8۔ دو بکریاں

2 goats crossing riv 1

کہانی

یہ کہانی  (دو بکریاں)  نویں جماعت کے نصاب میں شامل ہے ۔ 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی قدرتی چراگاہ مختلف اقسام کے جانور رہتے تھے۔ چراگاہ  کا ماحول نہایت پُرامن تھا اس لیے تمام جانور مکمل آزادی سے ادھر ادھر گھومتے پھرتے تھے ۔ چرا گاہ کے بیچ و بیچ ایک ندی بہتی تھی۔ ندی کے دونوں طرف جانور رہتے تھے ۔ اچھے تیراک جانوروں کے لیے تو ندی پار کرنا کوئی مسئلہ نہ تھا لیکن کچھ ایسے جانور بھی تھے جو تیرا کی کے ہنر سے بالکل واقف نہ تھے۔ اس لیے وہ ندی کے دوسری طرف کے مناظر اور کھانوں کا صرف گُمان  ہی کر سکتے تھے۔

 ایک دن ایک بکری کے دل میں خیال آیا کہ اسے بھی ندی کی دوسری جانب جا کر دیکھنا چاہیے کہ وہاں کی چرا گاہ میں کس طرح کے کھانے ہیں۔ وہ خدا کے بھروسے نکلی اور ندی کے کنارے تک پہنچی۔ ندی کی لہریں نہایت تیز تھیں لیکن بکری کا ارادہ مصمم تھا۔ وہ اس پار جانے کا کوئی راستہ ڈھونڈنے کے لیے ندی کے کنارے کنارے چلنے لگی۔ قریب ہی ایک درخت کا تناندی کے اوپر آر پار گرا ہوا تھا۔ جو کہ کبھی کسی آندھی یا طوفان سے گرا ہوگا۔ وہ تنا اتنا کم چوڑا تھا کہ ایک وقت میں کوئی ایک ہی اس پر سے گزرسکتا تھا۔

 بکری نے اسی تنے پر سے دوسری طرف جانے کا فیصلہ کر لیا۔ آہستہ آہستہ اور احتیاط سے قدمٹکاتے ہوئے وہ ندی کے عین وسط تک پہنچ گئی تو اچانک سامنے سے آتی ہوئی ایک اور بکری پر اس کی نگاہ پڑی۔ دونوں اس قدر محتاط تھیں کہ انھوں نے اپنے قدموں کے سوا ادھر ادھر دیکھا ہی نہ تھا لیکن اب دونوں کا اپنے اپنے رخ گزرنا یا کسی ایک کا پیچھے مڑنا بالکل ناممکن تھا اور ندی کی لہریں نیچے اتنی تیز کہ کسی کو ٹھہرنے اور سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیں اور بہالے جائیں۔

 اچانک ایک بکری کو ایک ترکیب سوجھی۔ وہ نہایت احتیاط سے تنے پر بیٹھ گئی۔ دوسری بکری بھی اس کی ترکیب سمجھ گئی اور وہ اس کے اوپر سے گزر کر دوسری طرف کو ہوگی۔ پھر بیٹھی ہوئی بکری اٹھی اور چل پڑی اس طرح عقل کے استعمال اور صلح پسندی سے دونوں بکریاں بحفاظت اپنی اپنی منزل تک پہنچ گئیں ۔ کسی نےسچ ہی کہا ہے کہ دانائی اور صلح پسندی بہترین حکمت عملی ہے۔

نتیجه/اخلاقی سبق:

  1.  صلح پسندی بہترین حکمت عملی ہے۔
  2.  دانائی بہترین حکمت عملی ہے۔

دوسری کہانیاں پڑھیں!