مظہر سلیم مجوکہ  اظہار خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ حامد آج مسجد کے میناروں پر چاند تمہیں ڈھونڈ رہا ہے۔

انوکھی چمک اُس کے چہرے پر تھی

مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا

اور تم کسی راستے سے آ جانا

میرے چاروں طرف محبت ہے

حامد بھائی اپنے مداح کا سلام قبول کریں۔ ‘‘ (۳۳)

سلیم فواد کندی ، تعزیتی ریفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں کہ:

’’ مجھ سے اگر کوئی پوچھا جائے کہ روح کو ادھیڑ کر کس نے لکھا ہے تو میں صرف ایک ہی نام لوں گا، محمد حامد سراج!‘‘ (۳۴)

مظہر نیازی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ:

’’ لالہ کی زبان سے ہم نے کبھی سخت الفاظ سنے ہی نہیں‘‘ (۳۵)

حمید قیصر کا احساس ہے کہ:

’’ مجھے لگتا ہے کہ حامد سراج اور میرا بچپن کا تعلق ہے(  بچپن میں کبھی نہیں ملے) وہ سراپا محبت تھے، حامد سراج ہم میں نہیں ہیں  مگر ’’ہیں‘‘۔ (۳۶)

ڈاکٹر غفور شاہ قاسم اُن کے قریبی رفقا میں  سے ہیں جن سے حامد سراج کے کا تعلق ہمہ جہت  اور ہمدم دیرینہ کا ہے وہ فرماتے ہیں:

’’سچ تو یہ ہے کہ کسی کے ساتھ وابستگی کی پیوستگی کا اندازہ اس چیز سے نہیں لگایا جا سکتا کہ آپ کو اُس  شخص کی موجودگی کتنی آسودگی دیتی ہے اس کااحساس اُس کیفیت سے ہوتا ہے کہ آپ اُس کے بغیر خود کو کتنا تہی داماں محسوس کرتے ہیں۔ بعض تعلق  اور رشتے شریانوں میں بہنے والے خون کی طرح ہوتے ہیں جن کے بغیر آدمی اپنے آپ کو ادھورا اور نامکمل شمار کرتا ہے۔ محمد حامد سراج کے ساتھ میرے تعلق کی نوعیت ’ایگزیکٹلی‘  یہ ہے

تجھ سے لفظوں کا نہیں روح کا رشتہ ہے میرا

تو میری سانسوں میں تحلیل ہے خوشبو  کی طرح

جب تعزیت کے لیے ملک بشارت احمد کے ہمراہ میں حامد سراج کے گھر میں داخل ہوا تو درو دیوار سوگوار دکھائی دیے، میرے محسوسات کی ترجمانی ناصر کاظمی کے اس  شعر سے ہوتی ہے۔‘‘ (۳۷)

آنکھ ہر راہ سے چپکی ہی چلی جاتی ہے

دل کو ہر موڑ پہ کچھ کھویا ہوا لگتا ہے


حوالہ جات باب اول

۱۔ محمد حامد سراج، ہمارے بابا جی، ص ۵۶

۲۔ انجینئر ذکا اللہ خان، محمد حامد سراج کے افسانوں کا فنی اور موضوعاتی مطالعہ،  مقالہ برائے ایم فل، ص ۱۰

۳۔ محمد حامد سراج، نقش گر، ص ۱۶

۴۔ محمد حامد سراج، نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں، ص ۶۷۳

۵۔ ایضاٌ، ص ۵۷۳

۶۔  محمد حامد سراج، خط بنام ممتاز شیخ، ۲۸ اگست ۲۰۱۹ فیس بک

۷۔ مقالہ نگار کی ملک بشارت احمد سے ملاقات،  ۷ جون ، ۲۰۲۰

۸۔ محمد حامد سراج، میا، ص ۹

۹۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۱۰۔ مقالہ نگار کی شگفتہ حامد سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۱۱۔ محمد حامد سراج، میا، ص ۴۱،۴۲

۱۲۔فرحین چودھری،  محمد حامد سراج سے انٹرویو،  ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹

۱۳۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، ادبی ستارے، ص ۲۰۱۔ ۲۰۵

۱۴۔ رسالہ ، الزبیر، ص ۱۲۶

۱۵۔ ایضاٌ، ص ۱۳۱، ۱۳۲

۱۶۔ ایضاٌ، ص ۱۵۵

۱۷۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۱۸۔ مقالہ نگار کی ملک بشارت احمد سے ملاقات،  ۷ جون ، ۲۰۲۰

۱۹۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۲۰۔ انجینئر ذکا اللہ خان، محمد حامد سراج کے افسانوں کا فنی اور موضوعاتی مطالعہ،  مقالہ برائے ایم فل، ص ۱۶

۲۱۔ ارم ہاشمی، محمد حامد سراج سے  گفتگو،  ماہنامہ تمام، میانوالی، فروری ۲۰۰۹، ص۴

۲۲۔ محمد حامد سراج، نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں، ص ۶۷۲

۲۳۔ محمد حامد سراج، نقش گر، ص ۹

۲۴۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۲۵۔  رسالہ، الزبیر، ص ۱۲۷

۲۶۔ ایضاٌ، ص ۱۲۷

۲۷۔ ایضاٌ، ص ۱۲۹

۲۸۔ ایضاٌ، ص ۱۳۴

۲۹۔ ایضاٌ، ص ۱۵۳

۳۰۔مجلس اقبال میانوالی، تعزینی ریفرنس، ۲۸ دسمبر، ۲۰۱۹

۳۱۔ ایضاٌ

۳۲۔ رابعہ رحمٰن، کالم، نوائے وقت، ۲۱ نومبر، ۲۰۱۹

۳۳۔ مجلس اقبال میانوالی، تعزینی ریفرنس، ۲۸ دسمبر، ۲۰۱۹

۳۴۔ ایضاٌ

۳۵۔ ایضاٌ

۳۶۔ ایضاٌ

Chapter 2

باب دوم

محمد حامد سرا ج کے افسانوں کا فکر ی و فنی جائزہ

محمد حامد سراج کے افسانوں کاموضوعاتی مطالعہ

اردو افسانے کا میدان بہت وسیع ہے اس میں ہر موضوع اپنی جزئیات کے ساتھ سما سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے منشی پریم چند سے لے کر محمد حامد سراج  تک نے اسے اپنے  سانچے میں ڈھالا ہے۔ وہ دیہی زندگی کی پگڈنڈیاں ہوں یا شہری سماج کی غلام گردشیں۔۔۔ وہ قیام  پاکستان کے وقت فسادات کا زمانہ ہو یا مارشل لا   کی پابندیوں کا علامتی اظہار۔۔۔ ایک محبت سو افسانے ہوں  یا  عشق حقیقی  کی تلاش ، الغرض کوئی ایسا موضوع نہیں جو افسانے کے  مزاج سے آنکھ چرائے۔۔۔

محمد حامد سراج کے افسانوں کا مرکزی موضوع انسان اور سماج کا تال میل ہے۔ اُن کے افسانوں کی خوبصورتی اُن کے اپنے مشاہدے اور تجربے کے نقوش ہیں۔  اُن کی کہانیاں زمین سے اٹھتی ہیں۔  اس لیے اُن میں  اپنائیت کا احساس سوا ہے۔ انسانی زندگی ، سماج اور کائنات کے پیشِ نظر ان کا نقطہ نظر روحانی اور ذہنی ہے۔ ان کے افسانے داخلیت اور خارجیت کی ہم آہنگی  کے ساتھ مشاہدات کو لفظ عطا کرتے ہیں۔  

محمد حامد سراج کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’وقت کی فصیل‘‘ ہے۔  اس میں انہوں نے عالمی منظر نامے سے لے کر درونِ ذات کے معاملات کو اپنا موضوع بنایا ہے۔  ڈاکٹر محمد غالب نشتر اسی حوالے سے کہتے ہیں:

’’ محمد حامد سراج کی افسانوی شناخت اس بات میں مضمر ہے کہ اُن کے پاس موضوعات کا تنوع ہے اس لیے وہ ایک ہی موضوع کا طواف نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں کسی ایسے افسانوی مزاج سے  منسوب کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (۱)

خانگی زندگی کے مدوجزر:

محمد حامد سراج کے افسانوں کا موضوع ’زندگی‘ ہے اور زندگی بہت سے عناصر سے ترکیب ہے۔ گھریلو زندگی اور رشتے ناتے اس کا ایک  اہم جزو ہیں۔  ایک تخلیقی ذہن کبھی بھی اپنے قرب و جوار سے بے بہرہ نہیں رہ سکتا۔ محمد حامد سراج نے بھی حقیقت نگاری کے سانچے میں ان موضوعات کو نہایت چابک دستی سے برتا ہے کہ سب کہانیاں دیکھی بھالی محسوس ہوتی ہیں۔

 مسافر تو گیا (وقت کی فصیل)

  مصنف ، مادیت پر روحانیت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس میں اس  بات کی طرف نشاندہی کی گئی ہے کہ جب انسان اس  عالم رنگ و بو میں  تنہا رہ جائے اور  کوئی محرم حال پاس نہ ہو تو  ماں ، باپ، بہن بھائی اور قریبی رشتے دار یاد آتے ہیں ۔ آج کے اس مادی دور میں مال و متاع ، انس و محبت پہ بھاری ہیں۔ رشتے ناتوں کی دیواریں بُھر بھری مٹی سی چُنی گئی ہیں  ۔

’’ کلثوم کے طعنوں کا کینسر حکیم جی کی ہڈیوں میں سرایت کرنے لگا۔ وہ غصے سے کپکپا رہے تھے۔ میں نے تمہیں کیا نہیں دیا۔ محبت، دولت، شہرت، حویلی، زیور۔۔۔اور۔۔۔تم۔۔۔تم نے مجھے کی دیا۔۔۔ نفرت اور عیاری۔۔۔! دالان کے ایک کونے میں پڑا ہوں ، یہاں سے بھی نکال پھینک۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے کہیں تو پناہ مل جائے گی۔۔۔تو۔۔۔تو۔۔۔جا، میں  تجھے گالی بھی نہیں دیتا۔

بڈھے خبیث، دفع ہو  یہاں سے۔۔۔

کلثوم نے حکیم جی کو گھسیٹ کر باہر پھینکا اور کنڈی چڑھا لی۔ ‘‘   (۲)

لالٹین جلتی رہے گی (چوپ دار)

گھر ایک اکائی کا نام ہوتا ہے جس کی بنیادیں، ایثار، صبر، برداشت اور باہمی احترام پر اُستوار ہوتی ہیں۔  اس افسانے میں گھریلو ، خاندانی زندگی کے بکھرنے اور جڑنے کو بڑے موثر انداز سے بیان کیا گیا ہے۔   یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر احترام اور اپنائیت باقی نہ رہے تو اس شیرازے کو بکھرنے سے کوئی نہیں روک پاتا۔

’’مشترکہ خاندانی  نظام کا تانا بانا بکھرنے کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوا ہے کہ ہر فرد تنہا ہو گیا ہے۔ دوسرا ہر آدمی اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتا ہے۔ زرداری کی اندھی دوڑ نے عقل پر پٹی باندھ دی ہے۔ چھوٹے بڑے کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔ احترام کا لفظ متروک ہو چلا ہے۔ خاندان میں ایک بزرگ کی اہمیت اور اس کے فیصلے ہمیں بہت سی قباحتوں سے بچا لیتے تھے۔ بزرگ کے ختم ہونے سے خاندان کی مرکزی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔‘‘   (۳)

مکینک کہاں گیا ( چوب دار)

یہ افسانہ باپ بیٹے کے رشتے کی نفسیاتی الجھنوں سے عبارت ہے۔  بچوں کے مسائل سے باخبر رہنا نہایت ضروری ہے اور اُن کی عزت نفس  کا خیال رکھنا لازم ہے جبکہ بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ بڑوں کو وہ مقام دیں جو اُن کا حق ہے اور اُن کی توقعات پہ حتیٰ الامکان پورا اتریں۔ والدین  کا بے جا غصہ اور مارپیٹ ، بچے کی شخصیت کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔

’’ دل پر لگنے والی چوٹ گہری تھی، من میں اترنے والا گھاؤ  شدید تھا۔ اس کی آنکھیں جھکی تھیں۔ پاؤں کے انگوٹھے سے  وہ زمین کرید رہا تھا۔ آنکھیں اُٹھانا اس کی تربیت کے خلاف تھا جو اس کی طبیعت اور مزاج کا بچپن سے حصہ تھی۔ وہ آنکھیں اٹھا کر باپ کے سامنے گستاخی کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا تھا۔ باپ اسے تھپڑ دے مارتا تو وہ سہہ جانا آسان تھا لیکن باپ کی آنکھ میں اترا غصہ اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کر گیا۔ اپنے وجود کے ریزے چن کر دوبارہ سانس بحال کر کے وہ کہیں نکل جانا چاہتا تھا لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ باپ کے غصے کو سہتے سہتے وہ جینا تو سیکھ گیا  لیکن مجروح عزتِ نفس کی کرچیاں رات میں اس کے لیے باعثِ آزار ہو جاتیں۔ وہ سونے کو بستر پر لیٹتا تو پورے بستر پر عزتِ نفس کی کرچیاں کانٹوں میں بدل جاتیں۔ ‘‘  (۴) 

 محمد حامد سراج کے افسانوں پہ تبصرہ کرتے ہوئے منیر احمد فردوس رقمطراز ہیں:

’’ ان کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ وہ اپنے ذاتی تجربہ یا دُکھ کو کہانی کی پوشاک پہنا کر اس پر لفظوں کی ایسی ملمع کاری کرتے ہیں کہ وہ سب کا دُکھ بن جاتا ہے۔‘‘  (۵)

شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کی فضا سے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ تمام کردار دیکھے بھالے لگتے ہیں۔  محمد حامد سراج کا تعلق جس خاندانی پسِ منظر اور علاقے سے ہے وہاں خاندانی اختلاف کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔   ان اختلافات کا سبب، دنیاوی مال و متاع  اور ایسے رویے ہیں جو دلوں میں نفرتوں کے بیج بوتے ہیں۔ ان افسانوں کے ذریعے محمد حامد سراج نے ان کا حل بھی تجویز کیا ہے کہ تواضع اور ایثار سے ان جھگڑوں کا ختم کیا جا سکتا ہے اور خود اُن کی اپنی زندگی بھی ایسے ہی مثبت رویوں کی امین تھی۔  خدا کی ذات پر کامل یقین اور لوگوں سے بے جا توقعات سے بچنا ہی  پُر سکون زندگی کا پیش خیمہ ہے۔

افسانوی مجموعے ’ وقت کی فصیل‘ میں شامل افسانے  ’پچھلا دروازہ‘  اور ’ ایک سو اکیاون‘  افسانہ نگار کے والدین کے خاکے ہی نہیں بلکہ ماں باپ جیسی ہستیوں کے اس دُنیا سے اُٹھ جانے کے بعد ان رشتوں کی صداقتوں کے آئینے بھی ہیں۔ اول الذکر افسانہ، بعد میں ’میا ‘ جیسی کتاب کا پیش خیمہ بنا ۔  

’’ ماں کے بعد اسے  یقین ہو گیا کہ دُنیا ایک ویران سرا ہے۔ گھڑونچی پر رکھے گھڑے میں پانی خشک ہو گیا، چھپر تلے چڑیوں کے گھونسلوں میں ان کے بچے مر گئے، آنگن میں لگے شرینہہ  اور شیشم کے درختوں کو دیمک چاٹ گئی، صحن میں لگے ہینڈ پمپ کا پانی  گر گیا، کمروں  میں چمگارڈروں نے بسیرا کیا، اس کے والد کی دو نالی بندوق کے لکڑی کے دستے کو دیمک خوراک سمجھ کر چٹ کر گئی، گھر کی بوسیدہ دیواروں میں موت رینگنے لگی۔ اس نے ایک دن اپنے والد کی بوسیدہ ڈائری کے اوراق آیستگی اور نرمی سے کھولے تو ایک شعر پڑھ کر بہت رویا۔ ‘‘ (۶)

جان کر منجملہ خاصانِ مے خانہ مجھے

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

’ایک سو اکیاون‘ میں والد کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’ ابو جس عجلت  اور تیزی سے زندگی کے مسائل نمٹاتے تھے، اسی تیزی سے انہوں نے آخرت کا سفر باندھا۔ اس کے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ اس کے ابو خوابوں میں اسے تواتر سے ملتے رہے۔ کوئی خواب بھی ایسا نہیں تھا جسے خواب کہا جا سکے۔ ‘‘(۷)

ازدواجی زندگی  کے مسائل:

حوا اور آدم کا رشتہ نوعِ انسانی کے تمام رشتوں کی ابتدا ہے۔ اور یہ رشتہ بذاتِ خود اپنے اندر بہت سے مدوجزر لیے ہوئے ہے۔ محمد حامد سراج نے بھی اس رشتے کی نا ہمواریوں اور تفاوت کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔  میاں ، بیوی کے تعلق کی مضبوتی میں دو طرح کے بنیادی عوامل کار فرما ہوتے ہیں ۔ اول؛ رومانی، جذباتی اور جنسی ہم آہنگی اور دوم؛ معاشی اور معاشرتی مطابقت۔ محمد حامد سراج   نےانہی  پہ اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

اوریگان (وقت کی فصیل):

یہ افسانہ ایک ایسے جوڑے کی کہانی ہے  جن کے ہاں معاشی آسودگی تو ہے لیکن جذباتی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔  اس میں بیوی کا کردار ایک ایسی وفا شعار عورت کا  ہے جو اپنے خاوند کے لیے وطن کو چھوڑتی ہے جبکہ خاوند اُس پہ دوبارہ وطن جانے پہ پابندی عائد کر دیتا ہے۔  اس پہ سوا یہ کہ وہ اپنی بیوی کو  وہ وقت بھی نہیں دیتا  جو اُس کا حق ہو تا ہے۔  اُسے صرف پیسہ کمانے سے مطلب ہے۔  اور بیوی تنہائی کا شکار۔۔۔  یہی تنہائی اسے بیمار کر دیتی ہے اور وہ خاوند علی احمد کو تنہا چھوڑ  کر اگلے جہان سُدھار  جاتی ہے۔ یوں خاوند کی بقیہ زندگی اک المیہ بن جاتی ہے۔   بیوی  کا المیہ مصنف بیان کرتے ہیں۔:

’’  علی احمد۔۔۔ میں نعمتوں کو نہیں ٹھکرا رہی۔ مجھے تم سے گلہ ہے تم نے مجھے وقت  دیا؟ توجہ دی؟ گھر میں سہولیات ہیں لیکن تم تو نہیں ہو۔۔۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔ تم لوٹ آو تو شاید پاکستان نہ  لوٹنے کا غم  کچھ کم ہو جائے۔ تم گھر نہیں رہتے۔ میرے دل میں نہیں رہتے۔  جانے کہاں رہتے ہو؟‘‘  (۸)

عورت کا معاملہ بڑا سادہ سا ہے کہ وہ پورا مرد مانگتی ہے اُسے ٹکڑوں میں بٹا شخص نہیں چاہیے۔   

مسافر تو گیا( وقت کی فصیل ):

یہ افسانہ عورت کی جھوٹی محبت کا بیان ہے ۔ جسے صرف دولت کا طمع ہے اور شوہر محض روزگار کی مشین ہے۔ جب تک گھر میں آسودگی رہتی ہے  بیوی بھی خوش رہتی ہے لیکن جب بیماری کی وجہ سے خاوند کمانے   لائق نہیں رہتا تو بیوی اُسے نکال باہر کرتی ہے۔  دراصل یہ کہانی نہیں ہمارا اجتماعی معاشرتی رویہ ہے۔ ہمارے نزدیک صرف دولت ہی وہ واحد پیمانہ ہے جس سے رشتوں کی قدر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ حکیم جی  درد سے  بلبلا رہا ہے:

’’ کلثوم  کے طعنوں کا کینسر حکیم جی کی ہڈیوں میں سرایت کرنے لگا۔ وہ غصے سے کپکپا رہے تھے۔ میں نے تمہیں کیا نہیں دیا۔ محبت، دولت، شہرت، حویلی، زیور۔۔۔اور تم۔۔۔تم نے مجھے کیا دیا۔۔۔نفرت اور عیاری۔۔۔! دالان کے ایک کونے میں پڑا ہوں، یہاں سے بھی نکال  پھینک۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے کہیں تو پناہ مل جائے گی۔۔۔تو۔۔۔تو۔۔۔ جا، میں تجھے گالی بھی نہیں دیتا۔

بڈھے خبیث ، دفع ہو جا یہاں سے۔۔۔کلثوم نے حکیم جی کو گھسیٹ کر باہر  پھینکا اور کنڈی چڑھالی۔ ‘‘ (۹)

امام غزالی کا گمشدہ کردار (چوب دار):

ہمارے معاشرے میں میاں بیوی  کا رشتہ بڑی الجھنوں کاشکار رہتا ہے۔ اس افسانے کا موضوع بڑا سادہ اور سیدھا سادہ ہے کہ اگر فریقین ایک  دوسرے کے مسائل کو سمجھنا شروع کر دیں اور غلطیوں کو درگزر کریں تو ازدواجی زندگی خوش و خرم گزر سکتی ہے۔ زین کی بیوی کا غلطی کا اعتراف اُس پیار کی بدولت ہے جو اُن دونوں کے رشتے کی بنیا د ہے۔  

’’ بس ۔۔۔کیا کہوں۔۔۔ آنکھ کھل گئی میری کہیں گہرے اندر سے آواز آئی، زیادتی ہمیشہ میری جانب سے ہوتی ہے۔ میں بلاسبب جھگڑ کر میکے کا رستہ پکڑ لیتی ہوں آج خیال آیا میرے گھر کا رستہ تو تمہارے دل سے گزر کر رُوح تک جاتا ہے۔۔۔ تم میری ہر زیادتی خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتے ہو۔۔۔

کیا مجھ پر ترس کھا کر لوٹ آئی ہو۔۔۔؟ زین نے بیڈ لیمپ آف کرتے ہوئے پوچھا۔

نہیں۔۔۔ تم پر پیار آ گیا ۔۔۔!‘‘  (۱۰)

محمد حامد سراج  کا اپنے موضوع کی حمایت میں طرز قلم ناصحانہ ہوتا ہے۔

چائے کی پیالی( برائے فروخت):

شک ایسا دیمک ہے جو رشتوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے ۔ اور پھر تعلق ایسا شجر بن کے رہ جاتا ہے جس کی جڑہیں دیمک چاٹ چکی ہو اور بقول اقبال ’ ’ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘‘ کے مصداق ہم خوش فہمی پال رکھیں۔۔ لیکن انجام  کبھی خوشگوار نہیں ہو سکتا۔

یہ افسانہ بھی  ایسے ہی شکی مزاج شوہر ارتات کا المیہ ہے جو بیوی ارینہ کی محبت سے محروم رہ جاتا ہے  ۔ افسانہ نگار نے اس شک کے مختلف پہلووں اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں کا بیان کیا ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کا پردہ ہوتے ہیں ایک دوسرے کے رازدان ہوتے ہیں  ۔ لیکن شک اُن کی زندگیوں کو  کھوکھلا کر دیتا ہے۔ محمد حامد سراج اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ   ازدواجی زندگی  میں خوشیوں کا باعث قواعد و ضوابط یا قوانین نہیں ہوتے بلکہ خوش خُلقی سے ہی یہ رشتہ مسرت و انبساط پاتا ہے۔ ارینہ اپنا آپ کھو چکی ہے۔:

’’اس کا تن من اُجلا تھا۔ بے داغ ۔۔۔ کہیں کوئی خراش نہیں تھی۔ پھر بھی جانے اس کے  مجازی خدا نے اس پر کیوں شک کیا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو جمع کیا۔ وہ  ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی۔ انسان کے وجود کے ٹکڑے بکھر جائیں تو انہیں سمیٹنا مشکل ہوتا ہے۔  اس نے اپنے وجود کے ریزے جمع کیے۔ اس نے حواس کو مجتمع کیا۔ اس کی زندگی بکھرنے لگی تھی۔ جانے شک کی چنگاری اس کے مجازی خدا کے من میں کہاں سے آ گری تھی۔ ‘‘  (۱۱)

’کتنے مہر دین‘ اور ’ذہن بازار‘ بھی اسی قبیلے کے افسانے  ہیں جن میں میاں بیوی کی باہمی رنجش ازدواجی زندگی  کے خال وخد بگاڑ دیتی ہے۔

محمد حامد سراج کی اپنی ازدواجی زندگی بڑی خوش و خرم گزری ۔ اس لیے وہ اپنے افسانوں کے ذریعے قاری کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کی بقا، آپسی محبت اور احترام میں ہی ہے۔ اس کی بنیادیں وہ  اسلام کی اقدار سے کشید کرتے ہیں ۔ قرآن کی آیتیں اس پہ دلیل ہیں اور آپﷺ کی زندگی کامل نمونہ ہے۔

معاشرتی مسائل اور ہمارے رویے:

دنیا کا کوئی بھی ادب ہو وہ اپنے معاشرے سے کٹ کے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ ادب انفرادیت اور معاشرے کے باہمی تال میل سے جنم لیتا ہے۔ معاشرتی رویے ادیب کی فکر کو متاثر کرتے ہیں اور ادیب کی تخلیق معاشرے میں نئے رجحانات کے امکان پیدا کرتی ہے ۔ اس طرح ہر ادیب کی طرح محمد حامد سراج بھی معاشرے سے الگ تھلگ رہ کر افسانہ نہیں لکھ سکتے تھے یو ں ان کے ہاں بھی ہمیں ہمارے اجتماعی معاشرتی رویوں اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل کا تذکرہ ملتا ہے بلکہ محمد حامد سراج نے باقاعدہ اسے اپنا موضوع بنایا ہے۔ مجنوں گورکھ پوری اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ :

’’کامیاب ترین ادب وہ ہے جو حال کا آئینہ ہو اور مستقبل کا اشاریہ ہو، جس میں واقعیت اور تخلیقیت، افادیت اور جمالیت ایک آہنگ ہو کر ظاہر ہوں، جس مین اجتماعیت اور انفرادیت دونوں مل کر ایک مزاج بن جائیں، جو ہمارے ذوقِ حُسن اور ذوقِ عمل دونوں کو ایک ساتھ آسودہ کر سکے اب تک ادب جو کچھ بھی رہا ہو لیکن اب اس کو یہی ہونا ہے۔‘‘   (۱۲)

محمد حامد سراج کا اسلوب حقیقت نگاری کا آئینہ ہے۔ اس لیے معاشرتی کشمکش اور زندگی کے مسائل ان کے افسانوں کا موضوع رہے ہیں۔ڈاکٹر انور سدید  کا نقطہ نظر کچھ یوں ہے۔:

’’ ادیب اپنے عصر کا جزو  بھی  ہے اور آئینہ بھی۔ ادیب جب تخلیقی عمل سے گزرتا ہے تو اس کی تخلیق میں لازماً وہ لرزشیں بھی ہوتی ہیں۔ جو اس عہد کی معاشرتی، تہذیبی اور فکری سطح پر رونما ہو رہی ہوتی ہیں۔ اور جن سے ادیب پہلو تہی اختیار نہیں کر سکتا۔‘‘(۱۳)

  محمد حامد سراج بھی اپنے عصر کا جزو ہے۔ وہ اپنے گردو نواح کے معاشرتی مسائل  سے آنکھ نہیں پھیر سکتا۔ اسی لیے اُس نے اپنے علاقائی ، دیہی  اور قصباتی زندگی کو کمال جامعیت کے ساتھ پیش کیا ہے اور حتی الامکان ان کے ممکنہ سدباب بھی پیش کیے ہیں۔

ہے کوئی (وقت کی فصیل):

یہ کہانی ایک ایسے کردار کی ہے جو رزق حلال کی تلاش میں اپنے دکان داری کرتا ہے۔ مروت، ایک ایسا انسان ہے جسے کسی سے کوئی سروکار نہیں، لیکن معاشرہ جن برائیوں کی دلدل میں پھنس چکا ہے وہ کسی عفریت سے کم   نہیں،  اسے مہنگائی، قتل و غارت، دہشت گردی،  اور طبقاتی کشمکش کا شدت سے احساس ہے جس کا ذکر کا وہ اُس بازار کی مجلس دانشوراں سے بھی کرتا ہے۔ یہاں پہ ایک قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ہر کوئی ہی خود کو دانش ور کہنے پہ مُصر ہے۔ یہی حال اُس بازار کے دانشوروں کا بھی ہے لیکن افسوس  کی  بات یہ ہے کہ ان سب میں دانش عنقا ہے۔ مروت کی فکر پہ کوئی کان نہیں دھرتا بلکہ اُس کو پاگل، سنکی کہہ کر اُس کی تذلیل کی جاتی ہے۔ المیہ یہ ہے ہر کوئی اپنی ذاتی مفادات کے دائرے میں گھوم رہا ہے نا ہی کسی کو اصل مسائل کا ادراک ہے اور اگر ادراک ہے بھی تو صرف زبانی جمع خرچ تک۔۔۔ کوئی بھی ان معاشرتی برائیوں کا حل پیش کرنے سے قاصر ہے بلکہ افسانے کے اختتام پر یہ راز کھُلتا ہے   کہ اس مجلس دانشوراں کا  ہر ممبر ہے جنسی لذتوں کے بدبو دار پانیوں میں غوطہ زن ہے۔  کہانی بڑی سادہ سی ہے ، ہم بحثیت قوم بے ایمان اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں۔ اور ہم سے جو بھی مروت کا ہم خیال ہے اُس کے لیے یہ معاشرہ رہنے کے قابل نہیں۔ مروت کسی اور ہی سیارہ کا باشندہ ہے۔۔ سوچتا ہے۔۔۔:

’’ وہ گلی میں  گزرتے چہرون پہ پیوست، یبوست زدہ تحریریں پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ کیا یہ چہرے زندہ ہیں۔۔۔؟ ان  پر مردنی کی سی کیفیت کیوں چھائی ہے۔۔۔؟ خوف کاشت کرنے والے ہاتھوں کو قلم کیوں نہیں کر دیا جاتا۔۔۔؟‘‘ (۱۴)

دُنیا اس وقت ایک ایسے  معاشی نظام کی زیرِ اثر  ہے جو امیروں کو امیر تر اور غریبوں کو غریب تر کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام ، خدائے ثانی بن بیٹھا ہے۔ اس کے نتیجے میں محرومی، غربت، بد امنی اور  نہ جانے کیا کیا برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ اک استحصال کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔ رزق کا ذمہ خدا کا ہے لیکن زمین کے خداوں نے اسے اپنی دسترس میں کرنے  کا ہر ہتھکنڈہ آزمایا ہوا ہے۔

’’اسے زندہ رہنا تھا اور اپنے حصے کا رزق تلاش کرنا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا، اللہ کی بجائے لوگوں نے رزق کی تقسیم اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ وہ سورج ، چاند ، ستاروں  اور سمندروں پر قابض ہو کر روشنی اور پانی کا بیوپار کرنے لگے ہیں۔ ‘‘   (۱۵)

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی بھی ہے جو مہنگائی سے تنگ ہے اور سوچتا ہے کہ  یہ انسان کون ہوتے ہیں جو اُس پہ زندگی کو تنگ کر دیں۔  

دائمی حبس (وقت کی فصیل):

اس افسانے کا کردار، خود کلامی میں ان ساری  باتوں کا اظہار کرتا ہے  جو ہم سب کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آزادی کا متلاشی ہے۔  وہ اس کائنات پہ ،خود پہ، اس معاشرے پہ غور و  فکر کرتا ہے۔ وہ دہشت گردی، موت، بھوک ، افلاس، ان سب سے آزادی چاہتا ہے۔ اک حبس کا عالم ہے۔  وہ  ہر اُس پابندی سے آزادی چاہتا ہے جو اسے کسی بھی زاویے سے مقید کیے ہوئے ہے۔  

’’ مہنگائی کی ہر نئی لہر میرے آنگن میں خوف کاشت کر جاتی ہے۔۔۔ زرد رَو چہروں والی یہ مخلوق۔۔۔ میں بھی انہیں میں سے ہوں۔۔۔ پیٹ پر پتھر باندھے سانس لیتا ہوں، صدیوں سے اپنی پیٹھ پر حکومتوں کے عذاب ڈھوتا، میں خمیدہ کمر، زمین زاد  پِس رہا ہوں۔ میں پہروں مہنگائی کے خوف پر زہر کی کونپلیں پھوٹتے دیکھتا رہتا ہوں، کیونکہ انہی کو آنے والی نسلِ نو کا رزق ہونا ہے۔۔۔ میں شہروں سے خائف ہونے لگتا ہوں۔ شہر در شہر، بھوک، مہنگائی اور بیروزگاری کا عفریت گھومتا نظر آتا ہے۔ ‘‘(۱۶)

 افسانہ نگار اس بات پر قائل ہے کہ معاشرتی برائیوں کی جڑ مہنگائی ہے۔ اس لیے اسے یہ خوف ہے کہ اگر یہ معاملات یوں ہی چلتے رہے تو آنے والی نسلیں اس کے منفی مضمرات سے بچ نہیں پائیں گی۔ اس لیے ہمیں اس مسئلے کا  حل

مستقل بنیادوں پہ تلاش کرنا ہو گا۔

 مے خوار ( برائے فروخت):

یہ ایک ایسے شراب نوش کی کہانی ہے جو شراب تو پیتا ہے ، بہکنے کے لیے نہیں بلکہ غم  روزگار بھلانے کو۔۔۔ جبکہ اہلِ بازار اس کے کردار پہ انگلیاں اُٹھاتے ہیں حالانکہ وہ سب بد کردار ہیں برائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ وہ شراب نوش ، شراب بھی پیتا ہے لیکن خدا کو یاد بھی رکھتا ہے اور اس سے  تما م مرد و زن کی عزتیں بھی محفوظ ہیں۔

یہ افسانہ بھی ہماری مجموعی معاشرتی رویوں  کی اک جھلک ہے۔ ہماری منافقت کے پردے چاک کرتا ہے۔ ہماری نظر لوگوں کے کرادر پہ تو رہتی ہے لیکن اُن کی بھوک کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔  

’’ سارا  بازار مجھ سے نالاں ہے کہ میں عصر کے بعد پٹھانے خان کی کیسٹ اونچی آواز میں کیوں لگا لیتا ہوں۔ ہر کام میں مین میخ نکالنا ان کا مشغلہ ہو گیا ہے۔ بھلے سے اپنی دکانوں میں پردے کے پیچھے جو مرضی کرتے رہیں۔ اس ایک مہینے میں کتنے واقعات نمودار اور روپوش ہو گئے۔ کپڑے والا بھری دوپہر میں پردے کے پیچھے ایک عورت کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ جانے کتنی عورتوں کو مفت پہناتے پہناتے ان کے کپڑے اُتار لیے۔ اور تو اور سنار نے سونے کی انگوٹھی کے عوض ایک کنواری لڑکی کی عزت کا سونا اتار کر اسے ذلت کی کٹھالی میں ڈال دیا۔  جنرل سٹور والے کو دیکھو، سرخی پاؤڈر اور پرفیوم دکھاتے دکھاتے کتنی عورتوں کے ساتھ شرمناک کھیل کھیلتا رہا۔ جو بھی پردہ نشین  آتی ہے پردہ کھینچ لیتا ہے۔ کہتا ہے، بیبی کیا کیا دکھاؤں۔ چیزوں کے دام چکاتے چکاتے سارے  سالے عزت کے دام چکا لیتے ہیں اور میں۔۔۔۔۔ ‘‘ (۱۷)

اسے حوالے سے ڈاکٹر سلیم اختر کی رائے  حامد سراج کے اس موضوع کی تائید کرتی ہے۔ :

’’ ہر معاشرے کی اخلاقی اساس سے جنم لینے والی سیاسی، سماجی اور قانونی، بنیادیں ہوتی ہیں۔ جو اقدار اور معیار اور اداروں کی صورت میں معاشرہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مگر ہم عہدِ منافقت میں  زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔۔ اس لیے ہمارے معیار اور اقدار ہمارے اعمال سے رنگِ اثبات حاصل نہیں کر سکتے۔ ‘‘ (۱۸)

ذہن بازار ( چوب دار):

اس کہانی کا مرکزی کردار مفلسی مگر قناعت  کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے ۔ اس کا ذہن ہر لمحہ گھریلو ضروریات کو پوری کرنے کے خیالات  سے لبا لب بھرا رہتا ہے۔ اس کی بیوی ، اِس غربت کی زندگی سے تنگ آ جاتی ہے ۔  معاشرے میں پھیلے دکھاوے کے زہر نے ہر شخص کو حریص بنا دیا ہے ۔۔۔ لوگ دوسروں کا پراٹھا دیکھ اپنی خشک روٹی کی نا شکری پہ تُلے ہیں۔ یہاں بھی یہی معاملہ ہے ۔ آخر کار، گھر کی ضروریات با آسانی پوری ہونے لگتی ہیں لیکن باپ مذہبی روایات کی پاسداری میں گھر میں کیبل لگوانے سے مانع ہے ۔ بیٹا اس انتظار میں ہے کہ کب باپ مرے اور گھر میں کیبل کی رونقیں میسر ہوں۔ باپ  نے جس روز سے حرام کمانا شروع کیا ہے اولاد نا فرمان ہو گئی ہے۔  دو اقتباسات ملاحظہ کیجیے:

’’ فکرِ معاش نے پوری قوم کی سائیکی بدل کر رکھ دی  تھی۔ چڑ چڑا پن  عام ہو گیا تھا۔ فانی بدن کے آرام  کا خیال رکھتے رکھتے  رُوحیں بنجر ہو چکی تھیں۔ آسائشات اور سہولیات نے انسان کو چُور چُور کر دیا تھا۔ ‘‘  (۱۹)

’’ ہم نے تو رزقِ حلال سے ان کی پرورش کی تھی۔‘‘ اس کی بیوی کے چہرے کا رنگ لٹھا ہو رہا تھا۔

’’یہ ہونا تھا۔۔۔‘‘

’’ مگر کیوں ہونا تھا؟‘‘

اگر مگر چھوڑو، جس روز تم نے دوپٹے کی رنگائی پر مجھ سے جھگڑا کیا تھا۔ اس دوپٹے سے لے کر تمہارے کاٹن کے اس سوٹ تک جو تم نے پہن رکھا ہے۔ ساری کمائی رشوت کی ہے۔‘‘ (۲۰)

محمد حامد سراج چونکہ ایک دینی و روحانی پسِ منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور اُن کی اپنی ذات بھی دین پر عمل پیرا رہی۔ اس لیے اُن کے افسانوں میں بھی ایسے موضوعات  بکثرت ملتے ہیں جن کی اساس دینی نظریات ہیں۔ مندرجہ بالا افسانے میں بھی  رزقِ حلال کمانے اور قناعت پر زندگی بسر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

گاؤں کا غیر ضروری آدمی( برائے فروخت):

حیف صد حیف! ہمارا معاشرہ کس تنزلی کا شکار ہے کہ یہاں روپیہ پیسہ  اور عہدہ ہی عزت کا معیار ٹھہرا۔ محنت کش  کمی کہلایا اور آرام پرست نواب!!!   یہ افسانہ ہمارے معاشرتی رویوں کے چہرے پہ زناٹے دار تھپڑ ہے۔  ہم غریب مزدور کو وہ مقام نہیں دیتے جو اس کا حق ہوتا ہے۔   حلال کی روزی کمانے والا کسم پُرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے  کہ سفید صاف ستھرا کپڑا صرف کفن کا ہی نصیب ہوتا ہے۔   شرافت ، بزدلی کا روپ بن گئی اور بدمعاشی، بہادری کا چہرہ۔۔۔ پورا معاشرہ ہی تعفن زدہ ہو گیا ہے۔ باہمی محبت اور رواداری کا معیار فقط دولت قرار پاتی ہے۔  غریب کا ہونا نہ ہونا ایک برابر۔۔۔  زندہ ہو یا مردہ۔۔۔وہ ایک غیر ضروری آدمی ہی ہوتا ہے۔  ایسا بد نصیب کہ کوئی چار آنسو بھی دان نہ کرے۔

 ’’ہم میں سے ایک انسان کم ہو گیا۔ وہ علاقے کا نہ سہی گھر کا تو سر براہ تھا۔ کل تک گاؤں  کی پگڈنڈیوں پر اپنا گدھا ہانکتا ، میلے دانتوں میں اجلی مسکراہٹ لیے سر ہلاتا، دوہڑے الاپتا وہ شخص کہاں گیا۔۔۔؟ وہ تو تمہارے ہر دکھ میں رہا۔ تم لوگ اس سے اپنی درانتیاں تیز کرواتے تھے، ہلوں کے پھالے، ترینگل اور کھرپیان بنواتے تھے۔ گم چابیوں والے تالے تڑوایا کرتے تھے۔ تمہاری آنکھیں کیوں عقیدتِ غم سے خالی ہیں۔‘‘  (۲۱) 

 امام غزالی کا گمشدہ کردار ( چوب دار):

یہ افسانہ ا ن اقدار کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے جن سے دلوں کے خرابے روشن ہو سکتے ہیں۔ معاشرہ تہذیب یافتہ ہو سکتا ہے۔ یہ افسانہ اسی نوع کا ہے۔ صبر ،تحمل، بُردباری  اور عفو در گزر، یہی سرمایہ انسانیت ہیں۔  انہی سے اس دنیا میں پھیلی نفرت کی آگ ٹھنڈی ہو سکتی ہے۔  زین ، مطیع الرحمٰن سے کہتا ہے:

’’ مطیع الرحمٰن اچھی کتابیں مطالعے میں رکھا کرو۔ انسانوں کی تلاش میں رہا کرو۔ کتاب اور نیک انسان کی صحبت زمین پر سانس لینے میں آسانی پیدا کر دیتی ہے۔‘‘(۲۲) 

محبت،جنس ، تہذیب اور اخلاقی اقدار:

محمد حامد سراج کی  اپنی شخصیت تہذیبی اور اخلاقی اقدار کی مجسم تصویر تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے افسانوں میں بھی ان خواہشات کی جھلک ملتی ہے جو  وہ معاشرے سے تقاضا کرتے ہیں۔  وہ ایک ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جو اعلٰی اخلاقی اقدار کا پاسدار ہو۔  اسی نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے مصنف کے چند افسانوں کا جائزہ   پیش ہے۔

گھڑی، سمت ،سوئیاں(برائے فروخت):

یہ افسانہ، ہمارے معاشرے کے مجموعی  کردار پہ سوالیہ نشان ہے۔ یونس ویر اس افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ جس کا وڈیو سنٹر ہے۔  بچوں سے لے کر بوڑھے تک ہر کوئی اس کا گاہک ہے۔ یہ منظر بیچنے کا کام کرتا ہے ایسے منظر جنہیں دیکھ ہیجانی کیفیات پیدا ہوں۔     عریانیت اور بے راہ روی کا زہر معاشرے کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔  نام نہاد شریف شُرفا بھی اس سے محفوظ نہیں۔  طالب علم ہو یا اُستاد، مردو زن ، ہر ایک  لذتوں کا مارا ہے۔   معاشرے کو کسی آسیب نے آ لیا ہے وقت اُلٹا چلنے لگا ہے۔ ہماری سوچیں کسی بھی بڑی فکر سے عاری ہیں۔ ہم ذہنی، فکری طور پر اپاہج ہو چکے ہیں۔ اور ان سب کی ایک بڑی وجہ  فحاشی، عریانیت اور پورن انڈسٹری کا عروج ہے۔  ہم نے نطام قدرت کو  للکارا ہے۔  اس لیے وقت بھی اُلٹی سمت میں چل پڑا ہے۔۔۔  اُستاد ، معاشرے کا معلم ہوتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔:

’’ یہ پروفیسر ہے گزشتہ  برس  گرمیوں میں اس نے اکیانوے فلمیں دیکھی ہیں۔ اسے سی ڈی لے جانے دو میں تمہیں اسکا کھاتہ دکھاتا ہوں۔ پروفیسر نے سی ڈی کاونٹر پر رکھی۔ تعلیم اس کے وجود میں سے رُخصت ہو چکی تھی۔ میں نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ پروفیسر رشید احمد صدیقی نہیں تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ہونٹو ں پر تیرتے لفظوں میں سے کوئی مہک تلاش کرنے کی سعی لاحاصل سے گزرا۔ بے نور چہرے کی کرن تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ‘‘  (۲۳)

محمد حامد سراج یہ سمجھتے ہیں کہ  ہمارے معاشرے میں اٹھنے والا تعفن ، بے راہ روی کی وجہ سے ہے ۔ لیکن افسوس کہ جس طبقہ فکر نے اس کا سدباب کرنا تھا قوم کے تعلیم دینی تھی وہ خود منہ کالا کیے ہوئے ہے۔  

آخری آئس کیوب ( برائے فروخت):

یہ کہانی محبت اور جنس کی کشمکش کی  کہانی ہے۔  عورت کا کردار بے باکانہ ہے مرد محبت کو پاکیزہ شے تصور کرتا ہے اور جنس کی آمیزش اُسے گوارہ نہیں۔یہی بات عورت کو ناگوار گزرتی ہے۔  عورت کے اندر جنس کی آگ ، اُس کی اخلاقی قدروں کا پتا دیتی ہے۔  مغربی ثقافت  سے متاثر مردو زن  جنس  کے معاملے میں بڑے  بےباک ثابت ہوتے ہیں۔   لڑکی کہتی ہے:

’’ قرب کے لمحات میں تم ایک حد سے آگے کیوں نہیں جاتے۔

شیکسپیئر نے کہا ہے کہ محبت ایک پاکیزہ پھول ہے جو گناہ کی دھوپ سے مرجھا جاتا ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے بعد شیکسپیئر کو کون خاطر میں لاتا ہے۔۔۔؟‘‘ (۲۴)

جنسی جذبات  مر د و عورت دونوں کی سرشت کا حصہ ہیں۔ تہذیب بس یہ سکھاتی ہے کہ اُن کا اظہار کیسے، کب اور کس کے سامنے ہونا مناسب ہے۔   

’’ لمحہ موجود میں تمہاری ہوں میں۔۔۔ مکمل تمہاری۔ تم مجھے پورا کا پورا کیش کر لو‘‘ (۲۵)

آج کی عورت جس نے مغربی فکر کو صرف جنس تک  ہی سمجھا ہے وہ جنسی رویوں میں بے باکی کو  اپنا حق جانتی ہے۔  شرم و حیا  دقیانوسی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ مغرب زدہ عورت اپنے مرکز سے ہٹ گئی ہے  اسی لیے اُس کی زندگی میں ہیجان برپا ہے ۔  جبکہ اس کے بر عکس مشرقی عورت گھٹن کا شکار ہے وہ تو اپنے خاوند کے سامنے بھی جنسی خواہشات کا اظہار کرنے کو  گناہ کبیرہ تصور کرتی ہے۔  توازن زندگی کا حسن ہے۔

 نقش گر ( وقت کی فصیل ):

یہ ایک ایسے طبقے کی کہانی ہے جن کی اخلاقیات باقی ماندہ عوام کی اخلاقیات سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔  اس افسانے میں  لڑکی اپنے مصور دوست سے یہ فرمایش کرتی ہے کہ وہ کاغذ کی بجائے اُس کے عریاں جسم پہ نقش و نگار بنائے۔  انسان نے جنسی خواہشات کے اظہار کے طرح طرح کے طریقے ڈھونڈے ہیں۔  یہ  طریقہ بھی آسودگی کا سامان پیدا کرنے کی ایک سعی ہو سکتا ہے اور لڑکی اسی کی تلاش میں ہے۔

نقش گر، اس افسانے کا موضوع نفساتی جنسی رویے ہیں جن پہ محبت کی ملمع کاری ہوتی ہے۔  افسانے کا آغاز ماسکو کے مشہور میوزیم  میں رکھے فن پاروں کی منظر کشی سے ہوتا ہے۔  جہاں دو  کردار  اک مدت بعد دوبارہ مل رہے ہوتے ہیں۔ مرد ایک آرٹسٹ ہے اور عورت یہ خواہش ظاہر کرتی ہے وہ اسے مونا لیزا کی طرح امر کر دے۔ لیکن شرط یہ رکھتی ہے کہ  یہ نقش گر ، جو بھی نقش بنائے وہ اس کے جسم پہ اپنی فنکاری کے جوہر دکھائے۔  لیکن یہ نقش گر ایسا کرنے سے انکاری ہے۔  بعد ازاں اُس کے اصرار پر وہ چودھویں کی رات میں پینٹنگ بنانے کی حامی بھر لیتا ہے  لیکن  لڑکی کو انتظار کی سولی پہ لٹکنے کو چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔ رات بھی گزر جاتی ہے لیکن وہ نقش گر نہیں آتا۔انتظار بذات خود محبوب کے قرب کا شدید ترین احساس ہے۔    اس افسانے کا آخری جملہ ہے:

’’ اس کے بدن پر پوری رات کے انتظار کی کیفیات پینٹ تھیں۔‘‘ (۲۶)

 یہ افسانہ رومان کے سحر میں ڈوبا ہوا افسانہ ہے۔  چند اقتباسات دیکھیے:

’’  ہاں ایک بار اس نے کہا تھا میں تمہارے بدن پر اپنا لمس پینٹ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے انکار ہی کب کیا تھا۔ ‘‘   (۲۷)

’’  تم ہوش میں تو ہو۔۔۔؟ تمہیں پانے کے بعد ہوش کھویا ہی کب ہے۔ آتشدان میں لکڑیاں چٹخ رہی تھیں، سرخ چنگاریاں ، اس کی آنکھوں کی طرح لال انگارے۔۔۔ اسے سردی محسوس ہونے لگی، عجیب پاگل لڑکی ہے۔ سامنے بٹھا کر تمہارا پورٹریٹ تو بنایا جا سکتا ہے لیکن  بدن پر نقش گری نہیں۔ ۔۔ ناممکن۔۔۔!‘‘  (۲۸) 

مرصع آئینے ( وقت کی فصیل ):

فیض احمد، علیزہ اور امداد   کی تکونی کہانی ہے۔ فیض ایک جاگیردار صاحب ثروت شخص ہے جبکہ امداد شاعر۔۔۔ علیزہ امداد سے محبت کا دم بھرتی ہے  اور فیض علیزہ پہ فریفتہ ہے۔  فیض کینسر کی بیماری کا بہانہ بنا تا ہے اور علیزہ  فیض کی تنہائی کو دور کرنے  کے لیے امداد کو اعتماد میں لیتی ہے ۔ دونوں شادی کر کے بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر علیزہ ، امداد کو خبر دیتی ہے کہ فیض نے بیماری کا بہانہ صرف اُسے حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔۔۔ اب وہ کیا کرے۔۔۔!!!

لیکن کہانی اتنی سادہ نہیں۔۔۔ علیزہ محبت پر مادیت کو ترجیح دیتی ہے۔  یہ ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے جب محبت اور دولت کے درمیان انتخاب کا وقت آتا ہے تو ہم دولت کو ترجیح دیتے ہیں۔ علیزہ نے بھی وہی کیا۔ لیکن ایسی سادگی سے کہ امداد کو دھوکے کا احساس بھی  نہ ہو۔  لیکن امداد کو یقین ہے کہ اس کے ساتھ ہاتھ ہو چکا ہے۔ علیزہ کے کہے گئے جملے اپنی کہانی آپ بیان کر رہے ہیں:

’’مجھے اپنی زندگی سے صرف اتنی سانسیں ادھار دے دیجیے، جن سے فیض احمد کی اجڑی زندگی میں بہار آجائے۔ میں نے صرف آپ کو سوچا ہے۔ چاہا اور پوجا ہے۔ اسی محبت کی بھیک مانگتی ہوں  آپ سے! مجھے فیض احمد سے شادی کی اجازت دے دیجیے۔ باقی زندگی تو میں آپ کے نام کر چکی ہوں اور ہاں یہ خیال دل میں مت لائیے گا کہ مجھے بیرون  ملک گھومنے کا شوق ہے۔۔۔‘‘(۲۹)

علیزہ نے رنگ بدلا اور امداد کی زندگی کے سارے رنگ پھیکے پڑ گئے۔

’’ امداد۔۔۔ فیض احمد کو کینسر نہیں ہے۔ اس نے محض مجھے حاصل کرنے کے لیے ساری کہانی گھڑی تھی۔ یہ تم سے بڑا کہانی کار نکلا ہے۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ، میں کیا کروں۔۔۔ سچی میں بہت پریشان ہوں۔۔۔ تم بتاؤ، تمہارا کیا حال ہے؟ امداد؟ آسٹریا بہت خوبصورت ہے۔۔۔ پہلی بار زندگی کا صحیح مفہوم سمجھ میں آیا ہے۔ ہیلو۔۔۔ امداد۔۔۔ہیلو، تم بولتے کیوں نہیں۔۔۔‘‘  (۳۰)

’مجھے  بیرونِ ملک گھومنے کا شوق نہیں ‘سے لے کر’ آسٹریا بہت خوبصورت ہے‘ تک کا  سفر یہی محبت کی تنزلی کا ثبوت  ہے۔  

ناسٹلجیا:

انسان کو دو بڑی فیکلٹیز  مہیا کی گئی ہیں۔ ایک ماضی کی یاد اور دوسری مستقبل میں جھانکنے کے لیے متخلیہ کی طاقت۔     محمد حامد سراج کے ہاں  بھی یہ دونوں قوتیں اُن کے افسانوں میں جا بجا دکھائی دیتی ہیں۔ ادیب  اپنے ماضی سے کٹ کر کبھی کچھ تخلیق نہیں کر سکتا ۔   اُس کا ایک  قدم ماضی کے دھندلکوں میں ہوتا ہے تو دوسرا مستقبل کے افق پہ۔۔۔ حال میں وہ تخلیق کرتا ہے۔

محمد حامد سراج کے موضوعات کے بارے میں  خالد قیوم تنولی نے ڈاکٹر  افتخار مغل کی رائے نقل ہے۔:

’’ محمد حامد سراج کی کہانیوں کی کئی جہتیں ہیں۔ مثلا جنگ، محبت ناسٹلجیا ، مذہب، نفسیات، لاشعور اور سائنس وغیرہ، لیکن تمام جہتوں میں طاقت ور جہت زمان و مکاں کی جہت ہے۔ ‘‘ (۳۱)

ڈِنگ:

ملک بشارت احمد، اس افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ یہ محمد حامد سراج  کے قریبی دوست کی بپتا ہے۔  جس کا دُکھ مہاجرت کا دُکھ ہے ۔ وہ اپنی جن بھومی سے  نقل مکانی تو کر لیتا ہے ۔ یہ نقل مکانی  روزگار کی تلاش میں نہیں بلکہ ایک سرکاری حکم کی تعمیل میں عمل میں آتی ہے۔لیکن جب وہ اُس گاؤں کا رُخ کرتا ہے  جہاں اُس کا  ماضی گزرا ہوتا ہے۔  تو کردار، بشارت احمد،    کا تخیل اس کو دوبارہ اُسی دور میں لے جاتا۔  بشارت احمد جن کیفیات سے گزرتا ہے محمد حامد سراج نے اُس کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے یہ موضوع ایسا ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔  

’’ اُس کے قدموں میں صدیوں کی تھکن تھی۔ اس کے وجود میں زمانے گم تھے۔ وہ چلتا رہا، بے سمت، بے آواز قدموں کے ساتھ۔ شرینہہ کے درخت کی تلاش تھی۔ جس کے سائے کا  پھیلاؤ دو کنال تھا۔ اس گھنے شجرِ سایہ دار کے نیچے فقیر محمد امیر سے لوگ ملنے آتے۔ جوق در جوق، قطار اندر قطار، بس ایک  روحانی کشش انہیں کھینچ لاتی۔ ‘‘ (۳۲)

  انسان کی پوری شخصیت ماضی سے عبارت ہوتی ہے اگر وہ خود کو اپنے ماضی سے جدا کر لے تو فقط خلا باقی رہ جاتا ہے۔   سائنسی نقطہ نظر سے کسی بھی شے کو سمجھنے کے لیے اُس کے ’ریفرنس پوائنٹ‘ کو دیکھنا ضروری ہے۔ اور ہمارا ماضی ہمیں وہ ’ریفرنس پوائنٹ‘ مہیا کرتا ہے۔ اردو افسانہ نگاری میں بہت سے لوگوں کے ہاں ہمیں ماضی کی بازگشت سنائی دیتی ہے لیکن  اُن میں سب سے ممتاز نام انتظار حسین کا ہے۔  انتظار حسین  کی کہانی میں ماضی قنوطی پہلو لیے ہوئے ہے جبکہ محمد حامد سراج کا ماضی رجائیت کا علمدار ہے۔  انتظار حسین کی ماضی پرستی کے بارے میں ڈاکٹر وزیر آغا کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

’’انتظار حسین کے افسانوں میں بنیادی طور پر ماضی پرستی کا گہرا شعور ملتا ہے۔ مصنف کا اپنا قول ہے کہ وہ کھوئے ہوؤں کی جستجو کرتے ہیں۔ اور آتشِ زیرِ رفتہ کا سراغ لگاتے ہیں۔ کھوئے ہوؤں کی جستجو اور آتش رفتہ کا سراغ تو اقبال نے بھی لگایا تھا لیکن اس نے اسلامی معاشرے کو حرکت و عمل کا سبق دیا اور سمبل ان لوگوں کو بنایا جن کے تحرک نے کاخ و امرا کے درودیوار گرا ڈالے تھے۔ علامہ اقبال کے  تفکر کا علامتی اظہار شاہین سے ہوتا ہے۔ جو بلندی کی طرف پرواز کرتا ہے۔ اور ہمیشہ جہانِ نو کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے مگر انتظار حسین کے کھوئے ہوئے کون ہیں؟ مکھی، بندر، لومڑی کتا اور بکری کی جُون میں آئے ہوئے وہ مجہول کردار جو عقل و خرد سے کام نہیں لیتے اور قوتِ بازو پر اعتماد نہیں رکھتے۔ ‘‘(۳۳)

قدیمی کرسی اور کتاب کی مرمت ( چوب دار):

 یہ افسانہ محمد حامد سراج کی آپ بیتی کا ایک ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔ جس میں ماضی    قدیمی کرسی اور ضعیف کتابوں کی صورت سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ لیکن افسوس صرف اتنا ہے کہ وہ ان کو بوسیدہ ہونے سے نہیں بچا سکا۔  کتابیں تو بہر طور مرمت ہو جائیں گی لیکن یہ کرسی اپنے بوجھ سے زمین بوس ہو جائے گی۔    ماضی کو سنبھال کر رکھنا ہی اعلیٰ ظرفی ہے ۔

’’ وقت کی دیمک کا کیا علاج۔۔۔؟ اپنی لائبریری کی ساری کتابوں کو پرکھنا چاہیے۔ یہ تو ہمارا قیمتی ورثہ ہے۔ اسے دیمک سے بچانا ہمارا فرض ہے۔ ‘‘ (۳۴)

’’ ہوا، یاد، عمر، ماضی اور خوشبو کو روکنا ممکن ہی کہاں ہوتا ہے۔‘‘(۳۵)

’’ شعور سنبھالنے پر میں نے  نانی اماں سے یہ چار کرسیاں مانگ لی تھیں۔ ننھیال کی یہ آخری نشانی میں نے اب تک سنبھال رکھی ہے۔ یہ عہدِ رفتہ  ہے اسے صرف کُرسی خیال نہ کیا جائے۔ ‘‘(۳۶)

انسان کو جب مستقبل   خوشگوار دکھائی نہ دے تو وہ ماضی میں نشاط کے لمحے تلاش کرتا ہے اور وہ ان لمحات سے بھی لذت کشید کرنے کی سعی کرتا ہے جن لمحات نے اُسے دکھ پہنچائے ہوتے ہیں۔  اسی نظریے پہ وقار عظیم کی رائے قابلِ غور ہے۔ :

’’ انسان اپنی گردوپیش کی زندگی سے اُکتا کر ماضی کی یادوں میں پناہ اور بسیرا  لیتا ہے۔ نئی پود کے افسانہ نگاروں میں سے اکثر کے یہاں ماضی کی یادوں کے نقش ملتے ہیں۔ ان مین گھرا ہوا انسان عموما افسردہ دلی، اکتاہٹ اور بے زاری کا ستایا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ ان اکتائے ہوئے بیزار انسانوں میں سے اکثر کا حال یہ ہے کہ جب  موجودہ زندگی میں انہیں کوئی سہارا ، خوشی کی کوئی لہر اور روشنی کی کرن دکھائی نہیں دیتی تو وہ خود کشی کر لینے کی بجائے، ماضی کے تصورات میں غرق ہو کر غموں سے نجات حاصل کرتے ہیں۔ ‘‘   (۳۷)

مگر یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ محمد حامد سراج ماضی میں فرار کی راہ تلاش نہیں کرتے بلکہ  اُن اقدار کے موتی کھوجتے ہیں جو آج کے پُر فریب دور میں نایاب  ہو چکے ہیں۔   محمدحامد سراج کے افسانوں، ’پتیاں‘ اور ’لرزیدہ لمحوں کا تاوان‘ میں بھی ماضی کی بازگشت سُنی  جاسکتی ہے۔  

دیہی زندگی کا  آئینہ:

منشی پریم چند اردو کے وہ پہلے افسانہ نگار ہیں جنھوں نے دیہات اور وہاں کی زندگی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا اور دیہی زندگی کی حقیقی تصویر پیش کی۔ پروفیسر قمر رئیس ان کے بارے میں رقمطراز ہیں:

 ’’ پریم چند پہلے ادیب ہیں جنھوں نے ہندوستانی گاؤں کے کسانوں ،کھیت ،مزدوروں اور ہریجنوں کی عظمت اور انسانی وقار کو سمجھا ۔ان کے لئے ادب کے کشادہ دروازے کھولے ،انھیں ہیرو بناکر ،ان کے د ُکھ سکھ کی گا تھا سنا کر اردو کے افسانوی ادب کو نئی وسعتوں اور ایک نئے احساس جمال سے آشنا کیا۔‘‘(۳۸)

محمد حامدسراج کا تعلق  خانقاہ سراجیہ، کندیاں، ضلع میانوالی سے ہے۔  کندیاں ایک قصبہ ہے اور خانقاہ سراجیہ گاؤں میں واقع ہے۔  جہاں انسان اپنی زندگی کے شب و زور بسر کرتا ہے وہاں کا ماحول اُسے ضرور متاثر کرتا ہے۔ محمد حامد سراج  پر بھی اُس علاقے کی بودوباش نے اپنے نقوش چھوڑے۔۔۔ اب جبکہ حامد سراج ایک افسانہ نگار  بھی ہے تو  اُس نے اپنے علاقے  کے رسم  ورواج، رہن سہن ، گھر، کھلیان، اور وہاں کے مسائل کو اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے اور گمان غالب ہے کہ یہ سب حقیقیت کا آئینہ دار ہے۔  وہ افسانے جن میں دیہاتی مناظر   کی واضح جھلکیاں ملتی ہیں درج ذیل ہیں۔  ’’ڈنگ‘‘، ’’کتنے مہر دین‘‘، ’’ گاؤں کا غیر ضروری آدمی‘‘، ’’راوی خاموش ہے‘‘،  ’’مرصع آئینے‘‘، ’’کیڑا‘‘، ’’رونے کی آواز‘‘،  ’’ خودداری کی نیند‘‘۔

محمد حامد سراج کے ان  افسانوں میں مقامی لب و لہجہ اور رنگ دیکھ جا سکتا ہے۔ اسی ضمن  میں چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔ افسانہ ’ڈنگ ‘  میں ’بشارت احمد کا کردار انہی بھول بھلیوں میں گُم ہے ۔  

’’ صحن  میں لگے تلسی کے پودے کھرپے سے نکال  کر اپنے اندر لگائے۔ چھپر بنایا، اس میں بھینسیں اور گائے باندھی۔ بکریوں کی چرنیاں تک  اس نے ترتیب سے رکھیں۔ کیکر کا درخت لگانے میں اسے بہت محنت کرنا پڑی۔ کیکر کے ایک بڑے ٹہن پر لگا رسے کا جھولا جو وہ ہر سال  عید پر جھولا کرتے تھے، اسے بھی اس نے نظر انداز نہیں کیا۔ ‘‘  (۳۹)

’’اسے دو چار روز پہلے کیا ایک شادی کی تقریب یاد آگئی۔ یہ رات یہ روایت بھی دم توڑ جائے گی۔ وہ اپنے قد آور باپ ملک فتح  شیر کے ساتھ ملک سکندر مستی خیل کے گھر پہنچا تو چھپر تلے کوندر کی گھاس بچھی تھی۔ چھپر تلے لوگ آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے۔ اتنے میں مٹی کے  پتروٹے ان کے سامنے جن دیے گئے۔ ’’مٹی کے کٹورے‘‘ میں پکا لذیذ سالن ان کے سامنے رکھا گیا۔ ’’لور‘‘ پر لگی بڑی  بڑی چباتیاں جو پھتو کمہار اور میراں کمہاری نے اتاری تھیں۔ جوان لڑکے گلے اور کمر کے گرد کَس کر کپڑا باندھے جھولا بنائے اس میں روٹیاں ڈالے باراتیوں کے آگے رکھ رہے تھے۔ کھانے کے بعد ’’ پتروٹوں ‘‘ میں حلوہ دیا گیا۔ ‘‘ (۴۰)

محمد حامد سراج نے گاؤں کے ماحول اور رسم ورواج نہایت روانی سے بیان کیا ہے اور ان افسانوں میں مقامی زبان کے الفاظ بے جا  محسوس نہیں ہوتے۔  اسی حوالے سے ڈاکٹر عطش دارنی کی رائے یہ ہے:

’’ مقامی لہجہ کرداروں کے انداز زندگی کے حوالے سے جملوں کی ایک خاص ساخت تخلیق کرتا ہے۔ اس سے ان کے اطوار، سطح  اور بول چال کے سانچے اور سلینگ نظر آتے ہیں۔‘‘   (۴۱)

مقامی زبان کا  برمحل استعمال اور کرداروں کا ڈیل ڈول  کے ذریعے افسانوں میں فطری عنصر پیدا کیا گیا ہےدیہی  ثقافت کے بیسیوں استعارے ہیں جو اپنے اندر جہانِ معنی لیے ہوئے ہیں۔  افسانہ ’راوی خاموش ہے‘ کے یہ جملے  افسانہ نگار کی  مقامی زبان دانی   کے برمحل استعمال کا واضح ثبوت ہے۔  وہ اپنی کرداروں سے اُن  کی اپنی زبان بلواتا ہے۔

’’ کیں ویلے تے اس نگو سانوی دکان چوں باہر وی نکلا کر۔۔۔(کسی وقت توا س بد بخت دکان سے باہر بھی نکلا کر)

میں بھا۔۔۔ لیناں۔۔۔(میں آگ لگاتا ہوں) میانوالی کا روایتی فقرہ کہتے  ہوئے ناصر خان ہنسا کیونکہ اسے عطا ء اللہ کندی کی ناراضی کا ڈر بھی تھا۔ ‘‘(۴۲)

’’ شام ڈھلے جب عطاء اللہ کندی اجلے کپڑے پہنے پر فیوم لگائے بازار کو نکلتا تو کہتے ہیں جن دنوں جوانی ٹوٹ کر آئی تھی تو کسی نہ کسی چک کے پیچھے سے آواز آتی۔۔۔ پتلا ڈھولا جانٹریں کیندے نصیب ہوسی۔‘‘ (۴۳)

 کسی بھی علاقے کے کلچر اور نفسیات کو سمجھنا ہو تو وہاں کی  زبان سے واقفعیت  ہونا لازم ہے۔  حامد سراج نے بھی جس سرائیکی دیہی کلچر کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا تو جہاں ضرورت محسوس کی ہے  تو اردو سے ہٹ کر سرائیکی کو برتا ہے۔ جس سے افسانے کا حقیقی رنگ برقرار رہتا ہے۔ ’راوی خاموش ہے‘  ہمارے علاقائی رسوم  ورواج، وٹہ سٹہ اور کاروکاری کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے۔  بقول شخصے:

’’ ادب کی سب سے اہم خوبی سماج کی ترجمانی ہے۔  جو ادیب جتنی خلاقی سے جتنے بہتر انداز میں سماج کی عکاسی کرتا ہے اس کا مقام اتنا ہی بلند ہوتا ہے۔ ادیب ناصح نہیں ہوتالیکن وہ اس طرح سے اپنی تخلیق میں معاشرتی برائیوں کا اظہار کرتا ہے کہ قارئین خود بخود اس بُرائی سے نفرت کر کے علاج کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ‘‘ 

افسانہ ’گاؤں کا غیر ضروری آدمی‘  جہاں معاشرے کی بے حسی اور مادیت پرستی کی غمازی کرتا ہے وہاں گاؤں کے اُن کرداروں کا بھی نقشہ کھینچتا ہے جو محنت مزدوری کی منہ بولتی تصویر ہوتے ہیں۔ افسانے  کا مرکزی کردار خیرو لوہار جب وفات پا جاتا ہے تو اس کا بیٹا تیسرے دن ہی اوزار سنبھالے دُکان پہ موجود ہوتا ہے۔  تاکہ گاؤں والوں کے کام تعطل کا شکار نہ ہوں اور اپنی روزی روٹی کا بھی چارہ کیا جائے۔

محمد حامد سراج   نے اپنے افسانوں میں  دیہی زندگی کے جن عناصر کا ذکر کیا ہے اُن میں سے چند  کے نام درج ذیل ہیں۔:

’’شرینہہ، پیپل ، برگداور کیکر کے درخت، مدھانی، چھپر، زمین کی بیجائی، حقہ پینا، تندروں کا دھواں، اُپلے، کھیتوں میں رفع حاجت کو جانا، مٹی کا لیمپ، ٹیوب ویل، مٹی کا مٹکا، گھڑولی، تلے دار کھسہ، موڑھا، کاڑھنی، کھیس، گھڑونچی،کنواں،حویلی۔۔۔

افسانہ نگار اپنے عصر کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔   اُس کے افسانوں میں دیہی زندگی کا نقشہ اوپری تاثر نہیں دیتا ۔  دیہی زندگی جس کرب سے گزرتی ہو اُس کا اندازہ وہاں کا مکین ہی لگا سکتا ہے۔

بقول احمد ندیم قاسمی:

’’ تیری نظروں میں تو دیہات ہیں فردوس مگر

میں نے دیہات میں اُجڑے ہوئے گھر دیکھے ہیں

میں سمجھتا ہوں مہاجن کی تجوری کا راز

میں نے دہقان کی محنت کے ثمر دیکھے ہیں‘‘(۴۴)

احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں:

 ’’سماج سے ادب کارشتہ ہی اصل چیز ہے۔ جس ادیب کو ان رشتوں کا ادراک نہیں میرے خیال میں اس کا ادب اور فن بے معنی ہے‘‘(۴۵)

 ترقی پسند تحریک سے وابستہ کن کن افسانہ نگاروں نے دیہی زندگی اور وہاں کے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔اس ضمن میں کرشن چند،حیات اﷲ انصاری ،اوپندر ناتھ اشک ،راجندر سنگھ بیدی،اختراورینوی ،احمد ندیم قاسمی اور دیوندر ستیار قابل ذکر ہیں۔کرشن چند کا شمار اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے انہوں نے دیہی زندگی خصوصاً کشمیر کی دیہی زندگی اور وہاں کے ماحول کو اپنے افسانوں میں موضوع بنایا ہے۔ حیات اﷲ انصاری نے اپنے افسانوں میں بیشتر اپنے عہد کے حالات و ماحول کو پیش کیا ہے۔ ان میں دیہی زندگی کے مسائل بھی شامل ہیں۔ حیات اﷲ انصاری نے غربت و افلاس میں زندگی بسر کرنے والے دیہاتوں کی مشکلات اور ان کے استحصال کے واقعات کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کا پس منظر شہری اور دیہی دونوں زندگی ہیں ۔ احمد ندیم قاسمی کے زیادہ تر افسانے دیہی موضوعات و مسائل پر مبنی ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں نہ صرف پسماندہ طبقات کی بدحالی کو بیان کیا ہے بلکہ ان مظلوموں کو زندگی سے لڑنے کا حوصلہ بھی بخشا ہے۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ اردو افسانہ نگاروں نے تقریباً ہر دور میں دیہات اور دیہات سے جڑے مختلف مسائل کو اپنے افسانوں میں نہ صرف پیش کیا ہے بلکہ ان کو حل کرنے کی تدابیر بھی پیش کی ہیں۔

 محمد حامد سراج کے افسانوں میں علاقائی ثقافت ، رسم ورواج، علاقائی موسیقی اور یہاں کے کردار اپنی حقیقی شناخت  میں موجود ہیں۔  افسانہ ’کیڑا‘ میں گاؤں کی صبح   اور ایک ہوٹل کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

’’ شمو کا باپ تڑکے تڑکے کھیتوں کو نکل جایا کرتا تھا۔ وہ بھینس کو چارہ ڈالتی ، دودھ دوہتی، ناشتہ بناتی۔ اس کا باپ سورج کافی اوپر آ جانے پر لوٹ کر ناشتہ کرتا، لسّی پیتا، حقہ گڑگڑاتا، اگر کھیتوں کا کام ہوتا تو  لوٹ جاتا، نہیں تو گاؤں کی مشرقی سمت برگد کے گھنے درخت تلے ہمجولیوں کے ساتھ مل بیٹھتا۔ برگد کے نیچے فیروزے کا ہوٹل تھا۔ ہوٹل کیا تھا، گھاس پھونس کا ایک چھپر تھا۔ پلی اینٹوں کے دو چولہے، ایک چولہا مٹی کے تیل کا، دو کیتلیاں ، سات مگے،میزوں کرسیوں کی بجائے اس نے سیمنٹ کے  بنچ بنوا لیے۔ رش نہ ہوتا تو چند بے فکرے وہاں آکر لیٹ جاتے۔ چھپر کے ایک ایک کونے میں لوہے کے ایک بوسیدہ زنگ آلود ٹرنک میں ان بے فکروں کے لیے سگریٹ، بیڑیاں، ماچسیں اور چرس کی گولیاں رکھی ہوتیں۔ جن دنوں اس کا ہوٹل چرسی ہوٹل کے نام سے شہرت پانے لگا اس نے فوراً  دھندا بند کر دیا۔ ‘‘(۴۶)

 گاؤں کی ایک اپنی ہی معاشی اور سماجی زندگی ہوتی ہے۔ ہر گاؤں میں ایک درخت ایسا ضرور ہوتا ہو جسے آج کی زبان میں ’ مال‘ کہا جا سکتا ہے۔جہاں طرح طرح کے ’برینڈز‘ موجود ہوتے ہیں۔  افسانہ  ’رونے کی آواز ‘ میں اسی  زیرِ شجر سایہ دار ’مال‘ کا ذکر ہے۔

’’پیپل کے نیچے ایک پورا شہر آباد تھا۔ ایک پو سی او، منیاری کا کھوکھا، نائی کی دکان، موچی، ایک لوہار اور ترکھان بھی اپنا رندہ سارا دن پھیرتا رہتا تھا۔ ‘‘ (۴۷)

افسانہ ’خودداری کی نیند‘ میں  ایک ایسے گھر کی تصویر ہے جو اپنی عُسرت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ گاؤں میں اس جیسے  کئی گھر اپنے مکینوں کی غربت کا بھرم رکھتے رکھتے خستہ ہو جاتے ہیں۔

’’ اُس کا گھر عُسرت کی منہ بولتی تصویر تھا لیکن کبھی کسی نے اُس کی زبان سے ایسا کلمہ نہیں سُنا جس سے نا شکری جھلکتی ہو۔ ۔۔ گھر کیا تھا۔۔۔؟ ایک کچا کمرہ، چھت جس کا ٹیڑھی میڑھی، لکڑی کی کڑیوں اور گھاس پھونس سے بنا تھا۔ دیواروں پر اس کی بیوی ہر سال مٹی کا لیپ کر دیا کرتی تھی۔ چھوٹا سا کچا صحن، داہنی جانب مٹی کے چولہے، گرمیوں کے لیے ایک چھپر، صحن کے شمالی کونے میں لکڑیوں کا ڈھیر جو اکثر جنگل سے چُن  لایا کرتا تھا۔۔۔!‘‘  (۴۸)

محمد حامد سراج کا مشاہدہ بہت عمیق  ہے۔ وہ گاؤں کی زندگی کو جزئیات کے ساتھ بیان  کرنے کا ہنر جانتا ہے۔  اُس کا تجریہ غیر حقیقی ہر گز نہیں ہے وہ جو  کہتا ہے ا س کا چشم دید گواہ ہے۔

  گاؤں کی معاشرت دو بنیادی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ پہلا کردا ر جاگیردار ؍زمیندار ہے جبکہ دوسرا مزراع؍ کمی۔کمین ہے۔ اور یہی طبقاتی تقسیم گاؤں کے ماحول  کو غیر منصفانہ بناتی ہے۔  مزارع کی بیٹی ، جاگیردار کی جاگیر تصور کی جاتی ہے۔  افسانہ ’کتنے مہر دین‘ میں  جو سلوک مزارع کی بیٹی سے کیا گیا  وہ تو اپنی جگہ ایک ظلمِ عظیم ہے اس کے علاوہ اُس کی بیوی بھی ذہنی کرب سے نبردآزما ہوتی ہے۔  یہاں کی معاشرت میں کم وبیش ہر زمیندار ہی مہر دین کی ذہنیت کا مالک ہے۔     وہ استحصال کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ، چاہے وہ گاؤں کی حدود میں ہو یا اسمبلی کے فلور کے ذریعے ۔۔۔ اس افسانے کا کردار ’ستو‘  مہر دین کو مخاطب کر کے کہتی ہے۔

’’  زمینوں کا مالک ہے تو کیا ہوا۔۔۔؟ میں اس کی رکھیل نہیں بنوں گی، جس کھوہ پر جاؤ یہ سالے وہاں ڈسنے کو موجود ہوتے ہیں۔ غریب کی تو عزت ہی نہ ہوئی نا۔ جب جی چاہا رکھ لیا اور جب جی اوبھ گیا نکال دیا۔ ‘‘(۴۹)

احمد ندیم قاسمی اور شوکت صدیقی بھی اس نظام ہائے جاگیر کو تنقید  کا نشانہ بناتے ہیں۔   محمد حامد سراج  نے اس افسانے میں  جاگیردار کی بیوی کا جو کردار دکھایا ہے وہ روایتی   جاگیردارنیوں سے مختلف ہے ۔ یہاں اُس کی بیوی ، ستو کے معاملے میں اپنا بھرپور احتجاج رکارڈ کرواتی ہے۔ اور خلا لے کر ایک پڑھے لکھے ایم این اے سے شادی کر لیتی ہے۔

افسانہ ’کیڑا‘ میں بھی اسے موضوع کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مرصع آئینے میں بھی شاعر کی محبت ہار جاتی ہے اور جاگیردار کی جاگیر فتح یاب ہوتی ہے۔  

تاریخ گواہ ہے کہ  مغل سلطنت زمینداروں اور جاگیرداروں کے ذریعے  چلائی گئی  اور اس کے بعد انگریز سامراج نے اس جاگیردارانہ نظام کو مزید تقویت دی اور اس کی سرپرستی کی۔  آج بھی  اسمبلی جاگیرادروں سے بھری پڑی ہے۔ اس حوالے سے سجاد ظہیر لکھتے ہیں:

’’ سامراج کے لیے ضروری تھا کہ وہ نوابوں ، روجوڑوں اور جاگیرداروں کو باقی رکھے، با لکل اسی طرح اسکے لیے ضروری تھا کہ ہماری قوم کو ذہنی اور روحانی طور پر مفلوج اور غیر متحدہ اور غلام رکھنے کے لیے وہ سامراجی زوال پذیر جاگیری نظریوں اور عقائد کی سرپرستی اور ترویج کرے۔‘‘ (۵۰)

نفسیاتی  پہلو

جدید نفسیات کے بانی سگمنڈ فرائڈ نے ایک بار کہا تھا ’’ میں جہاں بھی جاتا ہوں (یعنی اپنی نفسیاتی تحقیق میں جو کچھ دریافت کرتا ہوں) کوئی شاعر مجھ سے پہلے وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔‘‘ اگر ہم فرائڈ کے اس قول میں شاعر کی جگہ ’’فنکار‘‘ کا لفظ استعمال کریں تو غلط نہ ہو گا۔ فنکار جتنا بڑا ہوتا ہے، اس کی بینائی ، اس کی بصیرت اتنی ہی گہری ہوتی ہے ۔ ایک عظیم فنکار کو نفسیات ، سائنس اور تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس کا تخلیقی مشاہدہ اسے انسان اور وہ دنیا جس میں انسان بستے ہیں ، کی گہرائیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ مشاہدہ اور اس مشاہدے کی مدد سے حاصل کیے گئے بنیادی حقائق ہی ایک فنکار کی عظمت کی دلیل ہوتے ہیں ۔

نفسیاتی افسانوںمیں موضوع کے اعتبار سے سب سے نمایاں افسانہ  ’ ٹھنڈی چائے ‘ ہے۔ مجموعہ سراج میں اسے افسانے کا نام ’چائے کی پیالی ‘درج ہے جبکہ ’منتخب افسانوں کی کتاب ’نقش گر‘ میں یہ ’ٹھنڈی چائے ‘ کے نام سے موجود ہے۔  

اس افسانے کا موضوع ’شک ‘ کی نفسیات ہیں۔  رشتوں کے درمیان جب شک در آتا ہے تو  پیچھے کچھ نہیں بچتا۔  خاص طور پر میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں۔ ارینہ اور ارتات احمد، کافی  دیر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں ۔ دونوں اپنی زندگی کے شب و روز گزار رہے ہوتے ہیں کہ ارتات کے ذہن میں کچھ خیالات دخل دیتے ہیں کہ اُس کی بیوی حسین وجمیل ہے تو ضرور ماضی میں اس کا کوئی افئیر رہا ہو گا۔  انہی خیالات  کی بدولت دونوں کے درمیان ایک سرد  جنگ کی سی کیفیت طاری رہتی ہے۔ ایک دن ارینہ تھک ہار کے پوچھ ہی لیتی ہے کہ  کیا مسئلہ چل رہا ہے اگر اولاد کا نہ ہونا باعثِ پریشانی ہے تو میں آپ کو پریشان نہیں دیکھ سکتی ۔ خود اپنے ہاتھوں سے آپ کی دلہن سجاؤں گی۔ لیکن مسئلہ تو کچھ اور ہوتا ہے۔  اور وہ ہمت جُٹا کر یہ بیان کرتی ہے:

’’ میں شک کی وجہ جان سکتی ہوں ۔۔۔؟

تمہارے بے پناہ حسن نے مجھے اس مقام پہ لا کھڑا کیا ہے۔

اس میں میرا قصور نہیں نکلتا۔

کیسے۔۔۔؟

میں نے اپنے آپ کو تخلیق نہیں کیا۔ یہ تخلیق کار کی عنایت ہے۔

ایک بات کہوں۔۔۔؟

کہیے؟

سکول، کالج اور یونیورسٹی میں تمہارا کوئی دوست بھی رہا ہے۔۔۔؟

دوست سے آپ کی کیا مراد ہے۔۔۔ اس کا اعتماد بحال ہو رہا تھا۔

کوئی ایسا شخص جس نے تمہیں پسند کیا ہو۔۔۔؟

پسند کرنے والے تو ہزاروں تھے ۔ شمع کے گرد پروانے تو رقص کرتے ہی ہیں۔

تم کچھ چھپا رہی ہو۔

میں کچھ بھی نہیں چھپا رہی۔ آپ نے سوال ہی الٹ کیا ہے۔ میں ہزاروں کی پسند سہی لیکن میں نے کسی کو پسند نہیں کیا۔ میری زندگی میں آپ پہلے مرد ہیں۔‘‘  (۵۱)

ایک ایسی عورت عورت کے لیے جو وفا   شعار ہو   لیکن اپنے حسن کی وجہ سے شک کا نشانہ بن رہی ہو  وہ اپنے ہوش و حواس کیسے قائم رکھ سکتی ہے۔ اس لیے وہ جنون کے عالم میں اپنے ہونے سے بھی انکاری ہو جاتی ہے۔ کیونکہ  ا س کے شوہر نے  ارتات نے اپنی بیوی ارینہ بھی شک کیا تھا اس لیے اب وہ ایک  ایسی نفسیاتی کیفیت میں ہے کہ  وہ ارینہ سے بھاگ رہی ہے۔  اب جبکہ شوہر اس بات پہ مُصر ہے کہ تمہارا کوئی دوست رہا ہو گا اس لیے وہ ایک نا  معلوم شخص کو  نفسیاتی طور پہ اپنا ایک محبوب بنا لیتی ہے۔   عورت کی نفسیات  اور کردار  کی پیچیدگیوں کے بارے میں ڈاکٹر سلیم اختر اپنے ایک مضمون ’’ پا کستانی خواتین کے افسانوں میں عورت ‘‘  میں لکھتے ہیں:

’’ جس طرح عملی زندگی میں عورت بیک وقت ماں، بیوی، بیٹی، اور بہن ہو سکتی ہے یا محبوبہ یا طوائف بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح افسانوں میں بھی عورت جبلی تقاضوں ، نفسی محرکات اور رنگ بدلتے متنوع کردار کی بھول بھلیوں میں بھی گم ہو جاتی ہے تو کبھی عرفان ذات حاصل کر لیتی ہے۔ ‘‘  (۵۲)

مذکورہ افسانے میں بھی ارینہ نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو کر کرادر کی بھول بھلیوں میں کھو جاتی ہے۔  اور کہیں بہت گہرا اُس کے اندر   شوہر سے بدلے کے جذبات بھی نشو ؤنما پاتے ہیں کہ جس وجہ سے تم نے مجھ پہ شک کیا ہے اب میں وہی بن کے دکھاؤں گی۔  

  افسانہ نگار نے   میں عورت کی جنسی نا آسودگی کے باعث پیدا ہونے والے نفسیاتی عوامل کو اپنے افسانوں  ’’ نقش گر‘‘، ’’آخری آئس کیوب‘‘ اور ڈرائنگ روم اک گزر گاہ‘‘ میں موضوع بنایا ہے۔

’نقش گر‘ میں لڑکی کی نا آسودہ جنسی خواہش ، اپنے بدن پہ پینٹنگ بنوانے کی آرزو کے طور پہ نمودار ہوتی ہے جس کا تقاضا وہ اپنے ایک مصور دوست سے کرتی ہے لیکن وہ ایسا کرنے سے انکار کر دیتا ہے ۔   

افسانہ ’آخری آئس کیوب‘ میں مرد شادی سے پہلے کوئی ایسا جنسی عمل نہیں کرنا چاہتا  جس سے اُسے محبت میں گلٹ کا احساس ہو جبکہ عورت اپنی جنسی تسکین کی خواہاں ہے۔  وہ مرد کو ہر صورت سے آزمانے کی سعی کرتی ہے۔  یہاں مرد کی نفسیاتی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ محبت میں جنس کے ملاپ کو نا جائز تصور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا وہ ایسا کر کے کوئی کاروبار تو نہیں کرے گا۔  لیکن آخر میں وہ خود کو اس بات پہ قائل کر لیتا ہے کہ  اسے تمام حدود کو عبور کر لینا چاہیے۔ تاکہ ساری عمر کی آگ سے بچ سکے۔

فرائڈ کے خیال میں انسان کی نا آسودہ جنسی خواہشات، اس کے لاشعور میں محفوظ رہتی ہیں اور کبھی نا کبھی اظہار کا کوئی رستہ نکال لیتی ہیں ۔  یہاں جنس کی خواہش ، محبت کے زیرِ اثر دبی رہی اور آخر میں جنسی انتقام کی شکل میں باہر آئی۔  

حالانہ لڑکی شادی کر چکی ہوتی ہے لیکن  عورت ابھی بھی اسے ٹھنڈا ہونے کا طعنہ دیتی ہے ۔افسانے کا آخری حصہ دیکھیے:

’’ تم ایک حد پر آ کر ٹھہر کیوں جاتے ہو

شیکسپیئر نے کہا ہے محبت ایک پاکیزہ پھول ہے جو گناہ کی دھوپ سے مرجھا جاتا ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے بعد ان پابندیوں کو کون خاطر میں لاتا ہے۔۔۔

اس نے مکیش کا سوٹ ایک نظر دیکھا

کھردری یاد ابھری

اس کی آنکھوں میں اس نے جھانک کر دیکھا تو اس کا خاوند مکمل کیوب کی صورت میں اس کی آنکھوں میں تحلیل ہو چکا تھا۔۔۔!

آخری آئس کیوب جانے اس نے گلاس میں کب ڈالا تھا۔۔۔؟ یہ اسے یاد نہیں تھا

لیکن جب  وہ شیکسپیئر کا فلسفہ اوڑھ کر ہوٹل سے نکلا تو اس کے پورے بدن پر مکیش کے بوسے ناسور میں بدل چکے تھے۔ ‘‘ (۵۳)

افسانہ ’ ڈرائنگ روم اک گزر گاہ ہے‘ میں ایسی عورت کا کردار پیش کیا گیا ہے ۔ جسے لمحاتی محبت عجیب کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ گھر کا روایتی ماحول اور اقدار محبت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس ضمن میں عورت کی نفسیاتی عوامل کو موضوع بنایا  گیا ہے۔  

’’ سر۔۔۔وہ جو۔۔۔ میرا نہیں تھا۔ سہ پہر کی چائے پر اپنا  ادھورا کپ چائے کا چھوڑ گیا تھا۔۔۔ میری زندگی ادھوری رہ گئی۔ تب سے میری میز پر میری چائے کے ساتھ  اس کا آدھا  کپ بھی موجود رہتا ہے۔ میں نے کرسی بھی اس جگہ سے نہیں اُٹھائی جہاں سے وہ اُٹھ کر گیا تھا مبادا اچانک کسی لمحے اچانک لوٹے اور کرسی آباد ہو جائے۔۔۔سر۔۔۔ وہ میرا تھا، میرے وجود کی مہک اور۔۔۔اور۔۔۔!‘‘ (۵۴)

یہ افسانہ حقیقیت نگاری کی عمدہ مثال ہے۔ افسانہ نگار اس کردار سے خود محوِ کلام ہے۔ اور اس میں اس کردار کی تحلیل نفسی کی جا رہی ہے۔

افسانہ جھونکا ہوا میں موت کی گہرائی کا بیان ہے۔ اس کا مرکزی کردار ایک جان لیوا بیماری کا شکار ہے اور وہ  خود ڈاکٹر بھی ہے۔  اور اسے معلوم ہے کہ کچھ عرصہ بعد اُس نے مر جانا ہے  ۔ ایسے میں وہ کیا سوچتا ہے  ، اُس کے اندر کیسی کیفیات ہیں، وہ ذہنی طور پہ کن عوامل کے زیرِ اثر ہے۔  وہ اسلم انصاری کی نظم  کو اپنا اظہاریہ بناتا ہے۔ ’’تمام دُکھ ہے‘‘

’’ میرے دوست۔۔۔ موت  نے تو سکندر اعظم کو خالی ہاتھ کر دیا تھا۔ موت تو سقراط کے پیالے میں بھی بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ موت تو سرمد کے لہو  کی بوند میں بھی رقص کناں تھی۔ اب پھراس کائنات میں اس نے میرا چناؤ کیا ہے۔ میں اسے پسند آگیا ہوں۔۔۔ ڈاکٹر عبداللہ تمہیں نابود نہیں ہونا۔ صرف آنکھوں سے اوجھل ہو جانا ہے۔‘‘ (۵۵)

افسانہ  ’ بوسیدہ آدمی کی محبت‘ ایک ایسے شخص کی تنہائی کی کہانی ہے جسے دُنیا میں کوئی الفت نصیب نہیں ہوتی لیکن وہ اپنے من میں پیار کی دُنیا بسا لیتا ہے۔ اُسے اپنی بوسیدگی پہ اس قدر یقین ہے کہ وہ خود کو کسی پیار کسی مہ جبین کا مستحق نہیں سمجھتا۔۔۔ یہ ایک ایسے شخص کی نفسیات کا ذکر ہے جو احساس کمتری کا شکار ہے لیکن کہیں بہت گہرائی میں اسے اس بات کا ادراک ہے کہ وہ محبت کے لائق تھا لیکن اہل محبت نے اس کو پہچانا نہیں۔ اس افسانے کی آخری سطور ہیں:

’’ اُس نے راکھ ہتھیلی پرجھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔’’میں بھی نہیں سمجھا، مجھے کیسے ملی تھی اور ملتی بھی کیسے یار۔۔۔مجھ ایسے بد صورت اور بوسیدہ آدمی سے بھلا کون محبت کرے گا۔۔۔؟‘‘(۵۶)

افسانہ ’پتیاں‘، ’رونے کی آواز‘، ’شور بہت کرتا تھا‘ اور ’لرزیدہ لمحوں کا تاوان ‘ بھی اسی نوع کے افسانے ہیں جن میں انسان کی نفسیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔

سیاسی و سماجی مسائل اور عالمگیریت:

ادیب ، لکھاری، افسانہ نگار، فنکار، غرض کوئی بھی نا م دے لیں، ایک تخلیقی فکر کا آدمی کبھی بھی محدود نہیں رہ سکتا ۔ وہ اپنے اندر ہونے والے واقعات کا بھی جائزہ لیتا ہو اور باہر کی دُنیا کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  باہر کی دُنیا میں ہر لمحہ کوئی نا کوئی واقعہ رونما ہوتا رہتا ہے اور ایک تخلیقی ذہن اس سے کج نگاہی نہیں برت سکتا۔  اسی لیے اردو کے افسانہ نگاروں نے بھی سیاسی، سماجی، ملکی ، غیر ملکی ہر موضوع کو موضوع سخن بنایا ہے یا یوں کہہ لیجیے ان تمام عوامل نے اُن کی تخلیقات پہ اپنے نقوش ضرور چھوڑے ہیں۔  ادیب نہ صرف اپنے دور کا نمائندہ ہوتا ہے بلکہ آنے والے زمانوں کی خبر بھی دیتا ہے۔ اُس کا شعور باقی عوام سے ایک درجے آگے ہوتا ہے۔ میرؔ ، غالبؔ یا اقبالؔ، سرسید ہوں یا حالیؔ، ان تمام نے اپنی عوام میں شعور کی آبیاری کی ہے۔  اسی حوالے سے ڈاکٹر فضل ربی  لکھتے ہیں:

’’ادیب صرف اپنے دور کے سیاسی اور سماجی زندگی کا عکاس نہیں ہوتا بلکہ اپنے قلم سے سماجی اور سیاسی تاریخ میں انقلاب لا سکتا ہے۔  روسو اور والیٹر کی تحریروں نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے فرانس میں صنعتی انقلاب کی قوتوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح روسی ادب میں گورکی، ٹالسٹائی اور چیخوف نے اپنی با اثر تحریروں سے انقلاب کے لیے راستہ ہموار کیا۔‘‘ (۵۷)

 ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو افسانے کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ارضی رجحان۔۔۔ جسے حقیقت پسندی کا نام دیا گیا۔تخلیقی رجحان جو خیال کے جمال کا ترجمان رہا اور ان دونوں رجحانات کا خوشگوار امتزاج جسے سب سے زیادہ پذیرائی ملی۔

تقسیم ہند کے بعد ہمارے ہاں  جو حالات پیدا ہوئے اس کا اثر ہمارے افسانوی ادب نے بھی قبول کیا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب تجریدی اور علامتی افسانے  سماجی انتشار کے ردعمل کے طور پر لکھے گئے۔ سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، مرزا ادیب، راجندر سنگھ بیدی، شوکت صدیقی، غلام عباس، حسن عسکری، انتظار حسین، ممتاز مفتی، اے حمید اور بہت سے لکھنے  والوں کے یہاں سیاسی و سماجی زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں  کا شعور جنم لیتا محسوس ہوتا ہے۔ علامتی رجحان کے ساتھ حقیقت پسندی کے رجحان کے تحت پاکستان اور دُنیا کے سیاسی و سماجی مسائل کے متعدد رنگوں اور ہر رخ کی ترجمانی کا عمل جاری ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے اس تناظر میں افسانہ کی اہمیت اپنے مضمون ’’ ادب اور عصری آگاہی:افسانہ‘‘ میں یوں اجاگر کیا ہے۔

’’ عصری آگاہی کے نقطہ نظر سے جب پوری صدی پر محیط افسانے کا افسانہ سنے تو یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہماری تاریخ کے ہر موڑ پر، ہماری تہذیب کی ہر کروٹ پر اور ہمارے تمدن کے ہرتغیر پر کہانی نے زندگی کا ساتھ دیا ہے۔ چنانچہ اسی نقطہ نظر سے اگر اہم افسانہ نگاروں کے افسانوں کا انتخاب کیا جائے تو صرف ان افسانوں کی امداد سے ہم برصغیر کی تہذیبی، معاشرتی، سیاسی اور جذباتی فضا کی تخلیقی سطح پر ایک تاریخ مرتب کر سکتے ہیں۔‘‘(۵۸)

حامد سراج گو حالات حاضرہ کے آدمی نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنے افسانوں میں عدم استحکام، دہشت گردی، سماجی صورتحال   اور مجموعی طور پر انسانیت کو موضوع بنایا ہے۔

حامد سراج نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے ’’وقت کی فصیل ‘‘ میں شامل افسانوں ’’گلوبل ولیج‘‘ ،’’ حبسِ دوام‘‘،  اور وقت کی فصیل ‘‘ میں عالمی سیاست اورا س کے اثرات سے پیدا شدہ صورتحال کو موضوع بنایا ہے۔

گلوبل ولیج ، اس  مجموعے کا پہلا افسانہ ہے۔  یہ افسانہ جدید ٹیکنالوجی  پہ اپنے شدید تحفظات کا اظہاریہ ہے۔  اس میں ایک بستی کا المیہ پیش کیا ہے جس میں تمام لوگ اندھے ہو جاتے ہیں  لیکن ان میں ایک نومولود بچہ بینائی کے ساتھ پیدا ہوتا تو پوری بستی والے اس سے امیدیں وابسطہ کر لیتے ہیں یہ دُنیا دیکھے گا اور ہمارے دکھوں کا علاج کرے گا۔  اس وقت عالمی منظر نامہ جنگ و جدل کی لپیٹ میں ہے ہر طرف انسان کے بنانے ہوئے آلات نے تباہی مچا رکھی ہے۔  امیر ممالک ، غریب ممالک کا حق کھانے پر مُصر ہیں۔  کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہیں۔  وہ بچہ جب  جوان ہوتا ہے تو زمانے کے سفر پر نکلتا ہے۔ لیکن ساری دُنیا ایٹمی جنگوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے کہیں زندگی کے آثار نہیں۔۔۔ ایک جگہ اسے ایسی مخلوق ملتی ہے جو  تھور اور کانٹے کھا رہی ہوتی ہے۔   جب وہ یہ سب دیکھ کر واپس اپنی بستی کو پلٹتا ہے تو اپنی آنکھوں میں سلائیاں پھر لیتا ہے۔  یہ افسانہ ہمیں مستقبل کے اُن خدشات کا پتا دیتا ہے جو آج کے جدید انسان نے بڑی محنت سے پیدا کیے ہیں۔ انسان کی اپنی انٹیلیجنس ہی اُس کے مقابل میں آکھڑی ہوئی ہے۔  یہ پورا نظام ہائے زندگی ہی استحصال کے بیانیے پہ کھڑا ہے ۔ اسی ضمن میں ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’ اس وقت روس ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے۔ ریاستیں آزاد تو ہو گئی تھیں۔ لیکن حکمران کٹھ پُتلی تھے۔ گلف میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔ تیل کے کنوؤں پر عالمی طاقتیں  پنجے گاڑے بیٹھی تھیں۔۔۔ اس عہد میں جھوٹ، فریب، رشوت  اور ملاوٹ کا چلن عام تھا۔ کاروبارِ زندگی میں جھوٹ، فریب اور رشوت اتنی ہی ضروری قرار دے دی گئی جتنی زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے، کرہ ارض کو گلوبل ولیج قرار دے دیا گیا تھا اور اس میں سودی کاروبار اور سودی قرضہ جات کو قانونی اور حکومتی تحفظ حاصل تھا۔ تعلیم اور علاج جیسے شعبے میں خدمتِ خلق کے دائرے سے نکل کر مکمل طور پر کمرشل اور کاروباری  ہو گئے تھے۔ جان بلب مریضوں کے ورثا سے لاکھوں روپیہ بٹور لینے کا چلن عام تھا۔  بے حیائی اور فحاشی شرافت کے زمرے میں شمار ہونے لگی تھی۔ اسے فنون لطیفہ کے نام سے فروغ دیا جا تا تھا۔‘‘  (۵۹)

افسانہ نگار نے عالمی صورتحال  کے اس منظر نامہ کو محض دیکھا نہیں ہے۔ بلکہ اپنی سماجی اور تاریخی شعور کی قوت سے اس عالمی سطح کے سیاسی محرکات کو بخوبی سمجھا بھی ہے۔

افسانہ  ’دائمی حبس‘ میں افسانہ نگار خودکلامی کرتا ہے۔  وہ ہر اس خوف سے آزادہ چاہتا ہے جس نے اس کائنات کو محدود کیا ہوا ہے۔۔ دہشت گردی۔۔بھوک، افلاس اور ان سے جڑے تمام مسائل کا حل تلاش کرتا ہے۔  اور اس کا ممتنع نظر صرف پاکستان نہیں ہے بلکہ وہ عالمی امن کی بات کرتا ہے۔  

’’کہیں کوئی شہہ زور میزائل گراتا ہے تو رات کو صحن میں لیٹے لیٹے کئی بار نیند میں لرزتا ہوں۔۔۔آسمان سے ٹوٹنے والا تارہ میرے اندر خوف بو دیتا ہے کہ ابھی کوئی اندھا میزائل گرا۔

مہنگائی کی ہر نئی لہر میرے آنگن میں خوف کاشت کر جاتی ہے۔۔۔زرد رَو چہروں والی یہ مخلوق۔۔۔میں بھی انہیں میں سے ہوں۔۔۔پیٹ پر پتھر باندھے سانس لیتا، صدیوں سے اپنی پیٹھ پر حکومتوں کے عذاب ڈھوتا، میں خمیدہ کمر، زمین زاد پِس رہا ہوں۔ میں پہروں مہنگائی کے خوف پر زہر کی کونپلیں پھوٹتے دیکھتا رہتا ہوں، کیونکہ انہی کو آنے والی نسلِ نو کا رزق ہونا ہے۔۔۔ میں شہروں سے خائف ہونے لگتا ہوں۔ شہر در شہر، بھوک، مہنگائی اور بیروزگاری کا عفریت گھومتا نظر آتا ہے۔

شہر کا خوف مجھے نیا اذنِ سفر عطا کرتا ہے اور میں دنیا کی سیر کا ارادہ باندھنے لگتا ہوں۔۔۔ لیکن کیا کیجیے؟

بوسنیا، چیچنیا، کشمیر، فلسطین، افغانستان، کوسووو۔۔۔ہر جگہ آگ لگی ہے۔ ملکوں  کی چار دیواری میں مجھے سانس لینا دو بھر ہو جاتا ہے۔ پنچھی پھڑپھڑاتا ہے، ہیروشیما اور ناگا ساکی کی تپش مجھے رگِ جاں سے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے۔۔۔ میری عمر صدیوں پر محیط ہے۔ ‘‘(۶۰)

افسانہ ’وقت کی فصیل‘

اس کا ایک کردار گویا ہوتا ہے۔

’’پہلے پہل بیٹا۔۔۔گھر اور بستی کے دکھ ہوتے تھے۔ اور اب۔۔۔؟ اب تو دُنیا سمٹ گئی ہے۔۔۔میڈیا نے تو ہم کو ہمارے اپنے دُکھ بھی بھلا دیے۔

وہ کیسے۔۔۔؟

روزانہ ہم جو دیکھتے اور سنتے ہیں۔ وہ ہمارے شعور اور لاشعور میں اودھم مچاتا رہتا ہے۔ وہی تصویریں متحرک رہتی ہیں۔ رملہ کی گلیوں میں اسرائیلوں ٹینک معصوم فلسطینی بچوں کو کچل دیتے ہیں۔ سارے شہر کھنڈر بنتے جا رہے ہیں۔ کابل، قندوس، قندھار اور تورابورا پر دیوہیکل جنگی جہاز لاکھوں ٹن بارود برسا چکے ہیں۔ دہشت گرد مغربی طاقتیں۔۔۔ ان تھوتھنیوں سے رستا لہو۔۔۔!

میری خواہش تھی میرے افسانے کا کردار چلا جائے۔ میں ڈرتے ڈرتے کہا۔۔۔‘‘(۶۱)

افسانہ ’اعلان‘ میں  کردار  خود کلامی کرتا ہے۔

’’ اعلان  سننے کے بعد میں نے سوچا مجھے ضرور بولنا چاہیے۔ میں نے ہاتھ بلند کیا لیکن میری زبان لڑکھڑا گئی۔ میری زبان کو تالا کس نے لگا دیا۔۔۔؟ یہ جو دیہاڑی  مانگنے آیا تھا۔ جس  کے بیلچے نے اتنی روٹی نہیں کمائی تھی، جتنی ہاتھوں نے گانٹھیں کمالی تھیں۔ کھردرے ہاتھوں پر محنت کی روٹی رقم تھی، لکیروں کی لکڑیاں ہاتھ کے تندور میں سلگ رہی تھیں۔ یہ بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں، صرف پولیس وین کے انجن کی آواز ہے اور بس۔۔۔!

سنا ہے پورے کرۂ ارض کی بستیاں صدیوں سے چپ ہیں اور اعلان ہو رہا ہے۔۔۔ ! اعلان کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ اسے بار بار کیوں دُہرایا جا رہا ہے اور مغربی سمت سے آنے والے طاعونی پر ندے پوری زمین پر یا جوج ماجوج کی طرح پھیل گئے ہیں۔ ان کی چونچ میں ایٹمی، کیمیائی، جراثیمی کنکریاں ہیں وہ اندھی ہیں۔۔۔‘‘(۶۲)

افسانہ’کلوننگ کی پیداوار‘  میں طاقتور طبقے اور عام عوام۔۔۔

’’میں اس روز ان کے گھر موجود تھا جب ان کی ہمشیر ان سے اپنے بیتے کے لیے جھگڑ رہی تھی۔ چیئرمین صاحب کا کہنا تھا کہ اداروں کو چلانے کے لیے ہمیں ٹیلنٹڈ اذہان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور میرا بھانجا پرلے درجے کا نالائق اور لاپروا ہے۔ چار پیسے دے کر اس نے ڈگری تو لے لی ہے لیکن وہ اس اسامی کے اہل نہیں ہے۔

ان کی ہمشیر تراخ  سے بولی ۔ یہ ملک  اور اس کا قانون ساز ادارہ انگوٹھے چھاپ ممبران سے چل سکتا ہے تو آپ کا ادارہ میرے بیٹے کے ساتھ کیوں نہیں چل سکتا۔ ‘‘(۶۳)

’’ امی رہنے دیجیے۔۔۔اس ملک کی ساری بیوروکریسی اور اربابِ اقتدار کے چہرے ایک سے ہیں۔ یہ سب کلوننگ کی پیدار ہیں۔ ‘‘(۶۴)

حامد سراج کے افسانوں کا فنّی مطالعہ

نقش گر:

محمد حامد سراج نے افسانے کو اپنے الگ اسلوب میں برتنے کی سعی کی ہے۔ وہ اسلوب اور ہئیت کے تجربے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔’’نقش گر‘‘ کہانی ہے ایسے دو کرداروں کی جن کے جذباتی اور نفسیاتی رویے  اُن کی زندگی پہ ہاوی ہیں۔ کہانی کے آغاز میں دونوں کرداروں کی ملاقات ایک آرٹ گیلری میں ہوتی ہے۔ مرد مصور  ہے اور عورت اُس کی مداح ہے۔ افسانہ نگار نے کرداروں کا تعارف نہیں کروایا بلکہ اُن کے درمیان ہونے والے مکالمے کے پیش نظر یہ معلوم ہوا ہے۔ عورت ایک ہیجانی کیفیت کا شکار ہے اور وہ چاہتی ہے کہ نقش گر اُس کے آئینہ بدن پہ نقش بنائے اور اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دے۔ لیکن وہ اس بات پہ آمادہ نہیں ہوتا اور اسی کشمکش میں کہانی آگے بڑھتی ہے۔

افسانہ نگار کا فن اس افسانے میں مکالماتی تکنیک کے  روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ کرداروں کی داخلی کیفیات کو استعاراتی وصف میں لپیٹا گیا ہے۔  افسانہ نگار بنیادی طور پہ جدید معاشرے کی آزاد عورت کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور اس کے جنسی رویوں کی آسودگی کے ذرائع کو برا مانتا ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

’’ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نہ آئے کسی مصور کی اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک لڑکی اسے اپنے بدن پر نقش گری کی فراخدالانہ دعوت دے۔ ‘‘

’’ ہاں ایک بار اس نے کہا تھا میں تمہارے بدن پر اپنا لمس پینٹ کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے انکار ہی کب کیا تھا۔ ‘‘(۶۵)  

اس افسانے میں خودکلامی کی تکنیک کا استعمال بھی کیا گیا ہے ۔ جس سے  کرادار اپنا کتھارسس بھی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ خود کلامی کے ساتھ ساتھ بیانیہ  انداز بھی اپنایا گیا ہے۔ جہاں کردار سے بلوانا مقصود نہ ہو وہاں مصنف خود اُن کی داخلی و خارجی حالت کا بیان کرتا ہے۔

اس افسانے کی تکنیک کا ایک اہم پہلو شاعرانہ  مزاج ہے ۔ افسانہ نگار کو جہاں موقع ملتا ہے وہ شاعری کا سہارا لیتا ہے یا جملوں کی ساخت  کسی آزاد نظم   کی صورت معلوم ہوتی ہے۔  

’’فون کی گھنٹی بجی اس نے لپک کر ریسیور اُٹھایا۔

رات کیوں نہیں آئے؟ اس کی آواز میں پوری رات کی چیخ تھی۔

میں تمہارے پاس موجود تھا۔

جھوٹ۔۔۔ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔

ذرا آئینے کے سامنے  جا کر اپنے بدن پر ایک نظر تو ڈال کر دیکھو۔

ریسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ بدن کے خطوط کو غور سے دیکھا۔

ناف۔۔سُکھ کے نشے میں سویا ہوا مکان

ساق۔۔۔پورے چاند کی پہیلی سریلی تان

بالوں کو چھو کر دیکھا ۔۔۔ریشم کے انبار

ہونٹ۔۔۔ہونٹوں پر اس کے لمس کی یاقوتی مہکار

بل کھاتی ریشم سی کمر۔۔۔سینہ۔۔۔شیریں شہد میں ڈوبا ہوا پیکان

اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔۔۔تراشیدہ چٹان

اس کی رنگت شرم سے گلنار ہو گئی۔

اس کے بدن پر پوری رات کے انتظار کی کیفیات پینٹ تھیں۔ ‘‘ (۶۶)

گلوبل ولیج:

یہ افسانہ ایک علامتی افسانہ ہے۔ حامد سراج نے گلوبل ولیج کی اصطلاح کو ذو معنی انداز سے پیش کیا ہے۔ ولیج بنیادی طور پر ایک ایسی معاشرتی اکائی ہوتا ہے جہاں کے دُکھ درد، سکھ اور خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں ۔  لیکن ہر گاؤں کا ایک چودھری بھی ہوتا ہے۔ جس کے حکم کا ہر بندہ تابع ہوتا ہے۔  جو ظلم بھی کرتا ہے تو گاؤں والوں کی بھلائی کا بہانا بنا کر۔۔۔ با لکل اسے طرح ہم اس وقت ایک گلوبل ولیج میں رہ رہے ہیں یہاں کا بھی ایک چودھری ہے۔ جس  نےاس کو اپنے ظلم و جبر سے دوزخ بنا رکھا ہے۔ حامد سراج نے اسی صورتحال کی نقاشی علامتی انداز سے کی ہے۔

اس افسانے کی تکنیک بیانیہ ہے۔ کہیں کہیں فرد یا ہجوم بھی  کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔  افسانے کی فضا  اساطیری ہے۔ یہ ایک ایسی بستی کا المیہ ہے  جہاں رہنے والوں کی بینائی چلی جاتی ہے۔ حاملہ عورتیں بچے جننے   کی طاقت سے محروم ہو جاتی ہیں۔  پھر ایک معجزہ ہوتا ہے اور ایک عورت کو حمل ٹھہرتا ہے اور بچے کی پیدایش ہوتی ہے۔   یہ بچہ بینا پیدا ہوتا اور جوانی   کی عمر میں پہنچتے ہی دُنیا کی سیر کا ارادہ باندھتا ہے تاکہ  بستی والوں کی بینائی کا کوئی علاج تلاش کیا جا سکے۔ اس سفر میں اُسے  کرۂ ارض کی تباہ کاریوں  کا ہی سامنا رہتا ہے۔ عالمی امن  کی راکھ میں بس چنگاریاں ہی باقی ہیں۔  جب وہ  اس سفر سے پلٹتا ہے تو بستی والے اس سے دُنیا کا حال دریافت کرتے ہیں اور وہ اپنی آنکھوں میں سلائیاں پھر لیتا ہے۔

اس افسانے کی خوبصورتی یہ ہے ماضی حال اور مستقبل، تینوں زمانوں کو  اس افسانے میں سمیٹ دیا ہے۔  اور المیہ یہ ہے  افسانے نگار نے اس دُنیا کے حال اور مستقبل کی جو صورت پیش کی ہے وہ دل دہلا دینے والی ہے۔

کوئی امید بر  نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

اس گلوبل ولیج میں ہر سو خوف کے سائے منڈلاتے ہیں۔ ہم بحیثیت انسان  ہر اُس پستی کی پاتال میں جا چکے ہیں جہاں سے واپسی شاید نا ممکن ہے۔ حامد سراج نے موجودہ اور آنے والی دُنیا کا جو منظر نامہ پیش کیا ہے   وہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اجتماعی خودکشی کے راستے پہ گامزن ہیں۔ اس افسانے کو پڑھ کر افسانہ نگار کی آفاقی فکر، بالغ النظری اور گہرے احساس  کا پتا چلتا ہے۔

’’ اس عہد میں جھوٹ، فریب، رشوت اورملاوٹ کا چلن عام تھا۔ کاروبارِ زندگی میں جھوٹ، فریب اوررشوت اتنی ہی ضروری قرار دے دی گئی جتنی زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے۔ کرۂ ارض کو گلوبل ولیج قراردے دیاگیاتھا اوراس میں سودی کاروبار اورسودی قرضہ جات کو قانونی اورحکومتی تحفظ حاصل تھا۔ تعلیم اورعلاج جیسے شعبے بھی خدمتِ خلق کے دائرے سے نکل کرمکمل طورپرکمرشل اورکاروباری ہوگئے تھے۔ جاں بلب مریضوں کے ورثا سے لاکھوں روپیہ بٹورلینے کا چلن عام تھا۔ بے حیائی اورفحاشی شرافت کے زمرے میں شمارہونے لگی تھی۔ اسے فنونِ لطیفہ کے نام سے فروغ دیاجاتاتھا۔‘‘(۶۷)

ہے کوئی:

 ’ہے کوئی‘ تلاش ہے اس انسان کی جو اعلیٰ اخلاقی صفات کا مظہر ہو۔  یہ افسانہ ہمارے معاشرے کی حقیقی تصویر کا آئینہ ہے۔  اس افسانے کا  آغاز بیانیہ انداز سے ہوتا ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے  کردار تشکیل پاتے ہیں اور کئی کردار وجود میں آتے ہیں۔ ہر کردار اپنی اندر ایک کہانی لیے ہوئے ہے۔ اس لیے کئی کہانیاں  جنم لیتی ہیں لیکن دراصل وہ ایک ہی کہانی کی جزئیات ہیں۔

یہ افسانہ بازار کے ایک خاص  ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔  جس میں مختلف شخصی رجحانات کا بیان کیا  گیا ہے۔  جو کہ مختصر خاکے معلوم پڑتے ہیں۔    کہانی کا پلاٹ   اور موقع محل عام فہم ہے اس لیے قاری کہانی میں جلد محو ہو جاتا ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار مروت ہے جو   ایک اچھا انسان ہے لیکن واقعات اور ماحول  سے بہت جلد متاثر ہونے والا ہے۔   ہر طرف اخلاقی تنزلی اپنے عروج پر ہے۔ برائی گھر گھر پھیل چکی ہے۔ اس لیے یہ اچھا کردار بھی اس گندگی سے پہلو تہی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ لیکن اسے اس بات کا احساس بھی ہے ۔  افسانے   کی ساخت کو عامیانہ ہونے سے بچانے کے لیے علامتی انداز بھی اپنا گیا ہے جس سے ایک خاص قسم کا سحر قائم رہتا ہے۔

 ’’ مروت بوجھل قدموں سے اپنے دکھ اورمسائل کاندھوں پراٹھائے دکان پرآن بیٹھا۔ کیا کبھی کوئی آئے گا…..؟ ابنِ مریم….. اذنِ مسیحائی لے کر اوریہ بوجھ ہمارے کاندھوں سے اتارے گا۔ ہرآنے والے دن کے ساتھ بوجھ بڑھتا جا رہا ہے….. گلی کی نالی سے تعفن اٹھ رہاہے، کوڑے کرکٹ کے ڈھیرلگ رہے ہیں…..پہروں بجلی نہیں ہوتی….. ہوش رباگرانی میں سانس کی گھٹن، یہ سارے مسائل کون حل کرے گا…..؟ کون….. کون…. کون…..؟ مروت کے ذہن میں جھکڑچلنے لگے…..

وہ گلی میں گزرتے چہروں پہ پیوست یبوست زدہ تحریریں پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ کیایہ چہرے زندہ ہیں…..؟ ان پرمردنی کی سی کیفیت کیوں چھائی ہے…..؟ خوف کاشت کرنے والے ہاتھوں کو قلم کیوں نہیں کر دیا جاتا…..؟ وہی ذہن کے پردوں پر رینگتا لامتناہی سوالات کا سلسلہ…..! ‘‘ (۶۸)

’’مشین رُک گئی، پنکھاساکت ہوگیا، کونے میں سربہ زانو عفریت نے انگڑائی لی۔ مروت کا رنگ لٹھا ہوا۔ بہت سے سؤر اورکتے اس کی دکان میں گھس آئے۔ ان کی رال ٹپک رہی تھی۔  سؤروں اور کتوں نے پردے پھاڑ دیے اور۔۔۔ وہ کئی سال سے یہ ٹکڑے لیے دکانو ں پر گھومتا  اور پوچھتا پھرتا ہے۔۔۔ ہو کوئی اللہ کا بندہ جو ان ٹکڑوں کو جوڑ دے۔۔۔ (۶۹)

 اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس قدر   تعفن زدہ ہو گیا ہے کہ مروت جیسےشریف  کردار    کو  بھی اس  تعفن  سے بچنے کے لیے بہت کوشش کرنی پڑتی ہے۔

ڈِنگ:

حامد سراج کے افسانوں میں ماضی کی بازگشت اور ایک رومانس ملتا ہے۔  ان کے ہاں ماضی روشن مثال کی مانند عیاں رہتا ہے۔  اس افسانے میں بھی وہ اپنے ایک حقیقی دوست بشارت احمد  کی اس کے گاؤں کے ساتھ وابستگی کو  بیان کرتے ہیں۔ افسانے کا انداز بیانیہ ہے۔ شعور کی رو کی تکنیک کو بارہا برتا گیا ہے۔

افسانہ کا سارا ماحول بشارت احمد کے گاؤں کی روداد ہے۔ افسانہ  آغاز سے انجام تک بشارت احمد کی داخلیت کو لے کر آگے بڑھتا ہے۔  یہ افسانہ ، افسانہ نگار کے گہرے مشاہدے جس میں اُس کی اپنی باطنی کیفیات بھی شامل ہو جاتی ہیں غمازی کرتا ہے۔  بشارت احمد کا کردار نقل مکانی کے نتیجے میں احساس محرومی، تنہائی اور بے زمینی کا شکار ہو چکا ہے۔ افسانہ نگار نے اس کردار کے داخلی کرب کا نفسیاتی جائزہ اسکی عمر کے خارجی زمان و مکان کے اعتبار سے پیش کیا ہے۔

گھر ، گاؤں  اور زمین کو علامت کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔ ایک گھر جو باہر کی دنیا میں نظر آتا ہے جبکہ ایک گھر انسان اپنے اندر بناتا ہے جس کی تعمیر تمام عمر جاری رہتی ہے۔

’’اچانک ایک خیال اس کے دماغ میں کوندا۔ پلٹ کر اس نے گھرکے درودیوارکودیکھا۔

کیوں نہ میں اپنے اس گھرکو اپنے اندرتعمیرکرلوں…..! وہاں سے تواسے کوئی بھی گراکراپنا منصوبہ شروع نہیں کرسکے گا۔ یہ خیال اسے اتنابھایا پہلے اس نے سارے کمرے اپنے اندرتعمیر کیے۔ صحن میں لگے تلسی کے پودے کھرپے سے نکال کر اپنے اندرلگائے۔ چھپربنایا، اس میں بھینسیں اورگائے باندھی۔ بکریوں کی چرنیاں تک اس نے ترتیب سے رکھیں۔ کیکرکادرخت لگانے میں اسے بہت محنت کرناپڑی۔ کیکرکے ایک بڑے ٹہن پرلگا، رسے کا جھولا جو وہ ہرسال عیدپرجھولا کرتے تھے، اسے بھی اس نے نظراندازنہیں کیا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ پوراگھر سازو سامان سمیت اس کے اندر تعمیرپاگیا ہے تووہ سرشارہوگیا۔ وہ گھرسے نکلا۔ ‘‘ (۷۰)

ہجر ، سفر اور موت انسان کا مقدر ہے ۔ وہ اپنے مقدر سے نہیں بھاگ سکتا۔ ہجر چاہے کسی شخص سے ہو یا کسی جگہ کا، سفر باہر کا ہو یا اندر کا  اور موت  تو ہر صورت میں ہم پہ غالب آتی ہے۔ حامد سراج    کی جزئیات نگاری نے افسانے کو زیادہ جاذب بنا دیا ہے۔  حامد سراج کے افسانوں میں شرینہہ کا درخت  ایک واضح علامت کے طور پہ ملتا ہے۔  یہ  علامت کسی شفیق بزرگ کا تاثر دیتی ہے۔ جس میں محبت، شفقت ، آرام  اور سکھ اپنے  اعلیٰ درجے میں جمع ہوتے ہیں۔

افسانہ نگار نے اس کہانی کو بیان نہیں کیا بلکہ یہ خیال کے رو کے ساتھ  بہتی چلی گئی ہے۔  اس کا کردار اور خود افسانہ نگار بھی اس سفر میں تھک چکا ہے  ۔ صدیوں کی تھکاوٹ ان کے بدن میں سرایت کر چکی ہے۔

’’ اس کے قدموں میں صدیوں کی تھکن تھی۔ اس کے وجودمیں زمانے گم تھے۔ وہ چلتارہا، بے سمت، بے آواز قدموں کے ساتھ۔ اسے شرینہہ کے درخت کی تلاش تھی۔ جس کے سائے کا پھیلاؤ دوکنال تھا۔ اس گھنے شجرِ سایہ دارکے نیچے فقیرمحمد امیرسے لوگ ملنے کوآتے۔ جوق درجوق، قطاراندرقطار، بس ایک روحانی کشش انہیں کھینچ لاتی۔ لوگ اپنی باطنی تشنگی کی سیرابی کو اس چھتناور درخت کا رخ کرتے۔ فقیرمحمد امیرکاسایہ شرینہہ کے سائے سے کہیں زیادہ گھنا، میٹھا اورآرام دہ تھا۔‘‘(۷۱)

’’ بشارت احمد چھپرتلے بیٹھا شرینہہ کے سائے کو سرکتے ہوئے دیکھتارہا۔ شرینہہ کا سایہ نہیں اس کے سامنے وقت ڈھل رہاتھا۔ یا وہ خودڈھل رہاتھا۔ لوگ ایک ایک کرکے جارہے تھے۔ وہ تھا، فقیرمحمد امیرتھے اوریاد کی تیز ہواتھی، سب ریزہ ریزہ، کرچی کرچی….. وہ لوٹنا چاہتاتھا۔ اس کی جھولی دعاؤں سے بھرگئی تھی۔ اس کے قدموں میں صدیوں کی تھکن اوردھول تھی۔ وہ چلتارہا، چلتارہا۔ ‘‘ (۷۲)

افسانہ نگار نے  کرداروں کی حرکات و سکنات، انکی رسومات، علاقائی ثقافت اور بستی کے ماحول کی جزئیات کو جس حقیقت نگاری سے پیش کیا ہے۔ قاری اپنے آپ کو ڈنگ میں موجود پاتا ہے۔

رومنی:

رومنی کا کردار ایک ایسی مشرقی لڑکی کی نمائندگی کرتا ہے جس کے اندر محبت کے جذبات طلالم برپا کئے رکھتے ہیں  لیکن اظہار کے ساحل کا بوسہ نہیں لے پاتے۔وصل کی چاہت  کا اظہار حیا کے پردے میں لپٹا رہ  جاتا ہے۔  بس ایک بوسہ ہی محبت  کاا ظہاریہ قرار پاتا ہے۔  اور دائمی ہجر کی بھٹی  میں دونوں سُلگ جاتے ہیں۔

 یہ افسانہ ماضی کی بازیافت اور خود کلامی   کی تکنیک میں لکھا گیا ہے۔فلیش بیک کی تکنیک کی تکرار کو برتا گیا ہے۔   اس افسانے  میں  رومنی کی محبت کی گہرائی کو نہایت شائستہ انداز سے پینٹ گیا گیا ہے۔  بظاہر دونوں کے ہجر کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کی گئی لیکن  اس ہجر نے دونوں پہ  جو اثرات چھوڑے ہیں اُن  کو سمجھنے کے لیے ان تین اقتباسات   کودیکھنا ضروری ہے۔

’’ اسی شام وضو کرنے کے لیے میں غسل خانے میں گیا تو پلاسٹک کے پائپ کا ٹکڑا لگا تھا۔ میں نے چوکی پر بیٹھ کر آرام سے وضو کیا۔ وضو کرکے زوردار نعرہ لگایا۔

’’چاچی زندہ باد۔ ‘‘

’’کیا ہوا، چاچی کی اتنی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ ‘‘

’’چاچی تو نے پائپ جو لگا دیا ہے۔ ‘‘

’’میں نے کب لگایا ہے؟‘‘

’’تو پھر…..؟‘‘

’’رومنی لگا گئی ہے۔ کہہ رہی تھی، چچی کپڑے دھوتی ہوں تو چھینٹے پڑتے ہیں۔ ‘‘ یہ دوسری خاموش ملاقات تھی۔ تیسری ملاقات بھی خاموشی کے کفن میں لپٹی تھی…..

میں کیاریوں کی گوڈی کرنے میں مگن تھا۔ نئی کیاری بناتے ہوئے میں کھرپے سے مٹی نکال رہا تھا۔ وہ درخت کے تنے کا سہارا لیے خاموش کھڑی تھی۔ شرارتاً میں نے اس کے پاؤں پر مٹی ڈالی، وہ کھڑی رہی۔ میں مٹی ڈالتا رہا، پاؤں چھوٹی سی قبر نما ڈھیری میں چھپ گیا۔ میں نے اوپر دیکھا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ پلٹ گئی۔‘‘ (۷۳)

محبت کی مقناطیسیت ایسی ظالم شے ہے کہ جو محبوب پہ بیتتی ہے وہی محب پہ گزرتی ہے۔ اور جو محب کی حالت ہوتی ہے وہی محبوب کا حال ہو جاتا ہے۔ رومنی سے اس کی ملاقات ہسپتال کی راہ داری میں ہوتی ہے جہاں وہ اپنی ماں کے ساتھ چیک اپ کے لیے آئی ہوتی ہے۔ رومنی ٹی بی کی مریضہ بن چکی ہے۔  

’’ مجھے کئی ماہ سے مسلسل کھانسی رہنے لگی تھی۔ اس روز ہسپتال کی طویل راہ داریوں میں اپنے ایکسرے، بلڈرپورٹ اور یورین ٹیسٹ کے سلسلے میں مجھے سرجن سے ملنا تھا۔ چھپاکا سا ہوا اور مندر میں ہلچل کچ گئی۔ پرندوں اور روحوں نے وہ شور مچایا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ تیز ہوائیں مندر میں بین کرنے لگیں۔ (۷۴)‘‘ 

وہ ایک جھلک اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ یقین نہیں آرہا تھا وہ رومنی ہے، نہیں….. کوئی اور ہے…..؟ رومنی…..‘‘

’’ رومنی نے آنکھیں کھولیں، آنکھیں خاموش اور ویران تھیں۔ ان میں کوئی پہچان نہ تھی۔ بے رونق اور زرد آنکھیں۔ میں پریشان ہو رہا تھا کہ اتنے سالوں بعد اچانک ملنے پر رومنی کے چہرے پر کوئی خوشی کیوں نہیں ابھری۔

میں نے ہمت کی اور ہولے سے پکارا۔

رومنی…..

بیٹا، یہ پچھلے سال سے یادداشت کھو بیٹھی ہے۔ دن بھر غسل خانے کی ٹونٹی چلا کر چھینٹے اڑاتی ہے یا گھر بھر میں اپنے پاؤں پر گیلی مٹی ڈال کر قبریں بناتی ہے۔

یہ سن کر میری جیب میں رکھے اکیلے بوسے سے خون رسنے لگا۔‘‘ (۷۵)

 افسانے میں رومان سنجیدگی کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔  رومنی کے ذہن میں وہ دو واقعات جو اس کی محبت کا شدید ترین اظہار تھے منجمند ہو کر رہ جاتے ہیں ۔  اس کی زندگی ان سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتی۔ کہانی میں محبت کے گہرے رشتے کو اشارات کی زبان میں قاری تک پہنایا گیا ہے۔

زمین زاد:

حامد سراج کا افسانوی اسلوب بیانیہ اور ناصحانہ ہے۔ ان  کے یہاں مذہب کی بات افسانے کے قالب میں ڈھل سکتی ہے جسے وہ اپنی کہانیوں کا حصہ بناتے ہیں۔ افسانہ زمین زاد ایک ایسی کہانی ہے جس میں سائنسی ترقی کے ذریعے مزید دنیاؤں کی تلاش جاری ہے  اور قرآن کے ابلاغ کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن ، انسانی ترقی کو باطنی  ترقی  سے تشبیع دیتا ہے جبکہ سائنس ابھی خارجی منازل میں ہی سر پٹخ رہی ہے۔  یہ افسانہ اُن کی اپنی فکر کے پہلوؤں کی غمازی کرتا ہے۔  کہانی میں اپنی فکر کو سچ ثابت کرنے کے لیے سائنسی اور قرآنی  حقائق کو دلائل کے طور پہ پیش کیا گیا ہے۔

سائنس دان ایک جوڑے کو مریخ پہ بھیجتے ہیں جہاں وہ  کئی سال گزارتے ہیں اور اس بات کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ وہ مذہب سے دور رہیں۔ جبکہ مذہب کے حامی  اس مشن میں مذہب کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

’’ موضوعِ بحث یہ بات تھی کہ ساری باتیں اور فیصلے درست لیکن مریخ پر بھیجے جانے والے انسان کو مذہب سے دور ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ زمین پر فساد کی جڑ مذہب ہی ہے۔ خوفناک جنگیں، ہتھیاروں کی دوڑ، تیر سے میزائل تک، منجنیق سے توپ اور ٹینک تک اور آگ کے گولوں سے ایٹم تک تباہی کے جتنے بھی ہتھیار ہیں وہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر ہی ایجاد ہوئے ہیں۔ ا من قائم کرنے کی آڑ میں اپنے مفادات کی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔ مذہبی سکالرز نے پرزور اور مدلل طریقے سے سائنس دانوں کی اس رائے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کو رہنمائی صرف مذہب نے عطا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، اس حیوانِ ناطق کو انبیاء و رسل نے انسانیت کا درس نہ دیا ہوتا تو اس کے سفلی جذبات اسے حیوانوں سے بدتر بنا دیتے۔ اور آج بھی جن انسانوں کا باطن تیرہ و تاریک ہے وہ پوری انسانیت کو جنگ کی ہولناک تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس لیے مریخ پر اترنے والا انسان اگر مذہب سے بیگانہ رہا تو اس کے لیے وہاں زندگی عذاب ہو جائے گی۔ اس کے جذبات، احساسات اور ذہن میں پنپنے والے سوالوں کو رہنمائی کہاں سے ملے گی…..؟ اسے مذہبی کتابوں سمیت بھیجا جائے۔ ان کتابوں میں سے وہ کس کتاب سے زیادہ رہنمائی حاصل کرتا ہے یہ فیصلہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن سائنس دانوں کی سوئی اس ایک نقطے پر اٹکی ہوئی تھی کہ انسان کو مذہب سے دور ہی رکھا جائے۔‘‘(۷۶)  

 زمین سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد انہیں اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی ذات ایسی ہے جو انہیں یہاں بھی اپنی پناہ میں لیے ہوئے اور یوں سائنس اور مذہب باہم ہوتے ہیں۔  وہ یہاں بیزار ہو جاتے ہیں انہیں زمین کی یاد ستانے لگتی ہے۔  ان کے وہاں بچے پیدا ہوتے ہیں ۔  بیوی اپنی خاوند کو قرآن کی آیتوں  کے حوالے دے کر کائنات کی وسعتوں کے واضح اشاروں کا بتاتی ہے۔

بنیادی طور پر مذہب اور سائنس کی بحث کو سمیٹنے کی سعی کی گئی ہے۔  یہاں انسان کی اجتماعی شعور کو بیان کیا گیا ہے کہ اس کے نزدیک ترقی کے معیار کیا ہیں۔  راستہ باہر ہے یا اندر۔۔۔ سکون قلب کہاں میسر ہو گا۔  کہانی آگے بڑھتی ہے ، زمین سے رابطے بحال ہو جاتے ہیں ۔ زمین پر ہزاروں برس گزر چکے ہیں۔ وہ واپس زمین پر آتے ہیں لیکن ’کوئی محرم راز نہ ملدا‘ کے مصداق یہاں بھی تنہائی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔

’’ وہ جب زمین پر اترے….. ہزاروں نسلیں گزر چکی تھیں۔

وہ عظیم ا لشان استقبال کے باوجود با لکل اجنبی تھے۔

وہ کس سے گلے ملتے۔ کون ان سے مل کے خوش ہوتا….. کون ان کی تنہائی کا دکھ بانٹتا۔ اَن گنت چہروں کے درمیان ان کا کوئی بھی اپنا نہیں تھا…..!

وہ اربوں انسانوں کے درمیان پھر تنہا ہو گئے…..! ‘‘(۷۷)

  افسانہ نگار چاہتا ہے کہ سائنسی تحقیق کا دھارا بدلا جائے  ۔۔۔ جہاں باہر کی دُنیا کو کھو جا تا ہے وہیں اندر کی کائنات کا بھی سراغ لگایا جائے۔۔۔

افسانے کا اسلوب جہاں بیانیہ ہے وہیں چھوٹے چھوٹے مکالمے  کہانی میں جاذبیت پیدا کرتے ہیں۔

اوریگان:

اوریگان  ایک یونانی لفظ ہے۔ جس کی اصل’ اوریگونو‘ ہے جو ایک پودے کا نام ہے۔ یہ پودا پودینے کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی خوشبو آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

یہ نام افسانے میں علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے کہ اپنی مٹی کی خوشبو آپ کو ہمیشہ اپنی جانب کھینچتی ہے۔  کہانی  کا آغاز بیانیہ اسلوب سے ہوتا ہے جہاں علی احمد ماضی  کے زخم کریدتا ہے۔  پھر کہانی مکالماتی طرز سے آگے بڑھتی ہے۔  علی احمد ایک پڑھا لکھا  شخص ہے جو پردیس میں روزی کی تلاش میں زندگی گزارتا ہے۔ اس کی شادی ایک پاکستانی لڑکی ہو جاتی ہے جو اس کے ساتھ پردیس میں رہنے لگتی ہے لیکن اس کا دل ہمیشہ پاکستان میں ڈھرکتا ہے۔ جبکہ علی احمد  دولت کے نشے میں مگن ہے اور اسے اپنی ازدواجی زندگی کا کوئی خیال نہیں ۔  عتیقہ اس کی بیوی بارہا اسے پاکستان جانے کا کہتی ہے لیکن وہ مانع ہے۔ کئی ماہ و سال گزر جاتے ہیں بچے جوان ہوجاتے ہیں ۔ اور عتیقہ کو ہجر کھا جاتا ہے۔ اسے پاکستان میں اپنے گھر کے آنگن میں لگے تلسی ، ریحان کے پودے کی خوشبویاد آتی ہے۔ وہ انسانوں سے ملنے کو ترس  چکی ہے۔ یہی ہجر اس کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے  ۔ عتیقہ مر جاتی ہے اور اس کی میت اس کے بچے پاکستان لے جاتے۔ علی پردیس میں اکیلا رہ جاتا ہے۔

عتیقہ ، اوریگان، تلسی،ریحان، یہاں خوشبو کی علامتیں ہیں۔۔۔ خوشبو کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس افسانے میں پردیس میں رہنے والے لوگوں کی تنہائی کو بیان کیا گیا ہے۔  اس افسانے میں بھی ماضی کی بازیافت  ملتی ہے۔ علی احمد حسرتوں کو پیکر معلوم ہوتا ہے۔ افسانہ نگار نے اپنی منظر کشی سے اس افسانے میں حسرتوں کے دُکھ بھر دیے ہیں۔  اور دیارِ غیر میں رہنے والوں کے جذبات و احساسات کو  بڑی خوبی سے برتا ہے۔عتیقہ کے مکالمے  اس افسانے کا مغز ہیں۔علی احمد بھی عتیقہ کی خوشبو سے ماورا نہیں ہو سکا۔

’’ یہ میرا گھر نہیں ہے۔ میرا گھر وہیں تھا جہاں ماں کی مٹھاس اور بابا کی چھاؤں تھی۔ وہاں میرے آنگن میں تلسی کے کتنے ننھے ننھے سے پودے تھے….. علی احمد، مجھے لگتا ہے میں بھی تلسی ہوں، تم نے مجھے پاکستان سے اکھاڑ کر اچھا نہیں کیا۔ مجھے یہ مٹی راس نہیں آئی۔ میں مرجھا گئی ہوں۔ مجھے میری جڑوں سمیت لوٹا دو، شاید میں جی اٹھوں۔‘‘ (۷۸)

      میرا بڑا بیٹا بوٹ کی ٹو سے زمین کرید رہا تھا۔

ابو، امی کی Dead Body پاکستان جائے گی۔

میرے حواس جواب دے گئے۔ مجھے تو اپنی دھرتی کا نام تک بھول گیا تھا۔ میں کسی کو بھی نہ روک سکا۔ عتیقہ نے کہا تھا، نا….. میں پاکستان ضرور جاؤں گی، تم مجھے روکنا چاہو گے، لیکن نہیں روک سکو گے۔ ‘‘(۷۹)

پچھلا دروازہ:

حامد سراج کی تخلیق کی معراج اس کا خاکہ ’’میّا ‘‘ ہے۔ یہ افسانہ بھی اسی خاکے کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔  افسانے میں حقیقت نگاری کو افسانوی رنگ میں لپیٹ کر قارئین تک پہنچایا گیا ہے۔  حامد سراج کے گھر کے پچھلے دروازے سے چند قدم کے  فاصلے پر آبائی قبرستان ہیں جہاں ان کے آباؤ اجداد آسودہ خاک ہیں۔ افسانہ نگار اسی قبرستان میں کھڑا ہے اور اپنے جذبات کا بیان کررہا ہے۔ اسے اپنی موت کا انتظار ہے۔ ماں کے جانے کے بعد اس کی زندگی لایعنی ہو گئی ہے۔ کہانی خود کلامی کے پیرائے میں آئے بڑھتی ہے۔ اس میں اس کا اپنا کردار ہی مرکزی کردار ہے۔ پلاٹ بڑا سیدھا سادہ سا ہے۔ موت ہی تمام غموں سے نجات کا ذریعہ ہے۔

’’موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں‘‘

افسانے کے آخر میں  پچھلے دروازے سے اس کا بیٹا اسے بلا رہا ہوتا ہے۔ یہاں پچھلا دروازہ زندگی کی علامت ہے جہاں  بیوی بچے ہیں، مال و متاع ہے اور آگے موت باہیں پھیلائے بغل گیر ہونے کو بے تاب!!! افسانہ نگار اپنی ماں سے والہانہ محبت کا اظہار کچھ یوں کرتا ہے۔

’’ ماں کے بعد اسے یقین ہوگیا کہ دنیا ایک ویران سراہے۔ گھڑونچی پررکھے گھڑے میں پانی خشک ہوگیا، چھپر تلے چڑیوں کے گھونسلوں میں ان کے بچے مرگئے، آنگن میں لگے شرینہہ اورشیشم کے درختوں کو دیمک چاٹ گئی، صحن میں لگے ہینڈ پمپ کا پانی گرگیا، کمروں میں چمگادڑ وں نے بسیراکیا، اس کے والد کی دونالی بندوق کے لکڑی کے دستے کو دیمک خوراک سمجھ کر چٹ کرگئی، گھر کی بوسیدہ دیواروں میں موت رینگنے لگی۔ اس نے ایک دن اپنے والد کی بوسیدہ ڈائری کے اوراق آہستگی اورنرمی سے کھولے تو ایک شعرپڑھ کر بہت رویا۔

جان کر منجملہ خاصانِ مے خانہ مجھے

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

ماں کی الماری میں قرآن، سیپارے، درودشریف کی کتابیں، کریشیہ، اُون، سلائیاں، کڑھائی کے گول فریم، تسبیحیں اورایک تاگے میں تسبیح کے پروئے سات دانے جو اس کی ماں نے عمرے کی ادائیگی کے دوران خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ہرچکرکی گنتی شمارکرنے کے لیے ساتھ رکھ لیے تھے۔ سراسے جاتے ہوئے کوئی بھی تواپنی جائداد ساتھ لے کر نہیں گیاتھا۔ ‘‘(۸۰)

اس افسانے  کا اسلوب بیانیہ ہے اور آپ  بیتی کے انداز میں لکھا گیا ہے۔

ایک سو اِکیاون:

یہ افسانے بھی ’پچھلا  دروازہ ‘ کا ہی تسلسل   ہے۔ پچھلے دروازے میں ماں کی محبت مرکزی نقطہ تھاا ور یہ افسانہ والد کی محبت اور ان کے معمولات کا بیان ہے۔  یہ افسانہ اور خاکے کی کوئی درمیانی صورت کی تحریر ہے۔ جملوں کی ساخت اور بے ساختگی نے اس میں افسانوی رنگ کو نمایاں کیا ہے۔   

اس کا اسلوب بھی بیانیہ ہےلیکن اپنے بیٹے سے مکالمے کے ذریعے کہانی آگے بڑھتی ہے۔  حقیقت نگاری کارنگ غالب ہے اس کے ساتھ ساتھ ماضی کی بازگشت واضح سنائی دیتی ہے۔ ایک سو اکیاون استعارہ ہے والد کی سفید پوشی کا جسے انہوں نے زندگی بھر زیبِ تن کیا۔  وفات کے بعد والد کے اکاونٹ سے کل متاع ایک سو اکیاون روپے بر آمد ہوتی ہے۔

’’ ایک دن اس کی ماں نے پوچھا….. ٹریکٹرکی بہت زیادہ آمدن ہوتی ہے کیا…..؟

نہیں بی بی، لوگوں کی باتوں پرکان نہ دھراکرو۔ اﷲ نے دال روٹی دے رکھی ہے۔ صبرشکرکیا کرو، سفیدپوشی کا بھرم قائم ہے۔

اسی سفید پوشی کے بھرم کے قائم رکھنے کو بیٹیوں کی شادی پرتیس ایکڑ زمین بک گئی۔ تاکہ وہ اپنے سسرال میں آسودہ رہیں۔ چنیوٹ سے فرنیچربن کرآیا۔ جس نے دیکھا، انگشت بدنداں رہ گیا۔ بیٹیوں کی رخصتی آن بان اورشان سے ہوئی۔ بیٹیوں کی رخصتی کے بعد پھروہی زمین، دولت اورامارت کے بارے لوگوں کی چہ مگوئیاں اور اس کے ابوکی وہی بُردباری، تحمل اورقناعت….. گھرمیں سادگی اورمعمولاتِ زندگی معمول پر۔ ‘‘ (۸۱)

لوٹایا ہوا سوال:

اپنی شناخت کا مسئلہ ہمیشہ ہی زیرِ بحث رہا ہے۔  ہر کوئی اپنی شناخت کروانے کے لیے سابقے لاحقے لگاتا ہے۔ کسی کو دُنیاوی جاہ وحشم اور رشتے داروں کے عہدوں پہ مان ہے تو کوئی مقدس بزرگ ہستیوں کا اپنی شناخت کا پیمانہ بناتا ہے لیکن سوال پھر وہی کہ ہماری اصل شناخت ہے کیا!!!

افسانہ نگار نے بھی اس افسانے میں دو کرداروں کے ذریعے اس مسئلے کا اجاگر کیا ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ غور ہے کہ حامد کے یہاں حقیقت نگاری بدرجہ اتم موجود ہے۔ حامد سراج کا سلسلہ نسب بزرگ ہستیوں سے ملتا ہے اس لیے ان کے تذکرے سے افسانے کی فضا مقدس ہو جاتی ہے۔   ایک کردار اپنی ظاہری شان و شوکت پہ نازاں ہے اور غرور کی حد تک اس کی  ریاکاری کرتا ہے جبکہ دوسرا کردار روحانیت میں اپنی پناہ ڈھونڈتا ہے۔۔۔افسانے کے آخر میں  ذاتی شناخت کا سوال اٹھایا جاتا ہے جس کا جواب دونوں کے پاس موجود نہیں۔

’’ مجھے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آپ کی ذاتی شناخت کیا ہے؟ اورنسبت کس سے ہے…..؟

اورجب میں یہ پوچھ رہاتھا تواپنے نسب کی آخری کڑی اندرہی اندرگن چکاتھا…..

اس کاایک پاؤں تسبیح خانے کے اندراوردوسراجوتی میں تھا۔ اس نے آنکھیں اٹھاکرمجھے دیکھا…..

اس کی پُتلیاں ٹھہری ہوئی تھیں۔

ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں مجھے یوں محسوس ہوا، میراہی سوال اس کی ٹھہری پتلیوں سے منعکس ہوکرمیرے سارے وجود کواپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔‘‘(۸۲)

 مسافر تو گیا:

حامد سراج کے افسانوں کے کردار اس کے اپنے ماحول سے نمو پاتے ہیں۔ وہ جس معاشرت کا حصہ ہے اس کی کہانیاں بھی اس سے جلا پاتی ہیں۔  مسافر تو گیا ایک ایسے حکیم کی کہانی ہے جو  اپنی بچپن کی محبت سے پسند کی شادی کرتا ہے ، لڑکی جنسی رویوں میں حکیم سے دو قدم آگے ہے۔ ماں باپ کی وفات کے بعد، حکیم صاحب کا سگا بھائی حکیم کی بیوی کے رویے کی وجہ سے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ جبکہ حکیم عبدالرحمٰن پہ بیوی نے ایسا جادو کیا ہے کہ وہ اپنی آبائی حویلی اس کے نام کر دیتا۔ اس کی بیوی وہ حویلی آگے اپنے بھائیوں کے نام کروا دیتی ہے۔ آسمان رنگ بدلتا ہے اور حکیم کی بیماری اسے چارپائی سے لگا دیتی ہے اور پھر اسے گھر بدر کر دیا جاتا ہے۔  اپنے پیر خانے میں جائے پناہ ڈھونڈتا ہے ۔جہاں بابا عزیز اس کی خدمت کرتا ہے۔ حکیم اپنے بھائی عبدالحمید کی راہ تکتا تکتا یہ سرائے چھوڑ جاتا ہے۔

بیانیہ تکنیک کے اس افسانے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں کہانی کا اختتام ہے۔ دوسرے حصے میں شروعات اور تیسرے حصے میں کرداروں کے تعارف کی گرہیں کھلتی ہیں۔ ان کرداروں کے ذریعے افسانہ نگار نے سماجی توڑ پھوڑ اور خاتونِ خانہ کے کردار کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔  بھائیوں کی محبت بھی جب اظہار کا ہجر اوڑھ لیتی ہے تو مسافر کو تو جانا ہوتا ہے۔ عبدالحمید نے بھی دیر کر دی۔ یہ افسانہ بھی حقیقت نگاری کے فن میں گوندھا ہوا ہے۔ کرداروں  ک کشمکش واقعات جنم لیتے ہیں اور واقعات سے کہانی مکمل ہوتی ہے اور مسافر اپنی حقیقی منزل کو سدھار جاتا ہے۔ حامد سراج کے افسانوں میں کہانی میں دلچسپی کو قائم رکھنے کے لیے جزئیات نگاری سے کام لیا ہے۔

’’ میں مسافر….. عبدالرحمن….. جس کی روح میں آبلے ہی آبلے ہیں۔ میرے اندرماضی کا ناسورپل رہاہے۔ اندر سے گل سڑگیاہوں میں۔ میرے وجود سے لوگوں کو گھن کیوں نہیں آتی۔ شاید مجھے روح نے ڈھانپ رکھا ہے۔ نہیں رہے گی تومجھے اٹھا کر گڑھے میں ڈال آئیں گے۔ پیوندِ خاک ہوجاؤں گا۔ میں چلاگیا توکچھ بھی نہیں ہوگا۔ ساری کائنات کا نظام اسی طرح رواں دواں رہے گا۔ کسی ایک کے مرجانے سے کچھ بھی تونہیں بدلتا۔‘‘(۸۳)

کہانی میں ہجر  آہیں بھرتا بھرتا اگلے جہاں سدھار جاتا ہے۔ جب آپ کے اپنے ہی بے اعتنائی برتیں  تو دکھوں کا مداوا کیسے ہو!!!

ٹھنڈی چائے:

ٹھنڈی چائے ایک استعارہ ہے علامت ہے بیوی کی محبت کا جو اپنے شوہر کی بے اعتنائی اور شکی مزاج کی بدولت  ٹھنڈی ہو چکی ہے اس نے اپنے ہی تصورات میں کوئی اور راج کمار تخلیق کر لیا ہے جسکا کوئی ظاہری وجود نہیں۔

ارینہ ایک نہایت حسین لڑکی ہے جس کی شادی  ارتات احمد سے ہو جاتی ہے ، ارینہ کا حسن اسے محو کیے رکھتا ہے لیکن یہی حسن  شک کی وجہ بھی بنتا ہے ۔  ارینہ ایک با حیا اور با کردار لڑکی ہے جس کا وجود صرف ارتات کے لیے ہے جبکہ ارتات کے رویے کی وجہ سے ارینہ کا باطنی وجود ارتات کی پہنچ میں نہیں رہا۔  یہاں عورت کی نفسیات تک پہنچنے کی سعی کی گئی ہے۔ عورت مکمل عورت تب ہوتی ہے جب وہ باطنی وجود اور ظاہری وجود ہم آہنگ ہو ورنہ وہ ایک گوشت پوست کا مجمسہ بن کے رہ جاتی ہے۔  اور مرد  کے لیے محض ٹھنڈی چائے  ہوتی ہے۔

بیانیہ اور مکالماتی تکنیک کے اس افسانے میں  گھر کی مقدس اور محبت سے بھر پور زندگی میں انسانی رشتوں کے تصادم کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ کیسے انسان کے ذہنی افق بدلتے ہیں۔  ٹھنڈی چائے ‘ کرداروں کی کیفیات کا علامتی اظہاریہ ہے۔ افسانہ نگار نے آخر میں ٹھنڈی چائے کی پیالی میں اس رشتے کا منطقی انجام دکھایا ہے۔

’’  شیشے کی میز پر رکھی چائے کی پیالی ٹھنڈی ہو گئی تھی۔

ارینہ۔۔۔؟

گہری خاموشی تھی۔۔۔

اس نے دوبارہ پکارا۔۔۔ارینہ ناول میں اتنا استغراق۔۔۔!

اسے اس کی خاموشی سے الجھن ہونے لگی

ارینہ۔۔۔ارینہ۔۔۔

اس نے ناول بند کیا اور پوچھا

یہ آپ کس کو پکار رہے ہیں۔۔۔؟

تمہیں۔۔۔

لیکن معاف کیجیے میں تو۔۔۔ارینہ نہیں ہوں۔۔۔! آپ کون ہیں اور کس سے ملنا ہے آپ کو۔۔۔؟

ارینہ۔۔۔!

یہ آپ کے لیے کوئی چائے رکھ گیا ہے، پی لیجیے۔

اس نے ارینہ کی آنکھوں میں رکھی اس کے حصے کی چائے کی پیالی  جانے کب سے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔‘‘(۸۵)

ایک دوسرے کے لیے جذبےا ور احساسات سدا ایک سے نہیں رہتے ا س لیے رشتوں میں خیال کی گرمی رہنی چاہیے۔

کتنے مہر دین:

افسانہ نگار کہانی کا آغاز نہایت دلچسپ انداز سے کرتا ہے ۔ اسلوب بیانیہ ہے۔ تمہید باندھی  گئی ہے کہ کہانی کیا رُخ لے سکتی ہے۔  یہ کہانی ہمارے معاشرہ کا ایک ایسا ڈرامہ ہے جو ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ طاقت ور ، کمزور کا استحصال کرنے پہ مُصر ہے۔ چاہے یہ استحصال مالی ہو یا جسمانی۔۔۔

اس افسانے کا عنوان ہی کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ جو جاگیرادری سوچ کا علمدار ہے۔ جس کے لیے مزارعے کی بیٹی اس کی رکھیل ہے اور اپنی بیوی اس کی باندی۔۔۔

اس افسانے کے کردار اپنی داخلی کیفیات سے اپنا تعارف کرواتے ہیں۔  کہانی کا مزاج ایسا ہے کہ جابر کے خلاف نفرت انگیز جذبات پیدا ہوں اور مظلوم کے ساتھ ہمدردی ہو۔  

افسانے میں ایک ان پڑھ مزارع کی بیٹی اور خوبرو مالدار عورت کی نفسیات اور داخلی کیفیات کا تجزیہ ایک نئے انداز کیا گیا ہے۔  یہاں افسانہ نگار نے مزارع کی بیٹی ستو کے کردار کے ذریعے   عورت کی اندرونی کشمکش کو خود کلامی کے اسلوب میں بیان کیا ہے۔

’’ زیورات آہستہ آہستہ وہ اپنے بدن پر سجانے لگی۔ پہلے اس نے کانوں میں بڑے بڑے جھمکے ڈالے،گانی اور پھر کٹمالا،دونوں ہاتھوں میں سونے کی بارہ بارہ چوڑیاں ڈال کے انہیں غور سے دیکھنے لگی۔ یہ میں ہوں ستو…..؟ یا کوئی اور ہے۔ میں یونہی اُپلے تھاپتی اور زندگی برباد کرتی رہی۔ اک ذرا سی دیر میں کیسے زندگی بدل گئی۔

وہ اس وقت چونکی جب اس کی ماں نے اسے مہردین کی بیوی کے کہنے پر برتن دھونے کا کہا۔ برتن مانجھتے مانجھتے وہ اندر سے ایک فیصلہ کر چکی تھی۔ برتن دھوتے ہوئے ہاتھ میں سے صابن پھسل کر گرنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ ‘‘(۸۵)

افسانہ نگار نے عورت کو کمزور نہیں دکھا یا ہے بلکہ یہ مہر دین کی بیوی کو ایک نمائندہ کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے اور کسی جاگیردارانہ سوچ کے تابع نہیں رہ سکتی۔  

’’ تم نے پہلی ہی رات طلاق کا کہہ کر مجھے عذاب میں ڈال دیا ہے۔ مجھے اپنے وجود سے نفرت ہوگئی ہے۔ خاوند اگر محبت عزت اور وقار نہ دے سکے تو کم سے کم اسے عذاب بھی نہیں دینا چاہیے۔ جانے تم لوگ شادی کیوں کرتے ہو۔ تمہیں جنسی تسکین کے لیے کتنی ہی عورتیں مل جاتی ہیں تو پھر ایک عورت کو کیوں باندھ کے رکھنا چاہتے ہو…..؟ہمارا کیا قصور ہے…..؟ کیا یہ معاشرہ صرف مرد کا ہے۔ کیا ہماری طرح تم لوگوں کی عزت داغ دار نہیں ہوتی۔ دولت کیوں تم سب کو کالے کرتوتوں کے باوجود صاحبِ توقیر بنائے رکھتی ہے۔ میں نے تو تمہارے سوا کسی کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایک رات تو صبر کر لیا ہوتا۔ مجھے آزما تو لیا ہوتا۔ میں نے ایک فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘(۸۶)

حامد سراج کی کہانیاں حقیقت پسندی کے رنگ میں رنگی ہیں۔ یہ کردار، مکالمے اس کے اردگرد کے ماحول سے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بس انہیں اپنی فنی مہارت کے ذریعے افسانوی رنگ دیتا ہے۔

ہونٹ کنارے:

ہونٹ کنارے ایک مختصر مگر بھرپور افسانہ ہے۔ تکنیک بیانیہ ہے اور  افسانے کے ماحول میں حسرت  کی دبیز تہہ جمی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک بیوروکریٹ ہے جو شہر میں آکر اپنی گاؤں کی محبت کو ردی کے بھاؤ بیچ چکا ہے۔ ’ہونٹ کنارے‘ محبوب کا تل بھی اسے دولت اور عہدے کی ہوس کو کم نہیں کر سکا۔ کہانی کے آخر میں جب وہ اپنی بہن کے جنازے کے لیے گاؤں جاتا ہے تو اس کی ملاقات اپنی محبت سے ہوتی ہے جو آرتھرائیٹس کی مریضہ  بن چکی ہے لیکن   لڑکی جس کا نام زیتون ہے ، سلیم الرحمٰن سے اس کا حال پوچھتی  ہے مگر اس کی فلائٹ کا وقت آ پہنچا ہے اور اس کے لیے محبت کے سچے جذبوں کے لیے چنداں وقت نہیں۔

’’ بھائی زیتون آپ کو سلام کرنے اور تعزیت کے لیے آئی ہے۔ آپ اندر کمرے میں چلئے وہ آرتھرائیٹس کی پیشنٹ ہے۔

ایک عورت، ملول اجڑی اجڑی سی، کھنڈر…..

سارے ماہ و سال زندہ ہو گئے۔

زیتون کی کلائی میں چاندی کاوہی کنگن تھا جو اس نے شہر جاتے سمے آخری نشانی کے طور پر اسے دیا تھا۔

سلیم الرحمن کے ہونٹوں پر تل سلگنے لگا۔

آپ کیسے ہیں…..؟

وہی لہجہ وہی آواز….. وہی اپنائیت۔

بیورو کریسی کی فائلوں کے انبار سے نکل کر اس نے زیتون کو آواز دینا چاہی

لیکن…..

فلائٹ پکڑنا ضروری تھا۔ ‘‘(۸۷)

یہاں افسانہ نگار نے سلیم الرحمٰن کی اندرونی کشمکش کو اجاگر کیا ہے کہ وہ واپس پلٹنا بھی چاہتا ہے لیکن فائلوں کا بوجھ اتنا ہے کہ قدم نہیں اُٹھتے۔ اس افسانے میں افسانہ نگار نے ایسے نوجوانوں کا نوحہ لکھا ہے جو گاؤں کی سوندھی مٹّی کی خوشبو کو بھول کر شہر کی کنکریٹ میں مصنوعی خوشبوؤں سے دل بہلاتے ہیں۔  

آخری آئس کیوب:

آئس کیوب یہاں استعارہ ہے علامت ہے ایسے شخص کی جو ذرا سی حدت کو بھی برداشت نہیں کر پاتا اور پگھل جاتا ہے۔ اپنے جذبات میں بہہ جاتا ہے۔ سر عام بہک جاتا ہے۔ اپنا ہوش کھو بیٹھتا ہے۔ یہ افسانہ خیال کی رو کی تکنیک میں لکھا گیا ہے۔ اس کے دو مرکزی کردار ہیں ایک مرد اور عورت۔کہانی کرداروں کے درمیان مکالمے سے آگے بڑھتی ہے ۔ مرد محبت میں جنسی لذت کو معیوب سمجھتا ہے جبکہ عورت اسے معراج مانتی ہے۔ انہیں ذہنی کیفیات کی بنیاد پر کہانی آگے بڑھتی ہے۔

’’لمحہ موجود میں  تمہاری ہوں میں۔۔۔مکمل تمہاری۔۔۔تم مجھے پورا  پورا کیش کر لو۔ کل آنے والا تمہیں کیش نہ کروانے دے تو پھر مجھے نہ کہنا۔۔۔‘‘ص۔

مرد  عورت کی محبت میں یخ بستہ ٹھنڈا رہتا ہے جبکہ عورت  میں ابال اُٹھ رہے ہیں۔ یہاں افسانہ نگار نے ان دو کرداروں  کے باہمی مکالمے سے ان کی جنسی رجحانات کی عکاسی کی ہے۔

’’تم سیاچین گلیشیر ہو۔۔۔برف۔۔۔ٹھنڈے ٹھار، میں تمہیں نہیں پگھلا سکی۔۔۔

جانے وہ کون خوش نصیب ہو گی جو تمہیں مکمل حاصل کرے گی‘‘(۸۸)

لڑکی کو اس کی مرضی کا آئس کیوب اپنے خاوند کی شکل میں مل جاتا ہے  جو کہ ایک عملی آدمی ہوتا ہے۔ اس افسانے میں مرد کو ایک ’کمپوزڈ‘ شخص دکھایا گیا ہے جبکہ عورت کو مغربی  روشن ضمیری کے نمائندہ فرد کے طور پہ پیش کیا گیا ہے۔

مکینک کہاں گیا:

حامد سراج کے افسانوں میں  درد کی لہر اور معاشرتی مسائل کی نبض  شناسی ہے۔ یہ ایک  ایسے باپ بیٹے کی کہانی ہے ، جس میں بیٹا ایک فرمانبردار نوجوان ہے لیکن اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا جبکہ باپ ایک سخت گیر شخص ہے۔ جو والد کی شفیق پن سے نا بلد ہے۔ یہ کہانی پانچ حصوں میں بٹی ہے ہر حصہ کسی  نہ کسی واقعے پہ منحصر ہے۔ اسی طرح کہانی روانی سے آگے بڑھتی ہے۔  بیٹا مکینک بن جاتا ہے اور آخر میں گردوں کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔  اور زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد باپ اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہے۔

’’ ایک بوڑھاشخص ٹوٹی چارپائی دروازے کے سامنے ڈالے ہرآنے جانے والے سے سوال کرتا ہے…..

’’اے بھائی….. اے بابا….. بیٹا….. اوبیٹا….. بی بی….. میری بات توسنو۔‘‘

’’میکینک کہاں گیا…..!‘‘

یہ کہانی ایک متوسط بؤطبقے کے ایک خاندان کی ہے جس میں باپ بیٹے کے رشتے کے درمیان خواہشات کے تصادم  اور ان کے باہمی تعلاقات کی دراڑیں واضح دکھائی گئی ہیں۔

افسانہ نگار کیونکہ ایک ناصحانہ سوچ کا حامل شخص ہے اس لیے وہ یہاں بھی تعلقات کو بچانے کےلیے اپنا مشورہ بیوی کی زبان سے دینا نہیں بھولتا۔

’’ وہ جب سے دکان پر کام کرنے لگا تھا، اس کے باپ نے اسے ڈانٹناکم کردیا تھا۔ اسے وہ رات بھی یادتھی جس میں اس کی ماں باباکی پائینتی بیٹھی سمجھانے کے انداز میں کہہ رہی تھی ’’اولاد جوان ہوجائے تو اسے مارا کرتے ہیں نہ بے جاڈانٹاکرتے ہیں، اولاد کی بھی عزتِ نفس ہوتی ہے، وہ مجروح ہوتی ہے اولاد زِچ ہوکرخودکشی کرلیتی ہے یاباغی ہوجاتی ہے۔ ہمارے بیٹے کی صحت کمزور ہے پھربھی وہ دلجمعی سے کام سیکھ رہاہے۔‘‘(۸۹)

افسانے میں مکالمے بڑے با معنی اور جاندار ہیں۔ افسانہ نگار کی پختہ فکر کی غمازی کرتے ہیں۔ باپ بیٹے کے تعلق کی مثالی صورت کیا ہونی چاہیے، اور کیا والدین کو اپنے خواب بچوں کے سر تھوپنے چاہیں ۔۔۔افسانہ نگار نے انہیں زاویوں کے گرد اس افسانے کی بُنت کی ہے۔

مولوی قاسم بہت مصروف ہے:

یہ کہانی ہے نئے دور کہ ایسے شخص کی جس کے پاس خود سے ملاقات کا بھی وقت میسر نہیں۔   وہ بھاگنا چاہتا ہے زمانے کی بے سود مصروفیات سے لیکن عبث!!!  بالآخر اسے مولوی قاسم کی شکل میں ایک ایسا شخص ملتا ہے جو سراپا اطمینان ہے جس کی مصروفیات شام کھوہ  کے کنارے  سرمئی اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں۔  وہ اس کے ساتھ اپنا وقت گزارتا ہے اور گڑ والی چائے کے مزے لیتا ہے۔ ’ثبات  ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘  ۔۔۔ مولوی قاسم وہ گاؤں چھوڑ جاتا۔۔۔ وقت کا پہیہ  دوڑتا رہتا ہے پھر یک روز وہ مولوی قاسم کی تلاش میں اس کے گاؤں پہنچتا ہے جہاں اس کا استقبال بڑے  تپاک سے کیا جاتا ہے ، لیکن اب کی بار گڑ والی چائے کی جگہ چینی نے لے لی ہے اور  مولوی قاسم شہر کسی ضروری کام سے روانہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ شخص پھر تنہا رہ جاتا ہے۔

’’ وقت کے گھومتے پہیے نے انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہر انسان بے سمت گھوم رہا ہے۔ وہ رات میں جب اپنے بستر پر آ کے گرتا ہے تو اسے یاد آتا ہے یہ تو وہی بستر ہے جسے صبح دم اس نے چھوڑا تھا۔ انسان بہت مصروف ہے۔ وہ سوچتا ہے اور بھاگتا ہے۔ فاصلہ ہی کتنا ہے، قبر تک ہی تو جانا ہے وہ پھر بھی برق رفتار ہے اسے اپنی ذات کے لیے بھی ایک لمحہ میسر نہیں۔‘‘(۹۰)

اس مختصر افسانے کا اسلوب نہایت سادہ لیکن پُر تاثیر ہے۔ بیانیہ  اور خود کلامی کی تکنیک سے کام لیا گیا ہے۔ بنیادی موضوع ہماری بے جا مصروفیات ہیں۔ جس کو افسانہ نگار نے نہایت چابکدستی سے مختصر الفاظ میں قاری تک پہنچایا ہے۔  اس افسانے میں اداسی  اور مایوسی کے ملے جلے جذبات ہیں کہ اب کوئی بھی ایسا شخص نہیں بچا جو اپنی سمت کا تعین کر سکے اور زمانے کی دوڑ سے بچ سکے۔

گاؤں کا غیر ضروری آدمی:

یہ کہانی  خیرو لوہار کی ہے جو گاؤں والوں کے ہر کام آتا ہے لیکن اس کی وفات  پر کوئی آنسو بہانے والا نہیں ۔ کسی کو بھی اس کی موت کا دُکھ نہیں ۔ بے حسی دلوں میں سرایت کر چکی ہے۔  

یہ بیانیہ تکنیک کا افسانہ ہے۔ افسانہ نگار کی تحریروں میں سماجی حقیقت پسندی کا رنگ نمایاں ہے۔ اس لیے وہ یہاں بھی ان حقیقتوں کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتا جنہیں ہمارا معاشرہ بھول چکا ہے۔  وہ لوگوں کی بے اعتناعی پہ  خود کلامی کے انداز میں مخاطب ہے:

’’ موت کے قدموں کی چاپ سننے میں باہرنکلا۔ زندگی معمول پرتھی۔ کسی نے بھی اس کی موت کا نوٹس نہ لیا۔ کسی زبان پر اس کا تذکرہ نہ تھا۔ ابھری ہڈیوں، دھنسے گالوں، بڑھی شیو اورکرخت ہاتھوں والا خیرولوہارگاؤں والوں کے درمیان نہ تھا۔ غربت نے اس کا لہو چوس کرہڈیوں پرصرف چمڑہ رہنے دیاتھا۔ اس کی ہڈیاں اس کی مفلسی کی طرح نمایاں تھیں۔ اس کی صحت گرتی رہی۔ سناہے اسے یرقان تھا۔ اسے کوئی سنبھالنے والانہ تھا۔ زمین نے جب زندہ انسانوں کی بے حسی دیکھی تواسے اپنی آغوش میں سلالیا۔ وہ خوش قسمت تھا اسے جمعہ کا دن نصیب ہوگیا۔‘‘

افسانہ نگار کی منظر نگاری اس قدر حقیقی ہے گویا وہ خود گاؤں کی ان گر آلود گلیوں میں گھوم گھوم کر لوگوں کی بے حسی کا نوحہ پڑھ رہا ہو۔ جب وہ خیرو کی میت پر پہنچتا ہے تو وہاں کا غربت سے اٹا منظر اور پُراسرارخاموشی دل دہلا دینے والی ہے۔

’’ اس کی ایک بیٹی کو دورمیں نے کھیتوں میں باپ کے سائے کے بجائے شیشم کے سائے تلے کھڑادیکھا۔ وہ اکیلی کھڑی رورہی تھی۔ اس کے سرپرپھٹادوپٹہ اورپاؤں میں ٹوٹی چپل تھی۔ نوبجے جب کفن پہنچاتواس وقت دو کی بجائے چارعورتیں بیٹھی تھیں۔ کوئی ہوک، کوئی کوک نہ تھی۔ عجب سناٹاتھا۔ میرادم گھٹنے لگا۔‘‘(۹۱)

افسانہ نگار کی اپنی شخصیت انسان دوستی پہ استوار ہے۔ وہ چاہتا ہے ہم ہر شخص کوانسان سمجھیں جس کی شکل انسانوں والی ہے۔ چودھری کا جنازہ اس لیے بڑا ہو کہ وہ چودھری ہے اور کمّی کو کندھا دینے والوں کی بھی کمی ہو۔ ہم ایک بیمار معاشرے میں زندہ ہیں جو بنیادی اخلاقیات سے عاری ہے۔ یہ گاؤں کا غیر ضروری آدمی نہیں بلکہ نہایت ضروری آدمی تھا لیکن حیف صد حیف!!

نماز قصر:

بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں ۔ شادی سے پہلے ماں باپ کا گھر اس کا اپنا گھر ہوتا ہے لیکن شادی کے بعد وہ میکہ بن جاتا ہے۔  ہماری معاشرتی روایات میں بیٹی کے لیے والدین کا گھر  ایک سرائے ہوتا ہے اور وہ مسافر! جسے اب نماز قصر (سفر کی نماز)ادا کرنی ہوتی ہے۔   یہ کہانی بھی ایک ایسے بیٹی کی کہانی ہے جو اپنے گھر کے ذرے ذرے محبت کرتی ہے اور ہمیشہ کے لیے یہ گھر چھوڑ جانے کا تصور ہی اسے رنجیدہ کر دیتا ہے۔

 افسانہ نگار  نے  جزئیات نگاری سے اس کی خواہشات کو قلم بند کیا ہے۔   لڑکی اپنی بیتی خود بیان کرتی ہے ۔  وہ اپنی بچپن  کو ہمیشہ کے لیے اپنی مٹھی میں بند رکھنا چاہتی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں!

’’ تیسرے روز کی بات ہے۔

گھر میں چہل پہل تھی، رونق، رنگ ونور کی برسات…..

میں گھر آئی تھی۔

عصر کے وقت میں نے کھنکتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

’’بابا….. اب یہاں اس گھر میں مَیں مکمل نماز ادا کروں گی یا نمازِ قصریعنی سفر کی نماز…..؟‘‘

’’بیٹا….. یہ گھر اب تمہارا نہیں ہے تم نمازِ قصر ادا کرو گی۔‘‘

دیواروں کی درزوں میں میرا بچپن رونے لگا….. !‘‘(۹۲)

ذرا غور کیا جائے تو شائبہ ہوتا ہے یہ کہانی ان کے اپنے گھر کی کہانی ہے۔ کیونکہ حامد سراج اپنے تجربات اور مشاہدات کو اپنی کہانیوں کا حصہ بناتا ہے تاکہ تاثیر قائم رہے۔

افسانے میں نہایت ہی سادگی اور اختصارسے عورت کی زندگی کا المیہ بیان کیا ہے۔


حوالہ جات  باب دوم

۱۔ حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹ ،ص۔ ۲۰

۲۔حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۱۴۵

۳۔ ایضاً،ص۔۴۸۴

۴۔ایضاً، ص ۔ ۴۷۰

۵۔ منیر احمد فردوس۔ محمد حامد سراج بطور حیات نگار، مشمولہ

۶۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۱۱۵

۷۔ ایضاً، ص۔ ۱۲۰

۸۔ ایضاً، ص۔ ۹۹

۹۔ایضاً، ص۔۱۴۵

۱۰۔ ایضاً، ص۔ ۴۹۹

۱۱۔ ایضاً، ص۔ ۳۱۵

۱۲۔ مجنون گورکھ پوری، ادب اور زندگی۔ اردو گھر ، علی گڑھ، ۱۹۸۴ء، ص۔ ۶۸  

۱۳۔ انور سدید،ڈاکٹر، موضوعات، مکتبہ عالیہ، لاہور، ۱۹۹۱ء، ص۔ ۳۷

۱۴۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۶۲

۱۵۔ ایضاً، ص۔ ۶۱

۱۶۔ ایضاً، ص۔ ۱۰۴

۱۷۔ ایضاً، ص ۔ ۳۲۴

۱۸۔ سلیم اختر، ڈاکٹر، مجموعہ ڈاکٹر سلیم اختر، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۶، ص۔ ۲۴۰

۱۹۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۵۱۶

۲۰۔ ایضاً، ص ۔ ۵۱۷

۲۱۔ ایضاً، ص ۔ ۲۸۰

۲۲، ایضاً، ص ۔ ۴۹۸

۲۳۔ ایضاً، ص ۔ ۳۴۹

۲۴۔ ایضاً، ص ۔ ۳۵۷

۲۵۔ ایضاً، ص ۔ ۳۵۸

۲۶۔ ایضاً، ص ۔ ۵۴

۲۷۔ ایضاً، ص ۔ ۵۲

۲۸۔ ایضاً، ص ۔ ۴۹

۲۹۔ ایضاً، ص ۔ ۱۱۲

۳۰۔ ایضاً، ص ۔ ۱۱۳

۳۱۔ ایضاً، ص ۔ ۱۹

۳۲۔ ایضاً، ص ۔ ۷۳

۳۳۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، آخری آدمی، انتظار حسین، اوراق، شمارہ ۳، لاہور، ۱۹۶۷، ص۔ ۳۰۳

۳۴۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۴۴۴

۳۵۔ ایضاً، ص۔ ۴۴۳

۳۶۔ ایضاً، ص۔ ۴۴۳

۳۷۔ وقار عظیم، ڈاکٹر، داستان سےافسانے تک، اردو اکیڈمی سندھ، کراچی، ۱۹۹۰، ص۔ ۱۲۱

۳۸۔  قمر رئیس، پروفیسر، اردو میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب، کتابی دُنیا، دہلی، ۲۰۰۴،ص۔ ۲۶۸

۳۹۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۶۵

۴۰۔ ایضاً، ص۔ ۶۹

۴۱۔ عطش درانی، شوکت صدیقی کے ناول جانگلوس کا تجزیہ، مضمون مطبوعہ ، اکادمی ادبیات، ص۔ ۲۷۴، ۲۷۵

۴۲۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۳۸۰

۴۳۔ ایضاً، ص۔ ۳۷۹

۴۴۔ احمد ندیم قاسمی، بگولے(افسانوی مجموعہ)، نظم، مکتبہ اردو لاہور، ۱۹۴۱

۴۵۔ احمد ندیم قاسمی، اردو افسانے کے مسائل، شمارہ نقوش، لاہور، ص۔ ۱۱۰

۴۶۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۴۰۹

۴۷۔ ایضاً، ص۔ ۴۰۱

۴۸۔ ایضاً، ص۔ ۴۳۹

۴۹۔ ایضاً، ص۔ ۳۴۹

۵۰۔ سجاد ظہیر، روشنائی، مکتبہ اردو، لاہور، ۱۹۵۶، ص ۔۶۷

۵۱۔ حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹ ،ص۔ ۱۲۵

۵۲۔ سلیم اختر، ڈاکٹر، مجموعہ ڈاکٹر سلیم اختر، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۶، ص۔ ۱۸۴

۵۳۔ حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹ ،ص۔ ۱۵۵

۵۴۔ ایضاً۔ص۔ ۱۷۰

۵۵۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۳۹۶

۵۶۔ حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹ ،ص۔ ۲۰۴

۵۷۔ فضل ربی، ڈاکٹر، ’’شوشیالوجی آف لٹریچر‘‘، کامن ویلٹھ پبلشرز، دہلی، ۱۹۹۲، ص۔ ۶

۵۸۔ ۔سلیم اختر، ڈاکٹر،’’افسانہ اور افسانہ نگار‘‘ سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۹۱، ص ۳۲

۵۹۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۴۵

۶۰۔ ایضاً، ص۔ ۱۰۴

۶۱۔ ایضاً، ص۔ ۱۳۴،۱۳۵

۶۲۔ایضاً، ص۔ ۵۳۳

۶۳۔ حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹ ،ص۔ ۱۸۸

۶۴۔ ایضاً۔ ص۔ ۱۸۹

۶۵۔ ایضاً۔ ص۔۳۷

۶۶۔ ایضاً۔ ص۔۴۰

۶۷۔ ایضاً۔ ص۔۳۱

 ۶۸۔ ایضاً۔ ص۔۲۷

۶۹۔ ایضاً۔ ص۔۴۸

۷۰۔ ایضاً۔ ص۔۵۰

۷۱۔ ایضاً۔ ص۔۵۷

۷۲۔ ایضاً۔ ص۔۵۷

۷۳۔ ایضاً۔ ص۔۶۲

۷۴۔ ایضاً۔ ص۔۶۴

۷۵۔ ایضاً۔ ص۔۶۵

۷۶۔ ایضاً۔ ص۔۶۷

۷۷۔ ایضاً۔ ص۔۷۵

۷۸۔ ایضاً۔ ص۔۸۱

۷۹۔ ایضاً۔ ص۔۸۲

۸۰۔ ایضاً۔ ص۔۸۵

۸۱۔ ایضاً۔ ص۔۹۱

۸۲۔ ایضاً۔ ص۹۷۔

۸۳۔ ایضاً۔ ص۔۱۰۰

۸۴۔ ایضاً۔ ص۔۱۲۹

۸۵۔ ایضاً۔ ص۔۱۳۲

۸۶۔ ایضاً۔ ص۔۱۳۶

۸۷۔ ایضاً۔ ص۔۱۴۰

۸۸۔ ایضاً۔ ص۔۱۴۵

۸۹۔ ایضاً۔ ص۔۱۶۱

۹۰۔ ایضاً۔ ص۔۱۸۰

۹۱۔ ایضاً۔ ص۔۱۸۳

۹۲۔ ایضاً۔ ص۲۰۸۔

Chapter 3

باب سوم

محمد حامد سراج بطور ناول نگار: فکری و فنی جائزہ

ناول کی تعریف

محمد حامد  سراج کے ناول   کا تجزیہ کرنے سے پہلے ناول  کی تعریف اور اس کے اجزائے ترکیبی پہ ایک نظر ضروری ہے۔

ناول اردو ادب کی ایک بہت خوبصورت اور دیگر اصناف سے قدرے نئی صنف ادب ہے۔یہ ایک فرضی نثری قصہ یا کہانی ہوتی ہے جس میں حقیقی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ اگر اس میں فرد اور سماج انسان کے جزبات تسلسل اور ہنر مندی کے ساتھ پیش کیے گے ہوں۔ صنف ادب ميں اس کي تعريف بنيادی زندگی کے حقائق بيا ن کرنا ہے۔ ناول ی  اگر جامع تعريف کی جائے تو وہ کچھ يوں ہو گی ”ناول ايک نثری  قصہ ہے جس ميں پوری ايک زندگی بيا ن کی جاتی ہے۔ در اصل ناول وہ صنف ہے جس میں حقیقی زندگی کی گونا گوں جزیات کوکبھی اسرار کے قالب میں کبھی تاریخ کے قالب میں کبھی رزم کے قالب میں کبھی سیاحت یا پھر نفسیات کے قالب میں ڈھالا جاتا رہا “ناول کے عناصر ترکیبی ميں کہاني پلاٹ، کردار ، مکالمے ، اسلوب اور موضوع و غيرہ شامل ہيں۔

ناول کی تعریف مختلف نقادوں کی روشنی میں ..


  .کلاویوز کے مطابق …

ناول اُس زمانے کی حقیقی زندگی اور طور طریقوں کی تصویر ہوتی ہے جس میں کہ وہ لکھا گیا ہو   
  .جے ۔جے ۔پرسٹلے کے مطابق ۔۔۔
 ناول بیانیہ نثر ہے جس میں خیالی کرداروں اور واقعات سے سروکار ہوتا ہے  
  ..اندراۓ مراۓ کا خیال ہے ..
”حقیقی ناول کبھی رومانی نہیں ہو سکتا اس کے لئیے حقائق کو سہارا اور حقیقی سوسائٹی کا پس منظر ضروری ہے “
 .ای۔ایم ۔فارسٹر کا کہنا ھے۔۔
”ناول ایک خاص طوالت کا نثری قصّہ ہے “
پروفیسر بیکر نے ناول کے لیے چار شرطیں لازم کردیں ۔قصہ ہو ، نثر میں ہو، زندگی کی تصویر ہو اور اس میں ربط  ہو یک رنگی ہو۔ یعنی یہ قصہ صرف نثر میں لکھا نہ گیا ہو بلکہ حقیقت پر مبنی ہواور کسی خاص مقصد یا نقط نظر کو بھی پیش کر تا ہو ۔

در اصل ناول وہ صنف ہے جس میں حقیقی زندگی کی گوناگوں جزئیات کو کبھی اسرار کے قالب میں کبھی تاریخ کے قالب میں کبھی رزم کے قالب میں کبھی سیاحت یا پھر نفسیات کے قالب میں ڈھالا جاتا رہا لیکن ان تمام شکلوں میں جو چیزیں مشترک تھیں وہ قصہ، پلاٹ کر دار، مکالمہ، مناظر فطرت، زمان و مکاں نظریۂ حیات اور اسلوب بیان کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

            اردو میں ناول کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔یہ صنف ، ادب برائے زند گی کی ترجمانی کرتی ہے۔ ناول نویس اپنی خواہش کے مطابق کوئی نئی دنیا نہیں بنا تا ، وہ ہماری ہی دنیا  سے بحث کرتا ہے۔ جس میں دکھ ہو سکھ ہو ، جنگ بھی ہو، صلح بھی ہو ا ور پیدایش بھی ، زمیندار بھی ہو اور مزدور بھی ، بادشاہ بھی ہو اور غلام بھی۔ ناول نگار صرف تخیل میں پرواز نہیں کرتا ہے۔ اس کے قصے کی بنیاد روز مرہ کی زندگی ہوتی ہے۔بیسویں صدی میں جو ناول تخلیق ہوئے ان ناولوں کو تخلیق کر نے کے پیچھے ناول نگاروں کا کیا رجحان رہا یا کیا نظریات رہے۔ جدو جہد آزادی کا اردو ناول پہ کیا اثر رہا ، ادب لطیف نے ناول کو کس طرح متاثر کیا ترقی پسند تحریک نے اردو ناول کو کس حد تک متاثر کیا ، حلقہ ارباب ذوق کے تحت لکھے گئے ناول کس قسم کے ہیں ، تقسیم ہند کے المیے نے اردو ناول کو کس حد تک متاثر کیا ، علامت نگاری اور تجریدیت نے اردو ناول کو کس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور جدیدیت و مابعد جدیدیت نے اردو ناول پر کون سے ان مٹ نقوش چھوڑے، ان تمام رجحانات اور نظریات کی روشنی میں ہم اردو کے ناولوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

برصغیر میں اردو ناول کا آغاز ڈپٹی نذیر احمد سے ہوتا ہے۔ اردو  کا پہلا ناول ’مراۃ العروس‘ لکھا گیا۔  جس اسلوبِ بیان اور پلاٹ کو ڈپٹی نذیر احمد نے  استعما ل کیا ہے  اس پر ہمارے نقاد اسے مکمل ناول قرار نہیں دیتے۔ پروفیسر وقار عظیم لکھتے ہیں:

’’ نذیر احمد جے جن قصوں کو متفقہ طور پر ناول کا نام دیا گیا ہے ان میں فن کے وہ لوازم موجود نہیں  جن کا مطالبہ جدید ناول سے  کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (۱)

ڈپٹی نذیر احمد کے بعد پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ناول ’فسانۂ آزاد‘ اور عبدلحلیم شرر کا ناول ’فردوس بریں‘  قابلِ ذکر ہیں ۔ ڈاکٹر وقار عظیم  تینوں ناول نگاروں کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں۔ 

’’ نذیر احمد، سرشار اور شرر ہماری ناول نگاری کی تاریخ میں فنی روایت کے پیش رو ہیں ۔ ان تین ابتدائی ناول نگاروں نے اپنے ادراک کی دور بینی سے قصہ گوئی کی دُنیا میں ایک نئی ڈگر کا کھوج لگایا۔ اپنے فنی عمل کے ذریعے  سے اس ڈگر میں ایسی شمعیں جلائیں جنہوں نے ہر آنے والے کی راہ  روشن کی۔ ‘‘ (۲)

ان تیں بڑے ناول نگاروں کے بعد، مرزا ہادی رسوا، راشد الخیری، اور پریم چند اہم نام ہیں جنہوں نے ناول کو سینچا۔

بیسویں صدی جہاں اپنے ساتھ بڑے انقلاب لائی وہاں پر ہی ایک باقاعدہ تحریک کی شکل میں ترقی پسند تحریک ۱۹۳۶ میں وجود میں آئی۔ اس تحریک نے ادب پہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔اس تحریک کے زیرِ اثر لکھنے والوں میں سجاد ظہیر، عزیر احمد، عصمت چغتائی اور کرشن چندر اہم نام ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد جتنے ناول لکھے گئے ان میں فسادات اور سماجی مسائل سے دوچار افراد کی مشکلات کو بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ناول نگاری کی تیسری جہت وہ ناول ہیں جن کے محرکات تقسیم ہند اور اس کے پیدا ہونے والے حالات تھے۔ احسان اکبر اس تیسرے رجحان کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’ تقسیم کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا۔ ان میں جمیلہ ہاشمی کا ’تلاش ِ بہاراں‘، قراۃالعین  حیدر کا  ’آگ کا دریا‘، عبد اللہ حسین کا ’اداس نسلیں ‘ اس موضوع کو چھوتے ہیں۔ خدیجہ مستور کا ناول ’آنگن‘ کا رویہ تاریخی  نہیں مگر اس کے باوجود ان کے ہاں تاریخ اور کہانی کے حقائق کا بڑی عمدگی سے ادغام ہوا ہے۔ ‘(۳)

ساٹھ کی دہائی میں  میں ترقی پسند تحریک پر پابندی اور مارشل لا دو ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے اردو ادب میں  مغربی افکار و نظریات کا اثر بھی پڑا۔ ناولوں میں جدید رویوں اور نئی تکنیکس کو مدنظر رکھ کر لکھا گیا۔ ان لکھنے والوں میں ممتاز مفتی،  انتظار حسین، انور سجاد اور انید ناگی کا نام اہم ہیں۔ اس کے علاوہ صدیق سالک، اکرام اللہ اور مستنصر حسین تارڑ نے بھی ناول کو نئی بلندیوں پہ پہنچایا۔ 

ناول کی روایت بہت وسیع ہے ۔ اکیسویں صدی کے اہم نام یہ ہیں۔ مرزا اطہر بیگ کا ’ غلام باغ‘، شمس الرحمٰن فاروقی کا ’کئی چاند تھے سرِ آسمان‘،  اور مشرف عالم ذوقی ۔  ڈاکٹر احسن فاروقی ناول نگاروں کے فن کے بارےمیں لکھتے ہیں:

’’ فلسفی بحث کرتا ہے لیکن ناول نگار میں فکر ایک با کمال تصویر میں بدل جاتی ہے۔ اوریہ مکمل تصویر ناول کو قائم و دائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ‘‘ (۴) 

اردو ناول  کی اس روایت کے اجمالی جائزے کے بعد ہم   حامد سراج کے ناول کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

’آشوب گاہ‘

محبت کی داستان کی جزئیات  ہمیشہ ہی ایک سی رہی ہیں چاہے وہ کسی بھی  رنگ، نسل یا علاقے کے لوگ ہوں۔ بنیادی جذبات  و احساسات کا دھارا ایک ہی سمت میں بہتا ہو اور وہ محبوب کی ذات ہوتی ہے۔ ہجر ، وصل کا  خواہشمند ہوتا ہے اور وصل میں ہجر کی شدتوں کو یاد کر کے لذت کشید کی جاتی ہے۔ یہ ایک دائرہ ہے ۔  سوال بڑا سادہ لیکن تہہ در تہہ ہے کہ کیا ہر بار وصل خوشی کا باعث بنتا ہے !!!  یا ہجر اور وصل کی ’’وکھو وکھ دواں دیاں لذتاں نے‘‘  کے مصداق   اپنی اپنی چاشنی ہے۔ یہ کہانی بھی محبت ہی کے ریشم سے بُنی گئی ہے لیکن یہ ریشم ایسا سفاک واقع ہوا ہے کہ اپنے ہی خالق کا دم گھونٹ دیتا ہے۔  اس ناولٹ کہ دو مرکزی کردار ہیں جن کے گرد کہانی گھومتی ہے۔ خلجی اور خدیجہ!

دونوں کی محبت بچپن  سے  ہی ایک دوسرے کے لیے سوا ہوتی ہے اب جبکہ وہ یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں اور  شادی کر کے نئی زندگی بسانے کے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن   کچھ انجانی الجھنیں ہیں جورکاوٹ تھیں۔  حامد سراج نے کہانی کے آغاز  سے ہی ایک سحر بھرنے کی سعی کی ہے مکالماتی اور بیانیہ طرزِ اسلوب سے کہانی آگے بڑھ رہی ہے۔ خلجی ، بیٹھا سوچ رہا ہے اور کہانی فلیش بیک میں چلتی ہے۔  

’’ بچپن سے لے کر لمحۂ موجود تک زندگی کا ہر منظر اس کے سامنے پھیلا تھا۔ وہ بچپن خلجی کے ساتھ کھیلی تھی۔ ان وہ خود مٹکتار تھی۔ اس نے یونیورسٹی میں زندگی کو کھلی آنکھوں سے پرکھا تھا۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں چاہتی تھی کہ ایک  فیصلہ کر لے۔ پھوپھی کے گھر سے یونیورسٹی تک برس ہی کتنے تھے لیکن ان برسوں میں شعور کی اس منزل تک پہنچ گئی کہ پلٹ کر دیکھتی تو بچپن کے سارے لمحے اسے خواب لگتے تھے۔ خلجی اس کی زندگی کا مرکز تھا۔ وہ مرکز سے کت کر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ‘‘ (۵)

ہجر خلجی کی بہت اندر پیوست ہو چکا ہے۔  آخری ملاقات  کی کسک سینے میں سلگتی ہے۔ یادیں امڈ آتی ہیں۔ زندگی ایک ’پزل‘ کی طرح ہے جس کے حل ہونے پہ موت   بغلگیر ہوتی ہے۔    ناآسودہ وصل کی خواہش میں انسان  ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔  وہ خود کو کسی رومانوی کہانی کا ایک کردار سمجھتا ہے  وہ اسے جیتا ہے۔ خلجی خودکلامی کرتا ہے۔:

’’ میں خلجی ہوں ۔ میرے بالوں مین تیری ملاقات کی آخری دھوپ کی حدت ہے۔ میں اب بھی تیری تلاش میں ہوں ۔ تیری ،یری کہانی کوئی نہیں ہے وہی پرانی کہانی ہے جو ہر سال، ہر صدی میں اپنی آپ کو دہراتی ہے محبت بوسیدہ موضوع نہیں ہے جسے میں طاقِ نسیاں پر دھروں۔ میں تجھے تلاش کر لوں گا۔ جب پہلی بار تونے میرے من میں اپنی یاد کو کاشت کیا تھا ۔ تو نے سبز رنگ کی قمیض ، نارنجی شلوار اور نارنجی پھولوں والا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ خلجی اس رات سو نہیں سکا تھا۔ وہ ابھی تک جاگ رہا ہے۔ ہر دور میں جب جدائی کی تپتی ریت پر یاد کے پاؤں جلتے ہیں تو خلجی جاگتے ہیں۔ ‘‘(۶)

کہانی فلیش بیک میں آگے بڑھتی ہے دونوں کی محبت جدائی کے دہانے پہ کھڑی ہے خدیجہ اپنے پھوپھی کے گھر جانے کو ارادے باندھ رہی ہے اور خلجی  جدائی کے ڈر سے ہی آدھا ہوا جاتا ہے۔ اور خدیجہ کو خط پتر لکھنے کی تلقین کرتا ہے ۔    کہانی کا  اگلا سین شروع ہوا چاہتا ہے خلجی ریلوے اسٹیشن کے تھانے کی دیوار کے ساتھ پڑے باسیدہ بینچ پر بیٹھا ہے ۔ جہاں  وہ اپنے ماضی کی گھتیاںسلجھا رہا ہے وہیں حال میں موجود معاشرتی برائیوں سے صرفِ نظر نہیں کرتا ۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کیسے تھانوں میں مجبور عورتوں کی عزتیں پامال کی جاتی ہے کیسے کسی کی گٹھڑی ، کسی اور کے حوالے کی جاتی ہے  ۔۔۔

خلجی روزانہ ریلوے اسٹیشن پہ  جاتا تاکہ  جس روز وہ جاہے  اسے جدائی کا شاق نہ گزرے۔  وہ شدت احساس میں یہ بھی چاہتا ہے کہ  وہ کبھی اپنے پھوپھی کے گھر نا  جائے۔  اسے اس بات کا اندیشہ ہے کہ دوری محبت کو کم کر دیتی ہے۔  وقت بڑا سفاک ہے وہ مصروفیات کی گرد ڈال دیتا ہے۔  اور محبت تو اپنے آپ میں ایک مکمل عمل ہے۔  جس کے لیے یکسوئی درکار ہوتی ہے اور خدیجہ کو اپنی پھوپھی کے جا کر یہ میسر نہیں ہو گی۔

’’ محبت میں کوئی اور کام نہیں کرنا چاہیے۔۔۔صرف اور صرف یاد کرنا چاہیے۔سونا جاگنا، اُٹھنا بیٹھنا، چونکنا سب یاد ہونا چاہیے۔۔۔ بس میں نہیں رہ سکتا خدیجہ کہ بنا۔۔۔سچ مچ مر گیا تو۔۔۔؟ کیا وہ روئے گی۔۔۔؟ کون روتا ہے۔۔۔؟ وقت آنسو مگل جاتا ہے۔ خدیجہ  میری محبت ہے ، کمزوری، عادت یا ضرورت ہے۔۔۔ نہیں نہیں صرف محبت ہے۔ یہ کیا پاگل پن  ہے کہ روزانہ ریلوے اسٹیشن جانا۔۔۔ یہ زندگی بھی ایک ڈرامہ ہے لیکن یہ سالوں چلتا ہے۔ انسان خود ہی کردار اور خود ہی تماشائی ۔۔۔!‘‘ (۷)

ریلوے اسٹیشن سے خدیجہ کے گھر کا رستہ اس  کے لاشعور میں گھر کر چکا تھا وہ سیدھا  اس کے گھر پہنچ جاتا ہے۔  

کہانی  ایک بار پھر یونیورسٹی کی بھینی یادوں  کے جنگل میں جا نکلتی ہے۔  خدیجہ اپنے کلاس فیلو ریحان کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہے کہ اتنے میں خلجی کا فون آتا ہے ، خلجی کو ریحان کی موجودگی کا احساس ہوتا  ہے احساس رقابت جا گتا ہے اور وہ فون بند کر دیتا ہے۔ اسی دوران ریحان خدیجہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کرتا ہے جسے خدیجہ  بڑے سلیقے سے ٹال دیتی ہے ۔ مصنف نے یونیورسٹی کے ماحول اور خواب دیکھتی آنکھوں اور مسکراہٹوں کا کچھ یوں بیان کیا ہے۔:

’’ زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں ، رنگینی ، حسن اور گرم جوشی کے ساتھ اس کے درمیان موجود تھی۔ ابھی وہ عمر کے اس حصے میں  تھے جب دکھ اور غم جسم کو کاٹتے ہیں نہ  روح میں شگاف ڈالتے ہیں۔ ‘‘(۸)

ریحان جو تھوڑی دیر قبل خدیجہ پہ فریفتہ تھا اب  کچھ دیر بعد حنا کی زلفوں کا اسیر ہونے کو تھا۔ یہاں مصنف نے مرد کی فطرت کو بھی بیان کیا ہے کہ  وہ ہر چہرے میں اپنا چہرہ تلاش کرتا ہے ۔ وہ بہت سے بت تراشتا ہے اور ہر ایک کو پوجتا ہے جبکہ عورت ’فقط ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھا‘‘ کی دلیل پہ کاربند رہتی ہے۔ ریحان ، خدیجہ کو چھوڑنے حنا کے گھر جاتا ہے جہاں خلجی بھی موجود ہے ۔ ریحان اچانک حنا کو دیکھتا ہے اور دل ہار بیٹھتا ہے۔  

’’حنا کو معلوم نہیں تھا کہ ایک اجنبی جوان جس جے بال پریشان تھے وہ کافی پیتے پیتے اس کے عکس ساتھ لے گیا ہے۔ ‘‘(۹) 

گفتگو کے دوران حنا کا باپ ریحان سے محوِ گفتگو ہے ، ریحان کی باہر  جانے کی تمنا اسے کچھ غیر حقیقی معلوم ہوتی ہے۔  وہ اسے سمجھاتا ہے۔

’’ یہ مٹی ہماری ہے۔ یہاں جو درخت ہیں، ہودے اور زبان وہ تمہیں باہر نہیں ملے گی۔ میں بہت سے ملکوں میں گیا، نگر نگر کی سیر کی لیکن مجھے کہیں سکون نہیںملا۔ مین اس نتیجے پر پہنچا انسان کو اپنے وطن میں زیست کو سانس کرنا چاہیے۔ ‘‘(۱۰)

مصنف کے ہاں مٹی کی محبت اور وطن پرستی کا تصور بہت گہرا ہے اس لیے  وہ اس کا ذکر کرنا نہیں بھولتا۔

ناول کی کہانی  پھر اسٹیشن کے منظر کی طرف لوٹ جاتی ہے جہاں خلجی محوِ انتظار ہے۔ اور خدیجہ ٹرین پہ سوار ہونے کے لیے وہاں پہنچتی ہے  جبکہ خلجی کو وہاں ایک پُر اسرار شخص ملتا ہے جس باتیں عجیب ہیں جس کو قبروں کے کتبے پڑھنے اور ان کی تحریریں محفوظ کرنے کا شوق ہے۔ ان لوگوں کے کتبے بھی جو ابھی زندہ ہیں جیسے کہ خدیجہ! خلجی پریشانی کے عالم میں  یہ سب سُن رہا ہے۔  وہ خلجی کو اس کے دل کا احوال بھی بتا دیتا ہے کہ تم یہاں اپنی محبوبہ کو رخصت کرنے آئے ہو۔ مصنف نے یہاں اس کردار کے ذریعے خلجی کو مستقبل کے اندیشوں سے واقفیت دلائی ہے۔ اصل میں وہ شخص خلجی کا ہی پرتُو ہے۔ وہ کہتا ہے:

’’ میں جادوگر  نہیں ۔۔۔میری آنکھوں میں بھی وہ بیٹھی ہے، نہیں نکلتی۔ میرے آنسوؤں میں اُچھلتی، ناچتی اور خوش ہوتی ہے، کہیں نہیں جاتی۔ تیس برس سے میں انتظار کر رہا ہوں شاید وہ کسی ٹرین  سے اُترے۔۔۔ایسے ہی ایک روز میں اُسے سوار کرانے آیا تھا۔۔۔ پھر نہیں پلٹی۔۔۔ میں تیس برس سے یہاں موجود ہوں۔ میں پلیٹ فارم ہوں  ہر گاڑی مجھ پر رُکتی ہے۔ چکی جاتی ہے اگر ممکن ہو سکے تو اُسے کہو وہ تمہاری آنکھوں  سے چلی جائے۔۔۔یہ آنکھوں میں ایسی فصل کاشت کر جاتی ہیں۔ جو ہر موسم میں ہری رہتی ہیں۔ ٹرین گزر لینے دو۔۔۔ آج رات گارڈ روم میں آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر میں تمہیں اپنی کہانی سناؤں گا۔ میری کہانی میری طرح زندہ ہے۔ میں مر جاؤں گا کہانی نہیں مرے گی۔۔۔ ‘‘(۱۱)

یہ شخص خلجی کے دل میں یہ بات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے اپنی آنکھوں میں رہنے کی اجازت

مت دو۔۔۔وہ جا کر بھی تمہارے اندر کہیں کسی کتبے کی صورت موجود رہے گی۔  خدیجہ ٹرین پہ سوار ہو کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔ اور وہ  ساحر شخص خلجی سے گویا ہوتا ہے:

’’ وہ ٹرین میں سوار نہیں ہوئی۔ تمہاری آنکھوں میں رہ گئی ہے۔۔۔ ایسے ہی ہوتا ہے یہ صرف آنکھوں میں نہیں پورے وجود اور روح میں اپنا گھر تعمیر کرتی ہیں اور نقل مکانی کرنا بھول جاتی ہیں۔۔۔ گاڑی چلی گئی۔۔۔تم بھی اس گاڑی میں سوار تھے۔ یہاں تم نہیں تمہارا عکس رہ گیا ہے۔ ‘‘ (۱۲)

یہاں مصنف محبت کے جذبے کا بیان کرتا ہے کہ یہ وہ احساس ہے  جس کو فنا نہیں ہے۔ جسے موت نہیں آتی۔۔

وہ ساحر شخص خلجی سے مزید باتیں کرتا ہے قبروں کی کتبوں کی۔۔۔ ناولٹ کا یہ کردار معاشرے میں موجود برائیوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور اس کے عبرت ناک انجام سے بھی آگاہ کرتا ہے۔  وہ خلجی سے کہتا ہے کہ اسے یہ میراث سونپ کر جائے گا۔ اور ایک کتبہ  کی تفصیل بتاتا ہے۔:

’’ یہ دیکھو۔۔۔یہ تحصیلدار  ہمارا جدِ امجد تھا۔۔۔ یہ زمینیں ادھر ادھر پھینک دینے کا ماہر تھا۔ کہتا تھا۔۔۔رشوت مجھے راس آگئی ہے۔۔۔میرے خون میں رچ گئی ہے۔کتے کی موت مرا، کہنے والے کہتے ہیں جب یہ مرا تھا اس کی رال بہہ رہی تھی۔۔۔یہ ہے اس کا اُجڑا ہوا کتبہ۔۔۔کل رات موم بتی کی روشنی میں یہ کتبہ میں نے تلاش کیا۔۔۔‘‘ (۱۳)

وہ شخص خلجی کو کتبے سنا تا جاتا ہے اور  خبر دیتا ہے کہ تمہاری خدیجہ واپس نہیں آئے کی اور تم میری طرح  اسی پلیٹ فارم پر دفن ہو جاؤ گے۔

خدیجہ ٹرین میں سوار ہو جاتی ہے اب کہانی خدیجہ کی زبان بولنے لگتی ہے۔ اسے خلجی سے دور جانے کا غم بھی ہے اور دوبارہ ملنے کی چاہت بھی۔۔۔وہ اپنے کو سمجھاتی بھی اور انجانے خوف بھی پالتی ہے الغرض، ناولٹ اپنی تصوراتی  زمانوں سے گزرتا ہے۔ ناولت کا پورا پلاٹ تصوارتی مکالموں کے گرد گھومتا ہے جن کے پیچھے ماضی کی ملاقاتوں کا عکس موجود ہے۔ اب وہ محبت کے زویے سے گزرت شہر کو دیکھتی ہے۔:

’’ پلیٹ  فارم کے آخری سرے کو ٹرین نے چھوڑا تو خدیجہ نے معدوم ہوتے بورڈ  پر اپنے شہر کا نام پڑھنا چاہا۔۔۔

وہاں خلجی لکھا ہوا تھا۔۔۔

کاش کوئی لائل پور کی طرح میرے شہر کا نام بھی ’’خلجی‘‘ رکھ دے۔‘‘(۱۴)

’’وہ تانگے میں بیٹھی  تو تھوڑا سمت کر تاکہ ساتھ بیٹھنے میں تکلیف نہ ہو۔۔۔ تھوڑی دور تک رستہ پختہ تھا پھر وہ کچے راستے پر ہو لیے، تانگہ ہچکولے کھانے لگا۔ دور تک پھیلے منظروں میں اُسے یوں لگا ہر طرف خلجی موجود ہے۔ کبھی وہ تانگے کے ساتھ بھاگنے لگتا ، کسی لمحے وہ پائیدان پر اٹک کر اُس کا ہاتھ تھام لیتا۔ ‘‘ (۱۵)

یہاں مصنف نے محبت کا وہی تصور دیا ہے جو ہمارے یہاں ہر محبت کرنے والا اس کا تجربہ کرتا ہے۔ محب کو ہر شے میں محبوب ہی نظر آتا ہے۔ ہر آواز محبوب کی ہوتی ہے ،ہر منظر میں محبوب دکھائی دیتا ہے۔ خدیجہ بھی انہیں کیفیات سے گزرتی ہے۔

ناول  میں خلجی کو جو کرادر پلیٹ فارم پر ملتا ہے وہ ایک علامتی کردار ہے ۔ جو محبت کے مابعدالطبعیاتی تصورات سے روشناس کرواتا ہے۔ وہ محبت اور موت کو ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ شاید اس لیے کہ محبت بھی وصل کی  چاہت رکھتی ہے اور موت تو بذاتِ خود  وصل ہے حقیقی وصال۔۔۔وہ خلجی کو گاؤں کے عمر جہاں داد خان اور نور بی بی کی محبت کی کہانی  سناتا  ہے۔ جن کی شادی نہیں ہو سکی  لیکن انہوں نے اپنا مقبرہ بنوالیا اور پھر نور بی بی کو  کسی نے جھوٹی خبر دی کہ عمر فوت ہو گیا ہے وہ یہ صدمہ نہ سہہ سکی اور وہیں ڈھیر ہو گئی۔  اس کی موت کی حقیقی خبر جب عمر کو ملی  تو بھی یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور جہانِ  فانی سے کوچ کر گیا۔  دونو  ں کو ایک مقبرے میں دفن  کیا گیا۔ ان کی قبریں محبت کرنے والوں کے لیے منتیں ماننے  کی جگہ بن گئیں۔  خلجی خود کلامی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’عشاق کی نسل مجھ سے  چلے گی‘‘ یہاں مصنف یہ بھی باور کروانے  کی کوشش کرتا ہے کہ یہ زمانہ حقیقی محبت کا زمانہ نہیں ہے۔ یہاں سب سطحی ہے کہیں گہرائی نہیں ہے۔

خلجی اب گھر آ چکا ہے کالج سے اسے وحشت ہوتی ہے وہ ڈاک خانے جا کر خدیجہ کا بھیجا ہوا خط وصول کرتا ہے۔ مصنف نے جو منظر کشی کی ہے وہ قاری کو اسی  منظر میں لے جاتی ہے۔۔۔ خط، ریلوے اسٹیشن۔۔۔خلجی۔۔ وہ خط پڑھتا ہے۔ بلکہ  مراسلہ کی بجائے مکالمہ ہوتا ہے۔ خدیجہ خلجی سے کہتی ہے۔:

’’ خلجی جب محبت صرف محبت ہو ، ضرورت اور وقت گزاری کا مشغلہ نہ  ہو تو وجود اس آگ میں تپ کر کندن ہو جاتا ہے۔ روح عشق کا سراغ پالیتی ہے۔  عشق  سب کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ یہ جس کا نصیب ہو جائے وہ کوئلہ ہو کر ہیرا بن   جاتا ہے۔ ‘‘ (۱۶)

سامری کا کردار  اور خلجی اور خدیجہ کی بے پایاں  محبت ، مصنف کے اپنے تصور محبت کی عکاس ہے۔ وہ بھی اشفاق احمد کی طرح  محبت کو ایک ایسی قوت کے طور پر دکھا رہا ہے جو انسانی سرشت میں تبدیلی کا بنیادی سبب بن سکتی ہے۔

سامری نے خلجی سے کہا تھا اب تمہاری ساری عمر اسٹیشن ، پلیٹ فارم پر ہی گزرے گی۔ خلجی کے بابِ رزق کھلا بھی تو اسٹیشن ماسٹر کی صورت۔۔۔  وہ جب  اپنے پہاڑی اسٹیشن پر جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پہنچتا ہے تو  اچانک اس کی ملاقات خدیجہ سے ہوتی ہے وہ اسے اپنی نوکری کا بتاتا ہے۔  یہ ملاقات جہاں اسے مسرور کرتی ہے وہاں دوبارہ بچھڑنے پر ملول بھی کرتی ہے۔   وہ اپنے اسٹیشن پر پہنچتا ہے جہاں سابقہ اسٹیشن ماسٹر عملے سے اس کا تعارف کرواتا ہے اور سانپوں سے بچنے کی  احتیاطی تدابیر بھی بتاتا ہے۔

خدیجہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل  ہونے کے بعد اس نے مزید تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کی ۔ وہ خلجی کو فون کر کے ملنے کے لیے بلاتی ہے ۔ دونوں کی ملاقات   محبت کی لطافت سے لبالب تھی۔  خلجی واپس اپنے اسٹیشن پہ آجاتا ہے۔ یہاں بھی وہ خدیجہ کی یاد سے پہلو تہی نہیں کر پاتا۔ ہر لمحہ اسی کے خیال میں جیے جاتا ہے ۔ ناولٹ میں جہاں خلجی اور خدیجہ کی محبت کی کہانی رواں دواں ہے وہیں پہ کچھ ایسے نظریات اور فلسفے بھی مصنف اپنے قاری تک پہنچانا چاہتا ہے جس کا بنیادی تعلق ہماری  ثقافت  اور مشرقی روایات سے ہے اس میں ایک روایت عورت کی محبت میں یکتائی کا تصور ہے۔ :

’’ عورت اپنا  پہلا لمس پہلی محبت کبھی نہیں بھولتی۔ وہ اندھی بھی ہو جائے تو اپنی محبت کو سانس کی خوشبو سے پہچان لیتی ہے۔ ‘‘ (۱۷)(ص۔ ۳۰)

مصنف چونکہ ایک دیہاتی پسِ منظر کا شخص ہے اس لیے وہ دیہی روایات سے جڑی ہر اس شے کا تذکرہ کرتا ہے جو اس کے دل کے قریب ہے۔  خلجی پہاڑوں کی پگڈنڈیوں  سے ہوتا ہوا بازوروں میں سے گزرتا ہے اور  چشمِ تصور میں خدیجہ سے  ہم کلام ہے۔:

’’ یہ کھرے لوگ ہیں ۔ ان کے پاس وقت ہے یہ تھڑے پر بیٹھ کر چائے پی سکتے ہین، تانگے کا پہیہ بنا سکتے ہیں۔ وقت ان کی گرفت سے ابھی نہیں نکلا۔ یہ تڑکے جاگنے اور جلسے سو جانے والے خالص لوگ ہیں ۔ یہاں بازار سرِ شام بند ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ رات تاروں کی چھاؤں میں چوپال میں بیٹھ کت باتیں کرتے ہین۔ ایک دوسرے کے لیے ان کے پاس وقت ہے، محبت ہے ، مٹھاس ہے۔ خدیجہ یہاں ابھی ٹانگہ ہے۔۔۔ شہروں میں تانگہ مر گیا، معدوم ہو گیا، گھوڑے جنگلوں میں نکل گئے ہیں۔ انسان جنگلوں سے نکل کے گھوڑوں کی جگہ آگئے ہیں۔ سارا دن کاموں میں جُتے رہتے ہیں۔ ان کی باگیں اب عالمی منڈی میں بکتی ہیں۔ زمین پر انسان معدوم ہونے والے ہیں۔ جنگل راج پھیل رہا ہے۔۔۔یہاں بابا  تانگے کا پہیہ بناتا ہے ۔ اس کی قدر کرو۔ یہ انسان ہے یہ زندگی کی علامت ہے۔ اس کے ہاتھ چومو۔۔۔‘‘(۱۸)

خلجی اپنی ڈیوٹی پہ ہے اور اسے ایک شخص کی خبر ملتی ہے جو بندھا ہوا پٹری  پہ بے سدھ پڑا ہے۔  مصنف اب اس بڈھے شخص کی کہانی کے ذریعے معاشرے کی ایک اور برائی کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ جب خاوند  معاش کی سلسلے میں گھر سے دور جاتا ہے تو ایک بے وفا ، بے شرم بیوی اس کا فائدہ کیسے اٹھاتی ہے اور پتا لگنے پہ سُسر کو پٹری پہ پھنکوا دیتی ہے اور گھر آنے پر شوہر کو مار دیتی ہے اور ہماری پولیس چند روپوں کے عوض  اس عورت اور اس کے آشنا کو فرار کروا دیتی ہے۔   اس کے ساتھ ساتھ ناولٹ اب علامتی پیرائے میں عالمی سامراج کے ظلم و ستم اور انسانوں کے درندہ بننے کی کہانی بیان کر رہا ہے۔ خلجی واپس اپنے علاقے میں چھٹی پر آتا ہے  تو اسٹیشن پہ موجود تمام چہرے بدل چکے ہیں۔ پرانے چہرے مر چکے ہیں۔ خلجی وہاں کے سانپوں کا ذکر کرتا  ہوا یہاں کے انسان نما سانپوں کا ذکر بھی کرتا ہے۔ اس اثنا میں  سے وہی سامری کردار پھر سے ملتا ہے جو کتبے اکٹھے کرتا تھا۔ اس بار وہ اسے انسانی تذلیل اور روئے زمین سے انسانیت کی موت کی کہانی سناتا ہے۔وہ اسے بتاتا ہے کہ کیسے کمزور ملک ، طاقتور ممالک کی خوراک بن رہے ہیں۔مصنف کا انداز علامتی ہے وہ ظلم کی داستان کچھ یوں بیان کرتا ہے۔ :

’’ کچھ کمزور  ممالک  سے دھڑا دھڑ لاشیں آرہی ہیں۔ کام اتنا بڑھ گیا کہ روزانہ کی ڈیڑھ دو سو سے چار سو لاشیں معمول  ہو گئی ہیں ان سب کو اس کمرے میں ترتیب سے رکھنا ان کا الگ گروپ ترتیب دینا!‘‘

کون لوگ ہیں یہ ۔۔۔؟‘‘

’’انسان ہیں۔۔۔‘‘

حیوان انسان کو ماررہا ہے۔ یہ زمین کی خود روحیوانی پیداوار ہے، یہ انسان ہر گز نہیں۔ یہ اپنے دماغ۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ بلکہ یہ حیوانی دماغ لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ یہ اس زمین پر اپنی حکمرانی چاہتے ہیں حکمرانی کے لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ انسانوں کو چن چن کر قتل کرایا جائے۔۔۔‘‘(۱۹) 

پھر وہ  ایک خوشخبری سناتا ہے کہ تمہاری خدیجہ مقابلے کے امتحان میں اول آئی ہے۔ وہ گھر پہنچتا ہے تو ماں اسے خوب پیار دیتی ہے۔ گاؤں میں مہمانو ں کی آمد پر ایک خاص انداز سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں مصنف نے پھر گھر کا جو  سماں بیان کیا ہے اس میں گاؤں کی سوندھی سوندھی مہک آتی ہے۔ وہی چارپائیاں  اور کیس۔۔۔مٹی کا فرش اور پانی کا چھڑکاؤ، مصنف کا تعلق چونکہ دیہات سے ہے اس لیے کہانی میں بھی اس کا اظہار ملتا ہے۔

’’ صحن میں چارپائیاں  ترتیب سے بچھی تھیں، ان پر سفید چاندنیاں ، پائینتی  چار خانے والے کھڈی کے کھیس، تکیے جن پر ہاتھ سے کڑھائی کی گئی تھی، پانی کا چھڑکاؤ، گھڑونچی پر پانی کے چھ گھڑے جن کے پیندوں سے رستا قطرہ قطرہ پانی، چارپائیوں کے درمیان ایک بڑی میز جس پر سفید چادر قرینے سے بچھی ہوئی ۔۔۔

خدیجہ نے کھانے پر آنا تھا۔‘‘(۲۰)

    خلجی اور خدیجہ کی گفتگو میں ایک پہلو قابلِ غور ہے جب وہ کہتی ہے کہ ’’ کوئی راستہ نہیں مل رہا کہ ہم ایک ہو جائیں‘‘ یہ تمام صورتحال بڑی مبہم ہے کہانی کا ایک اہم نقطہ بغیر کسی واضح دلیل کے ہے۔ خلجی ایک اچھی پوسٹ پہ ہے ، خدیجہ بھی افسر اور صاحبِ فیصلہ ہے۔ تو پھر کیوں شادی نہیں ہو پارہی۔۔۔!!!   خلجی اسے کسی اور سے شادی کامشورہ دیتا ہے جبکہ خدیجہ اس سے کہتی ہے۔:

’’شادی کر لوں گی نا۔۔۔ رو سیکس کا ایک ٹکڑا حاصل کر لوں گی باقی ننانوے ٹکڑے تو تم نے لے رکھے ہیں۔ اس ایک ٹکرے کو میں نے کیا کرنا ہے۔۔۔ چھوڑو اس  موضوع کو۔۔۔ بہت سال گزار چکی ہوں۔ چند اور جمع کر لو۔۔۔ وہ بھی گزار جاؤں گی لیکن تیری خدیجہ کو کسی کا نہیں ہونے دوں گی۔ اب تو مضبوط فیصلے کرنے کی عادی ہو گئی ہوں ۔۔۔‘‘(۲۱)

اس کہانی کو ایک دوسری نظر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مصنف   کا مقصد ہی محبت میں ہجر کے واقعات کا  تحلیلِ نفسی  کرنا ہو۔  خلجی اور خدیجہ محبت کے شدید ترین احساس کے باوجود بھی ایک دوسرے کے نہیں ہو پارہے۔  ناولٹ کی فضا کو ہجر کے جبر  کے بیان سے سوگوار بنایا گیا ہے ۔

خلجی خدیجہ سے ملنے اس کے گھر جاتا ہے۔ باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ بچپن کی۔۔۔محبت کی۔۔۔ مصنف نے یہاں بھی اپنا نظریہ محبت خدیجہ کی زبان سے  برملا بیان کیا ہے۔ کہ محبت ٹین ایجرز کا کھیل نہیں ہے۔ اصل محبت ایک میچور ذہن کی پیدوار ہوتی ہے اور وہی اسے سنبھال سکتا ہے۔  وجہ اس کی یہ ہے کہ میچور عمر  کی محبت میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ مصنف نے آج کل کی محبت، بوائے فرینڈ گرل فرینڈ پہ بھی تنقید کی ہے۔  خدیجہ خلجی سے کہتی ہے۔:

’’ خلجی جنم دن پر کاڑد کت تبادلے، ویلنٹائن  کارڈ، ہوٹلوں میں کھانے، آوٹنگ، بانہوں میں بانہیں، فیشن کے نام پر کپڑوں سے چھلکتی جوانیاں ، مجھے محبت کے  نام سے نفرت ہو گئی۔ ‘‘ (۲۲)

دونوں کردارں کو یہ علم ہے کہ دائمی ہجر ان کا مقدر ہے اب وہ اس ہجر سے تکلیف سے لطف کشید کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔  :

’’ کبھی میری تلاش میں نکلو تو میں تمہیں کسی ریلوے  اسٹیشن پر ہی ملوں گا۔ ‘‘

میں بھی تو زندگی کی ٹرن مین بیٹھی موت کی منزل تک پہنچنے کی جلدی میں ہوں۔۔۔ٹرینوں کی کھڑکیوں میں مجھے مت کھوجا کرو۔۔۔ تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔۔ میں نے تمہیں صرف دکھ دیے ہیں۔۔۔ انتظار کی آگ میں پھینکا ہے تمہیں۔ خلجی میں تیری قصوروار ہوں ۔ میرا جی چاہتا ہے تجھے بانہوں میں چھپالوں ، اپنے ہونٹوں ے تیرے سارے درد چن لوں۔۔۔ اور کیا کیا۔۔۔ سوچتی ہوں، نہیں  بتا پاؤں گی حیا  آڑے آتی ہے۔۔۔ ہاں یہ یقین رکھنا خدیجہ تیری نہیں ہو سکی تو کسی کی بھی نہیں ہو گی۔۔۔‘‘(۲۳)

اب دوبارہ خلجی اپنے اسٹیشن پہ موجود ہے۔  جیسے کہ پہلے ذکر ہوا کہ مصنف کہانی کے ساتھ ساتھ جزئیات میں کچھ اور مقاصد کا حصول بھی چاہتا ہے جس کا اظہار کرنا نہیں بھولتا۔ جب قلی اسے صاب کہتا ہے تو وہ اسے  وہ انگریز کے جانے کے باوجود اس افسر شاہی نظام پہ دو حرف بھیجتا ہے۔ اسی دوران قلی اس کی توجہ  ٹرین  سے جڑے ان ناموں کی طرف مبذول کرواتا ہے جو سب انگریزی میں ہیں۔ٹوکن مین۔۔ واٹر مین۔۔۔وغیرہ۔۔۔ قصہ مختصر انگریز کی باقیات ابھی بھی موجود ہیں۔

کہانی آگے بڑھتی تو  خلجی کو ریحان اور  حنا کا خیال آتا ہے۔ یہاں مصنف پھر زندگی  کی بے ثباتی کے فلسفے کی گتھیاں سلجھانے میں لگا ہے۔ انسان تمام عمر اپنی تکمیل کا سفر کرتا ہے لیکن پھر بھی کچھ پڑاؤ ایسے ہوتے ہیں جو رہ جاتے ہیں ۔   اقبالؔ نے کہا تھا۔

سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک  تغیر کو ہے زمانے میں

 ’’ یہ زندگی چلتی  ہے۔ لوگ اس میں ملتے ہیں۔ بچھڑ جاتے ہیں۔ ہنستے ہیں دکھ سہتے ہیں۔ مشقت اٹھاتے ہیں۔ گل محمد مٹی میں  سو جاتے ہیں۔ کتاب بند ہو جاتی ہے۔ نئی کتاب کے ورق  کھل جاتے ہیں  کسی انسان کو آج تک نہیں معلوم کہ اس کی کتابِ زیست میں کتنے ورق ہیں۔ وہ روز اگلا ورق الٹتا ہے۔ پچھلا بوسیدہ ہو جاتا ہےباقہ اوراق میں اس کے شب و روز کا جو اندراج ہے وہ اس سے بے خبر جیتا، ہنستا روتا اور دکھ اٹھاتا ہے۔صرف انسان۔انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔

سکول کالج اور یونیورسٹی کے اوراق گم ہو جاتے ہیں۔

کبھی کہیں کوئی اچانک مل جائے تو خال و خد پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہنسی اور بے فکری کا زمانہ دفن ہو چکا ہوتا ہے۔

زندگی کی ’پزل‘ کے ٹکڑے نہیں ملتے۔ زندگی کیسے مکمل ہو۔ زندگی کہاں مکمل ہوتی ہے۔ زندگی کے ٹکڑے کٹ کر گم ہوتے رہتے ہیں اور انسان اپاہج ہو جاتا ہے۔ ‘‘(۲۴) 

 خلجی ٹرین میں بیٹھا اپنی منزل کی جانب گامزن ہے کہ اتنے میں وہی پُر اسرار شخص  وہاں داخل ہوتا ہے۔  وہ اسے کہتا ہے کہ میرے ساتھ چلو اور ان لاشوں کو حساب لگاؤ جو اس خودکش دھماکوں اور گولہ باری کے نتیجے میں ہوئیں ہیں۔ پھر وہ اسے بتاتا ہے کہ مسلمانوں پہ جو قتل و غارت کا الزام لگتا وہ سراسر دروغ گوئی اور پروپیگنڈا ہے۔  وہ اسے تاریخ کے اوراق سے کچھ حقائق دکھاتا ہے۔   وہ آ ج سے تین سو سال پہلے اور اب کے زمانے کی خون ریزی کا موازنہ کرتے ہوئے طنز کے نشتر چلاتا ہے۔ دراصل وہ یہ سمجھنانے  کی کوشش میں ہے کہ مذہب کا اس درندگی سے کوئی تعلق نہیں۔

’’ سترہویں صدی سے پہلے زمانہ تاریک تھا کیوں کہ وہ مذہبی تھا اس تاریک  دور میں کل ۳۸ کروڑ لاگ قتل ہوئے جس میں مسلمانوں کے ہاتھوں ۴ لاکھ اور منگولوں کے ہاتھوں ۷ کروڑ انسان قتل ہوئے۔

مغرب کی روشن خیالی  کے تین سو سالہ تاریخ میں  جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد ۲ ارب ہے ۔ اس میں مسلمانوں  کے ہاتھوں  مرنے والے انسان تعداد میں ۳ لاکھ ہیں۔ دو ارب انسانوں کو قتل کرنے والے مہذب  دہشت گرد بنیادی حقوق کے قائل تھے ، بنیادی حقوق اور بہیمیت ، سفاکی درندگی، بربریت متبادل اصلاحات ہیں۔۔۔!‘‘ (۲۵)

خلجی اس دنیا کے کاروبار ہائے زندگی پر تنقید کرتا ہے کہ ہم  بطور انسان بارود کی فصل کاشت کر رہے ہیں اور سبزے کے خواہش مند ہیں۔ خون سے زمین لال ہوتی ہے سبز نہیں۔۔۔ خلجی اس بات پہ قائل ہے کہ دنیا میں جو بھی ترقی ہے وہ ترقی معکوس کے سوا کچھ بھی نہیں۔     ساحر ، خلجی کو خلا میں لے جاتا ہے اورا سے زمین کا نظارہ کرواتا ہے ، خلجی اپنی خدیجہ کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔ اس کے نزدیک خدیجہ، پھول کا، بانسری کا، پرندوں کا، ہواوں کا، نیلے پانیوں کا استعارہ ہے۔ابھی کچھ امید باقی ہے۔۔۔زمین مکمل سرخ نہیں ہوئی۔

ساحر اب خلجی کو وصیت کرتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد مجھے تم دفن کرنا اور میرا لکھا ہوا کتبہ اس پہ  لگانا پھر وہ اسے اپنی محبت کی داستان سناتا ہے۔   اس کی خدیجہ نے خودکشی کر لی تھی۔  ا س کے نزدیک  مرضی کے بغیر شادی ، خودکشی کا دوسرا نام  تھا۔  

سامرین ساحر اسے ایک  قلعہ میں لاشوں والے کمرے میں لے جاتا ہے جہاں ایک لاش ساحر کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔   اس کے کتبے کے الفاظ تھے۔ ’ وہ جو ساری عمر اپنی لاش ڈھوتے ڈھوتے ایک دن لاش میں ڈھل گیا‘۔ دراصل یہ ہم میں سے اکثر انسانوں کو المیہ ہے کہ وہ تمام عمر اپنی لاش کو اٹھائے پھرتے ہیں۔

خلجی اب ریٹائر ہونے والا ہے۔ وہ اسٹیشن پہ پہنچتا ہے تو اس  خطوط کا ایک پلندہ دیا جاتا ہے جو اس پتے پہ آتے رہے تھے۔ ان میں ایک خط خدیجہ کا ہے۔ یاد کے نشتر  ہڈیوں کا گودا تک چاٹ جاتے ہیں۔ خط میں خدیجہ اپنا احوال بیان کرتی ہے خلجی کی خیریت دریافت کرتی ہے  اور خلجی سے مخاطب ہو کر محبت کے بارے میں اپنا نظریہ بیان کرتی ہے۔

’’ تم نے گلزار کی فلم اجازت دیکھی ہے یہ میری پسندیدہ ترین فلم ہے۔

محبت کی جنوں خیزی اور محبت کا احترام فلم کا تھیم ہے اور گلزار نے تین میچور کرداروں  میں اس کہانی کو ڈھالا ہے کہ محبت بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ یہ شدید سنجیدہ رویوں کا متقاضی ہے۔ بہرحال تمہاری رائے جو بھی ہو دیکھ کر بتاتا۔۔۔‘‘ (۲۶)

ناول کے اختتام میں خلجی ، خدیجہ کے خطوط پڑھتا ہے ، خدیجہ سات سمندر پار دور جا چکی ہے اور خلجی اپنا کتبہ لکھے سرِ راہ بیٹھا ہے۔

’’وہ زمین نے تعلق توڑ چکا تھا۔۔۔ آنکھیں ویران، چہرہ اجنبی ہر گزرنے والے سے لا تعلق۔۔۔ بس اکڑوں بیٹھا۔۔۔

مسافر اس کے پاس سے گزرتے ہیں ، لمحے بھر کو رُک کر اُس کا کتبہ پڑھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

زمین ڈھونڈ رہے ہیں کہ دفن ہو جائیں

ہم اپنے نام کا کتبہ اُٹھائے پھرتے ہیں‘‘ (۲۷)

ناول   اپنے اختتام کو پہنچتا ہے لیکن خدیجہ اور خلجی کے اس پُر سوز ہجر کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں پاتی۔ بظاہر کوئی ایسی مجبوری بھی مانع نہیں جو ان کو شادی سے روکتی ہو۔

المختصر، اس ناول کی فضا انتہائی سوگوار ہے۔  پلاٹ ،  دو موضوعات  کا مجموعہ ہے ، محبت اور عالمی جنگ و جدل۔  مصنف جہاں محبت میں ہجر کی کیفیات کو بیان کرتا ہے وہیں عالمی سامراج کی تباہ کاریوں پہ بھی نوحہ کناں ہے۔  اس کہانی  کے تین مرکزی کردار ہیں۔ خلجی، خدیجہ اور ساحر۔۔۔ ساحر کا کردار ایک مبہم کردار ہے۔ جس سے قاری  اپنی توجہ کہانی پہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ کرداروں کی بُنت نہ ہونے کے برابر ہے  جس سے ناول میں کہانی پن کی تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔  ناول   میں جن مقامات کی سیر کرائی گئی ہے وہ مافوق الفطرت ہیں جس نے ناول ، داستان کے دائرے میں داخل ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ مصنف کا اصلاحانہ انداز فکر ناول کی مکالموں میں واضح ہے۔  بقول  انجم پروین:

’’ فن اور تکنیک  دونوں اعتبار سے ’آشوب گاہ‘ ایک نیا تجربہ معلوم ہوتا ہے۔ محبت، اس کی تشنگی اورا س میں ملنے والے غموں کا اس قدر حقیقی اور موثر بیان کیا گیا ہے کہ ناول کا لفظ لفظ محبت کی خوشبو اور درد میں ڈوب جاتا ہے۔ایک نا معلوم کردار کی موجودگی اور اس سے متعلق بیان کردہ جزئیات قاری کے مطالعہ میں خلل اندازی کرتی ہیں جس سے ذہن مرکز سے بھٹک جاتا ہے۔ ‘‘(۲۸) 

جیسا کہ کہا گیا کہ یہ ناول ایک نیا تجربہ ہے تو پھر بہتری کی گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔  قیوم تنولی کی رائے کچھ یوں ہے۔

’’ آشوب گاہ، میں یک زمانی فلیش بیک کی تکنیک کثرت سے برتی گئی ہے۔ کچھ اس طرح کہ متعدد مقامات پر کرداری تصویر جامد اور کہانی بہ مشکل آگے بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔ ناول مجموعی منظر نامے پر بظاہر دو مرکزی کرداروں خلجی اور خدیجہ کی باہمی گاڑھی رومانیت کی دھند چھائی ہے لیکن دیگر معاون  کرداروں  نے اس میں متنوع روزن بھی بنا رکھے ہیں  جن میں سے اور بہت سے موضوعات کی سرگوشیاں  بھی سنائی دیتی ہیں ۔ خاص طور پر کردار سامری رومانیت کے بیانیے کے مقابل تاریخیت کی گھمبیرتا اور پُر اسراریت کو بے نقاب کرتا ہے۔ درحقیقت  اسی کرادر کی موجودگی  سے قاری ناول کی مہارت اور ذہنی وسعت کے بارے بخوبی جان لیتا ہے کہ وہ کس قدر حساس ، باخبر اور بلند شعور کا مالک ہے۔ ‘‘  (۲۹)

مجموعی طور پہ  یہ ناول کے میدان میں ایک پختہ اور قابلِ ستائش کوشش ہے۔   فکری لحاظ سے میچور ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن   فنی لحاظ سے یہ حامد سراج  کی نمائندہ تخلیق نہیں ہے۔  


حوالہ جات باب سوم

۱۔وقار عظیم، ڈاکٹر، ’’داستان سے افسانے تک‘‘، اُردو  مرکز لاہور، ص۔ ۵۷

۲۔ ایضاً، ص۔ ۷۷

۳۔ احسان اکبر، ’’پاکستانی ناول۔ ہئیت رجحان اور امکان‘‘، مشمولہ ’پاکستانی ادب‘‘، جلد پنجم، متربین: رشید امجد؍ فاروق علی، راول پنڈی ، جنوری ۱۹۸۶ ۔ ص۔ ۸۱۲،۸۱۳

۴۔ احسن فاروقی، ڈاکٹر، ’’ناول کا فکری پہلو‘‘، مشمولہ ’’ادبی تخلیق اور ناول ‘‘، مکتبہ اسلوب ناظم آباد، کراچی ، ۱۹۶۳

 ۵۔حامد سراج ، محمد، آشوب گاہ، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۹، ص۔ ۱۰

۶۔ایضاً، ص۔۱۲

۷۔ ایضاً، ص۔۱۸

۸۔ ایضاً، ص۔۲۳

۹۔ ایضاً، ص۔۲۷

۱۰۔ ایضاً، ص۔۲۶

۱۱۔ ایضاً، ص۔۳۲

۱۲۔ ایضاً، ص۔۳۳

۱۳۔ ایضاً، ص۔۳۵

۱۴۔ ایضاً، ص۔۴۱

۱۵۔ ایضاً، ص۔۴۲

۱۶۔ ایضاً، ص۔۶۰

۱۷۔ ایضاً، ص۔۳۰

۱۸۔ ایضاً، ص۔۸۶

۱۹۔ ایضاً، ص۔۹۸

۲۰۔ ایضاً، ص۔۱۰۱

۲۱۔ ایضاً، ص۔۱۰۳

۲۲۔ ایضاً، ص۔۱۱۰

۲۳۔ ایضاً، ص۔۱۱۲

۲۴۔ ایضاً، ص۔۱۱۹

۲۵۔ ایضاً، ص۔۱۲۳

۲۶۔ ایضاً، ص۔۱۳۹

۲۷۔ ایضاً،ص۔ ۱۴۴

۲۸۔ سہ ماہی، آبشار ، ناول صدی نمبر، شمارہ نمبر ۴، مدیر ، سلیم فواد کندی، ص۔ ۳۱۱،۳۱۲

۲۹۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۳۴،۳۵

Chapter 4

باب چہارم

محمد حامد سراج بطور خاکہ نگار: فکری و فنی جائزہ

’’میّا‘‘کا تجزئیاتی مطالعہ

عورت اپنی اصل میں نہایت ہی پیچیدہ موضوع ہے۔ کبھی یہ دیوی  کی صورت مسند پہ براجمان ہوتی ہے تو کبھی لونڈی کی مانند  بستر  نشین۔۔۔ معشوق بنے تو  کئی مجنوں خاک بہ سر، دشت بُرد اور رانجھے جنگل بیابانوں میں دیوانے ہوئے پھرتے ہیں۔ بہن ، بیٹی ، بیوی  کا رُوپ دھارے تو  عزتوں کی پاسبان بن جاتی ہے۔ ہر ہر رُوپ  اپنی ذات میں مکمل اور مختلف ہے  لیکن جب یہ ماں کا روپ اپناتی ہے تو  کائنات کی تمام عزتیں اس  کے قدموں پہ سر نگوں  ہو جاتی ہیں۔  محمد حامد سراج کا امتیاز یہ ہے کہ اُس نے اپنی  ماں کو ’’میّا‘‘ کی شکل قارئین تک پہنچایا اور یہ بتایا کہ ماں کی مفارقت کا دُکھ ایک تخلیق کار کو  کیسے نکھارتا ہے۔مظہر حسین کی رائے ’میّا‘  کے تاثر کو اپنے اندر یوں سمیٹتی ہے۔:

’’با الفاظ دیگر میا وہ زہرہ دیوی ہے ۔ جس کے گرد منڈلاتے کرداروں کے چاند اور شہابیے، سراج کے تخلیق کردہ ہیں۔ ان شہابیوں  کا آپسی ٹکراؤ حزینے کے اوج ثریا پر پل بھر کے لیے روشنی کا اثرِ آفریں ہجوم کھڑا کر دیتا ہے۔ لیکن حامد کی مہارت دیکھیے کہ اس نے اپنی ذات کی صورت میں پس پردہ ایک ایسی برقناطیسی قوت تخلیق کر دی ہے جس کا ملکوتی و طلسماتی اثر کسی بھی کردارچے کو متعین مدار سے بھٹکنے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پیراڈائم ہے جس کو کسی بھی پہلو سے دیکھا جائے تو مکمل، مضبوط، مربوط اور متوازن  دکھائی دیتا ہے اورا سے جس  بھی نام سے پکارا جائے اس پر ججتا ہے۔ خطابیہ، رزمیہ، تاثریہ، جذباتیہ، آفاقیہ، حزنیہ، جذبیہ، کربیہ، ناسٹلجیا، قلندریہ، رمزیہ، مجذوبیہ، فلسفیہ۔‘‘  (۱)

’بھوک مرنا‘ یعنی اب اس دُنیا میں دانہ پانی کم رہ گیا ہے۔   موت کی جانب پہلی سیڑھی یرقان بنتا ہے۔   حامد سراج نے اپنی ماں کے دُکھ کو اپنی اندر اپنی تکمیل کی حد تک جِیا ہے۔ اسے برگزیدہ شیشم روتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پتوں کی سبزی ، زردی پہ مائل ہے۔  ایک منظر باہر کی دُنیا  کا ہے اور ایک اُس کے اندر تصویریں بنا رہا ہے۔ وہ چشمِ تصور میں اپنی ماں سے مخاطب ہے:

’’  ماں۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں زردی اُتر آنے سے درختوں کے پتّے زرد ہو گئے۔ یرقان کی پیلاہٹ تمہاری آنکھوں سے اُتر کر پوری کائنات میں پھیل گئی۔۔۔خوف اور وساوس کی چیونٹیاں میرے دل کی دیواروں پر رینگنے لگیں۔‘‘ (۲)

اس خاکے کو پرکھنے کے لیے کئی زاویوں سے اس کا مطالعہ لازم ہے۔   بقول مظہر حسین:

’’ ’’میا‘‘ کو اگر فکری اور فنی میزان پر پرکھا جائے تو یہ کثیرالجہات ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر محبت، فلسفہ محبت اور تصوف کا یک معنی خیز جہان آباد کیے ہوئے ہے اور جس کا ہر پہلو دوسرے سے فزوں تر ہے۔ اسے آپ خاکہ، ناولٹ، افسانہ، داستان، آپ بیتی، بپتا محبوبیہ، مونتاژ، پری لوڈ، پاپری، غرضیکہ کچھ بھی کہہ لیں ، آپ کے فہم کو خوش آمدید کہہ گی۔ اس طرح موضوع، ہیئت، نوعیت فن اور بیان ہر لحاظ سے ’’میا‘‘ کا دامن وسیع تر ہے۔ یہ ایک فرزانے کی ایسی ترنگ ہے جس پر دیوانگی کا سا گمان گزرتا ہے یا ڈیلفی کے اوریکل سے آتی ہوئی ایک ایسی پر اسرار صدا اپنے سننے والوں کو اپنی جانب یوں مبہوتانہ طور متوجہ کرتی ہے کہ اس کے سنتے ہی یار لوگ دیوانہ وار اس صدا کی سمت دوڑ پڑیں اور جنہیں روکنے والوں سے بھی اک عجب داستان ہوش ربا وابستہ ہے۔ ‘‘(۳)

حامد سراج  اس خاکے کا خود ایک نیم دیوانہ کردار ہے جس کی ماں بیمار ہے اور وہ خود کلامی کے طویل دورانیوں سے  تخلیقی ہوش مندی سے گزرتا ہے۔ وہ خود سے محوِ کلام بھی ہے اور قاری کو یہ قصہِ درد بھی سُناتا جاتا ہے اورا ُسے، اس  بات کا بھی ادراک ہے کہ یہ باتیں لا یعنی ہر گز نہیں ۔۔۔ پروفیسر غفور شاہ قاسم ،حامد سراج کے طرزِ تحریر پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ محمد حامد سراج ماں سے وابستہ یادوں کو تاثر اور تاثیر سے لبریز انداز بیاں کے نپے تلے جملوں میں یوں بنتے چلے گئے ہیں کہ پڑھنے والا اس سحر میں گم ہوتا چلا جاتا ہے ۔وہ جملوں کی پاور آف مسمریزم کے کامل شناور ہیں اور اسے بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہیں ۔ ’’میّا‘‘ خود کلامی اور مکالماتی تکنیک میں لکھا گیا خاکہ ہے۔‘‘(۴)

اسی بات کی دلیل میں یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’ یرقان لا علاج تو نہیں ؟

کون سا یرقان ہے۔۔۔؟

میری ماں کی بھوک کیوں مر گئی ہے۔۔۔؟

اچھا اچھا۔۔۔یرقان میں بھوک مر جاتی ہے۔۔۔

طفل تسلیاں۔۔۔

واہموں نے مجھے چاروں اور گھیر لیا۔۔۔

بے بسے میری ہڈیوں میں اترنے لگی۔

علاج گھر پر ممکن نہیں تھا۔۔۔‘‘(۵)

 حامد سراج کو جب ڈاکٹر کہتا ہے کہ یہ زمین زندہ رہنے کے لیے نہیں ہے تو   موت کا امکان یقین میں بدل جاتا ہے۔ کوئی بھی بیٹا یہ نہیں چاہتا کہ اُس کی ماں اس دارِ فانی سے کوچ کر جائے  کیونکہ بقول محمد بخش:

’’ماواں باج محمد بخشا سُنجی پئی حویلی‘‘

حامد سراج کو یقین ہو چلا ہے کہ یہ چراغ اب  چراغِ سحری ہے۔ ۔۔بجھا چاہتا ہے۔۔۔ لیکن امید کا کیا کریں ، کم بخت پہلو سے لگی بیٹھی ہے۔ اب کے وہ ماں سے مخاطب ہے۔ سُنو ماں:

’’ماں۔۔۔

سرجن نے سی۔ٹی۔سکین کے لیے تمہیں اسلام آباد ریفر کر دیا ہے۔

ایک موہوم سی امید۔۔۔

ایک ٹمٹماتاسا دیا۔۔۔

آس کی کچی ڈوری۔۔۔‘‘ (۶)

حامد سراج کا اسلوب بے تکلفانہ اور مخاطبانہ ہے۔  وہ اپنی ماں کی بات بتاتا  ہوا خیال کی ایسی پگڈنڈی پہ نکل جاتا ہے جہاں   ایک جانب ماضی کے  تازہ لمحے بہار کی میٹھی ہوا میں لہلہا رہے ہیں تو دوسری جانب  زندگی، خزاں رسیدہ پتّوں کی مانند جھڑ  رہی ہے۔  اور اس سارے سفر میں اُس کے دوست احباب  حامد سراج کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ مظہر حسین  اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں:

’’ کتاب کے خطابیہ انداز نے جہاں ڈکشن کا چار چاند لگا دیے ہیں وہاں میا کے کردار کو زندہ و جاوید بھی کر دیا ہے۔ با لخصوص’’تم‘‘ کا صیغہ بے تکلفی اور احترام کے ملے جلے جذبات کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ‘‘(۷)

یرقان کی تشخیص کے بعد  کینسر کی تشخیص ہو  جاتی ہے۔  بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات انسان جس شخص کو کھونے سے ڈرتا ہو ، اُس کے کھونے کے خیال سے بھی کوسوں دور بھاگتا ہے لیکن جب حقیقت سامنے ہو تو آنکھیں نہیں  چرائی جا سکتیں۔  حامد سراج بھی شاید یہی چاہتے تھے کہ انہیں اس خبر کی کڑوی گولی شوگر کوٹڈ کھلائی جاتی۔۔۔  لکھتے ہیں:

’’ بھائی محمود، میں اور حمید قیصر کوریڈور میں ٹہل رہے تھے۔

سینے کے پنجرے میں وساوس کا پنچھی سر پٹخ رہا  ہو تو ٹہلنا بھی اک عذاب سے کم نہیں ہوتا۔

ہم ٹہلتے رہے۔۔۔

وقت سرکتا رہا۔۔۔

ماں۔۔۔سی۔ٹی۔ سکین روم میں تھی۔ اتنے میں دروازہ چرچرایا۔۔۔

ادھ کھلے کواڑ میں سے نور بی بی کا چہرہ نمودار ہوا۔۔۔

وہ اپنی سیٹ پر سے اٹھی۔

کاریڈور میں سے گزرتے ہوئے ایک ڈاکٹر سے اس نے کہا۔۔۔

ڈاکٹر آئیے میں آپ کو ایک عجیب کیس دکھاؤں ۔۔۔!

ڈاکٹر نور بی بی کو معلوم نہیں تھا۔۔۔

کوئی تو اس کو خبر کر دیتا کہ کاریڈور میں ٹہلتے ہوئے بہت سے لوگوں کے درمیان ایک شخص وہ بھی ہے جس کی ماں، جس کی جنت اس وقت ٹیسٹ کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اور اسی کے بارے تم نے کتنے آرام سے کہہ دیا۔

کینسر ہے۔۔۔ اور گال بلیڈر میں ’سٹون‘ بھی ہے۔

شیشے کے کمرے میں ماں کے چہرے پر سکینت تھی۔

باہر تیز ہوا تھی۔۔۔

دُکھ اور کرب کی۔۔۔‘‘ (۸)

یہ تحریر جہاں  ایک خاکہ ہے وہیں ماں کی علالت کے زمانے میں اُن کی خاص فکری ، مذہبی اور روحانی  رجحانات کا عکاس بھی ہے۔ اور گھر کے خاص مذہبی ماحول کی خوشبو بھی آتی ہے ۔ اس کی ایک وجہ خانقاہ سراجیہ سے خاص نسبت  ہے۔ مظہر حسین  ، حامد سراج کے  تخلیقی مزاج کو اسی صوفیانہ ماحول کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔ :

’’ میا میں حامد سراج  ہمیں ایک مجذوب  یا صوفی کے طور پر دکھائی دیتاہے۔ جس نے ایک فلسفیانہ ردا اوڑھ رکھی ہو کیونکہ ان کا تعلق خانقاہ سراجیہ سے بھی  ہے۔ جہاں سے علم ، روحانیت، فلسفہ اور فلسفوں کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ ‘‘(۹)  

’’ بیٹا۔۔۔! ایک بار مجھے ہسپتال سے گھر ضرور لے جانا۔۔۔ مجھے سب سے ملنا ہے۔ بزرگوں کے مزارات پر حاضری دینی ہے۔۔۔ تمہیں گھر لے  کر آئے۔ صحن میں رشتے دار تمہیں ملنے کو جمع تھے۔ تم نے وضو کیا۔۔۔

اور مزارات کو چل دیں۔‘‘(۱۰)

’’ماں۔۔۔ تمہارے پاس جو حجتہ السلام شیخ الہند مولانا محمودالحسن کا مترجم قرآن ہے۔ جس کی تفسیر مولانا شبیر آحمد عثمانی نے لکھی ہے۔ اس پر ایک دُعا لکھ کر مجھے دے دو۔مجھے زندگی میں یہی سوغات بہت ہے۔ یہی میری  زمین ہےٗ یہی میرا سرمایہ ہے۔۔۔!

تم نے تفسیر اُٹھا کر لانے کو کہا:

دعا لکھی

’’۷۸۶۔۔۔۔پیارے بیتے حامد کے لیے

خداوندِ کریم میرے بچوں کو کلام پاک پڑھنے اور اس پر عمل کی توفیق اور شوق عطا فرمائے۔ ‘‘(۱۱)

حامد سراج کی  ’’میّا‘‘ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی ماں گاؤں کی روایتی ان پڑھ خاتون نہیں تھیں ، انہیں پڑھنا ، لکھنا بخوبی آتا تھا بلکہ ادب کی بھی طالب علم تھیں۔ ایک جگہ جب حامد سراج لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر نے انہیں سات گلاس پانی پینے کا کہا تو حمید قیصر سے  نے انہیں پانی کیسے پلایا۔۔۔ملاحظہ کیجیے:

’’ امی جی کو میں پانی پلاؤں گا۔۔۔ حمید قیصر نے جگ اور گلاس سنبھال لیا۔ دو گھنٹے میں سات گلاس پانی۔۔۔!

حمید قیصر نے پانی کے ساتھ ساتھ تاریخ سے لے کر ادب تک کے موضوعات تم سے چھیڑ دئیے۔

کرشن چندرٗ راجندر سنگھ بیدیٗ منٹوٗ قراۃ العین حیدر۔۔۔

کتنے ہی موضوعات تھے جن پر تم نے سیر حاصل گفتگو کر کے حمید قیصر کو حیران کردیا۔

سات گلاس پانی۔۔۔؟

ہر پندرہ منٹ بعد گلاس میں پانی انڈیل کر حمید قیصر کہتا۔

جی۔۔۔امی جی۔۔۔آپ کہہ رہی تھیں کہ کرشن چندر نے ساری عمر افسانے ’پارکر پین ‘ سے لکھے۔ ‘‘ (۱۲) 

فرائید کا ماننا ہے کہ جو ہم دن بھر سوچتے رہتے ہیں وہ اکثر اوقات خوابوں کی صورت ہم دیکھتے ہیں۔ حامد سراج بھی اسے صورتحال سے گزر رہے تھے۔ دن بھر ماں کے ساتھ ہسپتال میں رہنا اور یہ معلوم ہونا کہ کینسر جیسا جان لیوا مرض، اپنی کرنی کر کے ہی چھوڑے گا تو پھر خواب میں بھی جنازے ہی نظر آئیں گے۔

’’ماں۔۔۔

تمہارے خوابوں کے درمیاں ایک خواب میں نے بھی دیکھا ۔

میں نے ایک بڑا جنازہ دیکھا۔۔۔

بہت بڑا جنازہ۔۔۔

ہزاروں لوگوں کے انبوہ میں  سرکتا۔۔۔آگے بڑھتا جنازہ۔

مغربی سمت خانقاہ سراجیہ کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ۔

اور۔۔۔تاحدِ نظر سر ہی سر تھے۔

اور پوری فضا مشک بار۔۔۔!

میں نے ایک شخص کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔

بھائی۔۔۔ یہ کس کا سفرِ آخرت ہے۔۔۔؟

محمدحامد سراج کی والدہ ۔۔۔!

اور یہ فضا کیوں مشک بو ہے۔

فضا کیوں  مشک بو نہ ہو۔ساری عمر درود کی کثرت رہے تو زمانے عطر آگیں ہو جاتے ہیں۔‘‘ (۱۳)

حامد سراج کی والدہ ایک نیک سیرت  خاتون تھیں۔ درود و سلام اُن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ حامد سراج  کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ اُن کا جنازہ بڑا ہو گا۔ اور دُنیا کی یہ تکلیف بعد از مرگ کافور ہو جائے گی۔  اس کا یقین اسے اس لیے بھی ہے کہ وہ درود کثرت سے پڑھتی تھیں ۔

دو قالب یک جاں  کے مصداق حامد سراج نے ماں کے دُکھ اپنے اندر چُن لیے تھے۔    اب جب وہ اُسے بیان کرتا ہے تو کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔  لیکن ماں کے جانے کے بعد اُس کی یادداشت پہ گہرا اثر ہوا ہے اسے صرف ماں یاد رہ گئی باقی سب اک بے ہنگم واقعات کا ہجوم ہے۔  محفل میں تنہائی ہے اور تنہائی میں ماں کی یادوں کا میلہ لگا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’ ماں۔۔۔ تمہارے آپریشن کے بعد میرے وجود کا کوئی بھی حصہ سلامت نہیں رہا، مجھے نسیان نے آلیا ہے۔ میں راستے اور باتیں بھولنے لگا ہوں ۔ گھر سے سودا سلف لینے نکلوں تو بازار کی بجائے ویرانے میں جا نکلتا ہوں۔

تمہارے بعد ویرانے ہی مسکن ہو گئے ۔

سوالات کے خیمے تنے تھے اور میں اکیلا تھا۔ ‘‘(۱۴)

’میّا‘ میں جزئیات نگاری کو اس اسلوب سے برتا گیا ہے کہ اُس سے اداسی کی اک فضا وجود میں آتی ہے ، بظاہر تو وہ  ہسپتال یا گھر کی بابت کوئی بات ہو گی لیکن در پردہ گہری اداسی  کی لہریں قاری کے ذہن میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ اس پروفیسر غفور شاہ قاسم کی تجزیہ بجا ہے:

’’ ہر بڑے تخلیق کار کی طرح محمد حامد سراج کا اپنا ہی ایک  فریم آف ایکسپریشن ہے۔ اس کے اسلوبِ تحریر کو ہم ایک المیہ گیت سے تعبیر کرسکتے ہیں ۔جو سماعت کے لئے اداسی کی فضا تخلیق کرتا ہے اور مشام جاں میں افسردگی کی کیفیات بھی تحلیل کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ زیرِ  مطالعہ خا کہ میں ماں سے وابستہ ناقابل فراموش واقعات کی جُزئیات کو تحریر کی تسبیح میں اس طرح پروتے چلے گئے ہیں کہ ایک سلک مروارید تیار ہو گئی ہے ۔ان کی تحریر سینے میں گداز بن کر اترتی ،روح میں لطافت بن کر نکھرتی اور آنکھوں میں شبنم بن کر تیرتی ہے۔ خاکہ  پڑھتے پڑھتے آپ پلکوں کی دہلیز سے روح کی گہرائیوں تک بھیگ جاتے ہیں ۔اس طرح کے اسلوب کی تصویر احمد فراز نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کھینچی ہے۔

آنکھوں کے طاقچوں میں جلا کر چراغ درد

خون جگر کو پھر سے سپرد قلم کریں‘‘(۱۵)

حامد سراج ماں کی بیماری کا دُکھ جھیل رہے ہیں  ۔ وہ ہر منظر سے دُکھ اور اداسی کشید کرنے فن بھی سیکھ چکے ہیں۔

’’ ہسپتال کی جنوبی سمت کی مسجد میں نمازی قطار اندر قطار جا رہے تھے۔

ہم بھی اسی قطار میں تھے۔

اور باہر بوڑھے پائن کے درخت قطار میں چپ کھڑے تھے۔

نماز کے بعد آسمان پر تارے ایک ایک کر کے جاگ اُٹھے۔

ہسپتال کے سامنے بیمار اور زرد کوارٹروں کی ایک لمبی قطار تھی۔ ان کوارٹروں میں گزشتہ  برسوں میں جانے کتنے مکین بدل چکے تھے۔ انہی کوارٹروں میں  سے ایک کوارٹر کی کھڑکی کھلی تھی۔ زرد چہرے والا ایک بوڑھا شخص اس میں رزق کا سامان لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے سر پر بال نہیں تھے۔ چہرے پر جھریاں مکین تھیں۔ اسے شاید خود بھی اپنی عمر اور جھریوں کا اندازہ نہیں تھا۔ ‘‘(۱۶)

 مصنف جب ماضی کے جھروکوں میں جھانکتا ہے تو اُسے کچھ منظر دکھائی دیتے ہیں وہ اُسے قاری تک الفاظ کی شکل میں پہنچاتا ہے ۔  پڑھنے والا اگر صاحبِ دل ہو  اور گاؤں کی معاشرت سے ذرا سا بھی واقف ہو تو اُس کے سامنے اُن مناظر کی تصویر بن جاتی ہے۔ چاہے وہ اشیا کا بیان ہو یا درد کی داستان۔۔۔

اس تحریر کی تکنیک کی بات کی جائے تو  ہم اسے کسی مخصوص صنف میں قید نہیں کر سکتے، یہ ایسا خاکہ ہے جس کو افسانوی اسلوب کے ساتھ شاعرانہ  مزاج میں لکھا گیا ہے۔ حامد سراج کی یہ کوشش شعوری سے زیادہ تخلیقی معلوم ہوتی ہے۔ اس بارے میں ناصر عباس نیر لکھتے ہیں:

’’ ’’میا‘‘ اپنی طرز کی ایک انوکھی اور منفرد یک موضوع کتاب ہے۔ موضوع اور ہیئت دونوں  حوالوں سے! اسے کسی مخصوص صنف کے تحت نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ معروف معنوں میں نہ افسانہ ہے نہ خاکہ! حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب افسانے اور خاکے کی مسلمہ تعریفوں کو پسِ پشت ڈالتی ہے اور ایسی ڈگر پر رواں ہوتی ہے، جہاں اصناف کی روایتی سرحدیں اور حد بندیاں  دُھندلانے لگتی ہیں۔ اس منحرف روش کو اختیار کرنے کا جواز ا س کتاب کا ’تھیم‘ ہے۔ جسے دُکھ کا نام دیا جانا چاہیے۔ دُکھ ؛ موت کا دُکھ؛ ماں کی موت کا دُکھ! یہ دُکھ ایک سیل کی طرح ہے۔ سیلِ اشک بھی اور سیلِ خون بھی! یہ باہر کی طرف رُخ کرتا ہے تو پوری کائنات اس میں ڈوبتی محسوس ہوتی ہے اور جب اندر کی جانب بڑھتا ہے تو نبضِ ہستی ڈوبنے لگتی ہے۔ سو ایسے غم کو کسی صنف کی مروجہ (اور مردہ) حدوں میں کہاں قید اور پابند کیا جا سکتا ہے! یہ غم اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ آدمی اور آدمی کے بنائے ہوئے اصول اس غم کی تیز رو کے آگے بے بس اور پسپا ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ماں کی دائمی جدائی کے دُکھ کے آگے آدمی کی بے بسی اور روایتی ادبی اصولوں کی پسپائی کتاب میں جا بجا موجود ہے۔‘‘ (۱۷) 

ماں جا چکی ہے  ۔کوئی ویرانی سی ویرانی ہے۔ جس اسلوب میں حامد سراج  اداسی کو بیان کرتے ہیں وہ  افسانہ  ایک مکمل نظم کی شکل میں موجود ہے۔یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔

’’ ٹانچی رہی

نہ دادی ماں رہی

پیتل کی گاگر کھو گئی۔۔۔

وقت کا پانی جانے کہاں بہہ گیا

بیری کا درخت سوکھ گیا۔

جنوبی سمت کا کھوہ اندھی ڈل بن چکا تھا۔

اس میں آسیب کا بسیرا تھا۔ دیواروں پر کائی جم گئی تھی۔

ہم اس میں جھانکتےٗ آواز لگاتے اور اپنی ہی آواز کی بازگشت سن کر خوش ہوتے۔ پتھر پھینکتے اور گدلے سبز پانی میں سانپ دیکھتے۔

ماں۔۔۔ اب  پوری زندگی ایک اندھی ڈل میں بدل گئی ہے۔

مسائل کے گدلے پانی میں تفکرات کے سانپ ہیں۔

ہم اپنی ویران روح کے کنویں میں جھانکتے ہیں۔

تو خوف رگوں میں خون کو منجمند کرتا ہے۔

زندگی کی اس اندھی ڈل میں کسی کو آواز دیں

تو۔۔۔اپنی ہی آواز آسیب کی بازگشت بن کر پلٹتی ہے۔

ماں۔۔۔

اب زندگی کے کنویں میں جھانکتے ہوئے خوف آتا ہے۔

ٹانچی رہی۔

نہ دادی  ماں رہی۔

پیتل کی گاگر کھو گئی۔۔۔

وقت کا پانی جانے کہاں نہہ گیا۔

پائن کے درختوں کے اس پار جو ہسپتال کی عمارت ہے اس میں میری ماں میری منتظر ہے۔

اس کا ایک ہی بیٹا ہے۔‘‘ (۱۸)

الفاظ اور جملوں کی تکرار سے  تحریر میں غنائیت پیدا ہوتی ہے  بات واضح ہو جاتی ہے۔   لیکن اس خاکے میں اس تکنیک کو بار ہا استعمال میں لایا گیا ہے۔ بقول پروفیسر غفور شاہ قاسم، ایسا اگر نہ کیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا:

’’ زیرنظر خاکے میں کئی مقامات پر تحریر کے مرکزی خیال کو ری انفورس کرنے اور فضا آفرینی کے تاثر کو بڑھانے کے لیے صنعت تکرار سے کام لیا گیا ہے۔ فقروں کی صوتی تکرار سے تحریر میں موسیقیت اور غنائیت  کی کیفیات پیدا ہوگئی ہیں ۔مستنصر حسین تارڑ اور ہارون رشید (کالم نگار )اپنی نگارشات میں اکثر و بیشتر اسی تکنیک سے کام لیتے ہی۔  حامد سراج کے یہاں تکرار کا یہ عمل بہت فریکوئنٹ (تواتر) ہے ایسا نہ ہوتا تو زیادہ احسن بات تھی۔(۱۹)

صنعت تکرار جہاں تاثر کو ابھارتی ہے وہاں یکسانیت بھی پیدا کرتی ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

’’ اور بوڑھے پائن کے درخت قطار میں چپ کھڑے تھے۔‘‘ (۲۰)

’’باہر پائن کے درختوں میں اداس ہوا سر سرا رہی تھی۔ ‘‘ (۲۱)

’’پائن کے درختوں کے درمیان ماموں میرے ساتھ بہت دیر دُکھ بانٹے رہے۔ ‘‘(۲۲)

ایک ادیب، تخلیقی انسان، وہ چاہے جتنے بھی دُکھ جھیلے، کتنی ہی مشکلات اسے درپیش کیوں نہ ہوں۔ وہ اُن کو تخلیقی رنگ دینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے  کہ ان دُکھوں کے بیان میں بھی اک حسن نمایاں ہو۔ بھدا پن اُسے ہر گز پسند نہیں۔۔۔خصوصاً تحریر میں۔۔۔ یہی معاملہ حامد سراج کا بھی ہے۔  والد کی وفات کے صدمے کو بھی وہ صفحہ قرطاس پہ اُتارنا چاہتا ہے  ۔ یہ اقتباس دیکھیے۔:

’’ ماں۔۔۔ میں اس  بات کا اظہار کیسے کروں ۔ اندر کے دُکھ کو زبان کیسے دوں۔۔۔؟ کہ جب انسان کے اندر کسی کی موت کا بیج اگنے لگے تو کیا کیفیت ہوتی ہے۔ یہ پودا روح کی زمین کا سینہ چیر کر کیسے باہر کو نکلتا ہے۔ اور پھر اس پر لہو کی بوندوں سے کیسے پھول کھلتے ہیں۔

ابو کا سفرِ آخرت۔۔۔؟ یہ تحریر کیسے مکمل کروں میں۔۔۔!

کئی ماہ تلک قلم وقت کے صحرا میں سیاہی کی بوند کو ترستا رہا ہے۔ ماں میں یہ تحریر روشنائی کی بجائے اپنے آنسوؤں سے لکھ لیتا لیکن میری آنکھ کی دوات میں رکھی روشنائی بے رنگ ہو گئی ہے۔ بے رنگ اشکوں میںٗ میں رنگ کیسے بھروں۔۔۔؟‘‘(۲۳)

آنے والے کو جانا بھی ہے۔۔۔ لوٹنے کا عمل ہر ذی روح، جاندار کا مقدر ہے۔ یہ ایک  زندگی کا سائیکل ہے ۔ وصل شاد کرتا ہے تو جدائی  برباد۔۔۔  لیکن جدائی ہی وہ  نَم کی لرزش ہے جس سے تخلیقیات کے کوزے بنتے ہیں۔    اسی لیے حامد سراج اپنی ماں سے ہم کلام ہے :

’’ ماں۔۔۔ یہ لوٹ جانے کا عمل نہ ہوتا تو شاید قلوب گداز نہ ہوتے۔ جدائی جہاں دل کی ویرانی کاشت کرتی ہے وہیں سوزوگداز کے پھول بھی کھلاتی ہے۔ ‘‘(۲۴)

خاکہ نگار کسی ایک موضوع پہ ٹک ہی نہیں رہا ۔۔۔خیال کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے۔ ابھی موت ، جدائی کا ذکر ہو رہا ہے تو اگلے ہی سطر میں اپنے بچپن کی  کی کشادہ گلیوں میں پہنچ جاتا ہے۔  خیالات کی ایک تسبیح ہے جسے وہ اپنی مرضی سے پھیرتا جاتا ہے اور آہ  و بکا ورد جاری ہے۔ پوری فضا سوگوار ہے۔  اسی تکنیک کے بارے میں پروفیسر غفور شاہ قاسم فرماتے ہیں:

’’ تقلیب کی تکنیک تحریر میں دلآویزی تخلیق کرتی ہے ۔تقلیب کا عمل رشتوں اور رابطوں کا عمل ۔ہے جس میں ذہن ایک چیز  سے دوسری چیز کی طرف یا دوسری چیز سے تیسری کی طرف منقلب ہوتا چلا جاتا ہے۔ خاکہ نگار نے اس خاکے میں تقلیب کی تکنیک سے بھی استفادہ کیا ہے۔‘‘(۲۵)

خانقاہ سراجیہ اپنے دستر خواں کی کشادگی کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے خصوصاً حامد سراج کا اپنا گھر۔۔ اس کا   نقطہ آغاز وہ اپنی ماں کو قرار دیتے ہیں۔  ایک واقعہ لکھتے ہیں جب  پچاس ، ساٹھ لوگ ایک دوست عاصی کے ہمراہ حامد سراج سے ملنے آتے ہیں  تو  ماں کے ماتھے پہ ایک سلوٹ تک نہیں آتی اور  وہ چائے پانی کا انتظام خوشی سے کرتی ہے ۔ماں کی اس خوبی کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

’’ ٹرے میں سوجی کا حلوہ اور چائےٗ مہمان نوازیٗ دریا دلی۔۔۔!

یہ ماں کی مٹھاس تھی۔

یہ تم تھیں ماں۔

بے سلوٹ پیشانی کے ساتھ تم نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ وہی لمحہ میرے اندر ٹھہر گیا۔

میرا دستر خواں کشادہ ہو گیا۔

میں نے تم سے کہا۔۔۔ بہو  بھی  ایسی ہی ڈھونڈ لانا جو مہمان نواز ہو۔ یہ دستر خوان بچھا رہے مہمان آتے رہیںٗ دروازے گھر کے کھلے رہیں۔

محمد یار عاصی چائے پی کر گئے۔

اور اس کے بعد سے ہمارے گھر میں دسترخوان لپیٹنے کا رواج  ختم ہو گیا۔ ‘‘ (۲۶)

حامد سراج  کی ’’میّا‘‘  ماں کے یاد کا بیان ہے  اس کے ساتھ یہ اُن دوستوں کی نوازشوں، ایثار اور احسانات کا اعتراف بھی ہے جو اس مشکل گھڑی میں  سائے کی طرح ساتھ رہے۔  حامد سراج ایک روحانی خانقاہ  کا چشم و چراغ تھا۔  اسی لیے وہ باطنی بیماریوں  کا بھی خاتمہ چاہتا ہے۔  وہ سمجھتا ہے جہاں ہم خون  کا ٹیسٹ کرواتے ہیں بیماریوں کی تشخیص کے لیے وہیں ایسی کوئی لیبارٹری ہو جو روحانی امراض کا بھی پتا لگائے۔

’’ نفرت، حسد، کینہ،بغض اور غیبت کا بھی ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

یہ ایڈز سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہیں۔ ‘‘ (۲۷)

ناسٹیلجیا، اس تحریر کی اساس ہے۔ ’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے‘  وہ یہ سمجھتا ہے کہ ماں کے جانے کے بعد اس کے دُکھ چننےوالا کوئی نہیں رہا۔۔ وہ اسے دیارِ غیر  میں بے سرو سامانی کے عالم میں ہر ایک  کو روک روک کر اپنے مسیحا کا پتا پو چھتا ہے۔  دُکھوں اور اندیشوں کے آبلے ہیں کہ پھولے جاتے ہیں۔  کانٹے بھی محض تکلیف کا تردد کرتے ہیں ۔  ماں کی یاد پھر سائبان کرتی ہے لیکن وائے حسرتا کہ وہ جا چکی ہے ۔یاد بھی تو محض غموں کو بھلانے کا دھوکہ ہے۔

’موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں‘

ماں سے مخاطب  ہے:

’’ تمہیں  کتنی مہارت ہے   کانٹا نکال لینے  میں۔

ہم تمہارے سامنے پیڑھی پر آ بیٹھے۔ ہمارا پاؤں تم اپنے گھٹنے  پر ٹکا لیتیںٗ بائیں ہاتھ کی انگشت ِ شہادت۔

اور انگوٹھے کی مدد سے تم پہلے کانٹے والی جگہ کو دبا کر جائزہ لیتیںٗ دبا کر دیکھتیں۔

تمہارے داہنے ہاتھ میں سوئی ہوتی۔

اور پھر اسی جگہ ایک کالا نقطہٗ کانٹا جو تمہاری سائی کی نوک کی زد میں ہوتا۔

تم کانٹا اتنی نرمی ٗ ملائمت اور آہستگی سے نکال لیا کرتی تھیں جیسے مکھن سے بال نکال لیا جائے۔

اور اب ماں۔۔۔

زندگی مسائلٗ دکھ اور پریشانیوں کے کانٹے سے اٹی پڑی ہے۔

میری روح میں کانٹے پیوست ہیں۔ ان کانتوں کو کون نکالے۔۔۔؟

کوئی سوئی۔۔۔؟

کہیں انگشتِ شہادت اور انگوٹھے کی چٹکی۔۔۔؟‘‘ (۲۸)

ہزاروں میل  مسافت پہ نشر ہونے والا ریڈیو ، ٹیلی وژن کا پروگرام ہم اپنے گھروں میں بیٹھے سُن اور دیکھ سکتے ہیں۔  سائنس کی اصطلاح میں ہم اسے فریکوئینسی میچ کہتے ہیں۔ پروگرام کی فریکوئینسی    سے ہم ریڈیو، ٹی۔وی کی فریکوئنسی ملاتے ہیں تو ’تاریں جڑ‘ جاتی ہیں۔ ہم انسان بھی ہر وقت کوئی نہ کوئی فریکوئینسی  پہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اگر کسی اور انسان کی فریکوئینسی ہم سے ’میچ ‘ ہو جائے تو پھر کہتے ہیں کہ ’دل کودل سے راہ  ہوگئی ہے‘ ، ’ میں بھی وہ سوچ رہا ہوں جو آپ سوچ رہے ہیں‘ وغیرہ۔۔۔  جب یہ فریکوئینسی کا تال میل دُنیا کے کسی بھی دو اشخاص کے درمیان ہو سکتا ہے تو پھر ماں اور بچوں کا رشتہ تو بہت قربت کا ہے۔ ماں وہ بھی جان لیتی ہے جو بچہ ابھی شاید سوچ بھی نہیں پا رہا ہوتا۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ حامد سراج نے درج کیا ہے۔  جب بیٹے کی تکلیف ماں ہزاروں میل دوری کے باوجود جان جاتی ہے۔

’’مینا الزور ایک قصبہ تھا وہاں ایک کمپنی میں میری ملازمت تھی۔ ایک بار وہاں کویت سٹی سے پکی پکائی روٹی کی سپلائی بر وقت نہ پہنچ  سکی۔ لوگ خبز کی تلاش میں تھے۔ روٹی کو عربی میں خبز کہتے ہیں۔ ہم ساتھی جس جگہ رہتے تھے وہاں ہمارا معمول تھا کہ بچی ہوئی روٹیاں ایک گٹو میں ڈالتے رہتے تھے۔ اس لمحاتی قحط میں وہ ہمارے کام آگئیں۔ ہم صبح وہاں سے روٹی نکالتے اسے پانی میں تر کرتے اور گھی لگا کر تل لیتے۔ کھانے میں وہ بڑی خستہ اورلذیذ ہوتی۔

تین چار روز میں تازہ سپلائی پہنچ گئی۔

کچھ دن گزرے تھے کہ مجھے پاکستان سے ماں کا خط موصول ہوا۔

بیٹا۔۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے۔ تم سوکھی باسی روٹی کھا رہے ہو!

یہ ماں کو کیسے خبر ہو گئی۔۔۔؟

میں نے تو اس بات کا ذکر اپنے آپ سے بھی نہیں کیا تھا۔

یہ کون سے فریکوئینسی ہے۔۔۔؟

ہزاروں میل کی دوری کو کس نے بے معنی کر کے رکھ دیا ۔ ‘‘(۲۹)

شکسپئیر نے کہا تھا کہ یہ دُنیا ایک سٹیج ہے اور ہم اداکار۔۔۔ ہم میں سے ہر ایک اداکاری کر رہا ہے جو اچھی کرتا ہے اُسے ہم داد دیتے ہیں سراہتے ہیں اور جو نکمی کرتا ہے وہ اس دُنیا میں ناکام تصور کیا جا تا ہے۔ اصل ذات کہیں پیچھے رہ جاتی ہے اور بہروپ ہمارا چہرہ بن جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ  ہم اپنی اس حالت  کو  چاہ کر بھی بدل نہیں پاتے اگر ایسا کریں گے تو ڈائریکٹر ناراض ہو سکتا ہے  اور ہمارا رول یا تو کم کر دیا جائے گا یا پھر کونے میں چپ سادھنی پڑے گی۔ حامد سراج بھی خوش رہنے کی اداکاری کرتا رہا ہے۔ شکستہ آئینے میں مکمل تصویر دیکھنے کی بے سود کوشش۔۔۔ اور کاروبار ہائے زندگی میں   مصروفِ عمل رہا ہے۔ سچ بھی یہی ہے۔۔۔ کسی کے مرنے سے کوئی مر تھوڑا ہی جاتا ہے۔۔۔بقول غالب:

غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں

’’ماں۔۔۔

میں اداکار ہو گیا ہوں۔

میں اب مصروف رہنے کی کامیاب اداکاری کر لیتا ہوں ۔

مصروفیات پالتا اور ان کی پرورش کرتا ہوں۔

پھر بھی

تمہاری یاد کا عصا ان کو نگل جاتا ہے۔

تم سچ ہو۔۔۔ باقی سب مایا۔۔۔‘‘ (۳۰)

اس خاکے میں ماں کی محبت اور مفارقت سے جڑے تمام جذبات حقیقی ہیں ۔  حامد سراج کی ماں جا چکی ہے لیکن اُسے یہ سب خواب لگتا ہے۔ وہ الم و حزیں کی کیفیات میں اسے ڈھونڈتا ہے اور اسے اپنی زندگی کی نئی حقیقت بنا لیتا ہے۔  غالب ؔ نے کہا تھا:

’وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو  ہے‘

خالد قیوم تنولی،’میّا‘ کے حوالے سے اسی تناظر میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’ ’’میّا‘‘ فکشن سے اوپر کی شے ہے کیونکہ بہر حال فکشن عمیق صداقت کو ڈھانپے ہوئے دروغ کی مانند ہے جیسے دھاتی چیز پر لکڑی کی باریک پرت چپکادی جائے۔ تو آپ ’’میا‘‘ کو عمیق صداقت گردانئے اور لفظی اظہار کو دروغ۔ ’’میّا‘‘ کا درونی جہاں حقیقی تھا جو نہیں  رہا تو بھی جان ملٹن کی ’’ فردوس گم شدہ‘‘ کی مانند جس میں کسی اور دُنیا کی تعمیر کی تمنا نہیں بلکہ وہ دُنیا جو نہیں رہی تو اب صرف اُس کا حزنیہ ہی غنیمت ہے۔ ایسی دنیا جو مادّی نہیں ہوتی اور بے پناہ آرزو اور ناقابلِ فنا محبت سے لبریز ہوتی ہے۔ ’’میّا‘‘ دو  دُنیاؤں کے باہمی امتزاج کی حامل اور اس کا اکلوتا باسی حامد سراج ٹھہرتا ہے۔ (۳۱)

باپ کی حادثاتی موت اور ماں  کی تکلیف دہ رحلت کے بعد حامد سراج کو  اب اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ جو قدرت نے ہمیں دینے ہوتے ہیں وہ پہلے سے ہی ہماری کُنڈلی میں لکھے جا چکے ہوتے ہیں ۔ ہمیں بس ان کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ ہم اُن سے چھپ نہیں سکتے  ۔یہ وہ اوجھل دُکھ ہوتے ہیں   جو کہیں اوٹ میں چھپے بیٹھے ہوتے ہیں۔ حامد سراج ماضی کے سہانے دنوں کو یاد کرتا ہے جس میں شرینہہ  کا درخت ، ماں  باپ اور اُن سے جڑیں اشیاء  کی مفارقت کا دُکھ  اُس کے اندر خوف بن کر لرزتا ہے۔

’’ماں جانے کہاں چلی گئی۔

بستر پر تو ہڈیاں رکھی ہیں۔

سارے منظر ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے ہیں۔

جانے چھپرٗ شرینہہ اور ماں باپ کیوں چلے جاتے ہیں۔۔۔؟

کوئی بھی لوٹ کر نہیں آتا۔

 چھپرٗ شرینہہ اور ماں باپ ۔۔۔نہ بھڑکی ڈنکیلی آواز۔

دل خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزتا رہتا ہے۔

کوئی چہرہ کبٗ کہاں اور کیسے داغِ مفارقت دے جائے۔

کہیں نہ کہیں دکھ ہمارے نام لکھے ہوتے ہیں۔

اوجھل دکھ

اور ہمارے مقدر دکھ کی زنجیریں۔۔۔

جن میں ہمیں تخلیق سے پہلے ہی جکڑ دیا گیا تھا۔ (۳۲)

’’میّا‘‘ اپنے موضوع  اور اس میں بیان کی گئی کہانی کے اعتبار سے فکشن نہیں ہے ۔ یہ وہ درد کی بہتی نیّا ہے  جس کے اندر تیراکی وہی کر سکتا ہے جو خود اس دُکھ سے گزرا ہو ، باقی تو محض کناروں پہ کھڑے  لہروں کی سسکیاں سُن سکتے ہیں اسے محسوس نہیں کر سکتے ۔مشرف عام فاروقی کہتے ہیں:

’’ ’میّا ‘فکشن  نہیں ہے۔ ایک ایسی درد بھری سچائی ہے، جس سے گزرنا بھی  جگر والوں کا ہی کام ہے۔ یہ ہم  سب کے لیے ایک بے مثال تحفہ ہے اور جی کرتا ہے کہ  سرحد کی دیواریں گرا کر میّا کے خالق کو زور سے لپٹا لوں کہ یار من، تم نے میّا کو ہمیشہ کے لیے اَمر کر دیا ہے۔ ۔۔ میکسم گورکی کی ماں تو مزدوروں کی تھی۔۔۔

لیکن تمہاری میّا تو مزدوروں کی بھی اور ہم سب کی میّا ہے۔۔۔

تم نے تو میّا میں ’صدیاں‘ رکھ دیں۔۔۔

تم نے میّا کو فکشن کی لازوال بلندیوں پر پہنچا دیا۔۔۔

یارِ من، لیکن اتنا تو بتا دو کہ تم نے لکھا کیسے۔۔۔

کوئی بھی فنکار ماں کو کیسے لکھ سکتا ہے۔۔۔

ماں تو فکشن ہی نہیں ہے۔۔۔اور سچی بات تو یہ ہے کہ ماں کبھی مری ہی نہیں، تم نے تو میّا کو ہمیشہ کے لیے اَمر کر دیا ہے۔۔۔‘‘(۳۳)

 مصنف کتاب کے نصف دورانیے کے بعد ماں کی  تاریخ وفات اور جنازے کا ذکر کرتا ہے ۔ اور ساتھ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کی وفات پہ کوئی بین نہیں کیا گیا اور وہ اُسے وقار کی علامت تصور کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ مذہبی اور خاندانی روایت میں کسے کے جانے کے بعد آنسو  بہانا تو دُکھ کا اظہار ہوتا ہے لیکن  بَین کرنا  مناسب عمل نہیں۔

’’ماں ۔۔۔۔کسی نے بَین نہیں کیا

کوئی نوحہ نہیں ہوا۔

پورے وقار کے ساتھ تیرا جنازہ اُٹھایا گیا۔

اور تو نے زمین اوڑھ کر آخرت کو گھر کیا۔‘‘(۳۴)

حامد سراج  کے ذہن پہ ہر وہ شے اپنا عکس چھوڑتی جس کا تعلق اُس کی ماں سے رہا ہے۔  اور ایک  بات سے دوسری بات  کی کونپلیں اس کے خیال میں پھوٹتی رہتی ہیں ۔ وہ جس شے کو بھی دیکھتا ہے اسے ماں کا چہرہ ہی نظر آتا ہے۔ یہ اقتباسات ملاحظہ کیجیے:

’’ ماں۔۔۔ تمہارا تخت پوش اور اس پر بچھی جائے نماز اداس ہے۔

انگاروں پر دھری چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے۔‘‘(۳۵)

’’ ماں۔۔۔الماری کا دروازہ کھلا ہے۔

الماری میں رکھی ہر چیز مجھ سے سوال کرتی ہے۔

ماں کہاں ہے۔۔۔؟

سلائی کڑھائی کا سامانٗ رنگا رنگ بٹنٗ گوٹے ٗ سلائی مشین کے پرزہ جاتٗ پندرہ بیس  فیوز بلبٗ ایک کٹورا چابیوں سے لبالب بھراٗ جانے کب اور کن کن تالوں کی یہ چابیاں ہیںٗ چائے کے پُرانے ڈبے جن میں سرک لنکا سے چائے کی پتی آیا کرتی تھیٗ آباء او اجداد کی یادگاریںٗ پاپوش ٗ پگڑیاںٗ کٹارےٗ تانبے کے گلاسٗ تانبے کی بڑی بڑی دیگیںٗ پیتل کی پراتیںٗ پیتل کا ایک لیمپ۔۔۔!‘‘(۳۶)

اسی اسلوب بیان اور تکنیک کے حوالے سے مظہر حسین کہتے ہیں:

’’ اگر نیر (ناصر عباس نیر) کی اس بات کو زیرِ نظر رکھ  جائے کہ میا  میں مستعمل اسلوب شاعری ہے تو اغلب گمان  یہی ہے کہ حامد سراج کے پیشِ نظر ایس ٹی کالرج کی ’’دی رائم آف دی اینشینٹ میرینر‘‘ رہی ہو گی۔ تاہم حامد سراج نے دیگر تکنیکوں کے دم بہ قدم غالب آلہ اظہار کے طور پر یاد آوری ’ایسوسیایشن آف آئیڈیاز‘ کی تکنیک استعمال کی ہے۔‘‘ (۳۷)

اُس کی ماں جا چکی ہے لیکن وہ ابھی بھی اسے ڈھونڈ رہا ہے  ۔ وہ اپنے  اور اپنے دوستوں کے دُکھ کو ایک جیسا سمجھتا ہے۔اور شاید خو د  یاد دلا کر صبر دلاتا ہے کہ دیکھو میرے دوست غفور شاہ قاسم کی ماں بھی تو چلی گئی، عبدا لباسط  اور بشارت احمد کی ماں بھی تو  داغِ مفارقت دے گئی۔ کوئی کسی کو کیا تسلی دے سکتا ہے۔ ہم خود ہی زخم ہیں اور مرہم بھی خود  ہی ہیں۔ غالب نے کہا تھا:

قیدِ حیات و بند ِغم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

کتاب کے آخر میں حامد سراج اپنی بے بسی اور اداسی  کا ذکر اپنی ماں سے کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ ماں تمہارے جانے کے بعد کائنات بے روح ہو گئی ہے ۔ چہرے ساکتٗ آسمان چپٗ ستارے بے نورٗ سورج زردٗ شجر خزاں رسیدہ اور ہوائیں نوحے رقم  کرتی  اور کُرلاتی رہتی ہیں۔

گھر سے باہر سنبل کے درختوں کے درمیاں اداسی ننگے پاؤں گھومتی۔

مجھے نہیں معلوم درختوں کی یہ قطار سنبلوں کی ہے یا پائن کی

اے میرے خدا

میری ماں کہاں چلی گئی۔۔۔؟‘‘(۳۸)

جب اپنی الفاظ سے بھی تشفی نہ ہو پائی تو سیّد مبارک شاہ کی نظم  نقل کرتے ہیں۔ جس  کا آخری بند ملاحظہ ہو:

میرا سانحہ بڑا ہے

مرا درد لا دوا ہے

مرے سر سے  دوپہر میں

تری چھاں چلی گئی ہے

اے خدائے زندگانی

مری ماں چلی گئی ہے‘‘(۳۹)

’جی کا جانا ٹھہر گیا ہے‘۔۔۔ دُکھ انسان کی ہڈیاں گلا دیتے ہیں۔  روح مجروح ہو جاتی ہے۔ پھر بس وہ اپنی باری کا انتظار کرتا ہے جب اس کی بھی روح قبض ہو۔۔۔

’’ ماں۔۔۔

یہ شامٗ اداسی اور تنہائی کا لامتناہی صحرا

تم وقت کی قید سے ورے جا آباد ہوئیں

اور میں۔۔۔

ہجر کے پیڑ تلے بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘(۴۰)

زندگی، وقت کی قید کا دوسرا نام ہے جو کوئی وقت سے خلاصی چاہتا ہے اُسے زندگی  کی قید سے نکلنا ہو گا۔ حامد سراج کی ماں وقت کی قید سے آزاد ہوگئی۔۔۔حامد سراج کو بھی اپنی باری کا انتظار تھا کہ وہ اس غم سے نجات پائے۔۔اور بالآخر وہ زندگی کے دائرے سے نکل کر اپنی ماں کے پاس پہنچ گیا ۔انتظار کی رات تمام ہوئی۔۔۔ اب یقیناً  وہ وصل کے پیڑ تلےاپنی ماں کی آغوش میں سر رکھے میٹھی نیند سو رہا ہو گا۔ پُر سکون نیند۔۔۔

’’میّا‘‘ پر چند  اہلِ قلم کے تبصرے :

پروفیسرڈاکٹر  غفور شاہ قاسم:

یہ تحریر درِ سماعت پر ہی نہیں درِ دل پر دستک دیتی محسوس ہوتی ہے ۔اس خاکے کا قاری اسے اپنے وجود کی اندرونی تہوں میں اترتا محسوس کرتا ہے۔ میّا میں کہانی کا سحر بھی ہے اور رپوتاژ کا گہرا تاثر بھی۔۔۔! مرقع کشی کی نظر نوازی بھی ہے اور ڈرامے کی بیانیہ کی منظر نگاری بھی۔   بلاشبہ فقروں  کی موضوع خشت کاری نے اسے ایک تخلیقی شاہکار بنا دیا ہے۔(۴۱)

سائرہ غلام نبی:

حامد سراج کی  ’میّا‘  جس نے بھی پڑھی، اُس کی آنکھوں میں سمندر اُتر آیاہے۔ ماں کے حقیقی کردار کے حوالے سے لکھی گئی یہ کتاب میں نے کئی بار پڑھی ہے اور جہانِ کیفیت میں اتنی ہی بار خود کو ڈوبتا اُبھرتا پایا ہے ، جس میں حامد سراج کوئی ادیب نہیں، افسانہ نگار نہیں، قلم کار نہیں، بلکہ صرف اور صرف ایک ماں کا بیٹا ہے۔ جو اپنی ماں کی یاد میں تاج محل کی تعمیر کر رہا ہے۔ اور اپنے آنسوؤں کے گارے سے اس کو مضبوط کر رہا ہے۔ ماں کی محبت کے رومان نے ’میّا‘ کو کس درجہ تقدیس دی ہے کہ حامد کی ماں صرف اکلوتے بیٹے کی ماں نہیں رہ جاتی، بلکہ ایک جہان کی ماں بن گئی ہے۔(۴۲)

صدف گیلانی:

’’میّا‘‘ ایک ایسی تخلیق ہے جسے اردو ادب کی تاریخ صدیوں فراموش نہ کر پائے گی۔ اس تخلیق کی چشمِ نم کے ساتھ قرأت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی کہ سر زمینِ میانوالی کا نام ’میّاوالی‘ ہونا چاہیے۔ (۴۳)

سیّد محمد اشرف:

میّا۔۔۔ پر لکھنا میرے بس کی بات نہیں لگتا ہے کسی فراموش کردہ صحیفے کے کاغذات ہواؤں کے ساتھ اُڑتے ہوئے آئے اور میّا میں جگہ جگہ پیوست ہو گئے۔ فکشن میں ایسا نرالا اسلوب پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ میّا کا کرم تھا کہ بیٹے کے درد ڈیڑھ سو صفحے کی کتاب کو ایک یادگار تخلیق بنا دیا۔(۴۴)

ناصر عباس نیر:

’’میا‘‘ میں محمد حامد سراج نے ہیئت بیک وقت افسانے اور خاکے کی تکنیک ڈرامائی مونولاگ کی اور اسلوب شاعری کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے اپنی جنت مکانی ماں کا مخاطب کر کے ان احوال و کیفیات کاا ظہار کیا ہے۔ جن سے وہ ماں کی علالت کے دوران میں، ماں کی موت کے وقت اور ماں کی موت کے بعد گزرے (اور شاید گزر رہے) ہیں۔ تینوں حالتوں میں ایک روح کو مسل دینے والا دُکھ ان کے پورے وجود کو محیط رہا ہے۔۔۔ سو یہ کتاب ماں کی موت کا مرثیہ بھی ہے اور ماں کے ساتھ اپنے تعلق کی لمبی مسافت کا محضرنامہ بھی ہے۔۔۔ہر چند اس کتاب میں شخصی عنصر حاوی ہے مگر متعدد مقامات پر محمد حامد سراج اور ان کی ’’میا‘‘    آر کی ٹائپ‘‘ میں بدل جاتے ہیں: شخصی عنصر منہا ہوجاتا اور فن غالب آ جاتا ہے۔ مصنف اور میا بیٹے اور ماں کے ازلی و ابدی رشتے کی علامت بن جاتے ہیں اور یہ بات اس کتاب کو غیر معمولی بناتی ہے۔ (۴۵)

رومانہ رومیؔ:

محترم محمد حامد سراج کی تصنیف ’’میّا‘‘ اسی ہمیشہ سے قائم آتما کے روپ سے عشق پیچاں کی بیل کی صورت لپٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ مشق اپنی مشفق محترم ماں کے لئے کی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سماج کی ہر ماں کے لیے ہدیہ عقیدت ہے کیونکہ تن جتنے بھی ہوں آتما تو ایک ہے اور آتما کی پریت مامتا کا ’میّا‘ کی صورت خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

’’میا‘‘ بلا شبہ پرماتما، آتما  اور مامتا کے لیے سماجِ انسانی کا عمدہ اظہارِ تشکر ہے۔(۴۶)

شبیر احمد قادری:

میّا کا شمار ان کتابوں میں ہوتا ہے جنہیں لکھنے کے لیے مصنف کوچُن  لیا جاتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب لکھی نہیں گئی بلکہ لکھوائی گئی ہے۔ افسانے کی دنیا میں گھومنے والا لکھاری حقیقت سے بھلا کیوں کر آنکھیں چار کر سکتا تھا۔ میّا کے لیے مصنف ہی نہیں چُنا گیا بلکہ اس کا اسلوب بھی بڑا منتخب اور چنیدہ ہے۔ حامد سراج چونکہ افسانہ نویس کی حیثیت سے اپنی ایک شناخت رکھتے تھے سو اس کے اثرات میّا  پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اس کتاب میں مصنف نے حقائق کو افسانے کے رنگ میں پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ہے  یوں اسے فیکشن فیکٹ اور فکشن کے قریب تر لے آئے ہیں۔ (۴۷)

عذرا اصغر:

ماں کے موضوع پر کیا عرض کروں البتہ یہ کہے بنا چارہ نہیں کہ ’’میّا‘‘ ایک خوبصورت اور منفرد سوانح ہے۔ جس میں مخصوص وقت کو احاطہ کرنے کے خیال کے باوجود اپنا بہت سا ماضی اور حال مختصر کتاب میں سمو دیا ہے آپ نے۔ اندازِ بیان جذبات سے لبالب۔۔۔ ہر لمحہ تصویر۔۔۔ لفظ اشک آلود۔۔۔ واقعی حامد سراج تمہارے نام کو دوام اور تحریر کو وقار بخشنے کے لئے صرف اور صرف ’’میّا‘‘ ہی کافی ہے۔بشرطیکہ  اہل قلم اور اہل نظر تعصب نہ برتیں۔(۴۸)

خالد قیوم تنولی:

’’میّا‘‘ میری دانست میں ایک نثری مرثیہ ہے جس میں تمام اوصافِ شعر بدرجۂاتم موجود ہیں۔ یوں نثر میں ہیئت کے تجربے کا نمایاں مظہر ٹھہرنے کے ساتھ ساتھ جس میں رثائی ادب کی جدت ، ندرت اور عقیدت کا بحرِ رواں بھی ہے۔ ہر صحت مندانہ کوشش کا رُخ اندر سے باہر کی دُنیا کی جانب ہوتا ہے۔(۴۹)

’’میّا خطوط کے آئینے میں (غیر مطبوعہ)‘‘

 بشریٰ رحمان:

۱۔ اگر میّا جیسی جانسوز کتاب پڑھ کرکوئی فوراً جواب نہ دے تو اسے بد ذوقی ہی نہیں بد اخلاقی بھی کہا جاسکتا ہے۔

میں کیا کرتی۔۔۔؟

ان دنوں میں اعتکاف میں تھی۔

کتاب دیکھتے ہی پتہ چک گیا اس میں قصہ فراق ، وچھوڑے کا الم اور ایک بیٹے کے آنسو ہیں ۔ میں اس موڑ سے گزر چکی ہوں۔

بہت چاہا کہ عید کے دن اس کتاب کو نہ پڑھوں ۔ شروع کی تو چھوڑ نہ سکی۔

شام کو بیٹے کا امریکہ سے فون آیا۔ بولا۔۔۔ ماں  آپ ٹھیک تو ہیں،

کہا کہ با لکل ٹھیک ہوں الحمداللہ۔۔۔

بولا۔۔۔تو آپ کی آواز اتنی بھاری کیوں ہو رہی ہے۔۔۔

ہاں، میں مسکرائی ایک کتاب  پڑھ کے روتی رہی ہوں، جو ایک بیٹے نے اپنی ماں کے لیے لکھی تھی۔(۵۰)

 طاہر شیرازی:

۲۔  تمہاری کےکتاپ پڑھ کر اُس کت سر ِ وقر سے، اس کی تحریر سے، اس کی اداسی سے، ٹالی سے شرینہہ سے، ماں سے اور تم سے محبت ہو جاتی ہے۔ پہلے ایک کسمپرسی آڑے آتی تھی کہ تم ایک بڑے آدمی ہو، دولتمند بھی ہو، کہیں تم سے مل کر خواہ مخواہ کسی احترام میں نہ پھنس جاؤں ۔ اور اس احترام میں دوستی ہاتھ سے نہ جاتی رہے۔ مگر تم تُو میری طرح غریب ہو۔ میری طرح بے نوا ہو۔

’’میا‘‘ کے بارے میں کیا لکھوں ۔ اپنے احساس کو کیا زبان دوں ۔ مین تم سے بڑا نثر نگار بھی نہیں ہوں۔ مرا خیال ہے کہ ایک خوبصورت تحریر وہ ہوتی ہے جسے پڑھنے کے بعد کچھ کہنے کی گنجائش پیدا ہو۔ مگر بعض تحریریں خوبصورتی کے اس کمال تک پہنچ جاتی ہیں جہاں کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ با لکل روشنی کی طرح، جس کی چکا چوند سے بعض اوقات آنکھوں کی تیرگی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا۔ تم ایک پوری کیفیت کو ، سارے جذبوں کو یا ایک پورے پیراگراف کو ایک لائن میں لکھنے پر قادر ہو۔ فقط ایک لائن ۔۔۔بھرپور اور پُر تاثیر لائن۔ (۵۱)

سائیں طارق جاوید:

۳۔ ’’میا‘‘ جہاں آپ کے دلی جذبات کی آئینہ دار ہے۔ وہیں ادبیّت اور فن کے لحاظ سے بھی اتنی معتبر ہے کہ جیسے آپ کی میّا آپ کے دل میں زندہ ہے۔ ویسے ہی یہ بھی جہانِ ادب میں زندہ رہے گی اور آپ کے معتبر نام کو ہمیشہ کے لیے اَمر کر دے گی۔ اتنے جاندار اور خوبصورت جُملے جو آدمی  کو اندر سے ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی افسانے میں بھی نہیں پڑھے۔ آپ کی کتاب دل کا سوز اور رُوح کا گداز ہے۔ یہ اہلِ درد کے لیے ایک سرمایہ ہے جو اپنے موضوع، فن اور ا س میں موجزن جذبے کی بناء  پر ادب کے ایوانوں میں ہمیشہ سر بلند رہے گی۔ ایسی شاہکار تخلیق کے لیے میری طرف سے مبارک قبال کیجیے۔

آپ کی میّا کی پاکیزہ رُوح رب کریم کی رحمت کی چھاؤں میں ہو گی۔(۵۲)

تسنیم کوثرؔ:

۴۔ یقیناً آپ کو خط کے جواب کا نتظار ہو گا۔۔۔ مگر آپ ہی کہیں۔۔۔ جب زخم میرے ہو جائیں۔۔۔درد کی لہریں مچلنے لگیں۔۔۔ یاد کے دریچے وا ہو جائیں اور معصوم ضدیں ، شرارتیں ان دریچوں سے جھانکنے لگیں۔۔۔ تو خط کیسے لکھا جائے؟

خط لکھنا اور۔۔۔ وہ بھی میّا پڑھنے کے بعد ۔۔۔مشکل بہت مشکل ہو رہا ہے۔۔۔ معذرت خواہ ہوں۔۔۔’’میّا‘‘ پر میں نے محبتوں ، پچھتاؤں  اور ندامتوں کے اتنے اشک بہا دیے ہیں کہ۔۔۔ لفظ بھی دھندلا گئے ہیں۔ (۵۳)

 شہاب صفدر:

۵۔ ’میّا‘ کیسی تخلیقات اختیاری نہیں بلکہ بے خودی کی دین ہوتی ہیں۔ اول تا آخر اس میں احساسات ، جذبات، اور حکمت کے دھارے آپس میں ملتے بچھڑتے محسوس ہوتے ہیں۔

وفورِ خیال، خواب و سراب نہیں بلکہ حقیقت کی زمین سے پھوٹنے والے چشمے کا نام ہے۔ آپ نے ذاتی غم کے حقائق زادوں سے ایسے پھولوں کا رس نچوڑا ہے کن کا ذائقہ اور خوشبو دامنِ آفاق تک پھیلی ہوئی ہے۔

ماں کس کو پیاری نہیں ہوتی؟ لیکن آپ نے ماں کی محبّت کے موجزن سمندروں سے جو موتی آغوش ساحل میں سمیٹے ہیں۔ اُن کی چمک دمک بے مثال اور حیرت انگیز ہے۔

’’میّا‘‘ میں زمانی فاصلے بھی اتنے سمٹ گئے ہیں کہ ماضی، حال اور مستقبل ایک  ابد کنار سلسلے کی مختلف کڑیاں دکھائی دیتے ہیں۔ (۵۴)

 شبیر احمد قادری:

۶۔  آپ نے بڑا عجیب موضوع لیا ہے۔ اس خاکے میں آپ نے خلاقانہ انداز سے رنگ بھرے ہیں اس پر داد دینے کے لیے لفظ بھی ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ آپ نے زندہ موضوع پر زندگی سے بھرپور لہجے میں بات کی ہے۔ اسے لکھا ہے مگر درحقیقت یہ ہر ایک کا موضوع ہے لفظ ماں کو آپ نے میّا  کا نام دے کر اور زیادہ دل آویزی پیدا کردی ہے۔

محترم حامد صاحب! یہ کتاب محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے لکھی نہیں بلکہ آپ سے لکھوائی گئی ہے ماں کے موضوع پر متعدد کتب لکھی گئی ہیں مگر آپ نے اس موضوع سے حقیقی انصاف کیا ہے۔(۵۵)

 خالد مصطفیٰ:

۷۔  میّا میں آپ کی افسانہ نگاری اور خاکہ نگاری کی آمیزش نے وہ کام کیا ہے جس کو کرنے کی خواہش میں بڑے بڑوں کے پتّے پانی ہو جاتے ہیں۔ اگر میں حوالے تلاش کرنے کے لئے کتاب کھولوں تو میں ایک بار پھر اضطرابی کیفیت میں پھنس جاؤں گا جس سے میں پہلے بہت مشکل سے نکلا ہوں۔

حامد بھائی میں اس وقت اپنے دفتر میں ہو۔ں آج پندرہ شعبان ہے۔ میں روزے سے ہوں، اپنے اوپر بہت ضبط کرکے خط لکھ رہا ہوں۔ کتاب میرے سامنے ہے لیکن اس کو کھولنا میرے لیے مشکل ہے کیونکہ آپ کے جادو کے آگے سب بے بس ہیں ۔اگر کتاب کھل گئی تو آنکھوں کے بند ٹوٹ جائیں گے اور میں اس وقت تماشا نہیں بننا چاہتا۔ میں بیٹھا ہوں۔ اس ظالم وردی کے بھی اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ میری آنکھوں کی پلکوں پر ستارے چمک اُٹھے ہیں۔ میں اندر ہی اندر سے بھیگ رہا ہوں۔ اس سے قبل کہ میںجل تھل ہو جاؤں مجھے اجازت دیں۔  میں ایک کمزور آدمی ہوں،  میں آپ جیسا ’قوّی دل‘ نہیں۔  لیکن حامد سراج! آپ کی میّا صرف ایک کتاب نہیں ہے۔ یہ اس سے اوپر کی کوئی چیز ہے شاید ایک صحیفہ!(۵۶)

منیر احمد فردوس:

۸۔  حامد صاحب !میں نے تو سوچا تھا کہ میّا تین  یاچار نشستوں میں آرام سے بیٹھ کر پڑھ لوں گا مگر جب پڑھنا شروع کیا تو یقین کیجئے دوسری نشست کی نوبت ہی نہ آ سکی۔  آپ کے انداز بیان اور بے انتہا چست بندش نے مجھے باندھ کر رکھ دیا ۔ میّا تو شروع  سے آخر تک محسوسات کا ایسا سیلاب ثابت ہوئی جس میں بہہ جانے کے علاوہ آپ نے قاری کے لیے اور کوئی راستہ چھوڑا ہی نہیں ہے۔  یقین کیجیے میں نے محسوسات کی منظر کشی پہلی بار دیکھی ہے۔ میں جوں جوں میں میّا پڑھتا گیا مجھے آپ پر بے حد پیار آتا گیا۔ دل کرتا ہے کہ آپ کے دل میں نقش میّا سے منسوب تمام یادوں کا  عکس اپنے دل پر اتار لو ں اور تا زیست ان میں کھویا رہوں۔ (۵۷)


حوالہ جات باب چہارم

۱۔حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۳۰

۲۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۲۵

۳۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۲۶

۴۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۳۹

۵۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۲۶

۶۔ ایضاً، ص۔ ۲۷

۷۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۲۸

۸۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۳۲،۳۳

۹۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۳۰

۱۰۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۲۷،۲۸

۱۱۔ایضاً، ص۔ ۱۴۲

۱۲۔ایضاً، ص۔ ۳۱

۱۳۔ ایضاً، ص۔ ۳۷،۳۸

۱۴۔ ایضاً، ص۔۴۷

۱۵۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۳۹

۱۶۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۴۰

۱۷۔ضمیر جعفری، سیّد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا(رائے: ناصر عباص نیر) مثال پبلشرز،فیصل آباد، ۲۰۰۶، ص۔ ۲۲۶

۱۸۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۷۶،۷۷

۱۹۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۰

۲۰۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۴۰

۲۱۔ایضاً، ص۔ ۴۲

۲۲۔ایضاً،ص۔۵۳

۲۳۔ایضاً، ص۔ ۵۲

۲۴۔ایضاً،ص۔۵۸

۲۵۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۰

۲۶۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۶۱

۲۷۔ایضاً، ص۔۶۵

۲۸۔ایضاً،ص۔۷۱

۲۹۔ایضاً،ص۔۷۴

۳۰۔ ایضاً،ص۔۷۹

۳۱۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج(دیباچہ: خالد قیوم تنولی)، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۱۳

۳۲۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۸۴

۳۳۔ ضمیر جعفری، سیّد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا(رائے: مشرف عالم فاروقی) مثال پبلشرز،فیصل آباد، ۲۰۰۶، ص۔ ۲۲۶

۳۴۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۹۴

۳۵۔ایضاً، ص۔۱۱۲

۳۶۔ایضاً،ص۔۱۱۶

۳۷۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۲۷

۳۸۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۱۴۲،۱۴۳

۳۹۔ایضاً،ص۔۱۱۳،۱۱۴

۴۰۔ایضاً،ص۔۱۱۴

۴۱۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۱

۴۲۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(سائرہ غلام نبی، افسوں طراز ہنر کار کا شہ پارہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۳۵

۴۳۔ایضاً، صدف گیلانی، شیخوشریف،اوکاڑہ،ص۔ ۴۲

۴۴۔ ضمیر جعفری، سیّد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا(رائے: سیّد محمد اشرف) مثال پبلشرز،فیصل آباد، ۲۰۰۶، ص۔ ۲۲۵

۴۵۔ایضاً، ناصر عباس نیر، ص۔۲۲۶

۴۶۔رومانہ رومیؔ،’’میّا‘‘ تمام ماؤں کے لیے خراجِ عقیدت، ۲۶ جولائی ۲۰۰۷، غیر مطبوعہ

۴۷۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (شبیر احمد قادری ،ماں۔ ’’میّا‘‘ اور حامد سراج مرحوم) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۲

۴۸۔ایضاً، از عذرا اصغر ،میا کے بارے میں خط  ص۔ ۱۴۶

۴۹۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج(دیباچہ: خالد قیوم تنولی)، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۱۴

۵۰۔مکتوب:بنام محمد حامد سراج ،   بشریٰ رحمان، ۲۴ دسمبر ۲۰۰۴)،اسلام آبادممبر نیشنل اسمبلی(غیر مطبوعہ)

۵۱۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج ، طاہر شیرازی ، ۵ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

۵۲۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،سائیں طارق جاوید، مانسہرہ، ۴ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

۵۳۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، تسنیم کوثرؔ(غیر مطبوعہ)

۵۴۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،شہا ب صفدر(غیر مطبوعہ)

۵۵۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج،شبیر احمد قادری فیصل آباد ، ۱۶ جون ، ۲۰۰۵(غیر مطبوعہ)

۵۶۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج،خالد مصطفی۔ ۱  اکتوبر،   ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

۵۷۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، منیر احمد فردوس، ڈیرہ اسماعیل خان، ۲۰ اکتوبر،۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

Chapter 5

باب پنجم

متفرقات

حامد سراج:فیس بُک اور تخلیقی نثر

ادیب ، شاعر، فنکار اور تخلیق کار  یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے فن کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ یہ اظہار کا کوئی بھی ذریعہ  استعمال کر رہے ہوں اُس میں تخلیق کی سوندھی خوشبو ضرور بھر دیتے ہیں۔  زمانے کے انداز بدلے گئے، اقبالؔ کہہ گئے تھے  ، نئے زمانے کی نئے تقاضے ہوتے  ہیں ۔ محمدحامد  سراج بھی اس بہتے زمانے کے ہمراہ اپنی اقدار کو ساتھ لیے رواں دواں رہے ۔  اس نے فیس بُک پہ  اپنی تخلیق کے موتی بکھیرے ہیں۔ وہ ہمیں نئی کتب  اور رسائل و جرائد کے تازہ شماروں کا تذکرہ  بھی کرتے دکھائی دیتا ہے اور جو اُس پہ بیت رہی ہے۔۔۔بیت چکی ہے  ۔۔۔گاہے گاہے اس کا ذکرِ شیریں بھی   کرتا چلا جاتا ہے۔  ان غیر مطبوعہ  مختصر تحریروں سے ہمیں حامد سراج کی شخصیت، اس کے دوستوں سے تعلقات اور ذوق و شوق کا بھی علم ہوتا ہے۔ چند ’’پوسٹس‘‘ ملاحظہ ہوں۔

ممتاز شیخ کے نام ایک  پیغام میں لکھتے ہیں:

۱۔  

محبی ممتاز شیخ صاحب

السلام علیکم ۔۔۔۔۔

یہ کل کی بات لگتی ہے میں گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں چھٹی کا طالب علم تھا ۔ ہائی سکول کے سامنے ریلوے اسٹیشن ہے ۔ وہاں ریلوے بک سٹال پر نقوش ‘ فنون اور اوراق دستیاب تھے اور میرا شوق سوا تھا ۔ میرے کلکشن میں نقوش کی فائل مکمل ہے ۔ چند شمارے نہیں ہیں ۔ وہ بوسیدہ ہو گئے ہماری عمر ڈھل گئی ۔ "لوح” کا شمارہ اول خوب سے خوب تر تھا اسمیں کہیں کوئی کمی نہیں تھی ۔ پھر اتنا ضخیم پرچہ اس تسلسل سے شائع ہونے لگا کہ کوئی حیرت سی حیرت ہونے لگی اور معیار پر آپ نے سودا نہیں کیا ۔ اور اپنے جریدہ میں نئے تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کر کے آپ نے اردو ادب کی زندہ روایت کو آگے بڑحایا ۔ یہ ایسا جریدہ نہیں کہ جسے دیکھ کر ایک طرف ڈال دیا جائے ۔ یہ مکمل وجود مانگتا ہے اور تکیہ کے ساتھ رہتا ہے ۔ آپ نے "لوح کا افسانہ” نمبر نکالا جسے اردو ادب کا قاری آج بھی تلاش کرتا پھر رہا ہے ۔ "لوح” کا تازہ شمارہ موصول ہوا ۔ آپ نے اعزازی بھجوایا۔ یہ آپ کا قد اور بڑا پن ہے ۔ میں لوح میں اور "لوح” مجھ میں گم ہے ۔ ہم ایک ہو گئے ہیں ۔ اللہ کریم آپ کو تادیر سلامت رکھے ۔۔۔( ۲۸ اگست، ۲۰۱۹)

۲۔

میں ریوڑیاں” کھا رہا ہوں ۔ ویسے تو ریوڑی پورے پاکستان میں میسر ہے لیکن چکوال کی "پہلوان ریوڑی” ٹاپ پر ہے ۔ گڑ والی ٹانگری بھی گاؤں کی ہٹی اور دکانوں پر مل جاتی ہے لیکن ایک عرصہ سے میں نے بتاشہ نہیں کھایا ۔ کہیں متروک تو نہیں ہو گیا (اللہ نہ کرے) کل پلی پر ارائیوں والی ہٹی سے پتا کرتا ہوں ۔ اپنی ثقافت کی حفاظت کیا کیجئے۔  شب بہ خیر۔۔۔ (۲۹ جولائی، ۲۰۱۹)

۳۔

سناٹا ہے
چھت والے پنکھے کے پر نظر آ رہے ہیں کیوں کہ وہ آہستہ آہستہ گھوم رہا ہے ۔ اور ایک انسان ہے کہ وقت کے دائرے میں زناٹے دار رفتار میں ہے ۔
اور
اک محمد حامد سراج ہے
جو پنکھے اور انسان کو دیکھ رہا ہے
جانے کیا دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
کیوں دیکھ رہا ہے
آج 21 اکتوبر کو وہ 58 برس کا ہو گیا
ان بیتے برسوں میں
کیا کھویا
کیا پایا
کیا کمایا ۔۔۔۔۔۔؟
اے زندگی
بول ۔۔۔۔۔
تو کہاں چلی گئی
میرے اٹھاون برس
کہاں چھوڑ آئی ۔۔۔۔۔؟
یاران ادب
صبح بہ خیر(۲۱ اکتوبر، ۲۰۱۶)

۴۔

میں وہ خوش قسمت ہوں کہ جس نے مولانا مفتی محمد شفیع رح ‘ مولانا مفتی رفیع عثمانی مدظلہ ا لعالی اور مولانا تقی عثمانی مدظلہ ا لعالی کی تعلیمات ‘ تصنیفات اور تالیفات سے فیض پایا ہے اور میری شخصیت پر ان کی تعلیمات کے گہرے اثرات ہیں ۔ اللہ کریم ان نفوس قدسیہ کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا کرے "آمین” ان دنوں مولانا جسٹس تقی عثمانی مدظلہ ا لعالی کا "آسان ترجمہ قرآن” زیر مطالعہ ہے ۔ اللہ کریم عمل کی توفیق عطا کرے ۔ بھائی سعود عثمانی آپ کی دست بوسی کی خواہش ہے ۔ بس لاہور کا سفر ہو جائے ہماری مشکل آسان ہو جائے۔

(۱۹ اکتوبر، ۲۰۱۶)

۵۔

محبت کے کھیل کی گوٹیاں تو مجھے بھی چلانی نہیں آتیں بس یہی آڑی ترچھی لکیروں کا جنگل ہے ۔ گوٹیاں ۔۔۔۔؟ کالج کی زندگی میں ڈرافٹ کامیں بہترین کھلاڑی تھا ۔ مجھ سے جیت جانا ایک مشکل کام تھا ۔ ایک لڑکا تھا ہاسٹل میں دراز قد، زلفیں کندھے تک ، بندہ ایک کان میں ، دوہڑے ماہیےکی لے کو کمال اٹھاتا تھا ۔ ایک دن ہوسٹل لان میں مل گیا

بولا ۔۔۔۔ڈرافٹ کھیلو گے

ضرور

لیکن ہار جاؤ گے

اتنا زعم ؟

نہیں ۔۔۔۔ بس ایسے ہی

کالج میں ڈھنڈورچی نے وہ ڈھول بجایا ۔ الامان کہ کل عصر کے بعد مصور اور حامد کے درمیان تین تاریخی میچ !

سارے ہوسٹل کے لڑکے جمع ہوگئے ۔۔۔۔۔

پہلی گیم ۔۔۔۔ دوسری چال میں اس نے گیم بلا ک کر دی ۔

مجھے پسینہ آگیا ۔۔۔۔

دوسری گیم ۔۔۔۔ اس نےمجھے دو چالیں چلنے دیں ۔ چھنگلی میں انگوٹھی گھماتا رہا اور جیسے گوٹی اٹھائی سارے رستے مسدود کر دئے ۔ لڑکوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ وہ جیت چکا تھا ۔۔۔۔میں نے بھری محفل میں اعلان کیا کہ مصور کی مہارت کے بعد ڈرافٹ کھیلنا بے کار ہے ۔ میں ساری عمر کے لئے ریٹائر ہو رہا ہوں ۔ یہ1978 کی بات ہے ۔ زندگی ہے تو مات بھی ہے جیت بھی ہے ۔۔۔۔۔پروین شاکر نے کہا ہے

ہارنے میں اک انا کی بات تھی

جیت جانے میں خسارہ اور ہے

(۲۷ جولائی، ۲۰۱۹)

۶۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔

فقیر کی تازہ کتاب ” نقش گر”

میرا سرمایہ کیا ہے ؟ قلیل سا۔۔۔۔۔

  افسانے ۔۔۔۔ "میا” آشوب گاہ ” ہمارے باباجی خواجہ خان محمد رح”

محبتوں کے سلسلے بڑے پائیدار ہوتے ہیں اگر میں کھوٹ ملاوٹ خود غرضی مفادات اور لوبھ "کی آمیزش نہ ہو ۔ یہ جو دو درویش ہیں ۔۔۔۔۔۔امر شاہد اور گگن شاہد ۔۔۔۔ اتنی محبت نچھاور کرتے ہیں کہ انسان شرابور ہو جاتا ہے ۔ سرپرائز بھی ان کا مزاج ہے ابھی مجھے فون آیا ۔۔۔۔ حامد سراج کسی کو ڈاکخانہ بھیجو وہاں ایک تحفہ آپ کے انتظار میں ہے ۔ پارسل کھولا تو سکتہ ہو گیا ۔ اتنا انمول اور قیمتی گفٹ ۔ یہ تو پچھلے برس کی بات ہے ۔ امر اس کے لئے تیاری کرتا رہا اور مجھے خبربھی نہ ہوئی ۔

  افسانوں کا انتخاب میں نے خود کیا ہے ۔ اور بڑی مشکل سے کیا ہے ۔ اپنی تخلیق کا چناو کٹھن مرحلہ ہے ۔ دیباچہ رانچی سے ڈاکٹر غالب نشتر نے لکھا ہے ۔ ان کی محنت کو سلام ۔ کتاب بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے ۔ سر ورق امر شاہد کی محنت ہے ۔ قیمت 600 روپے ہے ۔ کاغذ بہت اعلی لگایا ہے ۔ میری سوچ سے بھی بہت اعلی ۔۔۔۔۔ رب کریم ان کو اجر عظیم عطا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ پڑھئے پرکھئے ۔۔۔ اپنے رائے دیجئے تا کہ میں اپنی خامیاں دور کر سکوں ۔ مجھے اپنے قاری پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔(۲۰ جولائی، ۲۰۱۹)

۷۔

لالٹین دل کھینچ رہی ہے افسانہ لکھنا ہے لیکن نہیں منٹو کی لالٹین اور وہ جو "چاکی واڑہ میں وصال” کے خالق ہیں ۔ نام بھول گیا ۔ ان کی لالٹین کے سامنے میری لالٹین کیا جلے گی ۔ ہاں "لالٹین جلتی رہے” بہت برس پہلے لکھا تھا علی محمد فرشی نے ” سمبل” میں شائع کیا ۔ ادبیات” کے سال کے بہترین افسانوں میں شامل ہوا ۔ متعدد اخبارات اور ادبی جرائد میں شامل ہوا ۔ اب بھی سوچتا ہو ایسا اس میں کیا ہے ؟ مٹھی بھر الفاظ ۔۔۔۔ بس ۔۔۔ فن ہے کیا ۔۔۔؟ تخیل کہاں سے اترتا ہے ؟ سمجھ نہیں پایا ۔۔۔۔اسی لئے افسانوی مجموعہ "برائے فروخت” میں کہا بس ایک جملہ ! جس روز میں لکھنا چھوڑ دوں گا مر جاؤں گا” ۔۔۔۔۔۔ شب بہ خیر۔ (۶ جولائی، ۲۰۱۹)

۸۔

یہ درد پہلے بھی اٹھایا لیکن کل جون کی تپتی دوپہر میں بہت تکلیف اٹھائی ۔ ماموں زاد ماجد اور اسامہ بیٹے کے ساتھ بلیو ایریا کی ایک کیفے سے چائے پی ۔ میں نے کہا جیسے کیفے تلاش کیا ہے ویسے مجھے مسجد تلاش کر دیں ۔ مسجد کیفے کے پہلو میں تھی لیکن مقفل تھی ۔ تقریبا” ایک بجے ظہر کی نماز کا وقت داخل ہو چکا تھا ۔ تزئین و آرائش سے مزین مسجد میں وضو کیا ۔وہ بھی مقفل نکلی ۔ خاکروب سے پوچھا

‘بابا مسجد کب کھلے گی ؟

سوا دو بجے ۔۔۔۔

مسجد کی سنگ مر مر کی آگ بنی سیڑھیوں سے اندر جھا نکا ۔۔۔۔

آخری سیڑھی پر اتنی گنجائش سمٹ کے نکلتی تھی کی بیٹھ کر نماز ادا کر لی جائے ۔ تپتے فرش پر نماز ظہر ادا کی اور حضرت بلال حبشی رض بہت یاد آئے ۔

میرے وطن کی مساجد مقفل ہیں

حیف ہے حیف ۔۔۔(۲ جولائی، ۲۰۱۹)

۹۔

تاروں بھری رات تھی یہ کل کی بات ہے اس کا ایک سرا میرے بچپن سے جڑا ہے ۔ ابھی تو میں اسلام آباد ہوں ۔ کینسر کی نوعیت جانچنے کے تمام ٹیسٹ مکمل ہو گئے بس اب کل "نوری کینسر سنٹر” کی آن کولوجسٹ نے علاج شروع کرنا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کس ٹیسٹ میں کیا ہے میں نے کرید بھی نہیں کی ۔۔۔ شعبہ نہیں میرا ۔۔۔ جس کا کام اسی کو ساجھے ۔۔پرسکون ہوں ۔ سکینت آسمان سے اتری ہے ۔ ہم مٹی سے بنے کمزور انسانوں کی کیا مجال ۔ بس عطا ٹھہری رب کریم کی ۔ ہمیں تو جو دن عطا ہوا ہنس کے گزارنا ہے ۔

تاروں بھری رات تھی ۔۔۔ یہ ایک مہینہ قبل کی بات ہے ۔ ہم میاں بیوی کھلے آسمان کی چھاؤں میں چارپائی پر سوئے ۔ بچے اب مصنوعی ٹھنڈک پسند کرتے ہیں ۔ رات آدھی رات میں میری آنکھ کھل گئی

اُف میرے خدا!

آسمان تاروں سےبھرا چمک رہا تھا۔ آدھی رات تاروں کا بے پناہ حسن ۔۔۔ میں اٹھ بیٹھا میرا بچپن شرارتیں کرنے میں مگن تھا۔ میں گھڑونچی سے منگرے میں پانی ڈال رہا تھا ۔ قریب نانا جان کی حویلی میں کیکر پر ایک الو بول رہا تھا ۔ جھینگر اور میڈکوں نے رات کے سناٹے کو چیر پھاڑ کے ایک طرف پھینک دیا تھا ۔ جانے کیا ہوا ۔ گھڑا گھڑونچی سے نیچے آ رہا ۔ دادی اماں اور ماں بھاگ کے آئیں اور پوچھا

۔(۳۰ جون ، ۲۰۱۹)”بیٹا کہیں چوٹ تو نہیں لگی

۱۰۔

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

تیز ہوا کا شور تھا میں لان میں لوہے کی کرسی پر بیٹھا تھا ۔ اچانک خوشبو کا جھونکا گزرا ۔ بہت برس پرانی بات ہے ۔ وہ میری بہت اچھی دوست تھی ۔ غمگسار ۔ خود بھی اتنی نفیس بالکل ایسے مغلیہ عہد کے منقش ظروف ہوں ۔ وہ ہمیشہ کہتی میری عمر آپ کو لگ جائے ۔ پاگل تھی۔ میں اپنی عمر اسے لگا چکا تھا ۔ اس روز وہ ایک کیفے میں میرے سامنے لوہے کی کرسی پر بیٹھی تھی اس کے بے پناہ حسن کی پشت پر سوکھا شرینہہ اور خشک پھلیاں تھیں ۔ بس اتنا یاد ہے چائے میں دو آنسو گرے ۔ اس کے بعد وقت کا گھڑیال خاموش ہے ۔ میں اٹھ کر گھر کی گیلری سے گزرا وہاں آئینہ لگا ہے ۔ میں نے اپنے برف ایسے بال دیکھے اور مجھے اپنا کالج فیلو ڈاکٹر رؤف امیر بہت یاد آیا اپنی شاعری سمیت ۔۔۔

یہ آئینہ مجھے کس رخ پڑا نظر آیا

میں اپنی عمر سے کتنا بڑا نظر آیا

(۲۸ جون، ۲۰۱۹)

۱۱۔

میں ہسپتال کے نرم بستر پر تھک گیا ۔ دنیا میں سب سے زیادہ بے آرام بیڈ ہسپتال کے بیڈ ہوتے ہیں ۔ جو مزہ بان کی چارپائی میں ہے وہ اور کہاں ۔ میں گیلری میں ٹہلنے نکل گیا ہم افسانہ نگاروں کو چین کہاں یہ جو ہم سچے جگر جلانے والے تخلق کار ہوتے ہیں جن کا ناموری سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا ۔ موت ہمارے دروازے پر دستک بھی دے رہی ہو تو ہم آخری لمحے کو بھی نہیں کھونا چاہتے ۔ میں گیلری میں عصر کی دھوپ سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ کہ اچانک ایک بورڈ پر نظر پڑی اور کھب گئی ۔ واہ ۔۔۔ واہ ۔۔۔ کیا عظیم موجد ہیں ۔ اپنے لئے بھی جینا کوئی جینا ہے ۔ وہ تو ڈھور ڈنگر بھی جیتے ہیں ۔ میں نے ایک ایک موجد سے بات کی ۔ خوش ہوا ۔ سرشار ہو گیا ۔ میں نے انہیں کہا

تم کروڑوں اربوں انسانوں کے سینے میں دھڑک رہے ہو ۔ تمہیں صدیوں دست قضا نہیں چھو سکتا ۔

میں نے سب کو سیلوٹ کیا

انسان اور انسانیت کے عظیم محسن ۔۔۔

میری آنکھیں نم ہو گئیں

آہ ہم تو زمین کا بوجھ ہیں ۔۔۔(۱ جون ۲۰۱۹)

۱۲۔

یارانِ چمن آپ کے لئے تصویریں کھوجتا رہتا ہوں جو کلاسیکی انمول آرٹسٹک ہوں ۔ الفاظ کے جوڑ اور چولیں بٹھاتا ہوں ۔ افسانہ تراشتا ہوں ۔ روح کے رندے سے افسانے کو شفافیت کے عمل سے گزارتا ہوں ۔ زندہ قہقہہ لگانے کی اداکاری کرتا ہوں کہ میرے چاہنے والے میری وجہ سے کبھی مغموم نہ ہوں ۔ دکھ درد بیماریاں ، ان میں دو چمچ چینی ڈال کے پی جاتا ہوں ۔ مخلوق کے سامنے ذکر سے لرزتا ہوں کہ یہ نعمتیں اللہ کے اور میرے درمیان ہیں ۔ خوش رہا کیجئے خوش رہنا مشکل ہے تو خوش رہنے کی اداکاری سیکھ لیجئے زندگی آسان ہو جائے گی اور اسی کا نام زندگی ہے ۔ شب بہ خیر۔ (۱۶ اپریل، ۲۰۱۹)

۱۳۔

ناصر اور میں نے ایک ساتھ گؤشالہ سکول میانوالی سے پرائمری پاس کی ایک ساتھ تختی دھوئی ۔ شریف کی ہٹی سے ٹانگری کھائی ۔ ایک آنہ اور دو آنہ والی قلفیاں کھائیں ۔ اک عمر گزاری برس نہیں ۔ وہ اپنی نوع کا خوبصورت ترین انسان تھا ۔ ہنس مکھ ملنسار ، دکھ جھیل کے ہنسنے والا ۔ وہ جو مجھے مولوی سوہنڑا کہتا تھا ۔ اک سمندر ہے یادوں کا اور آنسوؤں  کا۔ چند روز پہلے میں اس کی فوٹو گرافی کی دکان میں جیسے داخل ہوا ۔ بولا ۔۔۔ مولوی سوہنڑا خدمت کہاں سے شروع کی جائے ؟ چائے کے دوران بولا "مولوی سوہنڑاں اب زندگی ہر لمحہ بونس ہے ۔ کسی دن ہنستے ہنستے چٹکی بجاتے اس دنیا کے منظروں سے نکل جائیں گے ” میں اس سے لڑ پڑا ۔ ایسا مذاق یار جگر اب نہیں کرنا ۔تم زمین پر میرا اکلوتا بچپن ہو ظالم ۔ خوف خدا کرو ۔۔۔۔ اور کل شام وہ ہر منظر سے نکل گیا ۔ اپنے رب سے جا ملا ۔۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔۔آہ ۔۔۔جگر پارہ پارہ ہے ۔(۱۲ اپریل، ۲۰۱۹)

۱۴۔

شہر اولیاء ملتان جب بھی آنا ہو ۔ یہ ممکن نہیں کہ قدم ریڈیو پاکستان ملتان کے سامنے شاکر حسین شاکر کی "فیلنگز” کی جانب نہ اٹھیں وہ خود کار طریقے سے منزل پا لیتے ہیں ۔ ذہن میں تھا کہ اب بیٹا کاروبار سنبھالتا ہے ممکن ہے شاکر بھائی وہاں موجود نہ ہوں ۔ لیکن دل کھل اٹھا شاکر بھائی میرے سامنے تھے وہی انداز ، وہی اپنائیت وہی لہجہ وہی خلوص ، اب دنیا میں ایسے پیارے نایاب ہوتے جا رہے ہیں ۔ بیٹی رافعہ سرفراز بھی ساتھ تھی جو BZU میں ایم فل کی طالبہ ہے ۔ ادب کے مطالعے اور افسانے کے ساتھ تنقید وتحقیق پر قلم رواں رکھنا اس کا جنوں ہے ۔ ہمیں اپنی اس بیٹی پر فخر ہے ۔کولڈ ڈرنک کے ساتھ ہم نے اچھی اور شستہ اردو لکھنے والوں پر بہت دیر بات کی ۔ اچھی نثر لکھنے والوں میں  انصاری ، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، ادا جعفری ، آغا بابر ، شمس الرحمن فاروقی کا خوب ذکر رہا ۔۔۔۔ شاکر بھائی سلامت رہیں ۔ زندہ باد ۔۔۔(۱۸ اپریل، ۲۰۱۹)

۱۵۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بیماری تکلیف آزمائش میرے رب کریم کی رحمت اور بہت بڑی نعمت ہے ۔ لیکن ہم ٹھہرے کمزور ‘ وہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ تکلیف میں ایک فکر ایک پریشانی گھیرے رہتی ہے کہ قلب اور زبان سے نکلا کوئی جملہ اس کی ناراضی کا سبب نہ بن جائے ۔

فیس بک کو خیر آباد نہیں کہہ رہا ممکن ہے ایک عرصہ ملاقات نہ ہو ۔ کوئی بہت اچھی کتاب جو دل کو چھو گئی تعارف کرا دیا کروں گا۔ سیدالشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی پر کام کر رہا ہوں ۔ سارا وقت ان ہی کے نام کر دیا ہے ۔

مولانا ابو الکلام آزاد رح کی ایک کتاب ہے "انسانیت موت کے دروازے پر” آپ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجئے ۔ تاکید ہے ۔ کہ ہر صفحہ آنکھوں کو با وضو رکھتا ہے ۔(۹ دسمبر، ۲۰۱۸)

۱۶۔

راولپنڈی کالج کے دن تھے سن انیس سو ستتر تھا کالج کی زندگی تھی ۔ گراونڈ کے اطراف سیمنٹ کی سٹنگ تھی ۔ شام تھی ۔ اس زمانے میں میرا تخلص راحت تھا ۔ میں سیڑھیوں پر سبز اوور کوٹ پہنے دھویں سے باتیں کرنے میں مگن تھا ۔ یہ وہ دن تھے جب ساغر صدیقی کو گھول کے پیا ۔ بس اسی کو گنگنایا کرتے تھے ، انہی سیڑھیوں پر احمد فراز سے ملاقات ہوئی

میں نے سوال کیا ۔۔۔۔۔

آپ نے کہا ہے

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو آپ نشہ بڑھانے کے لئے کون کون سی "مے” سے بغلگیر ہوتے ہیں

مسکرائے اور کہا

"درد میں درد ملائیں یا شراب میں شراب نشہ سوا ہو جاتا ہے "

ہاں تو شام تھی ۔۔۔ سیمنٹ کی سیڑھیاں تھیں ‘ دھواں تھا ۔۔۔۔اور ساغر صدیقی کی رباعی غم گسار تھی

اے ستاروں کے چاہنے والو

آنسووں کے چراغ حاضر ہیں

رونق رنگ وجشن و بو کے لئے

زخم حاضر ہیں داغ حاضر ہیں

(۳ نومبر، ۲۰۱۸)

۱۷۔

یا چہرے کی اس کتاب [فیس بک] کو ترک کر دیا جائے ؟

کسی حاصل” کے لئے تو اس سے نہیں جڑا تھا

بس کتاب کا عشق تھا

اس نے جوڑے رکھا ۔۔۔۔۔

نہ لائکس کا شمار نہ کمنٹس شماری کا چسکا ۔۔۔۔

بس اک شوق تھا

جس کی پرورش کرتے رہے

ہزاروں لاکھوں میں ہم نہ ہوں گے تو کیا کمی ہو گی ؟

میں واپس اسی جھونپڑی” میں بسیرا کرنا چاہتا ہوں جس میں مطالعہ کیا ۔۔۔۔۔

میں مدتوں اداس رہنا چاہتا ہوں

میں بہت اکیلا ہو گیا ہوں ۔۔۔۔

میں عبد اللہ حسین ‘ انتظار حسین اور انیس اشفاق نہ سہی

لیکن میری تنہائی ان جیسی ہے

جب روح ہنسنا چاہے

اور اسے در نہ ملے

تو وہ عبد اللہ حسین ہو جاتی ہے۔ (۲۶ اکتوبر، ۲۰۱۸)

۱۸۔

سیّد صدیق حسن خان کی آپ بیتی کی ورق گردانی شروع کی تو علم ہوا کہ آپ کا سلسلہ نسب تینتیس واسطوں سے براہِ راست سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ تک پہنچتا ہے۔ کتاب ایک طرف رکھ دی، ادب کا تقاضا تھا کہ باوضو مطالعہ کیا جائے۔ باوضو آپ بیتی کا مطالعہ کیا اور پھر اپنی سی کوشش کی کہ تمام آپ بیتیوں کا مطالعہ با وضو کیا جائے۔ میں نے با ادب با وضو اپنا وقت دو زانو، ان علمائے کرام کی صحبت میں گزارا اور رُوح کی سیرابی کا سامان کیا ۔ آپ بیتی کا مکمل مطالعہ کر لینے کے بعد تلخیص گری کا مرحلہ بڑا جانگسل ہے۔ تلخیص گری کرتے ہوئے اس بات کو مدِنظر رکھنا ہوتا ہے کہ اصل آپ بیتی کی رُوح مجروح نہ ہو اور شخصیت کی زندگی کے روشن اور اُجلے پہلو اپنی چمک دمک اور خوشبو سے محروم نہ ہوں۔ میں اس قابل ہر گز نہیں تھا کہ اس کام کی ذمہ داری لوں۔ مجھے اپنے جہل اور کم علمی کا مکمل اعتراف ہے۔ یہ کسرِنفسی نہیں سچ ہے۔ لیکن میرے دوست امر شاہد نے مٹھی بھر حوصلہ مجھے دان کیا اور میں نے ہمت کی پگڈنڈی پر تقویٰ کا زادِراہ ساتھ لیا اور ربّ کریم کی رحمت کی گھنیری چھاؤں میں سفر پکڑا۔ گزشتہ برس ہم نے ادیبوں کی آپ بیتیوں پر کام کیا اور سیکڑوں نامور ادیبوں کی آپ بیتیوں کی تلخیص گری کا چناؤ کیا اور متعدد آپ بیتیوں کی تلخیص پر خود محنت کی اور اس طرح ـ’’ نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ ہم نے آپ کے مطالعہ کے لیے طبع کی۔ ادارے نے پُرکشش سر ورق اور اعلیٰ طباعتی مراحل سے گزار کر اسے قاری تک پہنچایا۔ قاری کی تحسین اور پذیرائی سے ہمیں حوصلہ ودیعت ہوا اور ہم نے یہ سلسلہ جوڑے رکھنے اور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اسی سلسلہ میں ہماری محنت ’’مشاہیر علم ودانش کی آپ بیتیاں‘‘ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کتاب پر آپ نے جو رقم خرچ کی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ میں نے قاری کی دلچسپی کے لیے اس بات کو مکمل دھیان میں رکھا ہے کہ آپ بیتیوں کے مطالعہ میں اکتاہٹ کا عنصر نہ ہو اور دلچسپی کے ساتھ قاری کو عملی زندگی میں رہنمائی اور روشنی ملے۔

محمد حامد سراج۔ (۲۹ سمبر، ۲۰۱۸)

۱۹۔

یہ جو محمد حامد سراج ہے جب گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں پڑھتا تھا اس زمانے میں ماچس کی ڈبیاں جمع کرتا تھا ۔ میانوالی ایک دو ریڑھیاں لگا کرتی تھیں جن پر مختلف  ڈیزائین کی ماچس کی ڈبیاں بکا کرتی تھیں ۔

(۲۹ اگست، ۲۰۱۸)

۲۰۔

ساون کی موسلا دھار بارش ہو رہی ہے ۔۔۔۔

ہر طرف جل تھل ہے

میں اپنے کمرے میں کتابوں کے درمیان کھڑکیاں دروازے کھولے جہاں بارش سے لطف اندوز ہو رہا ہوں وہاں بسکٹ اور چائے بھی ہے اور برادرم عادل رضا منصوری کا "استفسار” پیک کر کے آج دوستوں کو پوسٹ کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمام پیکٹ مکمل کر لئے ایڈریس لکھ لئے اسی قلم سے جس سے نانا جان نے تختی لکھنا سکھلائی تھی مار بھی کھائی تھی لیکن خوش خطی اب بھی قائم ہے

بارش بہ خیر۔ (۱۹ جولائی، ۲۰۱۸)

۲۱۔

منیر احمد فردوس ۔۔۔۔۔ فیس بک پر دوستی کو سات برس ہو گئے لیکن ہم سات سو برس سے ساتھ ساتھ ہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی سرزمین سے جس زمانے میں "ق” نکلتا تھا اور پھر "اکناف” وقت سرکتا جا رہا ہے زمین پر ہمارا قیام مختصر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ اس لئے ملاقاتوں کا سامان ضروری ہے ۔ تم نے ہمیشہ مجھے عزت دی محبت دی ۔ سلامت رہو دوست ۔۔۔۔ آباد خوش وخرم ۔ عمر نوح پاؤ ۔۔۔(۲۹ جولائی، ۲۰۱۸)

۲۲۔

برسوں سے ایک مزاج ہے موبائل پر شام ڈھلے کبھی سویرے کبھی کبھی رات میں میسج بھیج دیتا ہوں جو فارورڈ میسج نہیں ہوتا ۔۔۔۔ بس دل کی بات ہوتی ہے کوئی درد کا لمحہ ‘ دل سے پھوٹتی خوشی ۔۔۔۔ آج شام بھی ایک میسج کیا ۔۔۔۔ جی میں آئی فیس بک کی محبتوں کو شامل کرتا ہوں

"یاران چمن

بادل دیکھ کر میں خوش ہو رہا ہوں ۔ خوش ہونا میرا حق ہے ۔ بادلوں کے ساتھ نرم ہوا ہے اور شام ہے اور اشجار ہیں ۔ اور میں یک سو اس منظر سے مکمل لطف اندوز ہو رہا ہوں ۔ مجھے کوئی عجلت نہیں ۔ کہیں جانا نہیں ۔ کسی ریس میں شامل نہیں ہوں ۔ مقروض نہیں ہوں ۔ دل میں کہیں کسی کے لئے کوئی کینہ نفرت حسد بغض نہیں ۔ یہ رب کریم کی عطا ہے میرا کمال نہیں تو پھر خوش ہونا میرا حق ہے ۔۔۔

نرم شام بہ خیر۔(۲۷ جولائی، ۲۰۱۸)

۲۳۔  

میں پرانے زمانے کا انسان ہوں

میں فیس بک اپنے لیپ ٹاپ پر استعمال کرتا ہوں ۔ ہفتہ میں تین سے چار بار کھولتا ہوں ۔ داہنی جانب نوٹیفکیشن پر نظر ڈالتا ہوں ۔ باہنی جانب ان باکس میں پیغامات پڑھتا اور ان کے جواب لکھتا ہوں ۔ اسی دوران جو کتاب متعارف کرانا ہو ۔ سکین کر کے اپ لوڈ کر لیتا ہوں ۔ موبائل میں میسنجر اور فیس بک کا جھنجٹ ہر گز نہیں پالا ۔ اپنے آپ کو اپنے گھر کو اپنے خاندان کو اپنے دوستوں کو مکمل وقت دیا کیجئے ۔ نہیں تو اپ اس چند انچ کی ڈبیا میں مقید ہو کر تنہا رہ جائیں گے ۔(۳۰ مئی، ۲۰۱۸)

۲۴۔

یہ سردیوں کی بات ہے ۔ یہ جو سردیاں ابھی پہلو سے گزری ہیں ۔ ایک سرد سی شام میں گیٹ پر دستک ہوئی ۔میں کھانا کھا رہا تھا ۔ بیٹے کو کہا ۔۔۔۔۔

معلوم کرنا ۔۔۔ کون ہے ؟

کیوں کہ ہر دستک کی اپنی اہمیت ہے میں کبھی دستک نظر انداز نہیں کرتا دل پر ہو یا در پر ۔۔۔۔۔

ابو ۔۔۔ مانسہرہ ہری پور سے مہمان ہیں باہر تسبیح خانے ” میں آپ  کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔

اچھا بیٹا آپ ان سے ملو ۔ میں کھانا کھا لوں

جب میں "آباء و اجداد” کے قدیم مغلئی طرز تعمیر کے وسیع تسبیح  خانہ میں داخل ہوا تو ایک شخص جس کی میری جانب پشت تھی وہ تسبیح خانہ میں صوفیا کے شجرہ نسب میں گم تھا ۔ وہ صوفیا اکابر کے سلسلوں کی کڑیاں جو ایک دوسرے میں پیوست تھیں وہ ان میں پیوست تھا ۔ اس کی زلفیں شانوں تک تھیں ۔ لباس سادہ بہت سادہ اور عام تھا ۔ ایسا لگتا تھا میرے کسی افسانے کا کردار بہت لمبی مسافت کے بعد اپنی تھکن اتارنے اس تسبیح خانہ میں اترا ہے ۔میں نے اس کے انہماک میں دراڑ ڈال دی

السلام علیکم ۔۔۔۔

وہ پلٹا ۔۔۔ وعلیکم السلام ۔۔۔۔

مجھے سکتہ ہو گیا ۔۔۔ کیا یہ وہی ہے ۔۔۔۔ یہ وہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ سرد پہاڑوں سے اتر کر اس صحرا میں ؟ گرم جوش معانقہ ہوا ۔

گھر چلا جائے ۔۔۔۔

تسبیح خانے کی پشت پر میرا گھر ہے ۔۔۔۔ اس کے کندھے پر کھدر نما موٹے کپڑے کا ایک جھولا لٹک رہا تھا ۔ ایک اور بوسیدہ سا بیگ اس نے ہاتھ میں لٹکایا جو اس سے میں نے لے لیا ۔۔۔۔ اب غریب خانے پروہ تھا ‘ کھانے کے بعد چائے تھی الائچی والی ‘ کتابیں اور باتیں یہاں سے وہاں بکھری تھیں ۔ ہم وقت کے پیمانے سے باہر کھڑے تھے اور ہم محو گفتگو تھے ۔ اس نے بوسیدہ بیگ کی زپ کھولی۔ 

یار حامد سراج ۔۔۔۔ بازار میں مٹھائی بھی تھی ۔ راستے میں فروٹ کی ریڑھیاں اور دکانیں بھی نطر پڑیں لیکن انسان محمد حامد سراج کی ملاقات کو آئے اور ساتھ میں کتاب کا تحفہ نہ لائے ‘ بات بنتی نہیں ۔۔۔۔ آپ یہ قبول کیجئے ۔۔۔۔

وہ سیلانی مزاج کا ہے ایک شہر میں اس کو چین نہیں ۔ کبھی لاہور ‘ کراچی ‘ اسلام آباد لیکن بوسیدہ بیگ میں کتابیں ‘ لہجے میں شہد ‘ آنکھوں میں مستقل اداسی ‘ گھر میں کتابیں ‘ ہاتھ میں کتاب ‘ سفر میں کتاب ‘ دوستوں کے ساتھ بات کتاب ۔ وہ شخص ایک مکمل کتاب ہے ۔۔۔۔ میری خوش نصیبی کہ وہ میرے گھر مہمان اترا تھا ۔ اس کی خوشبو اب بھی موجود ہے ۔ زاہد کاظمی ہماری آکھیاں ابھی تک اسی پگڈنڈی پر ہیں جہاں سے آپ ہمارے گاوں پہنچے اور واپسی کے نشانات میں ہم دوسری ملاقات کا خواب روز دیکھتے ہیں۔(۱۴ مارچ، ۲۰۱۸)

۲۵۔

پرانی کہانی ہے

پرانی بات ہے لیکن سچ ہے

تخلیق ازل سے تنقید پر فائق ہے ۔ تنقید صرف تدریسی ضرورت ہے ۔

ایک بار اسلام آباد  میں  محمد منشاء یاد کے گھر ان سے بے تکلف گفتگو جاری تھی ۔ اچانک انہوں نے سوال کیا

حامد سراج یہ جو عجیب و غریب تھیوریاں ہیں ‘ ساختیات پس ساختیات’ جدیدیت’ مابعد جدیدیت ‘ کیا آپ کو ان کی سمجھ ہے ؟”

عرض کیا ۔۔۔ منشاء یاد صاحب سمجھنے کی اپنی سی کوشش کی تھی ۔ ہر تھیوری سر سے گزر گئی ۔۔۔۔۔

مجھے منشاء یاد کی بھر پور مسکراہٹ یاد ہے ‘ "یار مجھے بھی ککھ پلے نہیں پڑا کوشش میں نے بھی کی ہے ۔ بس اپنی دنیا ٹھیک ہے ہم افسانہ لکھا کریں ۔۔۔(۱۷ جنوری ۲۰۱۸)

۲۶۔

کچھ دور تک تو میرے ساتھ چلو

میری عمر نے

مجھے تھکا دیا ہے۔ 

محمد حامد سراج

(۲ جنوری، ۲۰۱۸)

۲۷۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم کتابوں کی دکان میں داخل ہوتے ہیں ۔ ہمیں ایک کتاب پسند آتی ہے لیکن جیب ٹٹولنے پر ہم آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ وہ لمحہ ہم سے چوک جاتا ہے اور پھر ہمیں دوبارہ وہ کتاب کہیں نطر آتی ہے نہ دستیاب ہوتی ہے ۔ اس لئے اپنی کوئی اور ضرورت روک کر کتاب خرید لیا کیجئے ۔ یہ قلق دل کو لے بیٹھتا ہے ۔

چالیس سال قبل راولپنڈی صدر کے اتوار بازار میں میں گھوم رہا تھا ۔محمد طفیل کے ادبی جریدہ ” نقوش” کا ایک سالنامہ فٹ پاتھ پر بچھی کتابوں میں نظر پڑا ۔ وہ سالنامہ تین جلدوں میں تھا ۔ کتب فروش نے مجھ سے تیس روپے طلب کئے ۔ میری جیب میں بیس روپے تھے ۔ بہت بحث کی ۔ منت سماجت ۔۔۔۔ لیکن وہ کسی طور راضی نہ ہوا ۔ والد صاحب ہوسٹل کے ماہانہ اخراجات کے لئے ڈیڑھ سو روپیہ بھیجا کرتے تھے ۔ میں آنے والے جمعہ کو ایک دوست سے دس روپے ادھار لے کر صدر گیا ۔ "نقوش” میرے ہاتھ سے نکل چکا تھا ۔ گزشتہ برس اس سالنامے کی دو جلدیں ڈھونڈ نکالی ہیں ۔ تیسری کی تلاش میں سرگرداں ہوں ۔ پاگل ہوں نا اس لئے ۔۔۔۔۔ عقل مند لوگ اپنی آسائش آرام اور آسودگی کے لئے دولت تلاش کرتے ہیں اور ہم کتابیں ۔۔۔۔۔

کتاب خرید لیا کیجئے ۔۔۔۔

دیر نہ کیا کیجئے

چالیس برس گزر جاتے ہیں ہجر کاٹتے ۔۔۔(۱۰ دسمبر، ۲۰۱۷)

۲۸۔

تین دوست ہیں
یہاں چشمہ ملازمت کے سلسلہ میں مقیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدثر۔۔۔۔ شاہد اور سعد عباس
تینوں مہینے میں ایک دو بار غریب خانے پر آ نکلتے ہیں ۔ کتابوں کے درمیان آلتی پالتی مارے ہم کتابوں کی ہی باتیں کرتے ہیں ۔ پکوڑے سموسے ‘ چائے کے مگ ۔۔تینوں کو کتابوں سے عشق ہے ۔ ہم چاروں نے ایک کمیٹی ڈالی ہے ہزار روپیہ مہینہ کی ۔ ہر دو مہینے بعد ایک کمیٹی نکلتی ہے آٹھ ہزار روپے کی اور ہم کتابیں خرید لیتے ہیں ۔ سعد عباس اب کی بار آئے تو میرے لئے "فرشتے کی ایف آئی آر” لائے۔ کیا خوبصورت تحفہ ہے ۔ سعد عباس کو انگریزی ادب پر بھی کمال حاصل ہے ۔(۲۰ دسمبر، ۲۰۱۷)

۲۹۔

دو دن قبل ڈاکٹر زاہد منیر عامر غریب خانے پر تشریف لائے ۔ خانقاہ سراجیہ ان کی آمد اس فقیر کے لئے ایسی خوشی ہے جو بے کنار ہے ۔ ایسی خوشیاں مقدر والوں کو ملا کرتی ہیں اور زمین پر ان میں سے ایک خوش نصیب میں بھی ہوں ۔
ان کے تشریف لانے سے زمین آسمان ہو گئی۔
ڈاکٹر صاحب حلیم الطبع ‘ نستعلیق اور محبت کرنے والےعلم دوست اور کتاب دوست انسان ہیں اور علم کا سمندر ہیں ۔ اللہ اللہ کیا انداز گفتگو کیا شیرینی تھی زبان میں ۔۔۔۔۔ میرے نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” جس کو نرمی عطا کی گئی اسے خیر کثیر عطا کیا گیا” ڈاکٹر صاحب کی نرم گفتگو نے دل جیت لئے ۔ سرگودھا یونیورسٹی سے محترم خالد ندیم صاحب ساتھ تھے ۔ ندیم خالد صاحب ‘ ناچیز ‘ انجینئرجناب عنایت علی صاحب’جناب ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب’ انجینئر جناب محمد خان نیازی صاحب اور احباب ۔۔۔۔۔خانقاہ سراجیہ کے قدیمی کتب خانہ میں [ کتب خانہ مولوی احمد خان رح] جس کی بنیاد پڑدادا جی بانئی خانقاہ سراجیہ مولانا ابو السعد احمد خان رح 1920نے رکھی ۔(۲۸ نومبر، ۲۰۱۷)

۳۰۔

ایک دوست نے کال کی
محمد حامد سراج تم اپنی زندگی اپنی توانائیاں کیوں برباد کرتے چلے جا رہے ہو ؟
میں سمجھا نہیں ۔۔۔۔
تم نے برسوں سے جو فیس بک پر کتابیں متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے یہ وقت کا ضیاع نہیں تو اور کیا ہے
تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
یہ وقت تم اپنی تخلیق کو دو ۔۔۔۔ کتابوں کے تعارف کا کام اک دنیا کر رہی ہے ۔
اچھا ۔۔۔۔لیکن ۔۔۔
لیکن کیا ۔۔۔۔؟
تم میری بات پر توجہ دو
یار ۔۔۔۔ فیس بک میری زندگی کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مسافروں سے ملاقات کا سامان رہتا ہے ۔ کتابوں کی اک دنیا آباد ہے ۔ میں بھی زمین کے پلیٹ فارم پر مسافر ہوں ۔ اس پلیٹ فارم پر مجھے بہت اچھے انسان اور بہت اچھی کتابیں میسر آئی ہیں ۔
تو تم اپنا سفر جاری رکھو گے ۔۔۔۔
یقینی۔۔۔ ایک مسافر کا سفر رکتا کہاں ہے ۔ میرا مزاج کتاب اور انسان سے جڑا ہے نہ کہ "لائک” کی تعداد اور "کمنٹس” کے ساتھ ۔۔۔ میں نے کبھی لائک شمار نہیں کی ہیں ۔ گو لائک سامنے نظر آ رہی ہوتی ہیں لیکن میرے لئے ایک لائک بھی لاکھ ہے کہ کتاب کی خبر صاحب ذوق تک پہنچ گئی
راہ سفال گری میں چلتے کب یونہی حرم آ جاتا ہے
کمریں کوزہ ہو جاتی ہیں روح میں خم آ جاتا ہے ۔ (۲۲ نومبر، ۲۰۱۷)

۳۱۔  

یوم پیدائش
21 اکتوبر 1958

یہ جو برسوں کا شمار ہے
اور
یہ جو کیلنڈر ہیں بکرمی ‘ عیسوی ‘ اسلامی
یہ ہماری زمین کے پیمانے ہیں
مہینے ‘ دن ‘ گھنٹے ‘ منٹ ‘ سیکنڈ
وقت رواں ہے اور ہم اسی وقت کے نامعلوم دورانئے میں موجود رہتے ہیں
ایک مدت کے بعد ہم جب نئے پیمانوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں کے پیمانے یکسر مختلف ہیں
یہ جو ہماری زمین کا عیسوی کیلنڈر ہے اس کے مطابق 21اکتوبر کو کل میری عمر 60 ویں پڑاو میں داخل ہو گی ۔۔۔۔انشاء اللہ ۔۔ کیا کھویا کیا پایا ۔۔۔۔۔؟
یہ سوال اہم نہیں
بس اتنا کہنا ہے
یہ زندگی بہت خوبصورت ہے بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔ اسے ہنس کے جیا کیجئے ۔۔۔۔ تازہ دم رہا کیجئے خوش رہا کریں کہ ہم نے زمین سے جانے کے بعد نہیں لوٹنا ۔ یہاں ہر ہرپل قیمتی ہر پل خوبصورت ۔۔۔۔ سکھ کا موسم ہو یا دکھ ۔۔۔۔ وقت گزرتا رہتا ہے انسان کا کام ہے خوش رہنا ہنس کے جینا ۔۔۔۔ کسی کے نام دکھ نہ لکھنا۔

(۲۰ اکتوبر، ۲۰۱۷)

(نوٹ:یہ مواد محمد حامد سراج کی ’فیس بُک‘ پیج، پروفائل سے نقل ؍منتخب کیا گیا ہے۔)

https://web.facebook.com/hamid.siraj

تاریخ: ۱۲ دسمبر ۲۰۲۰

Chapter 6

باب ششم

ماحصل

زیرِ نظر مقالہ میں محمد حامد سراج کی ادبی نثر کا تجزئیاتی مطالعہ کیا  گیا ہے۔ جن میں ان  کے افسانوں، خاکہ ’میّا‘ ، ناول ’آشوب گاہ‘ اور ان کی غیر مطبوعہ برقی تحریریں شامل ہیں ۔ اس باب میں مندرجہ بالا  موضوعات کا احاطہ اختصار اور جامعیت کے ساتھ کیا جائے گا۔

محمد حامد سراج بلاشبہ دور حاضر کے ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں کو اچھے ادب کی کسوٹی پہ رکھ کر پرکھا جا سکے۔ افسانوی ادب  میں جن رجحانات  کو  فروغ مل رہا ہے ان میں عصرِ حاضر  کی فکر اور مسائل کا ادراک ہے۔ ہر ذی شعور شخص اپنے اردگرد کے ماحول کا اثر قبول کرتا ہے لیکن ایک تخلیق کار اور عام آدمی کی حساسیت میں فرق ہوتا ہے تخلیق کار  جس کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس پہ بیتتی ہے  وہ اس کے فکر کا حصہ بن کر صفحہ قرطاس پہ موتی بن کر چمکتی ہے۔  تخلیق کا رمعاشرے کے مجموعی منظر نامے کو نئے معنی دیتا ہے یہی معنویت اسے عام آدمی سے ممتاز کرتی ہے۔ حامد سراج نے بھی  ایک  سچے تخلیق کار کی طرح  اپنی عصری زندگی کے اسرارورموز کو نئی معنویت دی ہے۔محمد حمید شاہد کی رائے بڑی مستند ہے:

’’محمد حامد سراج زندگی کو مقصد ‘ مرکز اور مناط مان کر افسانہ لکھتا ہے‘ یوں کہ وہ دھڑکنوں سے معمور قاری کا دل بن جاتا ہے۔۔۔ وہ بامعنی  کہانی پر ایمان رکھتا ہے اور ’ابزرڈٹی‘ کو متن کا کفر گردانتا ہے۔ اس نے اپن ہمہ گیر مشاہدے کی بے پناہ قوت، ایقانی جرأت اور تخلیقی توانائی سے ایسی کہانیاں لکھی ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کو اندر سے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ میں محمد حامد سراج کو گزشتہ ربع صدی میں سامنے آنے والے تخلیق کاروں کی اس پیڑھی کا اہم نمائندہ گردانتا ہوں جنھوں نے فن پارے تخلیقی جمال، معنویت اور امکان کا ایک ساتھ برت کر کہانی پر قاری کا اعتماد بحال کیا ہے۔ ‘‘ (۱) 

حامد سراج کے افسانے عصرِ حاضر کے بیشتر موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں جن میں،  معاشرتی و سماجی مسائل،  گھریلو ازدواجی معاملات، محبت، جنس،نفسیات،  تہذیب، اخلاقی اقدار، ماضی پرستی (ناسٹلجیا)،دیہی زندگی کی تصویر، عالمگیریت، وغیرہ شامل ہیں۔  

 ہمارے ہاں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں  افسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقی شعور کی بدولت افسانے کے میدان میں نئے تجربات کیے۔ انہوں نے  کہانیوں میں علامتی اور تجریدی  تجربے کیے۔ وہ تجربے اس وقت کے مسائل اور ضرورتوں کے پیشِ نظر قابلِ تحسین تھے۔حامد سراج بھی اپنے عصر کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ڈاکٹر انور سدید نے حامد سراج کو جدید افسانہ نگار مانا ہے۔

’’محمد حامد سراج نے ادب کی ان شاہراہوں کو رونق افروز کیا ہے جس کے راہ رووں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ پامال اور فرسودہ ’’کلیشوں‘‘ کی پرورش کر رہے ہیں۔ افسانہ حامد سراج پر آیات آسمانی کی طرح اُترا ہے۔ تجریدی اور علامتی افسانے کے دور کے بعد اس میدان میں محمد حامد سراج کی آمد بڑی اہمیت رکھتی ہے۔(۲)  

آج کے افسانہ نگار کو نئے   مسائل اور نئے موضوعات کا سامنا ہے۔  اسے انفرادی  و اجتماعی شعور اور دورِ حاضر کے حقائق کو نئے سرے سے پرکھنے اور ان میں ہم آہنگی پیدا  کرنے کی ضرروت ہے تاکہ آج کا قاری اسے اپنے روز مرہ کی زندگی سے جوڑ سکے۔  زمین سے جڑی کہانیاں  ہمیشہ  زندگی کے نئے معنی اجاگر کرتی ہیں ۔  اور عہدِ حاضر اس بات کا متقاضی ہےکہ اسے آج کی کہانیوں سے روشناس کروایا جائے۔ محمد حامد سراج  کا کمال یہ ہے کہ اس کا ادب با معنی  کہانیوں کی تلاش میں رہا ہے۔ بقول محمد حمید شاہد:

’’ان افسانوں  میں وہ انسان کی بامعنی زندگی کی تلاش میں رہا ہے۔ فکری اور حسی رو دونوں کو بہم کر کے اس میں اپنے مشاہدے اور گاہے گاہے اپنی امنگوں کی شدت کو بھی شامل کیے جانے سے اس کے ہاں ایک الگ سا شوخ رنگ متشکل ہوتا ہے۔ ‘‘(۳)  

اس مقالے کے دوسرے باب میں حامد سراج کے افسانوں کے موضوعات اور اس کے فنی پہلوؤں کو زیرِ بحت لایا گیا ہے۔ ان کے افسانوی ادب کے موضوعات میں تنوع ہے۔   جن میں ماضی، دورِ حاضر اور مستقبل کی امکانات پہ  اپنے فکرو فن کی پختگی کا اظہار ملتا ہے۔   معاصر افسانوی ادب  کے مطالعے سے جو تاثر نمایاں ہوتا ہے وہ حقیقت نگاری کا شعور ہے ۔  حامد سراج کے افسانے بھی حقیقت نگاری کے گہرے شعور سے آراستہ ہیں ۔ وہ انفرادی اور سماجی مسائل  پہ گہری نظر رکھتا ہے۔  افسانے میں حقیقت نگاری کو سمجھنے کے لیے احتشام حسین کی رائے کچھ یوں ہے۔

’’حقیقت کا نیا مفہوم اسکے سوا کچھ نہیں ہے کہ افسانہ نگار جن  گُتھیوں کو پانے افسانوں میں اصل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ان سے پیدا ہونے والی نئی جہتوں کو تصور بھی کرے، جو منطقی نتائج نکلتے ہوں ان سے آنکھیں نہ چرائے، زندگی کے اہم ترین مسائل کی مصوری صرف ایک  مشاہدے کے شیدائی کی طرح نہ کرے بلکہ ایک انسان اور ذمہ دار انسان کی حیثیت سے ان مسائل کے متعلق یہ بھی طے کرے کہ ان  کا حل کیا ہے۔ اندھیرا اجالے سے کس طرح دست و گریباں ہے، سچائی میں جھوٹ کی آمیزش کس طرح ہو گئی ہے۔  اُجالے اور سچائی کو کیسے  اندھیرے اور جھوٹ سے الگ کیا جائے۔ ‘‘ (۴) 

حامد سراج کے افسانوں کا بنیادی وصف سماجی حقیقت نگاری ہے۔ وہ افسانے کی تخلیق میں حقیقت نگاری کو ایک سماجی فریضہ سمجھتا ہے۔ حامد سراج  نےمعاشرتی زندگی اور ان سے منسلک رویوں کے خارجی اور داخلی دونوں زاویوں پہ لکھا ہے۔ڈاکٹر غلام شبیر رانا، حامد سراج  کے اس وصف کو طلسماتی حقیقت نگاری کا نام دیتے ہیں۔

’’ کولمبیا سے تعلق رکھنے والے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار گبریل گارسیا مارکیز کے اسلوب میں طلسماتی حقیقت نگاری کی کیفیت محمد حامد سراج کو بہت پسند تھی۔ طلسماتی حقیقت نگاری  کو اپنے اسلوب کی اساس بنا کر جب ایک تخلیق کار مائل بہ تخلیق ہوتا ہے تو وہ منطق و توجیہہ سے قطع نظر  فکشن میں کردار نگاری کو ایسی منفرد بیانیہ جہت عطا کرتا ہے جو قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ اسلوب کی غیر معمولی دل کشی، حقیقی تناظر، موہوم تصورات، مافوق الفطرت عناصر کی حیران کُن کرشمہ سازیاں اور اسلوبکی بے ساختگی قاری کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے اور دل سے نکلنے والی بات جب سیدھی دل میں اُر جاتی ہے تو قاری اش اش کر اُٹھتا ہے۔ ‘‘ (۵)

حامد سراج  جن حقیقتوں کا تذکرہ کرتا ہے ان میں سے اکثر معاشرے کی وہ برائیاں ہیں جس نے ہماری اجتماعی زندگیوں کو تعفن زدہ کر دیا ہے۔  یوں لگتا ہے جیسے یہ افسانہ نگار اندھوں  کے شہر میں آئینے بیچ رہا ہو۔ شبہ طراز اسی ضمن میں حامد سراج کو جینئیس قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں۔

’’ حامد سراج معاشرے کے جامد کہنہ تالاب سے اٹھنے والے تعفن کو اول اول محسوس کر لینے والا’ جینیئس ‘ہے۔ وہ اپنے تخیل سے اس ٹھہرے ہوئے پانی میں ارتعاش پیدا کرنے کا خواہش مند نظر آتا ہے جس دردمندی سے وہ کریہہ حقیقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے اسی چابکدستی سے سماج کو آئینہ دکھانے کا فن جانتا ہے۔‘‘(۶) 

حامد سراج کے افسانوی ادب میں حقیقت نگاری کی جو نئی جہتیں ہے وہ ان کی عصری زندگی اور سماجی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے انسان دوستی سے متصادم استحصال کو بھی بھرپور انداز سے  نمایاں کیا ہے۔  ان کے افسانوں میں تاریخی شعور ، قومی و بین الاقوامی حالات ِ حاضرہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کو جگہ دی ہے۔حامد سراج انسانیت کا پرچار کرتا ہے وہ ایک مثالی بین الاقوامی معاشرے کا طلبگار ہے۔ سید ضمیر بخاری کی رائے ہے۔

’’محمد حامد سراج کے افسانے ہم عصر اردو افسانے سے مختلف ہیں۔ ان میں عالمگیریت کا ایسا پہلو ہے جو صرف غیر ممالک کا نام لکھنے سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ تب پیدا ہوتا ہے جب اپنا باطن واشگاف کر کے کرۂ ارض کی ہر اس شے سے مس کر دیا جائے جس پر خدا کی مخلوق ہونے کا ذرا سا بھی یقین ہو۔‘‘ (۷) 

مظہر حسین  کہتے ہیں:

’’حامد سراج نے زندگی کے اسی سب سے بڑے مظہر ’’انسان‘‘ کوا پنے افسانوں میں اس کی اصل یعنی انسانیت کی طرف لاٹ جانے کی ترغیب دی ہے۔‘‘  (۸) 

 ان  کے افسانوں میں معاشرتی تضاد  اور منافقت کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے۔ ’حبس دوام‘، ’اندر‘، اور ’ہے کوئی‘ چند مثالیں ہیں۔ وہ عام زندگی کے پہلوؤں کو خاص بنانے کا فن جانتا ہے۔  اس کی یہ خواہش بھی ہے کہ انسان کے اندر چھپا ہوا خیر باہر آئے ۔

حقیقت نگاری نے اپنا سفر جاری رکھا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نئے پہلوؤں کا اضافہ ہوتا گیا۔  اردو میں اس میں نفسیات اور ذہنی کیفیات بھی اس کا حصہ قرار پائیں۔ جنسی نفسیات، تصوف، رومانیت بھی حقیقت کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں۔ کیونکہ ان عناصر کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔  ڈاکٹر سلیم اختر اپنے مضمون ’ افسانہ اور لا شعور ‘ میں لکھتے ہیں۔

’’ جنس  سے معرا  نفسیاتی مطالعہ کرنےوالا افسانہ نگار جلد ہی خود کو بند گلی میں پائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ جنس کا مطالعہ افسانہ نگار کو کردار کی بھول بھلیاں میں بھی پھنسا سکتا ہے۔ اس سے بچ نکلنے کے لیے جس حقیقت پسندانہ نگاہ، تحریمات (ٹیبوز) سے پاک ذہن اور غیر متعصبانہ روئیے کی ضرروت ہ ہوتی ہے۔ وہ ہر افسانہ نگار کے پاس نہیں ہوتا۔ ‘‘ (۹)

حامد سراج نہ تو بند گلی میں جاتا ہے اور نہ ہی کرادر کی بھول بھلیوں میں پھنستا ہے۔ وہ جنسی نفسیات کو اپنے افسانوں کا موضوع بھی بناتا ہے، ’آخری آئس کیوب‘ ’نقش گر‘اور’مرصع آئینے‘  اس کی مثالیں ہیں  اس کے ساتھ ساتھ اپنے کرادر میں بھی کوئی کجی نہیں آنے دیتا۔

حامد سراج نے جنسی نفسیات کے حامل افسانے لذت اور کشش پیدا کرنے کے لیے نہیں لکھے بلکہ مر د و عورت کی داخلی کشمکش کو  بڑے سلیقے سے اپنے قاری تک پہنچایا ہے۔

حامد سراج کے افسانوں میں ان کا سماجی شعور، تصوف کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ انسانوں کی حقیقی فلاح کا آرزومند ہے اور حقیقی فلاح باطن کو شفاف کیے بغیر ممکن نہیں۔ خاور جیلانی کی رائے بہت معتبر معلوم ہوتی ہے۔

’’محمد حامد سراج کا تعلق افسانہ نگاری کی اس قبیل سے ہے ۔ جِن کا سماجی شعور عصری تقاضوں سے اپنی ہم آہنگی کی بُنیاد پر اپنی قدر متعین  کرتا ہے۔ اُن کے جہانِ فِکر کا مدار صرف اور صرف خیر پر ہے۔ تصوف اور روحانیت سے متصف روایات کے توارث نے اُنہیں درد مندی اور اخلاصی کی جن خوبیوں سے نوازا ہے۔ وہ بہ کمال اِحسن اُن کی تخلیقات سے جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ‘‘(۱۰) 

حقیقت نگاری کے بعد جو عنصر قاری کو اپنی جانب کھینچتا ہے وہ ان کی کردار نگاری ہے۔ افسانوی ادب میں کرادر نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر اعجاز راہی اپنے مضمون’’ اردو افسانہ ۵۷ تک‘‘ میں لکھتے ہیں۔

’’کسی فنکار کا اس سے بڑھ کر معراج اور کیا ہے کہ وہ کرداروں کو کاغذ پر اس طرح زندہ کر دے کہ لکھنے ولا کا سارا معاشرتی شعور خود پڑھنے والے میں حلول کر کے اس تفہیم اور ابلاغ کو اُجاگر کرے جس طرح لکھنے والاچاہتا ہے۔ ‘‘(۱۱)

حامد سراج کے کردار  زندہ و جاوید کردار ہیں ۔ ہم اپنے ارد گرد ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔  یہ کردار جہاں اپنے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں وہیں اپنی انفرادی حیثیت بھی برقرار رکھتے ہیں۔ ان کرداروں کا اپنی زمین اور ماحول سے گہرا تعلق ہے۔ ان کرداروں کا رہن سہن اور طرزِ معاشرت ہی ان کی پہچان ہے۔ حامد سراج کرداروں اور ان کے آپسی مکالمے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ان کی تخلیق کو فنی مہارت سے سینچا گیا ہے۔ حامد سراج کےکرادر ہمیں خود کلامی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ بھی اظہارِ فن کا ایک طریقہ ہے اورا س سے بھی کرداروں کی نفسیات کا پتا چلتا ہے۔ منیر احمد  کی رائے  ہے۔

’’محمد حامد سراج بہت ہی شفیق تخلیق کار ہیں۔ اپنے کردار سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان پہ کوئی قدغن نہیں لگاتے۔ انہیں اپنی مرضی کی زندگی جینے کی کھلی اجازت دیتے ہیں۔ وہ ایسے با کمال افسانہ نگار ہیں کہ جونہی چند کرداروں کو یکجا کرتے ہیں تو کہانی بننا شروع ہو جاتی ہے اور ان کا ہر کردار زندگی کے نئے پہلو کھوجتا چلا جاتا ہے۔‘‘ (۱۲)

حامد سراج کا ایک اور بنیادی وصف یہ ہے کہ انہوں نے ان کرداروں کے ذریعے اپنے دور کے نشیب و فراز اور خیر و شر کو پیش کیا ہے۔ یہ کردار انسانی صفات کی ترجمانی کرتے ہیں اور ان کرداروں کے مکالموں سے ان کی بودوباش اور سماجی حیثیت کا  اندازہ ہو جاتا ہے۔

کردار نگاری کے باب میں ’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سُن لے‘  ۔۔۔ حامد سراج کے کردار بعض اوقات اپنے افسانے کے لینڈ سکیپ سے مطابقت نہیں کھاتے۔ اُن کی زبان  میں حامد سراج خود بولتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ اس حوالے سے خالد قیوم تنولی اس لغزش کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔

’’ متعدد ایسے مقامات آتے ہیں جہاں کرداروں کو خارجی لینڈ سکیپ میں دکھانا ضروری ہوتا ہے مگر نہ وہ خلا میں معلق تصور ہوتے ہیں جبکہ بیانیے کا جمالیاتی اظہار ، تصویر سے لگا  نہیں کھاتا۔ تب محسوس ہوتا ہے جیسے ادیب کو لینڈ سکیپ کی اہمیت کا یا تو پتا ہی نہیں یا پھر اس کی ناگزیریت کا اسے احساس نہیں ہو پایا۔ لینڈ سکیپ کی اظہاری ضرورت ایسے مواقع پر ثقافتی اور تہذیبی خوبیوں سے قاری کو باخبر رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یوں  حقیقی زندگی پر فنی تبصرہ کرتے ہوئے مغائرت اور بیگانگی کے آثار صاف ہوتے دکھتے ہیں۔ محمد حامد سراج بھی اپنی کئی کہانیوں میں اسی لغزش کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ ‘‘(۱۳)

کسی بھی کہانی کو  آگے بڑھانے کے لیے متحرک کردار نہایت ضرروی ہوتے ہیں۔  وہ زندہ واقعاتی ماحول کو تخلیق کرتے ہیں۔   حامد سراج کے ہاں کرادر نگاری میں سچائی اور تنوع پایا جاتا ہے۔ ان کی مکالمہ نگاری  عام فہم اور ان میں اختصار اور فطری پن پایا جاتا ہے۔ان کی کرداروں کی زبان فلسفیانہ کم کم ہی ہے وہ برجستہ جملوں اور روزمرہ کی باتوں سے قاری کو متوجہ کرتے ہیں۔ مکالموں میں کہیں کہیں تکرار بوجھل معلوم ہوتی ہے لیکن  بعض اوقات تکرار کا مطلب اسرار ہوتا ہے۔ افسانے کی زبان اور کرداروں کی زبان کی بات کی جائے تو بقول ابوالمعانی عصری:

’’محمد حامد سراج اپنے عہد کا بڑا با شعور افسانہ نگار ہے۔ اس کا فن جدید افسانے کے رُوپ میں نکھرا ہُوا محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ  اس کی پہچان کا ایک رُخ ہے۔ جِس کی کئی جہتیں ہیں۔ یقیناً اس سے بڑی کہانی جنم لیتی ہے۔بڑی کہانی بڑے فنکار کے تقّدس فن کا عظیم حوالہ بنتی ہے۔ یقیناً محمد حامد سراج کے افسانے کی اپنی افسانوی زبان ہے۔‘‘(۱۴)

حامد سراج نے سادہ  لیکن پُر تاثیر زبان کا استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے خودکلامی کی تکنیک کے ذریعے کرداروں کی داخلی کیفیات اور نفسیات کو نمایاں کیا ہے۔ان کے کردار کفایت لفظی سے کام لیتے ہیں۔  حامد سراج نے حقیقت نگاری، کردار نگاری اور مکالمہ نگاری میں جوہم آہنگی  اور اسلوب اختیار کیا ہے اس میں خلوص اور سچائی کا بہت دخل ہے۔  وہ خود اپنے افسانوی مجموعی ’برائے فروخت‘ کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ

’’جس روز میں لکھنا چھوڑ دوں گا اس روز مر جاؤں گا۔‘‘

حامد سراج کے طرزِ اسلوب اور تکنیک کی بات کی جائے تو   شروع کے افسانے مظہر الاسلام کے افسانوں سے متاثر ہیں جس کی تائید خود حامد سراج نے بھی کی ہے لیکن  بعد کے افسانو ں میں وہ ایک منفرد افسانہ نگار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ حامد سراج کی تکنیک کے بارے میں  مظہر حسین اپنے ایک مضمون ’ جدید  افسانے کی ایزگارڈ‘ میں تحریر کرتے ہیں۔

’’اگر افسانے کے فن اور تکنیک پر بات کی جائے تو موضوع، مقصد اور اسلوب کی یگانگت ہی وہ پیمانہ ہے جو کسی ادیب یا افسانہ نگار کی عظمت و انفرادیت کی تجسیم و تشکیل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحیر کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے آدرش اور نقطہ نظر کے مابین حائل قرنوں کی خلیج کو پاٹنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ حامد سراج نے اپنے فنی شعور کی مدد سے جدید افسانہ نگاری کی جو ایزگارڈ تعمیر کی ہے۔ ہر ادبی آلودگی سے پاک و فضا کی حامل ہے جس میں مثبت ادبی رویے سانس دکھائی دیتے ہیں۔ یقیناً اس کی تعمیر میں حامد نے جسم و روح کو گہرے کرب کی چھلنی سے گزارا ہے۔ مہاتما بدھ نے شاید ایسے ہی عشق پیشہ لوگوں کو نصیحت کی تھی:

’’ بوسیدگی ہر ترکیبی چیز کی سرشت میں شامل ہے۔ محنت سخت محنت سے اپنی مکتی کا سامان ڈھونڈو۔‘‘

اڑھائی ہزار برس کی زمانی دوری کے سرے پر اس کے جواب میں شاید یہی ندا بلند ہوئی تھی:

’’جس روز لکھنا چھوڑ دوں گا، مر جاؤں گا۔‘‘ (۱۵)

حامد سراج کی طرزِ تحریر میں  دانشورانہ عنصر موجود ہے وہ معاشرے کی سیدھی راہ پہ لانے کے لیے قصد کرتے ہیں۔  ان کا اسلوب با معنی افسانے  کی ترویج میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ وہ اپنی تاریخ ، اساطیر، سیاست، مذہب، ادب اور علوم فنون پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ ایک کثیر المطالعہ شخصیت ہیں۔   افسانہ نگار کو چاہیے کہ وہ جب افسانہ کولکھ رہا ہو تو اپنی ذات کو دور رکھے تاکہ کردار یا افسانے کا ماحول کسی بھی طرح کے تعصب کا شکار نہ ہو۔کہانی میں مقصد کا حصول افسانہ نگار کا متمع نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں پہ حامد سراج ایک نقص کا شکار ہوئے ہیں۔ جس کی نشاندہی خالد قیوم تنولی کچھ یوں کرتے ہیں۔

’’تیسرا عیب جس پر عام قاری غور کیے بغیر گزر جاتا ہے مگر ذہین قاری کی نظر سے چھپا نہیں رہ سکتا وہ تخلیق کار کے نظریے کا کہیں کہیں واشگاف الفاظ میں سامنے آ جانا ہے۔ کہانی کسی خصوصی مہم یا مقصد کی تکمیل سے ہر گز مشروط نہیں ہوتی۔ کہانی کار انقلاب لانے یا کسی عظیم آدرش  کی ذمہ داری سے آزاد ہوتا ہے۔  کہانی میں کہانی کار کے ذاتی عقائد یا نظریات کا واضح اظہار کہانی کو بے ڈھنگی چارپائی بنا دیتا ہے۔  

بحیثیت مجموعی کل چھپن افسانوں کے پینوراما سے گزرنے کے بعد کوئی ان کے بارے میں  حتمی اور مختصر رائے قائم کرنا چاہے تو کم از کم میری رائے یہ ہو گی کہ محمد حامد سراج پورے ادب اور پوری زندگی کے افسانہ نگار ہیں۔(۱۶) ‘‘

 جو بات خالد تنول کی نزدیک حامد سراج کے اسلوب کا عیب کم و بیش وہی طرزِ فکر انور سدید کے سامنے اس کی سچائی کا مظہر اور قابلِ تحسین ہے۔

’ ’محمد حامد سراج کی ذات اس کی کہانی کی مرکزی شخصیت ہے اور یہ مرکزی شخصیت ہی کہانی کا راوی بھی ہے منظر نامہ بھی اور وہ تاثر بھی جو اس کتاب سے نکل کر قاری کی طرف سفر کرتا اور اسے اپنے سحر میں گرفتار کر لیتا ہے۔‘‘ (۱۷)

صاف الفاظ میں حامد سراج کی کہانی میں وہ خود جلوہ نما ہے۔  

ایک پہلو جو ان کے اسلوب میں جا بجا بکھرا ہوا ہے وہ مذہب سے کشید کردہ دانشوری ہے۔  حامد سراج چونکہ ایک مذہبی روحانی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے وہ اس طرزِ فکر کو اپنے افسانوں میں استعمال کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ ہر تخلیق کار وہی لکھتا ہے جس فکر کا وہ مجسم پیکر ہوتا ہے  ۔ حامد سراج کے معاملے میں ، ان کی حقیقت پسندی؍نگاری  انہیں اس بات نہیں  روکتی کہ وہ اپنی ذاتی  رجحان کا پرچار  کریں۔ اسی زاویے پہ ڈاکٹر انوار احمد اپنے مضمون’’اسلامی تاریخی ناول کا ایک کردار: محمد حامد سراج‘‘ میں لکھتے ہیں۔

  ’’وہ ایک مذہبی نقطہ نظر رکھتے ہیں اس لیے ضیا ءالحق اُن کے بعض افسانوں میں مردِ مومن بن کر جھلکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ اخلاقی اقدار کی حامل کتابوں یا اُن کے وارثوں کی توصیف بہت  نمایاں طریقے سے کرتے ہیں۔ 

حامد سراج افسانے کی بُنت سے واقف ہیں اور وہ ایک موثر تخلیقی نثر لکھنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اس لیے جب کبھی وہ ہمت سے ’ضمیرِ زہد میں برپا کہرام‘ میں جھانکتے ہیں تو ان کے ایک بڑے افسانہ نگار ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ‘‘(۱۸)

لیکن یہاں یہ بات قابلِ غور ہے وہ اپنے اسلوب میں اعتدال پسند ہیں۔ افسانے کی کیفیت آفرینی کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ خالص افسانہ رہے،  مذہبی تحریر نہ بن جائے۔

 حامد سراج نے علامتی افسانے بھی لکھے لیکن انہوں نے ایسی علامتیں استعمال نہیں کیں  جو حقیقت سے کوسوں دور ہوں۔ انہوں  نےعلامتی افسانوں کی بُنت میں بھی کہانی پن کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔ ’الٹے پاؤں‘، ’اعلان‘ اور ’چوب دار‘ علامتی افسانوں کی بہترین مثالیں ہیں۔

حامد سراج کے افسانے ان کے فلسفہ حیات کے تابع معلوم ہوتے ہیں۔  ڈاکٹر ہارون الرشید کی رائے ہے۔

’’حامد سراج کے افسانوں میں انسانی نشیب و فراز کما حقہ نظر آتے ہیں۔ اُن کا فلسفہ حیات مسرت کی تلاش کے گرد گھومتا ہے۔ اظہارِ رائے میں وہ حق گوئی اور سچ فہمی کے باب میں اپنی پہچان آپ ہیں۔ اُن کی نثر، اُن کی شخصی عظمت، معصومیت اور شرافت کا پر تو ہے۔ اُن کے افسانے میں ایک تخلیقی آہنگ نظر آتا ہے۔ کئی مقامات پر اُن کا وجدان منافقت، جھوٹ اور معاشرے کے منفی رویوں کے خلاف جہاد کرتا دکھائی دیتا ہے‘‘(۱۹)

حامد سراج  کے افسانے بھی ان کی شخصیت کی مانند متنو ع ہیں  ان کے رومانوی  افسانوں کی فضا  افسردہ اور اداسی کے بادلوں سے اٹی ہے۔  ایک درد ہے  جو روح تک اُتر جاتا ہے  اور اس افسردگی اور اداسی کی بنیادی وجہ ہجر ہے۔    دُردانہ نوشین خان اپنے ایک مضمون ’’اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیا‘‘ میں لکھتی ہیں۔

’’حامد سراج کے رومانوی افسانوں میں ہجر شروع سے طے شدہ  ہوتا ہے۔ محبوب اور محبوبہ کے ہاتھ کی لکیریں اور پاؤں کے راستے جدا مگر دل کی دھڑکنوں کی تال میل ایک ہوتی تھی۔ کچھ ایسا لگتا تھا کہ وہ فرقت کو خود منتخب کرتے ہیں اور پھر اپنے اِس انتخاب پہ مل کر آنسو بہانے میں وصال کا مزہ لیتے ہیں۔ غمِ فرقت اُن کے افسانوں کا سنگھار تھا۔ مگر وجہِ فرقت کو واضح تر ہونے کی طلب نہ تھی۔ ‘‘(۲۰) 

حامد سراج  کے افسانوں کے مجموعی جائزے سے ہم اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں کہ وہ ایک سچا افسانہ نگار ہے جو کہانی کوبامعنی بنانے کی سر توڑ  شعوری کوشش کرتا ہے۔  جو سماجی شعور کا علم بردار لکھاری ہے۔ جس کی نظر عالمی افق پر بھی ہے۔ جو  خارجی دُنیا کا بھی شاہد ہو اور باطنی کائنات کا بھی متلاشی۔۔۔  جو ماضی   کی روشنی سے مستقبل کے نئے امکانات تلاش کرتا ہے۔ حامد سراج  کی کے بہترین افسانے ان کی خود منتخب و مرتب کردہ کتاب ’نقش گر ‘ میں شامل ہیں جبکہ ان کے فن کا کمزور اظہار ان کے افسانوی مجموعے ’ بخیہ گری ‘ میں موجود ہے۔     مظہر حسین لکھتے ہیں۔

حامد سراج کے افسانوں میں  فکرو تخیل، جمالیات و مقصدیت، تصوف و فلسفہ باہم مدغم دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ماضی، حال، مستقبل کی زبانی و مکانی تکون کے قاطع خطوط کی مناط پر زندگی کی گہرائی ماپنے میں مگن ہے اور ہر کہانی کے ساتھ نئے انکشافات اس کے تحیر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ‘‘ (۲۱)

محمد حامد سراج کی تخلیقی نثر کا دوسرا پڑاؤ ان کے فن کا اعلیٰ ترین اظہار خاکہ ’میّا‘ ہے۔میا پہ جتنی بات کی جائے کم ہے۔  یہ خاکہ ماں کے عشق سے لبالب بھرا ہوا ہے۔  خیال کی رو میں لکھا گیا یہ خاکہ اردو ادب کاطویل تریں خاکہ ہے ۔ اس میں حامد سراج کا اسلوب جذبات سے مغلوب ہے۔ یہ تحریر حامد سراج کے فن کی معراج ہے۔

 ’آشوب گاہ‘ حامد سراج کا واحد ناول ہے جس کی فضا  میں ہجر پھیلا ہوا ہے۔ فلیش بیک کی تکنیک   کو برتا گیا ہے۔ لیکن یہ ایسا ناول نہیں جو حامدسراج کی پہچان بن سکے۔

آخر میں حامد سراج کی وہ تحریریں ہیں  جن کی اشاعت  وہ اپنے فیس بُک پیج پر کرتے  رہے ہیں لیکن کسی کتابی شکل میں ان کا اظہار نہیں ہوا۔  یہ تحریریں  تخلیقی ذہن  کی پیداوار ہیں جو جدید دور کے نئے ذرائع کو استعمال کرنےمیں  جھجھک محسوس نہیں کرتا۔


حوالہ جات  باب ششم

۱۔ حمید شاہد، محمد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، سید ضمیر بخاری، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء،  ص۔ ۲۲۳

۲۔  انور سدید، ڈاکٹر، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، سید ضمیر بخاری، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء،  ص۔ ۲۲۳

۳۔ حمید شاہد، محمد،  اردو افسانہ صورت و معنی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ۲۰۰۶ء، ص۔ ۱۹۲

۴۔احتشام حسین، روایت اور بغاوت، ادارہ  فروغ اردو، لاہور، ۱۹۷۲ء، ص۔ ۱۲۵

۵۔ غلام شبیر رانا، ڈاکٹر،’’محمد حامد سراج: تھا لطفِ زیست جن سے وہ اب نہیں میسر‘‘،سہ ماہی شمارہ ۱،۲، الزبیر، اُردو اکیڈمی بہاولپور، ۲۰۲۰ء، ص۔۱۳۱

۶۔ شبہ طراز، برائے فروخت، تاثراتی مکالمہ، مشمولہ ماہنامہ الحمرا، لاہور، جون ۲۰۰۶ء، ص۔ ۹۱،۹۲

۷۔ اشرف علی گڑھ،محمد : میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، سید ضمیر بخاری، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء،  ص۔ ۲۲۳

۸۔ مظہر حسین، مضمون: حامد سراج اور جدید  افسانے کی ایزگارڈ، الزبیر، شمارہ ۴، بہاولپور، ۲۰۰۵ءص۔     ۲۰۹

۹۔سلیم اختر، ڈاکٹر، مجموعہ ڈاکٹر سلیم اختر۔ سنگ میل  پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۶ء، ص۔ ۱۸۹

۱۰۔ فلیب، خاور جیلانی، برائے فروخت، مطبوعہ مثال پبلشر، فیصل آباد، ۲۰۰۵ء

۱۱۔رشید امجد، مرتب: پاکستانی ادب ۱۹۹۰، اکادمی ادبیات، اسلام آباد،ص۔ ۱۵۲

۱۲۔  منیر احمد، ’’محمد حامد سراج بطور حیات نگار، غیر مطبوعہ

۱۳۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۲۸

۱۴۔ ابو المعانی عصریؔ، محمد حامد سراج۔ جدید افسانہ نگاری کے آئینے میں، ص۔ ۶

۱۵۔  مظہر حسین، مضمون: حامد سراج اور جدید  افسانے کی ایزگارڈ، الزبیر، شمارہ ۴، بہاولپور، ۲۰۰۵ء ص۔ ۲۱۰

۱۶۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۲۸

۱۷۔ انور سدید،  ڈاکٹر ،تبصرہ کتب، وقت کی فصیل ’’ مشمولہ روزنامہ نوائے وقت، لاہور، ۱۳ جولائی ۲۰۰۳ء

۱۸۔ انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اسلامی تاریخی ناول کا ایک کردار: محمد حامد سراج‘‘ اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ(۲۴۵۔افسانہ نگاروں کا تذکرہ)، کتاب نگر، ملتان، ۲۰۱۷ء ص۔ ۷۱۵،۷۱۶

۱۹۔ ہارون الرشید تبسم،ڈاکٹر،  پیوندِ خاک، ادبی ستارے، مثال پبلشر، ۲۰۲۰ء، ص۔ ۲۰۵

۲۰۔ ،دُردانہ نوشین خان، ’’اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیا‘‘سہ ماہی شمارہ ۱،۲، الزبیر، اُردو اکیڈمی بہاولپور، ۲۰۲۰ء، ص۔ ۱۲۷

۲۱۔ مظہر حسین، مضمون: حامد سراج اور جدید  افسانے کی ایزگارڈ، الزبیر، شمارہ ۴، بہاولپور، ۲۰۰۵ءص۔ ۲۰۷


کتابیات

بنیادی مآخذ

1۔  حامد سراج، محمد، وقت کی فصیل، مطبوعہ آفاق کتابیں، راولپنڈی ، ۲۰۰۲ ء  

2۔ حامد سراج، محمد، میّا، جہلم، جہلم بُک کارنر،۲۰۱۵ء

3۔ حامد سراج، محمد، برائے فروخت، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۰۵ء

4۔ حامد سراج، محمد، چوب دار، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۰۸ء

5۔ حامد سراج، محمد، آشوب گاہ، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۰۹ء

6۔ حامد سراج، محمد، بخیہ گری، راولپنڈی، الفتح پبلی کیشنز، ۲۰۱۳ء

7۔ حامد سراج، محمد، ہمارے بابا جی(سوانح خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد)، ۲۰۱۳ء

8۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد سراج، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۱۳ء

9۔ حامد سراج، محمد، برادہ، لاہور، یو ایم ٹی پریس

10۔ حامد سراج، محمد، ہم بیتی، جہلم،  بُک کارنر، ۲۰۱۳ء

11۔ حامد سراج،محمد،عالمی سب  رنگ افسانے: مرتبہ،جہلم، بک کارنر، س۔ن

12۔ حامد سراج، محمد،نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں : مرتبہ، جہلم، بک کارنر،۲۰۱۷

13۔ حامد سراج، محمد، مشاہیر علم و دانش: مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۸

۱۴۔حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹

ثانوی مآخذ

۱۔انور سدید،ڈاکٹر، موضوعات، مکتبہ عالیہ، لاہور، ۱۹۹۱ء

۲۔احمد ندیم قاسمی، بگولے(افسانوی مجموعہ)، نظم، مکتبہ اردو لاہور، ۱۹۴۱ء

۳۔احسان اکبر، ’’پاکستانی ناول۔ ہئیت رجحان اور امکان‘‘، مشمولہ ’پاکستانی ادب‘‘، جلد پنجم، متربین: رشید امجد؍ فاروق علی، راول پنڈی ، جنوری ۱۹۸۶ ء

۴۔ احتشام حسین، روایت اور بغاوت، ادارہ  فروغ اردو، لاہور، ۱۹۷۲ء

۵۔ انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اسلامی تاریخی ناول کا ایک کردار: محمد حامد سراج‘‘ اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ(۲۴۵۔افسانہ نگاروں کا تذکرہ)، کتاب نگر، ملتان، ۲۰۱۷ء

۶۔ ابن الحسن عزیز ڈاکٹر، اردو تنقید چند منزلیں، اسلام آباد، پورب اکادمی، 2013ء

۷۔ ابوالاعجاز حفیظ صدیقی، مرتبہ، کشاف تنقیدی اصطلاحات، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 1985ء

۸۔ ابواللیث صدیقی، اردو کی ادبی تاریخ کا خاکہ، کراچی: اردو اکیڈمی سندھ، پہلا ایڈیشن

۹۔ احسن فاروقی، ڈاکٹر، فریب نظر، کراچی، مکتبہ اسلوب، 1963ء

۱۰۔ احمد ندیم قاسمی، کپاس کا پھول، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء

۱۱۔ اختر حسین رائے پوری، ادب اور انقلاب، کراچی، نفیس اکیڈمی، 1995ء

۱۲۔ اعجاز حسین، سید، ادبی رجحانات، دکن، نفیس اکیڈمی، 1946ء

۱۳۔ انوار احمد، ڈاکٹر، اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ، فیصل آباد،مثال پبلشرز، نقشِ ثانی، 2010ء

۱۴۔ انیس ناگی، مذاکرات، لاہور، سنگِ میل، س۔ن

۱۵۔ اے بی اشرف، ڈاکٹر، مسائل ادب، لاہور، سنگِ میل پبلی کیشنز، 2013ء

۱۶۔ بگولے، دیباچہ، کرشن چندر، لاہور: اسطیر، شرکت پرنٹنگ پریس، 1995ء

۱۷۔تنویر بخاری، اسلام اور جدید سیاسی و عمرانی افکار، لاہور، ایورنیو بکس پیلس، س۔ن

۱۸۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر، نئی تنقید، کراچی، رائل بکس کمپنی، 1985ء

  ۱۹۔ حاجرہ مسرور، سب افسانے میرے، لاہور، مقبول اکیڈمی، 1991ء

۲۰۔ حمیرا رفیق، بیتال پچیسی تہذیبی مطالعہ، فیصل آباد، شمع بکس پبلی کیشنز، 2014ء

۲۱۔ حمیرا اشفاق، ڈاکٹر، ادب کا تاریخی اور تہذیبی تناظر، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2014

۲۲۔ خالد قیوم تنولی، محمد حامد سراج: درد کا ہمدرد قصہ گو، مجموعہ حامد سراج، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2013ء

۲۳۔ خالد محمود ، خان، فکشن کا اسلوب، لاہور، بیکن بکس، 2014ء

  ۲۴۔ حمید شاہد، محمد،  اردو افسانہ صورت و معنی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ۲۰۰۶ء

  ۲۵۔ رشید امجد، مرتب: پاکستانی ادب ۱۹۹۰، اکادمی ادبیات، اسلام آباد،

۲۶۔ راجندر سنگھ ، بیدی، گرہن ، نیہ دہلی: مکتبہ جامعہ لیمیٹڈ، دوسرا ایڈیشن، 1989ء

۲۷۔ رشید امجد، بیزار آدم کے بیٹے، راولپنڈی، دستاویز پبلشرز، 1974ء

۲۸۔ رشید امجد، سہ پہر  کی خزاں، راولپنڈی، دستاویز پبلشرز، 1980ء

۲۹۔ رفیع الدین ہاشمی، اصناف ادب، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، اشاعت سوم، 1983ء

۳۰۔ روبینہ شہناز، ڈاکٹر، اردو تنقید میں پاکستانی تصور قومیت، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 2007ء

   ۳۱۔سلیم اختر، ڈاکٹر، مجموعہ ڈاکٹر سلیم اختر، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۶ء

۳۲۔    سلیم اختر، ڈاکٹر،’’افسانہ اور افسانہ نگار‘‘ سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۹۱ء

۳۳۔ ساحر لدھانوی، پرچھائیوں، مشمولہ، زمین کے جاگنے کے دن ہیں، اسلام آباد:ایس ڈی پی آئی، 1998ء

۳۴۔ ساجد رشید، میرے تخلیقی محرکات اور آج کی ادبی فضا، مشمولہ، ادب کا بدلتا منظر نامہ اردو  ما بعد جدیدیت  پر مکالمہ، مرتبہ، گوپی چند نارنگ، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2000ء

۳۵۔ سجاد باقر، رضوی، تہذیب و تخلیق، لاہور، مکتبہ ادب جدید، 1966ء

۳۶۔ سبط حسن، پاکستان میں تہذیب کا ارتقا، کراچی، مکتبہ دانیال، 1989ء

۳۷۔ سبینہ اعوان، ڈاکٹر، افسانہ شناسی، فیصل آباد، مثال پبلشرز، 2015ء

۳۸۔ سلام سندیلوی، ادب کا تنقیدی مطالعہ، لاہور، میری لائبریری، 1964ء

۳۹۔ سلیم اختر، ڈاکٹر، اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2009ء

۴۰۔ سمیرا نقوی، نقشِ رائیگاں، فیصل آباد، مثال پبلشرز، 2014ء

۴۱۔ سہیل احمد خان، ڈاکٹر، محمد سلیم الرحمٰن، منتخب ادبی اصطلاحات، لاہور، شعبہ اردو جی۔سی یونیورسٹی، 2005ء

۴۲۔ شہناز انجم، ڈاکٹر، ادبی نثر کا ارتقا، لاہور، پروگریسوبکس،1989ء

۴۳۔ صلاح الدین درویش، اردو افسانہ اور جنسی کلچر، ملتان، نگارشات پبلشرز، س۔ن

۴۴۔ صفدر حسین صدیقی، سماجی انقلاب، لاہور، میٹرو پرنٹرز، 2003ء

   ۴۵۔ضمیر بخاری، سید ، ڈاکٹر، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء  

۴۶۔ طاہرہ پروین، تنقیدی اور تہذیبی مطالعے، دہلی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، 2007ء

۴۷۔ طیبہ خاتون، ڈاکٹر، اردو، نثر کی داستان، میرپور آزاد کشمیر، ارسلان بکس، 2003ء

۴۸۔    عطش درانی، شوکت صدیقی کے ناول جانگلوس کا تجزیہ، مضمون مطبوعہ ، اکادمی ادبیات

۴۹۔ علی سردار، جعفری، ترقی پسند ادب، نئی دہلی، انجمن ترقی اردو ہند، 2013ء

۵۰۔ عصمت چغتائی، لحاف، پیشہ، پاہور، روہتاس بکس، 1992ء

۵۱۔ عصمت جمیل، ڈاکٹر، نسائی شعور کی تاریخ اردو افسانہ اور عورت، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 2012ء

۵۲۔ عبدالعزیز،ملک، اردو افسانہ میں جادوئی حقیقت نگاری، سرگودھا، یونیورسٹی، 2014ء

۵۳۔ غلام عباس، کلیات غلام عباس، لاہور، مکتبہ جدید، س۔ن

۵۴۔ غفور شاہ قاسم، ڈاکٹر، پاکستانی ادب شناخت کی نصف صدی، راولپنڈی ،ریز  پبلی کیشنز،2000ء

۵۵۔    فضل ربی، ڈاکٹر، ’’شوشیالوجی آف لٹریچر‘‘، کامن ویلٹھ پبلشرز، دہلی، ۱۹۹۲ء

۵۶۔ فرخ سہیل، گوئنڈی، بکھرتا سماج، لاہور، جمہوری پبلی کیشنز، 2016ء

۵۷۔ فرمان فتح پوری، ڈاکٹر، اردو نثر کا فنی ارتقا، کراچی، اردو اکیڈمی، 1989ء

    ۵۸۔ قمر رئیس، پروفیسر، اردو میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب، کتابی دُنیا، دہلی، ۲۰۰۴ء

۵۹۔ کرشن چندر، کرشن چندر کے سو افسانے ، ترتیب و انتخاب، آصف نواز چودھری، لاہور ، شکر گنج پرنٹرز، س۔ن

۶۰۔ مجنون گورکھ پوری، ادب اور زندگی۔ اردو گھر ، علی گڑھ، ۱۹۸۴ء

۶۱۔ معاصر ادب، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 1991ء

۶۲۔ محمد اشرف خان، ڈاکٹر، اردو تنقید کا رومانوی دبستان، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2011ء

۶۳۔ محمد افضال بٹ، ڈاکٹر، اردو ناول میں سماجی شعور، اسلام آباد، پورب اکادمی، 2015ء

۶۴۔ محمد مسعود، اردو نثر پر تنقیدی نظر، لاہور، تاج بک ڈپو، 1966ء

۶۵۔ مقصود جعفری، ڈاکٹر، زبان ادب اور معاشرہ، الحمرا، 2016ء

۶۶۔ وقار عظیم، سید، پروفیسر، داستان سے افسانے تک، لاہور، الوقار پبلی کیشنز، 2010ء

   ۶۷۔ ہارون الرشید تبسم،ڈاکٹر،  پیوندِ خاک، ادبی ستارے، مثال پبلشر، ۲۰۲۰ء

ادبی رسائل و جراید؍اخبارات:

۱۔ آئندہ ، سہ ماہی، (مدیر:محمود واجد)، کراچی

۲۔ آمد، سہ ماہی،(مدیر:عظمیہ فردوسی، خورشید اکبر)، پٹنہ

   ۳۔ آبشار ، سہ ماہی، ناول صدی نمبر، شمارہ نمبر ۴، (مدیر سلیم فواد کندی) 

۴۔ آفاق، ماہنامہ،(مدیر:قیوم طاہر)،راولپنڈی

۵۔ الحمرا، ماہنامہ،(مدیر:شاہد علی خان)،لاہور

 ۶۔ الزبیر سہ ماہی ،  اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر،  ۲۰۲۰ء

۷۔ بادبان، سہ ماہی،(مدیر:ناصر بغدادی)

۸۔ تجدید نو، سہ ماہی، (مدیر:عذرا اصغر)، لاہور

۹۔ ماہنامہ تمام، میانوالی، فروری ۲۰۰۹

۱۰۔ جدید ادب، ششماہی، (مدیر:حیدر قریشی)، جرمنی

۱۱۔ روشنائی، سہ ماہی، (مدیر: احمد زین الدین، صبا اکرام)، کراچی

۱۲۔روشنائی، مکتبہ اردو، (مدیرسجاد ظہیر)، لاہور، ۱۹۵۶ء

۱۳۔ سنبل، سہ ماہی،(مدیر:علی محمد قریشی)، راولپنڈی

۱۴۔ صریر، ماہنامہ،(مدیر، فہیم عظمی)، کراچی

۱۵۔ رابعہ رحمٰن، نوائے وقت، ۲۱ نومبر،

تحقیقی مقالہ جات:

۱۔ ذکا اللہ انجینئر، مقالہ: حامد سراج کے افسانوں کا فنی اور موضوعاتی مطالعہ،پشاور، قرطبہ یونیورسٹی، س۔ن

انٹرویو:

۱۔ مقالہ نگار کا اسامہ حامد (بیٹا حامد سراج)سے انٹرویو،بمقام میانوالی،۶ جون ، ۲۰۲۰

۲۔ مقالہ نگار کا قدامہ حامد(بیٹا حامد سراج) سے انٹرویو،بمقام میانوالی ، ۶ جون ، ۲۰۲۰

۳۔مقالہ نگار کا شگفتہ حامد (بیوی حامد سراج)سے انٹرویو،بمقام میانوالی ،۶ جون ، ۲۰۲۰

۴۔ مقالہ نگار کا ملک بشارت احمد(کزن حامد سراج) سے انٹرویو،بمقام میانوالی ، ۷ جون ، ۲۰۲۰

۱۲۔فرحین چودھری،  محمد حامد سراج سے انٹرویو،  ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹

مکتوب :

۱۔   محمد حامد سراج، خط بنام ممتاز شیخ، ۲۸ اگست ۲۰۱۹ فیس بک

۲۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج ،    بشریٰ رحمان، ۲۴ دسمبر ۲۰۰۴)،اسلام آبادممبر نیشنل اسمبلی(غیر مطبوعہ)

۳۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج ،  طاہر شیرازی ، ۵ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

۴۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،  سائیں طارق جاوید، مانسہرہ، ۴ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

۵۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،   تسنیم کوثرؔ(غیر مطبوعہ)

۶۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،  شہا ب صفدر(غیر مطبوعہ)

۷۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج،  شبیر احمد قادری فیصل آباد ، ۱۶ جون ، ۲۰۰۵(غیر مطبوعہ)

۸۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج،  خالد مصطفی۔ ۱  اکتوبر،   ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

۹۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،  منیر احمد فردوس، ڈیرہ اسماعیل خان، ۲۰ اکتوبر،۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)

تعزینی ریفرنس:

۱۔ تعزینی ریفرنس ، زیرِ اہتمام مجلسِ اقبال  بمقام چشمہ، ۲۸ دسمبر، ۲۰۱۹

فرہنگ و لغات:

۱۔ سید احمد دہلوی، مولوی، فرہنگ آصفیہ (جلد اول)، لاہور، مرکزی اردو بورڈ، 1977ء

۲۔ شان الحق حقی، مرتبہ، اوکسفرڈ انگلش اردو ڈکشنری، کراچی، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2005ء

۳۔ فیروزالدین، مولوی، فیروز اللغات (جامع)، لاہور، فیروز سنز، 2005ء

۴۔ محمد عبداللہ خویشگی، فرہنگ آمرہ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 2004ء

۵۔ نسیم امروہی، نسیم اللغات، لاہور،غلام علی اینڈ سنز، 1955ء

۶۔ وارث سرہندی، علمی اردو لغت، لاہور، علمی کتب خانہ، 1974ء

۷. Webster’s new illustrated dictionary

Websites:

  1. rekhta .com
  2. urdudost.com
  3. mazameen.com
  4. urduchannel.in
  5. https://web.facebook.com/hamid.siraj

ضمیمہ جات