قوم کی خاطر ایثار

کہانی

یہ کہانی  ( قوم کی خاطر ایثار نویں جماعت کے نصاب میں شامل ہے ۔ 

(  راولپنڈی بورڈ 2013، سرگودھا 2013، ساہیوال، ملتان، 2014، )

ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ایک جنگل  تھا اس کے ایک حصے میں کچھ ریچھ رہا کرتے تھے اور  دوسرے حصے میں بندر۔  جنگل کافی بڑا اور گھنا تھا۔ یہاں پھل دار درختوں کے علاوہ ٹھنڈے پانی کا چشمہ بھی تھا۔ بندر بڑے مزے سے اپنی زندگی گزار رہے تھے۔

ایک دن ریچھوں کے جی میں آئی کہ کیوں نہ سارے جنگل پر قبضہ کر لیں۔ چنانچہ انھوں نے بندروں پر حملہ کیا۔ انھیں مار مار کر بھگا دیا اور سارے جنگل پر قبضہ کر لیا۔ بندروں سے   ان کاوطن چھن گیا تھا، جنگل چھُٹ گیا تھا۔وہ حیران و پریشان آوارہ گردی کرنے لگے۔  یہ حال دیکھ کر ایک بندر کا دل بہت دُکھا۔   اس نے سب بندروں کو جمع کیا اور کہا ، “ میری بات سنو، مجھے زخمی کر دو جگہ جگہ سے کھال نوچ لو اور جہاں سے ہمیں نکالا گیا ہے، وہیں پھینک دو۔ میں کچھ تدبیر کروں گا اور ریچھوں کی بلا سے نجات مل جائے گی اورتمھیں اپنا وطن واپس مل جائے گا۔ بندر ایسے غمگسار اور ایثار مند سے یہ سلوک کرنا تو نہ چاہتے تھے مگر آخر مان گئے اور اس بندر کو ادھ موا کر کے ڈال گئے۔

 ریچھوں نے ایک زخمی بندر کو دیکھا اور پوچھا : ” تم یہاں کیسے آئے ۔ تمھیں معلوم نہ تھا کہ ہم اس جنگل کے واحد مالک ہیں؟ ” زخمی بندر نے آہیں بھرتے ہوئے جواب دیا: ” میں نے اپنے ساتھیوں کو تمھارا غلام بن کر رہنے کو کہا تو انھوں نے میرا یہ حال کر دیا۔ اب وہ ایک ایسے جنگل میں چلے گئے ہیں جہاں ہر طرف ہری بھری گھاس کا فرش بچھا ہوا، چشمے ٹھنڈا پانی اگل رہے ہیں۔ پھل دار درختوں کے بے شمار جنگل ہیں ، جنگل کیا ہے بہشت کا قطعہ ہے“۔ ریچھ حریص تو ہوتے ہی ہیں انھوں نے کہا: ” تم ہمیں وہاں لے چلو ہم تمھارا انتقام بھی لیں گے اور اس جنگل میں چین کی بنسری بھی بجائیں گے، اور تمھارے زخموں کا علاج بھی کریں گے۔ بندر مان گیا۔ انھوں نے ایک ریچھ پر بندر کو لاد دیا اور سارے ریچھ بندر کی راہنمائی میں چل پڑے۔ رات بھر چلتے رہے، ایک جگہ معمولی کیچڑ تھی اور اس سے آگے گہری دلدل ۔ بندر نے کہا: اس دلدل سے آگے وہ جنگل ہے جسے جنت نظیر کہا جاتا ہے تم بے خطر بڑھو اور میرے پیچھے چلے آؤ۔”

ریچھ آگے بڑھتے گئے اور دلدل میں دھنستے گئے ۔ حتیٰ  کہ آخری ریچھ تک دلدل کے پیٹ میں اتر گیا۔ اگلی صبح کو سارا جنگل سنسان تھا، کسی ریچھ کا پتا نہ تھا۔  بندر نے اپنی برادری میں جا کر یہ سارا واقعہ بتایا تو خوشی سے نہال ہو گئے۔اور ناچتے گاتے واپس آئے اور سارے جنگل کے مالک بن گئے ۔ ایک بندر کا یہ ایثار ساری قوم کا اقبال بن گیا۔

نتیجہ/اخلاقی سبق:

  1. ایک فرد کی قربانی سے پوری قوم کا اقبال بلند ہوتا ہے۔
  2. آزادی قربانی مانگتی ہے۔
  3. ایثار میں عظمت ہے

دوسری کہانیاں پڑھیں! شکریہ(یہاں کلک کریں)

Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x
Scroll to Top